تغییر تصرفہما لایجوز وان کان فیہ تصحیح التصرف بدلیل الاجماع(الٰی ان قال) فہذاہ احکام اجماعیۃ کلھا دالۃ علی ان تغییر التصرف لایجوز وان کان یتوصل بہ الٰی تصحیحہ۳؎۔
عاقدین کے تصرف میں تغیر کرناجائز نہیں اگرچہ اس میں تصرف کاصحیح کرنا ثابت ہوتا ہو اس پر دلیل اجماع ہے (یہاں تک کہ شارح نے کہا) تو یہ اجماعی احکام ہیں جو تمام اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ تصرف میں تبدیلی کرنا جائز نہیں اگرچہ تبدیلی تصرف کے صحیح کرنے کا ذریعہ بنتی ہو۔(ت)
(۳؎ فتح القدیر کتاب الصرف مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶/ ۲۶۸)
ہدایہ میں اسی کے متعلق ہے : فیہ تغییر وصفہ لا اصلہ۴؎(اس میں وصف عقد کی تبدیلی ہے نہ کہ اصل عقد کی۔ت)
(۴؎ الہدایہ کتاب الصرف مطبع یوسفی لکھنؤ ۳/ ۱۰۹)
عنایہ میں اس کی شرح میں فرمایا :
والجواب عن تغییرتصرفہ ان یقال فیہ تغییر وصف التصرف اواصلہ والاول مسلم ولا نسلم انہ مانع عن الجواز والثانی ممنوع۵؎۔
اس کے تصرف میں تبدیلی کا جواب یہ ہےکہ یوں کہا جائے اس میں وصف تصرف کی تبدیلی ہے یا اصل عقد کی اول مسلم ہے مگر ہم یہ نہیں مانتے کہ جواز سے مانع ہے اور ثانی ممنوع ہے۔(ت)
(۵؎ العنایۃ علی الہدایہ علی ھامش فتح القدیر کتاب الصرف مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶/ ۲۷۰)
اذاشتری قلبا بعشرۃ وثوبا بعشرۃ ثم باع ھما مرابحۃ لایجوز وان امکن صرف الربح الی الثوب لانہ یصیر تولیۃ فی القلب بصرف الربح کلہ الی الثوب۱؎۔
کسی شخص نے ایک کنگن دس درہم کے بدلے ایک کپڑا دس درہم کے بدلے خریدا پھر ان دونوں کو اکٹھا بطور مرابحہ بیچا تو جائز نہیں کیونکہ تمام نفع کو کپڑے کی طرف پھیرنے سے کنگن میں بیع تولیہ ہوجائیگی ۔(ت)
(۱؎ الہدایہ کتا ب الصرف مطبع یوسفیئ لکھنؤ ۳ /۹۔۱۰۸)
امامسألۃ المرابحۃ فعدم الصرف لانہ یتغیر اصل العقد اذ یصیر تولیۃ فی القلب۔۲؎
لیکن مسئلہ مرابحہ میں عدم صرف اس لئے ہے کہ اس میں اصل عقد میں تبدیلی لازم آتی ہے کیونکہ کنگن میں بیع تولیہ ہوجاتی ہے(ت)
(۲؎ فتح القدیر کتا ب الصرف مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶ /۲۷۰)
ان تصریحات ائمہ سے روشن ہواکہ متعاقدین جو عقد کررہے ہیں وہ اگرچہ باطل وفاسد ہوا اور دوسرا عقد ٹھہرانے میں اسکی تصحیح ہوتی ہو ہر گز ایسی تصحیح جائز ہیں اور اس تصحیح کے بطلان پر اجماع قائم ہےجب کہ اس میں اصل عاقدین کی تغییر ہوتی ہے اورتصحیح فرمائی کہ بیع کو مرابحہ سے تولیہ قرار دینا بھی ایسی ہی تغییر ہے کہ بالاجماع جائز نہیں حالانکہ وہ رہی بیع کی بیع ہی ، تو بیع کی سرے سے کایا پلٹ کرکے حوالہ کردینا کیسے جاہل مخالف اجماع کاکام ہوگا آپ کے لکھے بیع نہ ہوئی افیونی کی ریوڑی ہوئی کہ گرتے ہی مزہ بدل گیا ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ۔
دوم ہر عاقل جانتا ہے کہ تمسک ایک معین مثلاً زید کی طرف سے دوسرے معین مثلاً عمرو کے لئے ہوتا ہے کہ اگر زید عمرو کے دین سے منکر ہو تو عمرو بذریعہ تمسک اس سے وصول کرسکتے تمسک اس لئے نہیں ہوتا کہ عمرو جہاں چاہے جس ملک میں چاہے جس شخص سے چاہے اسکے دام وصول کرلے زید کے پاس عمرو، بکر ، خالد، ولید دنیا بھر کا کوئی شخص اسے لے کر آئے یہ اسے دام پر کہا دے بلکہ زید وعمرو ودائم و مدیون دونوں بالائے طاق رہیں، تیسرا شخص اجنبی ، چوتھے شخص نرے بیگانے کو دے کر اس سے دام لے لے دنیا میں کوئی تمسک بھی ایسا سنا ہے اور نوٹ کی حالت یقینا یہی ہے کہ جو چاہے جہاں چاہے اگرچہ غیر ملک غیر سلطنت ہو جبکہ یہاں کا سکہ اس سلطنت میں چلتا ہو جس شخص سے چاہے اس کے دام لےلےگایہ حالت یقینا مال کی ہے نہ کہ تمسک کی ، تو اسے تمسک کہنا کیسا اندھا پن ہے بلکہ وہ بالیقین مال ہے سکہ ہے ولکن العمیان لایبصرون ( لیکن اندھے نہیں دیکھتے۔ت)
سوم ہر عاقل جانتا ہے کہ تمسک کے وجود وعدم پر دین کا وجود وعدم موقوف نہیں ہوتا بلکہ جب دین ثابت مدیون پر دینا لازم آئے گا تمسک رہے یا نہ رہے ۔ اب فرض کیجئے کہ زید نے لاکھ روپے دے کر خزانے سے ہزار ہزار روپے کے سو نوٹ لئے اور اپنا نام پتہ اور نوٹ کے نمبر سب درج کرادئے۔ تو اب لازمہےکہ وہ جب چاہے خزانے روپے کے سو نوٹ لئے اور اپنانام پتہ اور نوٹ کے نمبر سب درج کرادئے، تو اب لازم ہے کہ وہ جب چاہے خزانے سے اپنے آتے ہوئے لاکھ روپے وصول کرلے اگرچہ نوٹ اس کے پاس جل گئے یا ریزہ ریزہ ہوگئے یا چوری ہوگئے یا اس نے کسی کو دے دئے کہ خزانہ آپ کے نزدیک اس کا مدیون ہے اور تمسک نہ رہنے سے دین ساقط نہیں ہوتا اور جب نوٹوں کے نمبر لکھے ہوئے ہیں تو گورنمنٹ کو یہ اندیشہ نہیں ہوسکتا کہ مبادا نوٹ نہ جلے نہ پھٹے بلکہ اس کے پاس موجود ہوں یا اس نے کسی کو دے دئے ہوں تو جب وہ نوٹ یہ یا دوسرا لے کر آئے ہمیں دوبارہ دینا پڑے گا ، دوبارہ کیونکہ دینا ہوگا، یہ لایا تو کہہ دیا جائے گاکہ ہم نے جو روپیہ تجھ سے قرض لیا تھا تجھے اداکردیا اب مکرر کیسے طلب کرتاہے ، اور دوسرا لایا تو کہہ دیاجائے گا کہ اس تمسک کا روپیہ ہم اصل قرضخواہ کو دے چکے ہیں اب ہم پر مطالبہ نہیں مگر ایسا ہر گز نہ ہوگا نوٹ خود جلا کر یا پھاڑ کر کسی کو دےکر گورنمنٹ سے روپیہ مانگئے تو ، اگر اس نے پاگل جانا تو اتوار کوکھیر دے گی ورنہ بڑے گھر کی ہوا کھلائیگی، اس وقت آپ کی آنکھیں کھلیں گی کہ نوٹ کیسا تمسک تھا یہ حالت صراحۃً مال کی ہے کہ جو شخص کسی سے ایک مال خریدکر پھر اسے تلف کردے یا کسی کو دے دے اور اپنے روپے بائع سے واپس مانگے تو کم از کم پاگل ٹھہرتا ہے۔
چہارم یہیں سے آپ کے شبہہ کا کشف ہوگیا کہ گم جائے یا نقصان آجائے تو بدلو اسکتے ہیں یہ مطلقاً ہر گز صحیح نہیں اور اگر تمسک ہوتا تو واجب تھا کہ ہمیشہ ہر حال میں بدل دیا جاتا کہ تمسک کے نقصان یا فقدان یا خود ہلاک یا تلکف کردینے سے دین پر کچھ اثر نہیں پڑتا اور بعض صورتوں میں اگر بدل دینے کا وعدہ ہو بھی تو اس سے تمسک ہونا لازم نہیں آتا ، سلطنتوں نے یہ ایک طرفہ اکسیر ایجاد کی کہ ہزاورں کیمیا کو اس سے کچھ نسبت نہیں چھدام کے کاغذ کو ہزار کا کردیں دس ہزار کا کردیں ایسی سخت مہم بات عام میں مقبول ہونے کے لئے بعض رعایتوں کی ضرورت تھی ملک کواندیشہ ہوتاکہ کاغذ بہت ناپائدار چیزہے آگ میں جل جائے ، پانی میں گل جائے ، استعمال سے چاک ہو، گم جائے کیا ہوکیا ہو تو ہمارا مال یوں ہی برباد ہو اس کی تسکین کیلئے کچھ وعدوں کی حاجت ہوئی ورنہ ملک ہرگز نوٹ کو ہاتھ نہ لگاتا ، یہ تو اتنی بڑی کیمیا ہے سود اگر اپنے تھوڑے سے نفع کے لئے اس قسم کے وعدہ سے اطمینان دلاتے ہیں برسوں کے لئے گھڑیوں کی گارنٹیاں کرتے ہیں کہ اس مدت میں بگڑے یا بیکار یا بیکار ہو تو بنادیں گے یہاں بھی کہہ دینا کہ ''بھلادنیا میں کوئی بیع بھی ایسی ہے ''۱؎ آپ ایک کوردہ میں رہ کر دنیا بھر کا ناحق ٹھیکہ لیں ہاں یہ کہئے کہ تاجروں کا یہ کہنا خلاف شرع ہے پھر گورنمنٹ کے سب اقوال مطابق شرع ہونا کس نے لازم کیا۔
(۱؎ فتاوٰی رشیدیہ کتاب الزکوٰۃ محمد سعید اینڈ سنز کراچی ص۳۵۶)
پنجم سود دینے لینے میں گورنمنٹ کی حالت معلوم ہے کہ وہ اسے ہر قرض ودین کا لازم قطعی مانے ہوئے ہے یہاں تک کہ جو شخص سو تک بنک میں روپیہ جمع کرے یا وہ ملازم جن کی تنخواہ کا کچھ حصہ کٹ کر جمع ہوتا رہتا اور ختم ملازمت پر ان کو دیا جاتا ہے وہ مانگیں یا نہ مانگیں ساری مدت کا سود حساب لگاکر انہیں دیتی ہے بلکہ وہ کہے کہ میں سود نہ لوں گا جب بھی ماہوار سود اس کے نام سے درج ہوتا رہتا ہے ، اگر خزانہ سے نوٹ لینا روپیہ داخل کرکے اس کا وثیقہ لینا ہوتا تو لازم تھا کہ گورنمنٹ اس کے لئے سود لکھتی رہتی جب تک وہ نوٹ دےکر روپیہ واپس لیتا ۔ اب آپ کو تو یہ حیلہ ہوگا کہ ہائیں ہم اور سودمانگیں اگرچہ اﷲ عزوجل کی تکذیب ، حضور سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی توہین ، ابلیس کو خد اکی خاص صفت میں شریک ماننا کروڑوں درجہ سود بلکہ سؤر کھانے سے بدتر ہے ، خیر آپ نہ جائیے امتحان کے لے کسی بنئے کو بھیج دیکھئے کہ ہزار روپے کا نوٹ خزانے سے خریدے پھر سال بھر بعد وہ بنیا اپنے اس ہزار کا سود گورنمنٹ سے مانگنے جائے دیکھئے تو ابھی اسے آٹے دال کا بھاؤ معلوم ہوجائے گا اور جتنی اس اس پر پڑیں گی حقیقۃً اس پر نہ وہگی بلکہ اس پر ہوں گی جس نے اسے یہ چکمہ دیا تھا کہ نوٹ کی خریداری نہیں بلکہ روپیہ قرض دے کرتمسک لینا ہے ۔