Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ )
116 - 180
تو عقد ربا کو عاقدین کے لفظ و معنی سب کے خلاف عقد ہبہ میں کھینچ لائیے اور سود حلال کرلیجئے ایسے حیلے حوالے کوے کا گوشت اور بکرے کے کپورے کھاکر سوجھتے ہوں گے مگر علم وعقل وبصر و بصیرت والے ان کو محض مضحکہ سمجھتے ہیں۔ ہدیہ میں ہے :
التصحیح انما یجب فی محل اوجبا العقد فیہ ۔۳؎
عقد کو صحیح بنانا اسی محل میں واجب ہے جس میں عاقدین نے عقد ٹھہرایا۔(ت)
 (۳؎ الہدایۃ     کتاب البیوع     باب السلم    مطبع یوسفی لکھنؤ    ۳ /۹۳)
فتح میں اس کی شرح میں فرمایا :
تصحیح العقد انما یکون فی المحل الذی اوجب المتعاقعدان البیع فیہ لافی غیرہ ۱؎۔
عقد کو صحیح بنانا صرف اسی محل میں متعاقدین ( بائع ومشتری ) نے بیع ٹھہرائی نہ کہ ا محل کے غیر میں۔(ت)
 (۱؎ فتح القدیر     کتاب البیوع    باب السلم     مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر    ۶/ ۲۰۶)
Flag Counter