| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ ) |
رسالہ کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ(۱۳۲۹ھ) (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط(۱۳۲۹ھ) (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
مسئلہ۲۱۹ بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم الحمد ﷲ رسالہ مبارکہ کفل الفقیہ الفاھم فی احکام قرطاس الدراہم ۱۳۲۴ھ نوٹ کے متعلق جملہ مسائل ایسے بیان نفیس سے روشن کئے کہ اصلاً کسی مسئلہ میں کوئی حالت منتظرہ باقی نہ رہی ۔ یہ رسالہ مکہ معظمہ میں وہیں کے دو علمائے کرام کے استفتاء پر نہایت قلیل مدت میں تصنیف ہوا اس وقت تک رقم سے کم، زیادہ کو نوٹ بیچنے کے بارے میں مولوی عبدالحی صاحب لکھنوی کا خلاف معلوم تھا ان کا فتوٰی اگرچہ وہاں موجود نہ تھا مگر اس کا مضمون ذہن میں تھا بفضلہ تعالٰی گیارہویں مسئلہ میں اس کا وافی و شافی ردگزرا کہ مصنف کو کافی اوراوہام کا نافی ہے وﷲ الحمد ، یہ معلوم بھی نہ تھا کہ دیوبندیوں کے مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی آنجہانی نوٹ کو تمسک ٹھہراکر سرے سے مال سے خارج اور کم و بیش درکنار برابر کو بھی اس کی خرید و فروخت ناجائز کرچکے ہیں تاہم بالہام الٰہی شروع کتاب میں اس پر بقدر کفایت بحث ہوئی جس نے حق کے چہرے سے نقاب اٹھائی اور سفاہت سفہا گھر تک پہنچائی والحمد ﷲ ۔ حاجت نہ تھی کہ اباس وہم یا اس سفاہت کی طرف مستقل توجہ ہو لیکن نفع برادران دینی کے لئے مناسب معلوم ہوا کہ ان دونوں تحریروں کو ذکر کروں اور ان کے فقرے فقرے کا جہاں جہاں اس کتاب میں رد مذکور ہوا ہےس اس کا پتہ بتادوں اور باقتضائے توجہ مستقل جو بعض مباحث تازہ خیال میں آئیں اضافہ کروں اور اس کا تاریخ نام کاسرالسفیہ الواھم فی ابدال قرطاس الدراہم ۱۳۲۹ھ رکھوں ۔ سفاہت سے اشارہ تحریر جناب گنگوہی صاحب کی طرف ہے ، اور وہم سے فتوائے مولوی لکھنوی صاحب کی طرف ۔ اول کے لحاظ سے لفظ ابدال بکسر ہمزہ مصدر پڑھنا چاہئے کہ ان کو نفس مبادلہ وبیع نوٹ میں عروض سفاہت ہے اور دوم کے اعتبار سے اعتبار سے بفتح ہمزہ صیغہ جمع کہ یہ نوٹ کاصرف ایک بدل یعنی جو رقم کے برابر ہو جائز رکھتے ہیں اور دربارہ کم و بیش وہم ممانعت ہے ھذا وباﷲ التوفیق۔
ر د سفاہت جناب گنگوہی صاحب کی جلد دوم فتاوٰی ص۱۶۹ میں ہے ''نوٹ و ثیقہ اس روپے کا ہے جو خزانہ حاکم میں داخل کیا گیا ہے مثل تمسک کے اس واسطے کہ نوٹ میں نقصان آجائے تو سرکار سے بدلا سکتے ہیں اور گر گم ہوجائے تو بشرط بوت اس کا بدل لے سکتے ہیں اگر نوٹ بیع ہوتا تو ہر گز مبادلہ نہیں ہوسکتا تھا دنیا میں کوئی مبیع بھی ایساہے کہ بعد قبض مشتری کے اگر نقصان یا فنا ہوجائے تو بائع سے بدل لے سکیں پس اس تقریر سے آپ کو واضح ہوجائےگا کہ نوٹ مثل فلوس کے نہیں ہے فلوس مبیع ہے اور نوٹ نقدیں ان میں زکوٰۃ نہیں اگر بہ نیت تجارت نہ ہوں اور نوٹ تمسک ہے اس پر زکوٰۃ ہوگی ، اکثر لوگوں کو شبہہ ہورہا ہے کہ نوٹ کو مبیع سمجھ کر زکوٰۃ نہیں دیتے کاغذ کو مبیع سمجھ رہے ہیں سخت غلطی ہے ۱؎ فقط ''۔
(۱؎ فتاوٰی رشیدیہ کتاب الزکوٰۃ محمدسعید اینڈ سنز کراچی ص۳۵۶)
اور جلد اول ص۷۵ و۷۶ میں ہے : ''نوٹ کی خرید و فروخت برابر قیمت پر بھی درست نہیں مگر اس میں حیلہ حوالہ ہوسکتا ہے اور بحیلہ عقد حوالہ کے جائز ہے مگر کم زیادہ پر بیع کرناربا ناجائز ہے یہ تفصیل اس کی ہے ۲؎فقط''۔
(۲؎فتاوٰی رشیدیہ کتاب البیوع محمدسعید اینڈ سنز کراچی ۴۱۸)
جناب گنگوہی صاحب نے اول نوٹ کو تمسک بنایا اور آخر میں صرف اس جرم پر کہ وہ کاغذ ہے اور کاغذ بھلا کہیں بکنے کی چیزہے وہ تو دریا کے پانی ، نہیں نہیں بلکہ ہوا کی طرح ہے اس کی بیع ہو ہی نہیں سکتی اس کی خرید و فروخت کو مطلقاً ناجائز ٹھہرایا اگرچہ برابرکو ہو، مگر خود ہی اسی جلد دوم کے ص۱۷۳ پر فرمانے والے تھے کہ ''روپیہ بھیجنے کی آسان ترکیب نوٹ جو رجسٹری یا بیمہ کرادینا ۱؎''۔
(۱؎فتاوٰی رشیدیہ باب الربا محمد سعید اینڈ سنز کراچی ص۴۳۱)
اب گھبرائے کہ نوٹ کی خرید و فروخت تو میں حرام کرچکا ہوں نوٹ آئیں گے کس گھرسے کہ رجسٹری کر اکر مرسل ہوں ناچار ادھر ادھر ٹٹولا حوالہ پر ہاتھ پڑا لہٰذا س حیلہ حوالہ کی گھڑدی کہ ''بحیلہ عقد حوالہ جائز ہے ''۲؎یعنی زید نے عمرو سے پانچ روپے کا نوٹ مول لے کر پانچ روپے سے اسے دئے وہ اگر چہ خریدم و فروختم( میں نے خرید ا اور میں نے بیچا۔ت) کہہ رہے ہیں مگر زبردستی ان کے سر یہ منڈھو کہ نہ بیچا نہ مول لیا نہ قیمت دی بلکہ زید نے عمرو کو پانچ روپے قرض دیے اور عمرو جو گورنمنٹی خزانے سے یہ نوٹ مول لے چکا تھا ہو بھی قرض کا لین دین تھا، ان کے نزدیک گورنمنٹ پر ایسا وقت پڑا تھا کہ وہ عمرو سے پانچ روپے قرض لینے بیٹھی تھی اور اس کی سند کے لئے یہ نوٹ کا تمسک اس کے ہاتھ میں تھما دیا تھا کہ سند باشد و عند الحاجۃ بکار آید( کہ سند رہے اور بوقت ضرورت کام آئے۔ت)
(۲؎ فتاوٰی رشیدیہ باب الربا محمد سعید اینڈ سنز کراچی ص۴۳۱)
اب جو عمرو سیٹھ پر وقت پڑا اس نے زید سے پانچ روپے ادھار لئے اور وہی تمسک اب اسے پکڑادیا کہ گورنمنٹ پر ہمارے پانچ روپے اگلے وقتوں کے قرض آتے ہیں جن کو برسیں گزریں اب تک گورنمنٹ نے ادا نہ کئے ہم نے اپنے اوپر کے گورنمنٹ پر اتار دئے تم اس سے وصول کرلینا، یہ حضرت کی اس ٹٹول کا حاصل ہے جسے ہر عاقل جانتا ہے کہ محض سفاہت و باطل ہے اس کاردکافی رسالہ کے صفحہ ۱۲۶، ۱۲۷و ۱۲۸و۱۲۹ میں گزرا پھر بھی اس کی بعض جہالتوں کا اظہار خالی از فائدہ نہیں کہ اس ضمن میں ناظر کو بہت سے مسائل و فوائد پر اطلاع ہوگی ان شاء اﷲ تعالٰی۔
فاقول: وباﷲ التوفیق ( پس میں کہتا ہوں اور اﷲ ہی کی طرف سے توفیق ہے۔ت) اول تو یہی سرے سے سخت حماقت ہے کہ جہاں بھر کے عاقدین جس عقد کاقصد کریں زبردستی اس سے تڑاکر وہ عقدان کے سر چپٹیو جوان کے خواب وخیال میں نہیں، گنگوہ کے کردہ سے اٹھ کر تمام دنیا کے جس شہر قصبے میں چاہو جاؤ اور تمام جہان سے پوچھو کہ نوٹ کے لین دین میں تمہیں خرید وفروخت مقصود ہوتی ہے بیچا اور مول لیا کہتے ہو، بائع اپنی ملک سے نوٹ کا خارج ہوکر مشتری کی ملک میں داخل ہونا مشتری اس کے عوض روپے دے کر نوٹ ا پنی ملک میں آنا سمجھتا ہے ، یا یہ کہ نوٹ دینے والا اس سے قرض مانگتا ہے ۔
اور قرض کی سند میں نوٹ بجائے تمسک دیتا ہے ہدایہ میں ہے :
العبرۃ فی العقود للمعانی ۱؎
(عقو د میں معانی کا اعتبار ہے ،
(۱؎ الہدایۃ کتاب البیع باب السلم مطبع یوسفی لکھنؤ ۳ /۹۳)
مگر یہ عجب عقد ہے کہ لفظ بھی بیچنے خریدنے کے ، قصد بھی بیچنے خریدنے کا یہی مقصود یہی مراد ، یہی مفہوم یہی مفاد، اور خواہی نخواہی جہان بھر کو پاگل بناکر کہہ دیجئے کہ اگر چہ نہ تم کہتے ہو نہ قصد رکھتے ہو مگر تمہاری مراد ہےکچھ اور، اگر ایسی تصحیح ہو تو دنیا میں فاسد سے فاسد عقدٹھیک ہوجائے گا مثلاً زید نے عمروکے ہاتھ ایک روپیہ میں سیر بھر چاندی کو بیع کیا تو اگرچہ انہوں نے کہا یہی کہ بیچا خریدا اور ان کا قصد بھی یہی تھا مگر یوں ٹھہرائے کہ وہ کچھ کہیں سمجھیں مگر یہ بیعنہ تھی بلکہ زید نے ایک روپیہ عمرو کو ہبہ کیا عمرونے اس کی جزا میں سیر بھر چاندی اس کو ہبہ کردی اس میں کیاحرج ہوا لہذاسود حلال طیب ہے ولا حول ولا قوۃ الا باﷲ العلی العظیم ۔ ہدیہ میں زیادہ عوض دینا منع نہیں بلکہ سنت ہے کسی صاحب نے ایک اونٹنی نذر بارگاہ عالم پناہ حضور سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی ، حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے اس کے عوض چھ ناقے جوان عطا فرمائے ،
رواہ احمد والترمذی والنسائی بسند صحیح عن ابی ہریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ قال قال رسول اﷲصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ان فلانا اھدی الی ناقۃ فعو ضتہ منھا ست بکرات۲؎، الحدیث۔
اس کو امام احمد ، ترمذی کاور نسائی نے سند صحیح کے ساتھ سیدنا حضر ت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ارشادفرمایا : فلاں شخص نے مجھے ایک اونٹنی ہدیہ بھیجی تو میں نے اس کے بدلے اس کو چھ جوان اونٹنیاں ہدیہ بھیجی ہیں، الحدیث(ت)
(۲؎ جامع الترمذی ابواب المناقب باب فی فضل العجم امین کمپنی دہلی ۲/ ۲۳۳) (مسند احمد بن حنبل مروی از ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۲ /۲۹۲)