Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ )
119 - 180
اب فرض کیجئے کہ اب بنک نے خزانہ سے بیس لاکھ کے نوٹ متفرق اوقات میں لئے تھے پھر گورنمنٹ کو قر ض لینے کی حاجت ہوئی اس نے بنک سے بیس لاکھ قرض مانگے بنک نےوہی نوٹ دے دئے تو تمام دنیا یہی جانے گی کہ بنک نے ضرور قرض دیا مگر آہ اپنی کہئےاب نوٹ دینا حوالہ تو ہو نہیں سکتاکہ گورنمنٹ کا بنک پر قرض نہ آتا تھا انتہا یہ کہ وکالت ہوگی جس کا حاصل اتنا کہ گورنمنٹ نے اس سے قرض مانگا اس نے بیس لاکھ کے نوٹ جو نرے تمسک تھے دے کر برات عاشقاں برشاخ آہو پر ٹال دیا یعنی گورنمنٹ کو وکیل کردیا کہ خود اپنے خزانہ سے وصول کرو ہم کچھ نہ دیں گے لطف یہ کہ گورنمنٹ بھی نہیں کہتی کہ ہم تجھ سے قرض چاہتے ہیں، تو کہتا ہے اپنے ہی خزانہ سے لے لو یہ کیا قرض دینا ہوا، زید پر عمرو کے روپے آتے ہوں زید اس سے اور قرض لینے آئے، اس پر عمرو کہے کہ میرا پہلا قرض جو تم پر آتا ہے اسی سے وصول کرلو، تو اس نے یہ قرض دیا یا ٹال دیا بلکہ اسے یوں ٹھہراؤ کہ دین معاف کیا اور تمسک واپس دئیے معاملہ ختم ہوا گورنمنٹ بیس لاکھ کے نوٹ لے لے اور کوڑی نہ دے سستے چھوٹے۔
نہم فرض کرو گورنمنٹ نے بیس لاکھ کسی کو انعام دئیے تھے پھر ایک وقت پر ا سے قرض مانگا اس نے وہی نوٹ دے دئیے دنیا جانے گی کہ گورنمنٹ پر اس کے بیس لاکھ قرض ہوگئے مگر گنگوہی صاحب کہیں گے ایک پیسہ بھی قرض نہ ہوا گورنمنٹ بیس لاکھ کے نوٹ مفت لے لے اور کچھ نہ دے اس لئے کہ یہ وہ صورت ہے کہ نہ حوالہ کرنے والے پر قرض آتا تھا نہ جس پر حوالہ کیا اس پر اس کا پہلے کوئی دین تھا تو کارروائی باطل ہوئی اور گورنمنٹ کوکچھ دینا نہ آئے گاولا حول ولا قوۃ الا باﷲ،غرض یہ آپ نے وہ گھڑی ہے کہ نہ گورنمنٹ کی خواب میں ہے نہ ملک بھر کے خیال میں آپ ہی اپنی ڈیڑھ چھٹانک کی الگ بگھار رہے ہیں۔
دہم حوالہ میں مدیون محیل کہلاتا ہے اور دائن محتال، اور جس پر قرض اتاراگیا کہ اس سے وصول کرلینا اسے محتال علیہ یا حویل کہئے، یہاں جب زید نے عمرو کے ہاتھ ہزار روپے کے نوٹ بیچے تو آپ کے طور پر زید عمرو کا مدیون اور محیل ہوا اور عمرو زید کا دائن اور محتال ہوااور گورنمنٹ حویل، اور شرعی مسئلہ ہے کہ ہر شخص حویل ہوسکتا ہے اگرچہ محیل کا اس پر کچھ نہ آتا ہو کہ اس نے جب حوالہ قبول کرلیا تو اس کا دین اپنے سر لیا اگرچہ ا کا اس پر کچھ مطالبہ نہیں لیکن جبکہ حویل محیل کا مدیون نہ ہو اور محیل کا حوالہ مان کر اس کا دین محتال کو ادا کردے تو اسی قدر محیل سے واپس لے گا کہ میں نے تیرے کہے سے تیرا دین ادا کیا ہے اور اگر محتال حویل کو دین ہبہ کردے یا کہے میں نے وہ دین تیرے لئے چھوڑدیا جب بھی حویل محیل سے بھر والے گا کہ ہبہ ہونا بھی ادا ہوجانے کی مثل ہے۔
فتاوٰی عالمگیریہ میں ہے :
شرائطہا انواع بعضہا یرجع الی المحتال علیہ ومنہ رجاہ وقبول الحوالۃ سواء کان علیہ دین اولم یکن عند علمائنا رحمہم اﷲ تعالٰی کذا فی المحیط اھ ۱؎ ملتقطا۔
حوالہ کی شرطیں کئی قسم کی ہیں، ان میں سے بعض محتال علیہ کی طرف لوٹتی ہیں جن میں سے محتال علیہ کی رضا مندی اور حوالہ کو قبول کرنا ہے چاہے اس پر قرض ہو یا نہ ہو، یہ ہمارے علماء کے نزدیک ہے رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہم، یوں ہی محیط میں ہے اھ التقاط (ت)
 (۱؎ فتاوٰی ہندیہ   کتاب الحوالہ  الباب الاول نورانی کتب خانہ پشاور۳/ ۹۶۔۲۹۵)
اسی میں ہے :
اذا ادی المحتال علیہ الی المحتال لہ اووھبہ لہ اوتصدق بہ علیہ او مات المحتا لہ فورثہ المحتال علیہ یرجع فی ذلک کلہ علی المحیل ولو ابرأ المحتال لہ المحتال برئ ولم یرجع علی المحیل کذا فی الخلاصۃ واذا قال للمحتال علیہ قد ترکتہ لک کان للمحتال علیہ ان یرجع علی المحیل کذا فی خزانۃ الفتاوٰی ۲؎۔
جب محتال علیہ، محتالہ لہ کو قرض ادا کردے یا محتال لہ وہ قرض محتال علیہ کو ہبہ کردے یا اس پر وہ قرض صدقہ کردے یا محتال لہ مرجائے اور محتال علیہ اس کا وارث بن جائے تو ان تمام صورتوں میں محتال علیہ محیل کی طرف رجوع کرے گا اور اگر محتال لہ نے محتال علیہ کو قرض سے بری کردیا تو وہ بری ہوگیا اور اب محیل کی طرف رجوع نہیں کرسکتا۔ یہ خلاصہ میں ہے۔ اور محتال لہ نے محتال علیہ سے کہاکہ میں نے وہ قرض تیرے لئے چھوڑدیا ہے تو اس صورت میں محتال علیہ کو محیل کی طرف رجوع کا حق ہے جیسا کہ خزانۃ الفتاوٰی میں ہے۔(ت)
 (۲؎فتاوٰی ہندیہ   کتاب الحوالہ    الباب الثانی     الباب الاول نورانی کتب خانہ پشاور    ۳ /۲۹۸)
ردالمحتار میں ہے :
المحتال لہ لوابرأ المحال علیہ لم یرجع علی المحیل وان کانت بامرہ کالکفالۃ ولو وہبہ رجع ان لم یکن للمحیل علیہ دین وتمامہ فی البحر۱؎۔
اگر محتال لہ نے محتال علیہ کو قرض سے بری کردیا تو محتال علیہ محیل کی طرف جوع نہیں کرے گا اگرچہ اس کے امر سے ایسا ہوا ہو، او ر اگر محتال لہ نے قرض محتال علیہ کو ہبہ کردیا تو محتال علیہ محیل کی طرف رجوع کرسکتا ہے بشرطیکہ محیل کا اس پر قرض نہ ہو، اس کی مکمل بحث بحر میں ہے۔(ت)
 (۱؎ ردالمحتار کتاب الحوالہ     داراحیاء الترا ث العربی بیروت    ۴ /۲۸۸)
Flag Counter