| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ ) |
قال تعالی الذین یظٰہرون منکم من نسائھم ماھن امھتھم ان امھٰتھم الا الٰئی ولدنھم وانھم لیقولون منکرا من القول وزوراوان اﷲ لعفو غفور ۱؎۔
اﷲ تعالٰی نے فرمایا: تم میں جو اپنی عورتوں کو اپنی ماں کہیں وہ ان کی ماں نہیں ان کی مائیں تو وہی ہیں جن سے وہ پیدا ہیں اور وہ بیشک ضرور بری اور جھوٹی بات کہتے ہیں اور بیشک اﷲ ضرور معاف کرنے والا اور بخشنے والا ہے۔
(۱؎ القرآن الکریم ۵۸/ ۲)
اور عکس کی نیت او بھی شنیع و ناپاک تر ہے یوں ہی اگر بفرض غلط تسلیم کرلیا جائے کہ اہل عرف نے نیت کرلی کہ نوٹ بعینہ ثمن خلقی اور بذاتہ سونا چاندی ہے تو ان کی نیت سے نہ وہ کاغذ سے سونا چاندی ہوجائے گا نہ اصطلاحی سے خلقی، ان کا اختیار اصطلاح تک ہے تو اس سے ثمن اصطلاحی ہوگا، نہ خلق وآفرینش پر کہ ثمن خلقی ہوجائے۔
لاتبدیل لخلق اﷲ ۲؎
(اﷲ تعالٰی کی خلق میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی۔ت)
( ۲؎ القرآن الکریم ۳۰ /۳۰)
پھر فرمائیے حدیث کو یہاں کیا علاقہ ہوا۔
قولہ ولکل امرئ مانوی۳؎
(ہر شخص کے لئے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی۔ت)
(۳؎ مجموعہ فتاوٰی کتاب البیوع مطبع یوسفی لکھنؤ ۱ /۳۹۷)
اقول: الحمدﷲ حدیث کایہ جملہ تو ہمیں کو مفید ہے آپ کی خاطر سے پہلا باطل یہ تسلیم کرلیں کہ اہل عرف نے وضو کرکے نیت باندھ لی ہے کہ نوٹ بعینہ سونا چاندی ہے دوسرا اس سے بڑھ کر اشد باطل __________یہ مان لیں کہ دیدہ و دانستہ ان کی اس غلط نیت سے شرع نے بھی ان کے حق میں اسے سونا چاندی کردیا، تیسرا باطل یہ اوڑھ لیں کہ شر ع نے اسے سونا چاندی مان کر خود سونے چاندی میں جو حکم شرعی تھا کہ تفاضل وزن میں حرام ہے نہ کہ مالیت میں، اس زبردستی کے سونے چاندی میں اسے بالکل پلٹ دیا کہ اس میں تفاضل مالیت میں حرام ہے نہ کہ وزن میں، اب تو بالکل سب گھڑتیں آپ کی من مانتی مان لیں مگر الحمد اﷲ یہ حدیث بتارہی ہے کہ اب بھی دس روپے کا نوٹ زید وعمرو باہم سوروپے کو بچیں مول لیں خواہ ایک روپیہ کو سب حلال جناب من! جب یہاں تفاضل کا مبنی مالیت پر ٹھہرا اور نوٹ کی یہ مالیت بھی خلقی نہیں محض اصطلاحی ہے آپ خود فرماچکے ہیں کہ وہ کاغذ دو پیسہ کا بھی نہیں تو اہل عرف ہی کی اصطلاح و نیت نے اسے دس روپے کا کردیا اور ان کی اصطلاح و نیت ان دونوں عاقدوں پر حاکم نہیں انہیں اپنی جدا اصطلاح و نیت کا اختیار ہے آپ خود حدیث نقل کرتے ہیں: لکل امرئ مانوی۱؎(اور ہر شخص کےلئے وہی کچھ ہے جس کی اس نے نیت کی۔ت) ہر شخص کے حق میں اس کی نیت کا اعتبار ہے، نیز رسالہ کا صفحہ ۱۵۵،۱۵۶،۱۵۷،۱۵۸،۱۵۹، ۱۳۴،۱۶۴،۱۶۵ملاحظہ ہو، تو جب زید و عمرونے اپنے معاملہ میں اس اختیار کی بناء پر جو شرع مطہر نے ان کو دیا اصطلاح عام کی پیروی نہ کی بلکہ اس سے عدول کرکے جو نوٹ عرف عام نے دس روپے کا ٹھہرایا تھا سو روپے یا ایک ہی روپیہ کا قرار دیا ان پر اصلاً اس میں مواخذہ نہیں، نہ زنہار مالیت میں کچھ تفاضل ہوا کہ مالیت بربنائے اصطلاح تھی، ان کے حق میں وہی مالیت ہے جو انہوں نے باہم قرار دے لی اس لئے کہ لکل امرئ مانوی ۲؎ (ہر شخص کے لئے وہی کچھ ہے جس کی اس نے نیت کی۔ت) ہر شخص اور اس کی نیت حدیث سے اچھا استدلال کرنے چلے کہ اور لینے کے دینے پڑگئے۔
(۱؎ و ۲؎ صحیح البخاری باب کیف کان بدؤ الوحی قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۲)