Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ )
121 - 180
 (۱۸) آپ کی اجواب دیں گے اگر کوئی آپ کی پچھلی نزاکت پر کہے کہ جب آپ نے اس عقد کو کہ لفظ ''میں'' نیت میں قصد میں فہم میں قطعاً بیع تھا تمام جہاں کے فہم و ارادہ کے خلاف کا یا پلٹ کرکے حوالہ تراش لیا تو آپ اب کس منہ سے کہت ہیں کہ کم زیادہ پر بیع کرنا ربا و ناجائز ہے زیادہ پر بیع کا یہ حاصل کیوں نہیں ٹھہراتے کہ زید نے جوعمرو کے سات سو روپے کا نوٹ سو اسو روپے کو بیچا ہے یہ بیع نہیں سوا سو کا سوسے بدلنا نہیں کہ رباناجائز ہو بلکہ زیدنے عمرو سے سوا سو قرض لئے ہیں اور زید کے گورنمنٹ پر سو آتے تھے وہ اس پر اتاردئیے، رہے پچیس وہ عمرو نے زید کو چھوڑدئیے اور اس میں کون سار ہا ہے،
فتاوٰی امام قاضی خان سے رسالہ کے صفحہ ۱۷۳ میں گزرا :
فان ارادالحیلۃ یستقرض من المشتری اثنٰی عشر درہما مکسرۃ ثم یقضیہ عشرۃ جیادا ثم ان المقرض یبرءہ عن درھمین فیجوز ذٰلک ۲؎۔
اگرحیلہ کا ارادہ کرے تو مشتری سے بارہ درہم ٹوٹے ہوئے قرض لے پھر دس کھرے درہم اس کو واپس دے اور قرض دہندہ باقی دو درہموں سے اس کو بری کردے تو یہ جائز ہے۔(ت)
 (۲؎ فتاوٰی قاضی خان     کتاب البیوع    باب فی بیع مال الربوٰ     نولکشور لکھنؤ، انڈیا    ۲/ ۴۰۷)
نیز خانیہ سے اس کے متصل گزرا :
فان ارادہ الحیلۃ یا خذ التسعۃ بالتسعہ ویبرءہ عن الدرھم الباقی ۱؎۔
اگر حیلہ کرنا چاہے تو نو درہم نودرہموں کے بندلے میں لے لے اور باقی ایک درہم سے اس ( مقروض) کو بری کردے۔(ت)
 (۱؎ فتاوٰی قاضیخان    کتاب البیوع    باب فی بیع مال الربوٰ     نولکشور لکھنؤ انڈیا     ۲ /۴۰۷)
اگر کہئے یہ قض بشرط ابراء عن البعض ہواتو اولاً کیوں نہ کہئے کہ جب سرے سے سو کا نوٹ لے کر سو اسودے رہا ہے تو قرض بعض وہبہ بعض ہوا پھر اگر زیادتممتازہ یا تبعیض مضر ہو جب تو بلا خدشہ جائز و صحیح و روا ہے اور آپ کا حکم باطل و پادر ہوا ہے ورنہ غایت یہ کہ بوجہ شیوع ناتمام ہو، ربا کہاں سے آیا۔

ثانیاً قرض شروط فاسدہ سے فاسدنہہوتا بلکہ شرط باطل ہوجاتی ہے تو یہ کئے کہ زید پر پچیس روپے اور واجب رہے نہ کہ سود ہوا،
فافھم ان کنت تفہم لکنک تفہم انک لاتفہم۔ واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔
تو سمجھ لے اگر تو سمجھتا ہے لیکن تو سمجھتا ہے کہ بیشک تو نہیں سمجھے گا۔ واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم(ت)
ردّ وہم

بحمد اﷲ تعالٰی مولوی صاحب لکھنؤ ی کے ردمین کلا مشبع گزرا مسئلہ یازدہم خاص انہیں کے رد میں تھا بلکہ کا اکثر حصہ ان کے رد میں ہے یہاں غالباً ان کا پتا دینے پر اکتفاہو، مولوی صاحب کی کی جلد دوم فتوی نمبر ۱۲۶: قولہ ھو المصوب ۲؎( وہ درست بنانے والا۔ت)
 (۲؎ مجموعہ فتاوٰی  کتاب الاکل والشرب    مطبع یوسفی لکھنوی، انڈیا    ۲/۱۱۵)
اقول: ( میں کہتا ہوں مولوی صاحب کی عادت ہے کہ ہر جواب سے پہلے یہی لکفظ لکھتے ہیں حالانکہاولاً اﷲ عزوجل پر اس نام کا اطلاق واردنہیں ہوتا۔

ثانیاً معنی لغت بھی اس کے مساعد نہیں لغت میں مصوب وہ ہے جو دوسرے کی بات ٹھیک بتائے، نہ وہ جو اس کی بات کو ٹھیک بنائے یعنی اسے توفیق صواب بخشے، تصویب بعد وقوع قول ہوتی ہے اور توفیق صواب اس سے مقدم۔

ثالثاً اس کے اور معنی بھی ہیں کہ باری عزوجل پر محال ہیں، مصوب وہ جو سر جھکائے ہوئے ہو، مصوب وہ سوار کہ گھوڑا تیز چلائے۔ قاموس میں ہے : صوبہ قال لہ اصبت وراسہ خفضہ۱؎۔   صوبہ کسی کو کہاکہ تونے ٹھیک بات کی، صوب راسہ اس نے سرجھکا یا۔(ت)
 (۱؎ القاموس المحیط     فصل الصاد من باب الباء     مصطفی الحلبی مصر    ۱ /۹۷)
تاج العروس میں ہے :
صوبت الفرس اذا ارسلتہ فی الجری ۲؎۔
صوبت الفرس یعنی میں نے گھوڑے کو تیزدوڑایا۔(ت)
 (۲؎ تاج العروس    فصل الصاد من باب الباء  داراحیاء التراث العربی بیروت     ۱/ ۳۴۱)
ہاں مصوب وہ بھی ہے کہ دوسرے کا سر نیچا کرے یا بلندی سے پستی میں اتارے۔ تاج العروس میں ہے:
التصویب خلاف التصعید ومن قطع سدرۃ صوب اﷲ راسہ فی النار ای نکسہ اھ ۳؎مختصرا۔
تصویب، تصعید کے خلاف ہے اور جس نے بیری کا درخت کاٹا اﷲ تعالٰی نے اس کا سر آگ میں جھکا دیا اھ مختصرا ً (ت)
 (۳؎تاج العروس    فصل الصاد من باب الباء  داراحیاء التراث العربی بیروت     ۱/ ۳۴۱)
یہ اگر ہوتا تو مثل خافض رافع سے جدا نہ بولا جاتا کما فی کتاب الاسماء والصفات للامام البیہقی (جیسا کہ امام بیہقی کی کتاب الاسماء والصفات میں ہے۔ت) پھر جبکہ مضاف الیہ مذکور نہیں توامثال مقام میں خود متکلم کی طر ف اس کی اضافت مفہوم ہوتی ہے جیسے ھو الھادی ( وہی ہدایت دینے والا ہے۔ت) سے شروع کرنا اس پر دلالت کرتا ہے کہ قائل اپنے لئے ہدایت مانگتا ہے اس تقدیر پر یہ کیا دعاہوئی کہ الٰہی ! قائل کا سرنیچا کردے، الٰہی !اسے پستی میں ڈال دے۔ یہ بحث اگرچہ مسئلہ نوٹ سے جدا تھی مگر منکر یا ناپسند یدہ پر اطلاع دینا مناسب ہے وباﷲ التوفیق۔
قولہ نوٹ ہر چند کہ خلقۃً ثمن نہیں مگرعرفاً حکم ثمن میں ہے۴؎۔
 (۴؎ مجموعہ فتاوٰی کتاب البیوع  مطبع یوسفی لکھنؤ  ۱/۳۹۷)
Flag Counter