| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ ) |
ششم زید عمرو سے وقتاً فوقتاً سو اور دو سواور ہزار قرض لیتا رہے اس تمام مدت وہ تمسکات لکھ کر عمرو کو دیتا رہے گا اور جس تمسک کی میعاد ختم ہونے آئے گی بدل دے گا یہاں تک کہ اس پر عمرو کے دس ہزار جمع ہوگئے اب اس نے ہزار ہزار کے دس نوٹ عمروکو دئے اسی وقت سے اس کا حساب بند ہوجائے گا عمرو سب تمسکات اسے پھیردے گا اسے فارغ خطی لکھ دے گا زید اور خود عمرو اور سارا جہان سمجھے گا کہ قرضہ دام دام وصول ہوگیا، مگر گنگوہی صاحب فرماتے ہیں دس ہزار کے نوٹ دئے تو کیا ہوا وصول ابھی ایک کوڑی بھی نہ ہوئی، اس جہاں بھر سے نرالی مت کا کیا کہنا!
ہفتم فرض کیجئے گورنمنٹ نے کسی بنک سے بیس لاکھ روپے قرض لئے اور تمسک لکھ دیا کہ دس برس کے اندر اداکیا جائے گا ، تین برس گزرنے پر بیس لاکھ کے نوٹ بنک کو دے دئیے تمام جہاں اور بنک اور گورنمنٹ سب تو یہی سمجھیں گے کہ قرض ادا ہوگیا، مگر گنگوہی صاحب سے پوچھئے کہ اگر یہ نوٹ بھی تمسک ہی تھے تو اس فضول کاورائی کا محصل کیا ہوا تمسک تو پہلے سے لکھا ہوا موجود تھا اس جدید تمسک کی کیا حاجت ہوئی، بھلا زید کو تو اتنا فائدہ ہوا بھی تھا کہ نوٹ کر اپنا قرض گورنمنٹ پر اتار دیا گورنمنٹ کو کیا نفع ہوا اس کا قرض اسی پر تو رہا اور بنک کی بیوقوفی تو دیکھئے نرے تمسک پرپھول کر حساب بند کر بیٹھا، ظاہراً آپ یہ سمجھتے ہیں کہ اپنی بند تو سب کی بند۔
ہشتم حوالہ اپنا قرض دوسرے پر اتارنے کو کہتےہیں تو اگر زید پر عمرو کا قرض نہ آتا ہو بلکہ زید کا قرض بکر پر ہوا اور اس صورت میں زید عمرو کو بکر پر حوالہ کرے تو یہ حقیقۃً حوالہ نہ ہوگا بلکہ عمرو کو اپنا قرض بکر سے وصول کرنے کا وکیل کرنا، اور اگر نہ عمرو کا قرض زید پر آتا ہو نہ زید کاقرض بکر پر، اور اس حالت میں زید عمرو کو بکر پر حوالہ کرے تو یہ محض باطل وبے اثر ہے اگرچہ اس حوالہ کو قبول بھی کرلے کہ اب نہ زید اپنا قرض دوسرے پر اتارتا ہے نہ دوسرے پر اپنا آتا وصول کرتا ہے بلکہ بلاوجہ عمرو سے کہتا ہے کہ بکر کے مال سے اتنے روپے لے لے بکر کا قبول کرنا وہ نرا ایک وعدہ ہوا کہ میں اتنا مال عمرو کو بخش دوں گا اور محض وعدہ پر جبر نہیں، لہٰذا اس قول کا کچھ اثر نہیں،
عالمگیری میں ہے :
اذا احال رجلا علی غریمہ ولیس للمستحال لہ علی المحیل دین فھذہ وکالۃ ولیست بحوالۃ کذافی الخلاصۃ۱؎۔
جب کسی شخص نے دوسرے کو اپنے مقروض پر حوالہ کیا( کہ اس سے قرض وصول کرے) حالانکہ جس کے لئے حوالہ کیا گیا اس کا حوالہ کرنے والے پر کوئی قرض نہیں تو یہ وکالت ہے حوالہ نہیں، یونہی خلاصہ میں ہے۔(ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیہ کتاب الحوالہ مشائل شتیٌ نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۳۰۵)
اسی میں ہے :
احال علیہ مائۃ من من حنطۃ ولم یکن للمحیل علی المحتال علیہ شیئ ولا للمحتال لہ علی المحیل فقبل المحتال علیہ ذلک لا شیئ علیہ کذا فی القنیۃ۱؎۔
کسی شخص نے دوسرے پر سومن گندم کا حوالہ کیا حالانکہ جس پر حوالہ کیا اس پر حوالہ کرنیوالے کا کوئی قرض نہیں اور نہ ہی جس کے لئے حوالہ کیا گیا اس کا حوالہ کرنے والے پر کوئی قرض ہے، اور جس پر حوالہ کیا گیا اس نے اس کو قول کرلیا تب بھی اس پر کوئی شیئ لازم نہیں، قنیہ میں یونہی ہے (ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیہ کتاب الحوالہ مشائل شتیٌ نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۳۰۵)