Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ )
120 - 180
اب فرض کیجئے کہ گورنمنٹ نےکسی خدمتگاری کے صلہ میں دس ہزار روپے کا نوٹ آپ کو انعام دیا ایک بنئے نے روپے دے کر وہ نوٹ آپ سے خریدلیا پھر کسی موقوع پر اس نے گورنمنٹ کی نذر کردیا اب وہی صورت آگئی آپ بنئے کے محیل تھے اور بنیا محتال اور گورنمنٹ حویل۔ اور ظاہر ہے کہ گورنمنٹ آپ کی مدیون نہ تھی آپ بنئے کے مدیون تھے آپ نے اپنا دین نوٹ دے کر گورنمنٹ پر اتاردیا تھا اور گورنمنٹ نے اپنے قانون عام سے کہ جو نوٹ لائیگا روپیہ پائے گا حوالہ قبول کرچکی اور بنئے نے نوٹوں کا روپیہ یعنی وہ دین گورنمنٹ کو نذر کردیا ہبہ کردیا ترک کردیا تو لازم کہ گورنمنٹ چاند ٹھونک کر آپ سے دس ہزار وصول کرسکے اس سے آپ کو حوالہ ماننے کا مزہ آجاتا کہ نوٹ کے نوٹ غائب اور دس ہزارکھوپڑی پرواجب،بحمد اﷲ اس سفاہت کا بہت طرح رد ہوسکتا ہےمگر آپ کےحوالہ کی مٹی پلید کرنےکو،
تلک عشرۃ کاملۃ ۲؎
 (یہ پورے دس ہیں۔ت) یہ پورےدس کیا کم ہیں وبا اﷲالتوفیق۔
 (۲؎ القرآن الکریم ۲/ ۱۹۶)
یازدہم: تمام جہان تو نوٹ کو مال مانے ہوئے ہے آپ کو اس میں کیا دکھتی سوجھی ہے کہ وہ کچھ محالاتا اوڑھئے عالم بھر کی آنکھوں میں خاک جھونکئے مگر اسے مال ماننا منظور نہیں آپ کی روش تو یہ تھی کہ جو امر محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علہی وسلم و سائر محبوبان خدا جل وعلا کی تعظیم و محبت کا پہلولئے ہوئے ہو اس  میں اپنے حد کی تنگی دکھاؤ بنے نہ بنے شرک کفر حرام گاؤ، اور اپنے معتقدوں کے لئے ذرائع اکل و معاش میں خوب وسعت لاؤ، کواکھانا حلال بلکہ ثواب ۳؎( دیکھو جلد ۲ ص۱۷۹)
(۳؎ فتاوٰی رشیدیہ  کتاب الحظر والاباحۃ محمد سعید اینڈ سنزکراچی ص۴۹۳)
بکرے کے خصیے کھانا حلال ۴؎ ( دیکھو جلد ۳ص۱۹۰) تعجب ہے کہ اسے ثواب نہ لکھا، کوا کالا کالا یہ گورے گورے، ان میں تو گنگوہی شریعت سے بڑا چمکتا ثواب چاہئے تھا، پاخانہ اٹھانے کی اجرت مباح خالص حلال طیب جس میں کراہت درکنار کراہت کاشبہہ بھی نہیں بھنگی نے پاخانہ اٹھا کر جو مال کمایا ایسا مقدس ہے کہ اسے تعمیر مسجد میں صرف کرنا بھی درست ہے ۱؎ ( دیکھو جلد اول ص۱۰۵)
 (۱؎ فتاوٰی رشیدیہ کامل     باب احکام المساجد     محمد سعید اینڈ سنز کراچی     ص۴۰۸)
واقعی آپ جیسے مقدسوں کے کھانے پہننے اور آپ حضرات کی مساجد مولثہ بد عات توہین و نتقیص کی لائق ایسی ہی کمائی تھی ع
ہر شکم و لقمہ شایان او
 ( ہر پیٹ کہی شان کے مطابق لقمہ چاہئے۔ت)
غرض ذرائع دنیا میں اپنوکے لئے آپ کی یہ وسعت تھی، نوٹ کی خریدو فروخت اور اسے مال سمجھن میں کون ساحصہ تعظیم و محبت محبوبان خدا پایا جسے باطل کرنا آپ پر لازم ہوا وجہ تو بتائے کہ یہ تمام عالم کا اسے مال ماننا کیوں نہ مقبول ٹھہرا  ثمن اصطلاحی ٹھہرانےمیں اصطلاح قوم و ملک پر کاربندی واجب ہوتی ہے یہاں جملہ اقوام و تمام ممالک عالم اپنی اصطلاح روشن طور پر بتارہے ہیں اور آپ ہیں کہ ایک نہ ہزار نہ کوئی یہ تو پوچھے کہ آپ ہیں کون اصطلاح جملہ جہاں میں دخل دینے والے، نوٹ کی مالیت کا ثبوت رسالہ میں ص ۱۲۶سے ۱۳۲تک سوجھئے۔
دوازدہم پیسوں میں نیت تجارت کی حاجت اس وقت ہے جب وہ ثمن ہوکر نہ چلتے ہوں ورنہ ثمن میں ہر گز نیت تجارت کی حاجت نہیں اگرچہ ثمن اصطلاحی ہو نہ خلقی، غنیہ ذوی الاحکام ور دالمحتار وغیرہما میں ہے:
الفلوس ان کانت اثمانا رائجۃ او سلعا للتجارۃ تجب الزکٰوۃ فی قیمتھا والافلا ۲؎۔
پیسے اگر ثمن ہوں اور رائج ہوں یا سامان تجارت ہوں تو ان کی قیمت میں زکوٰۃ واجب ہے ورنہ نہیں۔(ت)
 (۲؎ ردالمحتار     کتاب الزکوٰۃ     باب المال     داراحیاء التراث العربی بیروت    ۲ /۳۲)
درمختار وبحرالرائق ونہر الفائق میں ہے :
اغلب غشہ یقوم کالعروض ویشترط فیہ النیۃ الااذا کانت اثمانا رائجۃ ۳؎۔
جس میں ملاوٹ غالب ہو اس کی قیمت لگائی جائیگی جیسے سامان کی قیمت لگائی جاتی ہے اور اس میں نیت تجارت شرط ہے سوائے اس کے کہ وہ ثمن رائج ہوں۔(ت)
 (۳؎ درمختار   کتاب الزکوٰۃ    مطبع مجتبائی دہلی    ۱/ ۱۳۵)
شامی میں ہے :
ماکان ثمنا رائجا تجب زکاتہ سواء نوی التجارۃ اولا۱؎۔
جو ثمن رائج ہو اس کی زکوٰۃ واجب ہے چاہے تجارت کی نیت ہو یا نہ ہو (ت)
 (۱؎ ردالمحتار     کتاب الزکوٰۃ     باب زکوٰہ المال     داراحیاء التراث العربی بیروت    ۲ /۳۲)
اسی میں ہے :
عین النقدین لایحتاج الٰی نیۃ التجارۃ وکذا ماکان ثمنا رائجا۔۲؎
عین نقدین ( سونا اور چاندی) میں تجارت کی نیت کی حاجت نہیں اسی طرح جو ثمن رائج ہو۔(ت)
(۲؎ردالمحتار     کتاب الزکوٰۃ     باب زکوٰہ المال     داراحیاء التراث العربی بیروت    ۲ /۳۲)
بحرالرائق میں کتب کثیرہ سے ہے :
ان غلب الغش فلیس کالفضۃ کا لستوقۃ فینظر ان کانت رائجۃ اونوی التجارۃ 

اعتبرت قیمتھا فان بلغت نصابا وجبت فیہا الزکٰوۃ والا فلاء ۳؎ملخصاً۔
اگر ملاوٹ (کھوٹ) غالب ہو تو وہ چاندی کی طرح نہیں جیسے کھوٹے روپے، پھر دیکھا جائیگا کہ وہ رائج ہیں یا ان میں نیت تجارت ہے تو ان کی قیمت کا اعتبار کیا جائے گا، اگر وہ نصاب کو پہنچے تو اس میں زکوٰۃ ہے ورنہ نہیں(ت)
(۳؎ بحرالرائق    کتاب الزکوٰۃ     باب زکوٰہ المال    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی     ۲/ ۲۲۸)
ص ۱۳۷ دیکھئے کہ اسی پر فتوٰی ہے ایک آدھ روایت ٹٹول میں آجانا اور محل ومحمل نہ دیکھنا اور راجح و مرجوح و شاذ ومشہورمیں فرق نہ کرنا فقہات نہیں ہوتا مگر حضرات وہابیہ کے نصیبوں تو فقہات بحمداﷲ نصیب دشمنان ہے۔ ان وجوہ قاہرہ کے علاوہ اس دو سطری تحریر گنگوہیت خمیر میں اور بھی مواخذات ہیں مثلاً:

(۱۳) نوٹ نقدین بتیا یعنی نوٹ سونا چاندی ہے، اور پھر اسی منہ میں یہ کہ تمسک ہے۔

(۱۴) تمسک کہ کہنا کہ اس پر زکوٰۃ ہے حالانکہ تمسک سرے سے مال ہی نہیں، نہ اس کے عدم و وجود کو زکوٰۃ کے وجوب وعدم میں کچھ دخل۔

(۱۵) نوٹ کے مبیع سمجھنے پر اس کی زکوٰۃ نہ دینے کی بنا سمجھنا، کیا مبیع پر زکوٰۃ نہیں ہوتی۔ ابھی تو آپ پیسوں کو مبیع کہہ کر بحال نیت تجارت زکوٰہ واجب مان چکے ہیں۔

(۱۶) کاغذ کے مبیع سمجھنے کو سخت غلطی کہنا شاید عمر بھر کاغذ خریدنے کا اتفاق نہ ہوا، نہ ان کے گاؤں میں خبر پہنچی کہ دنیا میں کاغذبھی بکتا ہے۔

(۱۷) لطف یہ کہ ابھی تونوٹ کو اس جرم پر کہ کاغذ ہے مبیع سمجھنا سخت غلطی تھا اور ایک ہی ورق بعد صفحہ ۱۷۳پر خود فرماتے ہیں کہ ''نوٹ خرید کر بھیج سکتا ہے ۱؎''
 (۱؎ فتاوٰی رشیدیہ  باب الربوٰ  محمد سعید اینڈ سنز کراچی ص۴۳۱)
اے سبحان اﷲ ! نوٹ تو بک سکتا ہی نہ تھا خرید اکیسے جائے گا مگر حضرت کی ان عظیم سفاہتوں کے آگے ایسی نزاکتوں کی کیا گنتی ع
ماعلی مثلہ یعد الخطاء
 ( اس کی مثل پر خطاؤ ں کا شمارنہیں کیاجاتا۔ت)
نسأل اﷲ العفو والعافیۃ، ولاحول ولا قوۃ الاباﷲ العلی العظیم۔
ہم اﷲ تعالٰی سے معافی اور عافیت مانگتے ہیں، اور گناہ سے بچنے اور نیکی کی طاقت نہیں مگر اﷲ تعالٰی کی توفیق سے۔(ت)
Flag Counter