| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ ) |
لطیفہ جلیلہ : یہ چمکتی ہوئی دلیل جسے مولوی صاحب کے گل سر سبد بنایا اور آخر میں ھذا سنح لی ۳؎( یہ وہ ہے جو میرے لئے ظاہر ہوا۔ت)
(۳؎ محموعہ فتاوٰی کتاب البیوع مطبع یوسفی لکھنؤ ۱ /۳۹۸)
فرمایا یعنی یہ وہ ہے جو اچانک میرے خیال میں آیا مولوی صاحب کی انی سعی بازو نہیں بلکہ اسی فقیر بارگاہ قدیر غفرلہ کے فتوی سے اخذ کی ہے تیس برس ہوئے فقیر کے پاس اس کاسوال آیا تھا کہ نوٹ پر بٹا لگانا مثلاً سو روپے کا نوٹ ننانوے میں خرید لینا جائزہے یا نہیں، فقیر نے نظر فقہی کا مقتضٰی جواز بتایا اور تنویر الابصاورعامہ کتب سے اس پر استدلال کیا، میرا یہ فتوٰی مولوی صاحب کے یہاں پہنچا جسے انہوں نے اپنے مجموعہ فتاوٰی میں درج کیا کہ اس کی جلد دوم میں میں فتوٰی حامی سنت جناب مولٰنا مولوی محمد ارشادحسین صاحب رامپوری رحمۃ اﷲ علیہ کے ساتھ طبع ہوا اور وہیں سے مجھے ملا کہ اس وقت تک مجھے اپنے فتاوے رکھنے کا التزام نہ تھا اور اسی سے حضرت فاضل رامپوری کا فتوٰی معلوم ہوا جس پر مجموعہ فتاوٰی مولوی لکھنوی صاحب میں نمبر۱۲۳ہے اور میر فتوٰی نمبر ۱۲۴ ہے، دونوں میں حکم جواز ہے، پھر ایک چار سطری فتوٰی بعض علمائے مدراس کا نمبری ۱۲۵ ہے اس میں بھی جواز ہی کا حکم ہے اس کے متصل نمبر ۱۲۶ میں مولوی صاحب کا یہ فتوٰی ہے جس میں انہوں نے فتوی فقیر کے بعض کلموں سے تعرض کیا اور باقی کا کچھ جواب نہ دیا، میں نے اس بنا پر کہ نوٹ بہت جدید حاد ث ہے کتب فقہیہ میں اس کا ذکر مصرح نہیں مگر تمام کتب کاضابطہ کلیہ حکم جواز بتارہا ہے حکم لکھ کر اوہام کا جواب دے کر آخر میں ماظہر لی واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم (یہ وہ ہے جو میرے لئے ہوا، اور اﷲ سبحانہ، وتعالٰی بہتر جانتا ہے۔ت) مولوی صاحب نے اس بنا پر کہ میرا کا کوئی جواب کتاب سے نہ دے سکے اپنے مخیلات پر عامل ہوئے آخر میں ھذا ماسنح لی واﷲ اعلم بالصواب ۱؎(یہ وہ ہے جو میرے لئے ظاہر ہوا اور اﷲ سبحنہ اﷲ تعالٰی علیہ بہتر جانتا ہے۔ت)
(۱؎ مجموعہ فتاوٰی کتاب البیوع مطبع یوسفی لکھنؤ ۱/ ۳۹۸)
لکھا یہ دلیل کہ مولوی صاحب کی معتمد ہوئی فقیر نے پہلے ہی اپنے فتوٰی میں بنام وہم لکھ کر رد کردی تھی مولوی صاحب نے دلیل تو اٹھالی اور رد کے جواب سے عہدہ برآئی نہ کی میرے فتوٰی میں بعد بیان حکم و عبارت کتب تھا''مسئلہ کاجواب تو اسی قدر سے ہوگیا لیکن غیر فقیہ کو ایسی جگہ یہ وہم گزرتا ہے کہ ہر چند اصل حقیقت میں نوٹ صرف ایک چھپے ہوئے کاغذکا نام ہے مگر عرف واصطلاح میں گویا وہ بعینہ روپیہ ہے اس لئے ہر جگہ روپے کا کام دیتا ہے لین دین میں سو روپے کا نوٹ دینے اور سو روپے دینے میں ہر گز تفاوت نہیں سمجھا جاتا عموماً اس کے ساتھ معاملہ اثمان برتا جاتا ہے تو گویا وہ سو روپے تھے کہ بعوض ننانوے کے خریدے گئے اور اس کی حرمت میں کچھ شبہہ نہیں تو صورت مستفسرہ میں حکم تحریر دینا چاہئے''۔ دیکھئے اسی وہم کو مولوی صاحب نے اخذ کیا اور دلیل بنایا جس مضمون کو میں نے چار پانچ سطر میں ادا کیا تھا مولوی صاحب نے اسی کو صفحہ بھر میں پھیلا یا مگر افسوس کہ پھربھی ویسا ادا نہ ہوسکا، اولاً مولوی صاحب نے ثمن خلقی سے عینیت لی جس کے تحت میں اجناس داخل، اور اس کے سبب جو اعتراضات ہوئے آپ نے سنے میں نے ابتداءً ہی روپے کی تخصیص کی کہ گویا وہ بعینہ روپیہ ہے۔ ثانیاً مولوی صاحب نے عینیت فی الواقع ثابت مان لی کہ بار بار فرمایا''عین ثمن سمجھا جاتا ہے''فرمایا ''عین ثمن خلقی ہے'' اس پر جو اعتراضات قاہرہ وارد ہوئے ناظرین کے پیش نظر ہیں فقیر نے انہیں کے انسداد کو لفظ گویا زائد کردیا تھا ''گویا بعینہ روپیہ ہے، گویا وہ سوروپے تھے''۔ ثالثاًمولوی صاحب نے اہل عرف کے سر یہ تھوپاکہ نوٹ عرفاً جمیع احکام میں عین ثمن خلقی سمجھا گیا جس کا رد سن چکے، میں نے اسے ان لفظوں میں ادا کیا تھا کہ ''عموماً اس کے ساتھ معاملہ اثمان برتا جاتا ہے'' جس سے وہ اعتراض کہ بربنائے لفظ احکام واردہے وارد نہ ہوا، ہاں میں نے غیر فقیہ کےلئے بی یہ وہم پسند نہ کیا تھا کہ نوٹ بیچنے میں اس کی قیمت لینی مقصود نہیں ہوتی بلکہ سو روپے بیچنا اور روپیوں کی قیمت لینا منظور ہوتا ہے یہ خاص مولوی صاحب کا حصہ ہے اس کے اعتبار سے ان کا ما سنح لی فرمانا بجا ہے لکل ساقطۃ لاقطۃ (ہر گری پڑی شیئ کو کوئی اٹھانے والا ہوتا ہے۔ت) اب جواب کی طرف چلئے، فقیر نے دفع دخل کے لئے وہ وہم ذکر کرکے لکھا''مگرجسے فن شریف فقہ میں کچھ بھی بصیرت حاصل ہے اس کے نزدیک اس وہم کا ازالہ نہایت آسان ہے'' ( پھر مال کی چاورں قسمیں جورسالہ کے ص۱۳۳ سے۱۳۷تک گزریں بیان کرکے لکھا''نوٹ کے ساتھ اگر معاملہ اثمان برتا جاتا ہے تو غایت درجہ قسم رابع سے قرار پائے گا کہ اصل خلقت میں سلع ہے مگر بسبب تعارف ثمن ٹھہراہوا ہے اور ازانجا کہ اثمان اصلیہ سوا سیم وزر کے کچھ نہیں لہٰذا اہل عرف اگر غیر ثمن کو ثمن کرنا چاہیں تو ناچار اس کی تقدیر اثمان خلیقہ ہی سے کریں گے اس لئے پیسوں کی مالیت یونہی بتائی جاتی ہے کہ روپے کے سولہ آنے پس نوٹ کو جب عرفاً ثمن کرنا چاہا اس کے اندازہ میں بھی اصل ثمن کی جانب رجوع ضرور ہوئی اور یوں ٹھہرایا گیا کہ فلاں نوٹ سو روپے کا فلاں دو سو کا فلاں ہزار کا، مگر یہ صرف تقدیر ہی تقدیر ہے اس سے اتحاد جنس و قدر ہر گز لاز نہیں آتا جیسے اندازہ فلس سے چونسٹھ پیسے کا عین نہ ہوگئے یونہی اس قرار داد سے وہ نوٹ حقیقۃً سو روپے یا چاندی نہ ہوجائے گا پس علت ربا کا تحقق ممکن نہیں، باقی رہا عرف و اصطلاح اس کا اتباع عاقدین پر بایں معنی ضرور نہیں کہ جو قیمت انہوں نے ٹھہرادی ہے یہ اس سے کم و بیش نہ کرسکیں، یہ دونوں اپنے معاملہ میں مختار ہیں چاہے سو روپے کی چیز ایک پیسے کو بیچ ڈالیں یا ہزار اشرفی کو خریدلیں صرف تراضی درکار ہے و بس۔