| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ ) |
اقول: اما کراھۃ من کرہ کمحمد فانما کان کما تقدم عن الفتح والایضاح والمحیط کی لایألفہ الناس فیقعوا فی المحظور وفی زماننا قد انعکست الامور وفشا الربا فی اھل الھند جھارا لایستحیون منہ کانھم لایعد ونہ عیباولا عارافمن نزلھم عن ھذا البلاء العظیم والکبیرۃ الشدیدۃ الی بعض ھذا الحیل الجائزۃ کبیع نوط عشرۃ باثنتی عشرۃ منجما وغیر ذٰلک مما تقدم عن الامام فقیہ النفس فلا شک انہ ناصح للمسلمین وما الدین الاالنصح لکل مسلم وھم ان جاہر وابالمعاصی فالا سلام باق بعد وﷲ الحمد، فاذاسمعواما یصلون بہ المرام مع النجاۃ عن الحرام فمالھم ان لایتوبوا فانھم غیر معاندین للشرع والاسلام ، وقد قال مشایخ بلخ منھم محمد بن سلمۃ للتجاران العینۃ التی جاءت فی الحدیث خیر من بیاعا تکم قال المحقق حیث اطلق وھو صحیح فلا شک ان البیع الفاسد بحکم الغصب المحرم فاین ھو من بیع العینۃ الصحیح المختلف فی کراہتہ ۱؎ اھ
اقول :( میں کہتاہوں) وہ جس نے اس میں کراہت سمجھی جیسے امام محمد ان کا سمجھنا تو صرف اس بنا پر تھا جیسا کہ فتح القدیر والایضاح و محیط سے گزرا کہ لوگ اس کے خوگر ہوکر ناجائز بات میں نہ پڑیں اور ہمارے زمانے میں معاملہ الٹا ہوگیا اور ہندوستان میں سود علانیہ شائع ہوگیا کہ اس سے شرماتے نہیں ، گویا وہ ان کے نزدیک نہ کوئی عیب ہے نہ عار، تو جوان کو اس عظیم بلا اور سخت کبیرہ سے ان جائز حیلوں میں کسی کی طرف اتار لائے جیسے دس کا نوٹ قسط بندی کرکے بارہ کو بیچنا اور اس کے سوا اورحیلے جو امام فقیہ النفس قاضی خاں سے گزرے تو کچھ شبھہ نہیں کہ وہ مسلمانوں کا خیر خواہ ہے اور دین نام نہیں مگر ہر مسلمان کی خیر خواہی کا ، اور لوگ اگر چہ گناہ علانیہ کررہے ہیں مگر اسلام ابھی باقی ہے وﷲ الحمد ، تو جب وہ ایسی بات سنیں جس سے اپنی مراد پائیں اور حرام سے بچیں تو کیا وجہ ہے کہ توبہ نہ کریں کہ ان کو شریعت اور اسلام سے کچھ عداوت تو نہیں اور بیشک مشایخ بلخ مثل امام محمد بن سلمہ وغیرہ نے تاجروں سے فرمایا وہ عینہ جس کا ذکر حدیث میں ہے تمہاری ان بیعوں سے بہتر ہے ۔ محقق علی الاطلاق نے فرمایا یہ ٹھیک بات ہے اس لئے کہ بلا شبہہ بیع فاسد غصب حرام کے حکم میں ہے تو کہاں وہ اور کہاں بیع عینہ کہ صحیح ہے اور اس کی کراہت میں بھی اختلاف انتہی
(۱؎ فتح القدیر کتاب الکفالۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶ /۳۲۴)
اما زعم الزاعم انہ ان لم ینہ عنہ فما الفرق بینہ وبین الربا مع حصول الفضل فیہما اقول: ھذا اعتراض اوردہ المشرکون وقد تکفل الجواب عنہ ربنا تبارک وتعالٰی فی القراٰن العظیم ، قالو انما البیع مثل الربٰو واحل اﷲ البیع وحرم الربٰو۱؎، الم یرالمعترض انا انما احللنا الربح فی بیع جنسین متخالفین فان حرم ھذٰا لانسد باب البیاعات ولا حول ولا قوۃ الا باﷲ العلی العظیم انتہی الجواب بتوفیق الوھاب والحمدﷲ اولاً واٰخراً وباطناً و ظاہراً وسمیتہ ''کفل الفقیہ الفاہم فی احکام قرطاس الدراہم ۱۳۲۴ھ'' لیکون العلم علما علی عام التالیف ، وقد ابتدأ فیہ العبد الضعیف یوم السبت ثم عاودتنی الحمی یوم الاحد فانھیتہ ضحی یوم الاثنین لسبع بقین من المحرم الحرام ۱۳۲۴ھ وذٰلک فی بلداﷲ الحرام باقتراح الفاضل الصفی الوفی امام المقام الحنفی مولانا الشیخ عبداﷲ بن شیخ الخطباء وسید الائمۃ العظماء العالم العامل الفاضل الکامل الزاہد الورع التقی النقی مجمع الفضائل ومنبع الفواضل حضرۃ الشیخ احمد ابی الخیر حفظہما اﷲ تعالٰی عن کل ضیر ورزقھما من کل خیر و غفرلنا ذنوبنا وستر عیوبنا وخفف اثقالنا ووحقق اٰمالنا ورزقنا العود بعد العود الٰی ھذاالبیت الکریم وبیت الحبیب الرؤف الرحیم علیہ وعلٰی اٰلہ افضل الصلٰوۃ والتسلیم بقبولہ ورضاہ حتی یجعل اٰخر ذٰلک موتنا علی الایمان فی المدینۃالمنورۃ والدفن بالبقیع والفوز بشفاعۃ الشفیع الرفیع صلی اﷲ تعالٰی علیہ وعلی اٰلہ وصحبہ وبارک وکرم اٰمین والحمد ﷲ رب العٰلمین۔
(۱؎ القرآن الکریم ۲ /۲۷۵)
کتبہ عبدہ المذنب احمد رضا البریلوی عفی عنہ بمحمدن المصطفی النبی الامی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم
رہا زعم کرنے والے کا یہ زعم کہ اگر یہ منع نہ ہو تو اس میں اور ربا میں کیا فرق ہے حالانکہ زیادتی دونوں میں حاصل ہوئی۔اقول:( میں کہتا ہوں) یہ وہ اعتراض ہے کہ کفار نے کیا تھا اور خود رب العزۃ تبارک و تعالٰی نے قرآن عظیم میں اس کا جواب دیا، کافر بولے بیع بھی تو ایسے ہی ہے جیسے ربا ،اور ہے یہ کہ اﷲ نے حلال کی بیع اورحرام کیا سود ، کیا معترض نے یہ نہ دیکھا کہ ہم نے نفع وہیں حلال کیا جہاں دو جنسوں کی بیع ہو تو اگر یہ حرام ہو تو خرید و فروخت کا دروازہ ہی بند ہوجائے ولاحول ولا قوۃ الا باﷲ العلی العظیم ، وہاب جل جلالہ کی توفیق سے جواب تمام ہو ااوراﷲ ہی کے لئے حمد ہے آگے اور پیچھے اور نہاں وعیاں، اور میں نے اس کا نام ''کفل الفقیہ الفاہم فی احکام قرطاس الدراہم '' رکھا تاکہ نام سال تصنیف کی علامت ہو اور بندہ ضعیف نے شنبہ کے دن لکھنا شروع کیا تھا پھر اتوار کے دن بخار عود کرآیا تو پیر کے دن پہروں چڑھے میں نے اسے تمام کیا، محرم شریف کی تئیس تاریخ ۱۳۲۴ھ اور یہ تصنیف اﷲ کے حرمت والے (مکہ معظمہ ) میں ہوئی ان کی خواہش سے جو فاضل کامل پاکیزہ مصلائے حنفی کےامام ہیں مولانا شیخ عبداللہ ان کے صاحبزادہ جو خطیبوں کے شیخ اور عظمت والے اماموں کے سردارہیں یعنی عالم باعمل ، فاضل کامل ، زاہد ، متورع ، متقی ، پاکیزہ ، مجمع فضائل ومنبع فواضل حضرت شیخ احمد ابی الخیر اﷲ تعالٰی ہر ضرر سے ان دونوں کا نگہبان ہو اور ہر بھلائی سے ان کو حصہ دے اور ہمارے گناہ بخشے اور ہماری عیب چھپائے اور ہمارے بوجھ ہلکے کرے اور ہماری آرزو ئیں پوری کرے اور ہمیں باربار اس عزت والے گھر اور مزار نبی رؤف رحیم علی آلہٖ افضل الصلوٰۃ والتسلیم کی طرف اپنے قبول و رضا کے ساتھ عود کرنا نصیب فرمائے یہاں تک کہ آخر میں ہمیں ایمان کے ساتھ مدینہ منورہ میں مرنا اور بقیع میں دفن ہونا اور رفعت والے شفیع کی شفاعت پانا نصیب کرے ، اﷲ تعالٰی ان پر درود وسلام بھیجے اور ان کی آل واصحاب پر اور اپنی برکت و تکریم ان پر اتارے ، آمین ، والحمد ﷲ رب العالمین۔ کتبہ عبدہ المذنب احمد رضا البریلوی عفی عنہ بمحمد ن المصطفی النبی الامی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فتوی حامی سنت ماحی بدعت جناب مولٰنا مولوی شاہ محمد ارشاد حسین صاحب رامپوری رحمہ اﷲ
مسئلہ ۲۱۸: کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ نوٹ جو آج کل رائج ہے ان کا خرید و فروخت زیادہ و کم پر جائز ہے یانہیں؟ بینواتوجروا۔
الجواب ھو الملہم للصواب خرید وفروخت نوٹ مذکور کی زیادہ یا کم پر جائز ہے اس واسطے کہ حکام نے اس کو مال قرار دیا ہے اور جو شیئ کہ اصطلاح قوم میں مال قرار دی جائے خواہ فی اصلہ اس میں ثمنیت اور مالیت ثابت نہ ہو لیکن فقط قوم کے قرار دینے سے ثمنیت اور مالیت اس میں ثابت ہوجاتی ہے اور کم اور بیش پر اس کی خرید و فروخت جائز ہے ۔
قال فی الھدایۃ ویجوز بیع الفلس بالفلسین باعیا نھما عندابی حنیفۃ وابی یوسف وقال محمد لا یجوز لان الثمنیۃتثبت باصطلاح الکل فلا تبطل باصطلاحھما واذا بقیت اثمانا لاتتعین فصار کما اذا کانا بغیر اعیانھما وکیبیع الدرہم بالدرھمین ولھما ان الثمنیۃ فی حقھما تثبت باصطلاحہما واذا بطلت الثمنیۃ تتعین بالتعین ۱؎ اھ ۔
ہدایہ میں فرمایا اور ایک پیسہ کی دو معین پیسوں سے امام اعظم ابوحنیفہ او رامام ابویوسف رحمہما اﷲ تعالٰی کے نزدیک بیع جائز ہے اور امام محمد نے فرمایا جائز نہیں اس لئے کہ ان کی ثمنیت تمام لوگوں کی اصطلاح سے باطل نہ ہوگی ، اور جب یہ ثمنیت تمام لوگوں کی اصطلاح سے ثابت ہوئی تو ان دو بیع کرنے والوں کی اصطلاح سے باطل نہ ہوگی ، اور جب یہ ثمنیت پر باقی ہیں تو متعین نہ ہوسکیں گے تو ایسے ہوئے جیسے غیر معین چیز ہو ، اور ایک درہم کی بیع دو درہموں کے بدلے ہو ، اور امام اعظم اور امام ابویوسف رحمہما اﷲ تعالٰی کی دلیل یہ ہے کہ دنوں کی ثمنیت ان خرید و فروخت کرنے والوں کی اصطلاح سے ہوگی کیونکہ غیر کو ان پر ولایت نہیں تو ان کی اصطلاح سے باطل ہوجائےگی توجب ثمنیت جاتی رہی تو اب متعین کرنے سے متعین ہوجائیں گے اھ (ت)
(۱؎ الہدایہ کتاب البیوع باب الربوٰ مطبع یوسفی لکھنؤ ۳ /۸۳)
پس جبکہ نوٹ مذکور میں کہ کاغذ ہے مالیت ثابت ہوئی تو اس کا بھی خرید و فروخت ساتھ کمی اور بیشی کے جائز ہے ۔
فی ردالمحتار فی باب العینۃ حتی لو باع کاغذۃ بالف یجوز ولا یکرہ ۲؎انتہی۔
رداالمحتار کے باب العینہ میں ہے کہ ،حتی اگر کاغذ کو ہزار روپے سے فروخت کرے جائز ہے اور کراہت نہیں ہے ، انتہی ۔(ت)
(۲؎ ردالمحتار کتاب الکفالۃ داراحیا ء التراث العربی بیروت ۴/ ۲۷۹)
واﷲ اعلم وعلمہ اتم ، العبد المجیب محمد ریاست علی الجواب صواب الجواب صحیح الجواب صحیح الجواب صواب احمدی محمد ارشاد حسین محمد اعجاز حسین کتبہ حامد حسین عفی عنہ محمد حسن البتہ بیع وشراء مذکور جائز ہے فقط العبد محمد عبدالقادر عفی عنہ حکم کرنا مجیب کا نسبت صحت بیع مذکور کے صحیح اور درست ہے ۔ العبد محمد عنایت اﷲ عفی عنہ بلاشبہہ اصطلاح میں قرار دیا جاتا ہے اور بیع وشراء مذکور جائز ہے فقط العبد ابو القاسم محمد مزمل عفی عنہ الجواب ھوالجواب محمد نظر علی الجواب صواب محمد عبدالجلیل بن محمد عبدالحق خان
17_1.jpg