| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ ) |
اقول: اولاً یونہی اکنیاں اور پیسے بھی، پھر اس سے کیا حاصل ہوا۔ ثانیاً اگر یہ مرد کہ اہل عرف اس کے لئے ثمن کے جملہ احکام شرعیہ ثابت کرتے ہیں تو صریح غلط بلکہ عامہ اہل عرف ان احکام سے آگاہ بھی نہیں بلکہ یہ عرف مومنین و کافرین میں مشترک، اور اگر یہ مقصود کہ ثمن سے جو اغراض اہل عرف متعلق ہیں ان سب میں نوٹ کو اس کا قائم مقام سجھتے ہیں جب بھی غلط۔ ثمن کے مقاصد سے ایک عمدہ مقصد لباس میں تزین ظروف وغیرہا میں تجمل ہے، اور نوٹ ہر گز اس میں قائم مقام ثمن نہیں، اور اگر یہ مطلب کہ ثمن کے بعض اغراض یعنی تمول اور حوائج تک اس کے ذریعہ سےتوسل میں نائب مناب جانتےہیں تو ثمن اصطلاحی کے معنی ہی یہ ہیں کہ اہل عرف اپنی اصطلاح سے ان اغراض میں اسے مثل ثمن کام میں لائیں پھر اس سے جملہ احکام شرعیہ ثمن کا ثبوت کیونکرہوگیا کیا ثمن خلقی واصطلاحی میں شرعاً فرق احکام نہیں۔ ثالثاً حکم شیئ میں ہونا جنس وقدر شیئ میں شیئ سے اتحاد نہیں اور یہاں بتصریح حدیث و جملہ کتب فقہ اسی پر مدار ہے۔
قولہ بلکہ عین ثمن سمجھا جاتا ہے ۱؎۔
(۱؎ مجموعہ فتاوٰی کتاب البیوع مطبع یوسفی لکھنؤ ۱ /۳۹۷)
اقول: اولاً ثمن اصطلاحی سے عنیت مثل اتحاد خاص و عام مسلم مگر وہ آپ کو مفید نہیں اوثمن خلقی عینی زر وسیم سے عینیت مسلم نہیں، کوئی سمجھ ولا بچہ بھی نہیں سمجھتا کہ نوٹ بعینہ چاندی سونا ہوگیا، اگر کہئے مراد یہ ہے کہ لین دین میں اے ایسا ہی سمجھتے ہیں جیسے روپیہ اشرفی، تو یہ وہی عرفاً حکم ثمن میں ہونا ہوا نہ کہ عین ثمن سمجھا جانا، تو ''بلکہ'' لغو بلکہ غلط ہوا۔ ثانیاً نوٹ بداہۃً ثمن اصطلاحی ہے اور اصطلاحی و خلقی متباین اور متباینین میں عینیت محال اور اہل عرف مجانین نہیں اور تاویل مذکور ''بلکہ''سے مہجور۔ ثالثا اگر بفرض غلط اہل عرف ایسا سمجھ بھی لیتے تو شرع مطہر توعند یہ کا مذہب جنون روا نہیں رکھتی کہ ان کے سمجھ لینے سے خود بھی اسے عین ثمن قرار دے کر جملہ احکام ثمن نافذ فرمادے۔ رابعاً ثمن خلقی جنس ہے دو قسم ذہب و فضہ میں منحصر، اور نوٹ فی نفسہ ایک نو ع مستقل ہے، اس کا عین مفہوم کلی معنی جنس سمجھا جانا تو بداہۃًباطل، اسی طرح انواع مباینہ و متباینہ سے عینیت اور جنس سے اتحاد خاص و عام کی عینیت تثلیث کرے گی اور وہ شرعاً باطل ہونے کے علاوہ مقصود پر نص سے عود کرے گی کہ انواع مختلفہ ثمن میں بتصریح حدیث اجماع امت تفاضل حلال۔ قولہ اس وجہ سے کہ اگر نوٹ سوروپے کا کوئی ہلاک کردے تو اصل مالک سو روپے تاوان لیتا ہے۱؎۔
(۱؎مجموعہ فتاوٰی کتاب البیوع مطبع یوسفی لکھنؤ ۱ /۳۹۷)
اقول: اولاً اگر کوئی سو روپے کا گھوڑا ہلاک کردے جب بھی مالک سو روپے تاوان لیتا ہے تو کیا گھوڑا اور روپے بھی عین ہوگئے اور پھر نوٹ بھی گھوڑا ہوجائے گا کہ عین کا عین ہے۔ اور لفظ اصل حشو ہے۔ ثانیاً یہ تو ظاہر عبارت پر تھا اب حل سنئے''لیتاہے" سے بخوشی لینا مراد یا یہ کہ وہی حکم شرع ہے کہ اس پر جبر ہوگا اول مسلم اور اس سے وہم عینیت مدفوع، اور اگر فرق نہ سمجھنے کا پیوند لگائیے جب بھی لایغنی من جوع کوئی ۶۴ پیسے کسی کے تلف کردے تو مالک بخوشی ایک روپیہ لے لے گا اور اس میں اور ۶۴ پیس لینے میں کچھ فرق نہ سمجھے گا اس سے روپیہ اور پیسے متحد نہ ہوگئے اور ثانی میں جبر متلف پر ہے یعنی اسے روپے ہی دینے پر مجبور کرینگے یا مالک پر کہ اسے قبول زر پر جبر کرینگے اول صراحۃً باطل، وہ سو کا نوٹ بھی دے سکتا ہے اور مالک کو انکار کی کوئی وجہ نہیں بلکہ وہی حکم اصلی ہے کہ نوٹ مثلی ہے معہذا یہ مقصود پر نص کے ساتھ عائد ہوگا کہ اتلاف نوٹ میں ادائے دراہم پر جب ہو تو نوٹ قیمتی ٹھہرے اور روپیہ مثلی ہے اور قیمت و مثلی ایک نہیں سمجھے جاسکتے اور ثانی بر تقدیر تسلیم مفید عینیت نہیں کہ اثمان رائجہ میں بحال تساوی رواج و مالیت ادا کرنیوالا مخیر ہوتا ہے اور انکار تعنت۔ اس کا بیان رسالہ کے ص ۱۸۵ سے ۱۹۰ تک دیکھئے۔ قولہ اور سو روپے کا نوٹ جب بیچا جاتا ہے تو مقصود اس سے قیمت ملنا اس کا غذکی نہیں ہوتی ہے کیونکہ پر ظاہر ہے کہ وہ کاغذدو پیسہ کا بھی نہیں ہے بلکہ مقصود سو روپے کا بیچنا اور ا سکی قیمت لینا ہوتا ہے ۲؎۔
(۲؎ مجموعہ فتاوٰی کتاب البیوع مطبع یوسفی لکھنؤ ۱ /۳۹۷)
اقول:( ۱۳تا۱۷)ا سکے پانچ رد حاشیہ ص ۱۸۴میں گزرے، اور (۱۸تا۲۲) وہ جو کہا کہ وہ کاغذ دو پیسہ کا بھی نہیں اس کے بھی پانچ رد گزرے ۴صفحہ ۱۲۴، ۱۲۵، ۱۲۸، ۱۲۹پر، اول یہ کہ حسب تصریح علماء کاغذ کا ایک ٹکڑا صرف عاقدین کی تراضی سے ہزار وپے کو بک سکتا ہے نہ یہ کہ یہاں لاکھوں آدمیوں کی اصطلاح۔، دوم سکہ قیمتی ہے، سوم حقیر شیئ کسی وصت کے سبب اپنے ہزاورں سے امثال سے گراں ہوجاتی ہے۔ چہارم ورق علم کا مسئلہ اور پانچوں رد صفحہ ۱۳۸، ۱۳۹پرکہ تقوم میں حال پر نظر ہے نہ کہ اصل پر۔ قولہ او رنوٹ سو روپے کا اگر کوئی شخص قرض لے تو بوقت ادا خواہ نوٹ سو روپے کا دیوے یا سو روپے دیوے دونوں امر مساوی سمجھے جاتے ہیں اور دائن کو کسی کے لینے میں مدیون سے عذر نہیں ہوتا حالانکہ اگر مدیون غیر جنس بوقت ادا دیوے تو دائن نہیں لیتا ہے ۱؎۔
(۱؎ مجموعہ فتاوٰی کتاب البیوع مطبع یوسفی لکھنؤ ۱ /۳۹۷)
اقول: اولاً پندرہ روپے اگر کوئی قرض لےتو وقت ادا پندرہ روپے دے یا ایک ساورن دونوں امر مساوی سمجھے جاتے ہیں اور دائن کو کسی کے لینے میں عذر نہیں ہوتا حالانکہ مدیون غیر جنس دے تو دائن نہیں لیتا تو آپ کے نزدیک روپے اور اشرفی یعنی چاندی اور سونا بھی جنس واحد ہوئے اور قدر تو متحد تھی ہی تو فرض قطعی ہو ا کہ سونا جب چاندی سے بیچین دونوں کانٹے کی تول برابر کرلیں رتی بھر کمی وبیشی ہوئی تو سود حرام وگناہ کبیرہ و استحقاق نارجحیم و عاب الیم ہوگا یہ اجماع قطعی جمیع امت مرحومہ و تواتر قطعی و عقل جملہ عقلائے عالم سب کے خلاف ہے۔ ثانیاً آٹھ آنے پیسےاگر کوئی قرض لےتو وقت ادا پیسے ہی دئیےیا آٹھ اکنیاں یا ایک اٹھنی تینوں امرمساوی سمجھے جاتے ہیں دائن کو کسی کے لینے میں عذر نہیں ہوتا حالانکہ مدیون غیر جنس دے و دائن نہیں لیتا تو چاندی اور تانبا بھی جنس واحد ہوئے اور چاندی اور سونا پہلے متحد ہوچکے ہیں تو تانبا او سونا بھی ایک جنس ہوئے کہ متحد کا متحد متحد ہوتا ہے اور ان سب میں قدر تو متحد تھی ہی تو فرض قطعی ہوا کہ تولہ بھر سونا دو ہی پیسے کو بیچا جائے ایک چھدمابھی زیادہ ہوا تو سود کا سامنا اور جہنم کی آگ ہے والعیاذ باﷲ تعالٰی، اور تو کیا عرض کروں لیکن صراف اگر اس فتوے پر عمل کرلیں تو باز ار تو ایک ہی دن میں پٹ جائے۔ ثالثاً پندرہ روپے کے نوٹ اگر کوئی قرض لے ایکدس اور ایک پانچ کا، یا تینوں پانچ پاچن کے، تو وقت ادا خواہ پندرہ کے نوٹ دے یا ایک سا ورن، دونوں مساوی سمجھے جاتے ہیں اور دائن کو کسی کے لینے میں عذر نہیں ہوتا حالانکہ مدیون غیر جنس دے تو دائن نہیں لیتا تو اب نوٹ اور سونا ایک جنس ہوئے اور آپ نوٹ اور چاندی ایک جنس کرچکے ہیں اور چاندی اور سونا قطعاً دو جنس متباین ہیں ولہٰذا باجماع امت وتواتر قطعی ان میں تفاضل روا ہے تو شیئ واحد دو نوع متباین سےکیونکر متحد ہوگئی۔ ظاہر ہوا کہ اس عذر نہ ہونے کو مفید اتحاد جنس سمجھنا سخت وہم باطل تھا بلکہ اس کی وجہ وہی تساوی رواج و مالی تہے جس کا بیان صفحہ ۹۷ سے صفحہ ۱۰۱ تک گزرا۔ رابعاً حل یہ ہےکہ بے عذری یعنی قبول ذی حق واتحاد جنس میں عموم خصوص من وجہ ہے کہیں اتحادجنس ہے اور قبول نہیں جیسے سونے کا گہنا خریدنے والا اس کے بدلے اشرفیاں نہ لے گا اور کہیں قبول ہے اور اتحا دجنس نہیں جیسے پندرہ روپے اور اشرفی، روپے اور نوٹ نوٹ اور اشرفی، اٹھنی اور پیسے، اٹھنی اور اکنیاں اور مادہ اجتماع ظاہر ہے تو ایک کے وجود سے دوسرے کے حصول پر استدلال ایسا ہے کہ یہ کاغذ ابیض ہے لہٰذا حیوان ہے کوا حیوان ہے لہٰذا ابیض ہے ولا حول ولا قوۃ الاباﷲ۔ خامساً یہ شبہہ وہی ہے جو نوٹ ہلاک کرنے پر فرمایا تھا وہاں اہلاک سے ضمان آئی تھی یہاں قرض سے بات ایک ہی ہے اور یہی مولوی صاحب کے سارے شبہہ کی جڑ ہے اس غرض کے لئے کہ کچھ تو شاندار ہوجائے اسے بار بار دو ایک لفظ بدل کر فرماتے ہیں ہاں بیان میں اتنا ضرور ہوا کہ پہلی عبارت نہایت ناقصہ قاصرہ تھی مگر پوری بات اب بھی ادانہ ہوئی عذر نہ ہونا عذرنہ ہوسکنے کو مستلزم نہیں اور ممکن کہ بوصف تغایر جنس کسی غرض ووجہ خاص کے سبب عذر نہ ہوں ہاں عذر نہ ہوسکنا کچھ وہم ڈالتا مگر ہم انہیں صفحات میں بحرالرائق وردالمحتار سے اس کا ازالہ کرآئے کہ شرعاً بھی باوجود مغایرت جنس ہنگام استوائے رواج و مالیت قبول پر جبر کیا جاتا ہے اور عذر تعنت قرار پاتا ہے تواب جڑ کا شبہہ جڑ سے اکھڑ گیا وﷲالحمد۔
سادساً طرفہ مزہ یہ ہےکہ ابھی تو نوٹ کو بے قدر ٹھہراکر کہ وہ کاغذ دو پیسے کا بھی نہیں اسے معاملہ سے جدا اور خود روپوں پر ورود عقد باین کرچکے ہیں اور یہ بلافصل اس کے متصل ہی نوٹ پر ورود عقد اور اسکے عین جنس نقد بنادینے کی کوشش ہورہی ہے یہ تناقض کتنا بالطف ہے۔ سابعاً میں ایک ہی تناقض کہہ رہا ہوں وہاں پہلے فقرے میں نوٹ کو سوروپے کا مال بتایا جس کا تاوان سو روپے آیا، دوسرے فقرہ میں اسے موار دعقد سے جلا وطن ہونے کا حکم فرمایا کہ حقیقۃً روپے بکتے ہیں وہ کاغذ تو ٹکے کا بھی نہیں، تیسرے فقرہ میں وہی کاغذ جو کروٹ لے تو پھر سو روپے کا بلکہ سوروپے سے متحدالجنس ہوگیا۔ ثامناً لطف یہ کہ دعوی تو وہ فرمایا کہ نوٹ عین ثمن سمجھا جاتا ہے اور اخیر تک بار بار اسی کی تکرار ہوگی، اور اس کے دلائل میں یہ کہ روپیوں کا بیچنا مقصود ہوتا ہے نہ اس کاغذکا، اور ہر شخص جانتا ہے کہ نوٹ نہیں مگر یہ کاغذ تو اگر نوٹ عین ثمن سمجھا جاتا خود اس کاغذ ہی کا بیچنا مقصود ہوتا نہ کہ روپیوں کا تودلیل مناقض دعوٰی ہے فافھم (عہ) ( پس تو سمجھ)۔
عہ: اس طرف اشارہ ہے کہ ان تین اور ۱۳ تا ۲۲ میں اکثر سے عذر خواہی کیلئے شاید ایک تاویل گھڑتے کہ ہم نے اشارہ میں ذات من حیث المقدار مراد لی اورمع سائر الاوصاف اسی کو روپے جانا، مگر یہ گھڑت کے علاوہ بداہت سے صاف مکابرہ اوردعوٰی پر صریح مصادرہ ہے کما لایخفی، لہٰذا نہ قابل سماعت نہ بعد سماعت اعتراض سے نجات، بات بن جائے یہ بہر حال ناممکن ۱۲ منہ حفظ ربہ۔
قولہ بخلاف پیسوں کے کہ وہ بھی اگر چہ عرفاً ثمن ہیں مگر یہ کیفیت ان کی نہیں، اگر ایک روپے کے عوض میں کوئی چیز خریدے یا ایک روپیہ کسی سے قرض لے اور وقت ادا پیسے ایک روپے کے دے تو دائن اور فروخت کنندہ کو اختیار رہتا ہے کہ وہ لے یا نہ لے اور حاکم کی طرف سے اس پر جبر نہیں ہوسکتا کہ خواہ مخواہ وہ پیسے لے لے۔ اقول: اولاً خلاف منصو ص ہے جیساکہ گزرا۔ ثانیاً مشاہدہ کے خلاف یوں اعتبار نہ آئے تو اسکا عکس کردیکھئے کہ ۶۴ پیسے قرض لئے یا ثمن قرار دئیے ہوں اور ایک روپیہ دے تو دائن و بائع کو ہر گز کچھ عذر نہیں ہوتا بے تکلف قبول کرلیتا ہے اور عذر کرے تو متعنت ہے اور متعنت کی بات مردود۔ ثالثا مولوی صاحب چوکے، سو روپے کی مثال لاتے تو بات نظر عوام میں لگتی ہوئی ہوتی، واقعی جو سو روپے قرض لے پھر ان کے بدلے چھ ہزار چار پیسے دینا چاہے تو دائن کہے گا کہ میں کہاں سیر بھر چاندی کی جگہ دو من پکے سے زیادہ تانبا لادتا پھروں صندوقچی کے ایک خانہ کی جگہ پیسوں سے مٹکا بھروں مگر ساتھ ہی دوانی،، چوانی، اٹھنی سب نقص کو آموجود ہوتیں ہر شخص جانتا ہے کہ دوانی کا کچھ خریدکر دو آنے پیسے دیجئے تو اصلاً جائے انکار نہیں ہوتی اور جب ریزگاری اور پیسے متحد الجنس ہوئے اور یرزگاری اور روپے ایک جنس ہیں تو روپے اور پیسے بھی ایک جنس ٹھہرے کہ متحد کا متحد متحد ہے بلکہ بالواسطہ عینیت کیوں لیجئے اسی کا عکس دیکھئے ۶۴۰۰ پیسے قرض لئے ہوں اور ادا میں سو روپے دیئے ابھی دیکھے بلا عذر قبول ہوں گے اور نہ مانے تو خبطی ٹھہرے تو ظاہر ہوا کہ یہاں بنائے عذر امر خارجی ہے مثلاً منوں بوجھ وغیرہ۔ رابعاً اگر ہم آپ کی ارخائے عنان کو مان بھی لین کہ صحت عذر اگر چہ بعض صور میں ہو، نافی اتحاد جنس ہے، تو اب نوٹ میں اتحاد کی خیر نہیں ادائے قرض کے وقت عذر نہ ہو تسلیم مبیع کے وقت ضرور متصور، زیدکو سو روپے کا نوٹ ڈاک میں بھیجنا ہے کہ(۲ ۰/) کی رجسٹری بس ہوگی اور منی آرڈر ایک روپے میں ہوگا خصوصاً اگر گنگوہی دھرم کجا ہو اتو وہ منی آرڈر کو حرام ہی جانے گا اس نے عمرو سےنوٹ خریدا عمرو تسلیم مبیع کے وقت روپے یا بیس بیس کی پانچ اشرفیاں دکھائے زید ہر گز نہ مانے گا تو معلوم ہوا کہ نوٹ اور ثمن ایک جنس نہیں، قولہ پیس پیسے اگرچہ عرفاً ثمن ہیں مگر عین ثمن خلقی نہیں سمجھے گئے ہیں بخلاف نوٹ کے کہ یہ عین ثمن خلقی ہے گو عینیت خلقیہ نہیں بلکہ عینیت عرفیہ ہو ۱؎۔