Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ )
113 - 180
وفی ردالمحتار عن الذخیرۃ اشتری من المقرض الکرالذی لہ علیہ بمائۃ دینار جاز لانہ دین علیہ لابعقد صرف و لاسلم فان کان مستھلکا وقت الشراء فالجواز قول الکل لانہ ملکہ بالاستھلاک وعلیہ مثلہ فی ذمتہ بلا خلاف وان کان قائما فکذلک عندھما وعلی قول ابی یوسف ینبغی ان لایجوز لانہ لایملکہ مالم یستھلکہ فلم یجب مثلہ فی ذمتہ فاذا اضاف الشراء الی الکرالذی فی ذمتہ فقد اضافہ الی معدوم فلا یجوز ۱؂ اھ
اور ردالمحتار میں ذخیرہ سے ہے قرض دینے والے کا جو غلہ اس پر آتا تھا وہ اس نے اس سے سوا شرفی کو خرید لیا جائز ہے کہ یہ دین اس پر نہ عقد صرف سے تھا نہ عقد سلم سے، پھر اگر وہ غلہ خریداری کے وقت خرچ ہوچکا تھا جب تو سب کے نزدیک جواز ہے اس لئے کہ وہ خرچ کردینے سے بالاتفاق اس کا مالک ہوگیا اور اس کے ذمہ پر اتنا غلہ واجب رہا اور اگر غلہ موجود ہے تو امام اعظم وامام ممحمد کے نزدیک اب بھی جائز ہے اور امام ابویوسف کے قول پر چاہئے کہ جائز نہ ہو اس لئے کہ ان کے نزدیک جب تک خرچ نہ کرلے اس کا مالک نہ ہوگا تو اس غلہ کا مثل اس کے ذمہ پر واجب نہیں، اب جو یہ کہا کہ وہ غلہ جو میرے ذمہ ہے میں نے خریدا تو معدوم چیز خریدی لہٰذا ناجائز ہوا انتہی ،
 (۱؎ردالمحتار     کتاب البیوع    فصل فی القرض    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۴/ ۱۷۳)
وفیہ عنھا استقرض من رجل کرا وقبضہ ثم اشتری ذٰلک الکربعینہ من المقرض لایجوز علی قولھما لانہ ملکہ بنفس القبض فیصیر مشتریا ملک نفسہ اما علی قول ابی یوسف فالکرباق علی ملک المقرض فیصیر المستقرض مشتریا ملک غیرہ فیصح ۲؎اھ،
نیز ردالمحتار میں ذخیرہ سے ہے کسی سے ایک پیمانہ غلہ قرض لے کر قبضہ کرلیا پھر بعینہ وہی غلہ قرض دینے والے سے خریداامام اعظم اور امام محمد کے قول پر جائز نہیں کہ وہ تو قبضہ کرتے ہی اس غلہ کا خود مالک ہوگیا تو اب اپنی ملک دوسرے سے کیسے خرید سکتا ہے ، ہاں امام ابویوسف رحمہ اﷲ تعالٰی کے قول پر وہ غلہ ابھی قرض دینے والے کی ملک پر باقی ہے تو یوں ہوگا کہ پرائی ملک اس سے خریدی تو صحیح ہوگی انتہی ،
 (۲؎ردالمحتار     کتاب البیوع    فصل فی القرض    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۴/ ۱۷۳)
اماالاحتیال لدفع الربا فقد اسمعناک فیہ مایکفی ویشفی وقد تقدم قول ابی یوسف رحمہ اﷲ تعالٰی ان العینۃ جائزۃ ماجور من عمل بھا قال واجرہ لمکان الفرار من الحرام ۳؎اھ وتقدم قولہ ان الصحابۃ فعلوا ذٰلک وحمدوہ ۴؎ وتقدم قول الخانیۃ ان مثل ھذا مروی عن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم انہ امر بذٰلک اھ ۱؎ فمن بعد رسول اﷲصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم واصحابہ وفی البحر عن القنیۃ لاباس بالبیوع التی یفعلھا الناس للتحرز عن الربا ثم رقم اٰخر ھی مکروھۃ ذکر البقالی الکراھۃ من محمد وعندھما لاباس بہ قال الزرنجری خلاف محمد فی العقد بعد القرض اما اذا باع ثم دفع الدراہم لابأس بالاتفاق۲؎ اھ وکذلک حکی الاجماع الامام خواہر زادہ رحمہ اﷲتعالٰی اذا لم یکن البیع مشروطا فی القرض فاذا ثبت عن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم تعلیمہ وصح عن الصحابۃ فعلہ وتمدیحہ واجمع ائمتنا علی جوازہ فای محل بقی للارتیاب واﷲ الھادی الصواب،
رہا دفع رباکے لئے حیلہ کرنا اس میں ہم تجھے وہ کچھ سنا چکے جو کافی وشافی ہے ، اور امام ابویوسف رحمہ اﷲ تعالٰی کا ارشاد گزرچکا کہ عینہ جائز ہے اور اس کا کرنے والا ثواب پائے گا فرمایا اس میں ثواب اس وجہ سے ہے کہ حرام سے بھاگنا ہے انتہی ، اور ان کا یہ ارشادبھی گزرا کہ صحابہ کرام نے اسے کیا اور اس کی تعریف فرمائی ۔ اور فتاوٰی قاضی خان کا قول گزرا کہ اس کا مثل نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے مروی ہوا کہ حضور نے اس کا حکم دیا انتہی ، تو اب رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اور صحابہ کرام کے بعد اور کون ہے ، اور بحرالرائق میں قنیہ سے ہے کہ وہ بیعین جو لوگ ربا سے بچنے کے لئے کرتے ہیں ان میں کچھ حرج نہیں پھر ایک اور عالم کےنام کی رمز لکھی کہ انہوں نے کہا مکروہ ہے ، امام بقالی نے ان کی کراہت امام محمد سے روایت کی اور امام اعظم اور امام ابویوسف کے نزدیک ان میں کچھ حرج نہیں، امام شمس الدین زرنجری نے فرمایا امام محمد کے خلاف اس صورت میں ہے جبکہ قرض دے کر پھر ایسی بیع کرے اور اگر بیع کردی پھر روپے دئے تو بالاتفاق کچھ حرج نہیں انتہی ، اور اسی طرح امام شیخ الاسلام خواہر زادہ نے اس کے جواز پر اتفاق نقل فرمایا جبکہ قرض میں بیع کی شرط نہ لگا لی ہو ، تو جب کہ نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے اس کی تعلیم ثابت اور صحابہ رضی اﷲتعالٰی عنہم سے اس کا کرنا اور اس کی تعریف ثابت اور ہمارے اماموں کا ا سکے جواز پر اجماع قائم ، تو اب شک کی کون سی جگہ باقی رہی اور اﷲ ہی ٹھیک راستہ دکھانے والا ہے
(۳؎ فتاوٰی قاضیخان     کتاب البیوع    باب فی بیع مال الربوٰ    نولکشور لکھنؤ            ۲ /۴۰۷)

(۴؎ فتح القدیر         کتاب الکفالۃ     مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر    ۶/ ۳۲۴)

(۱؎ فتاوٰی قاضی خان    کتاب البیوع     باب فی بیع مال الربوٰ    نولکشور لکھنؤ    ۲ /۴۰۶)

(۲؎ بحرالرائق      کتاب البیوع     باب فی بیع مال الربوٰ     ایچ ایم سعید کمپنی     ۶/ ۱۲۶)
اقول: ثم ھذا ایضا فی اجتماع الببیع والقرض بان یقرضہ دراہم ویبیعہ شیئا یسیرا بثمن کثیر فیقبلہ لحاجۃ القرض ففی ھذاان تقدم القرض قیل کرہ البیع لانہ قرض جر نفعا وان تقدم البیع لم یکن بہ باس اتفاقا لانہ بیع جر قرضاکماافادہ الامام شمس الائمۃ الحلوانی وبہ افتی کما فی ردالمحتار امامانحن فیہ من مسألۃ النوط فبیع خالص لاقرض فیہ اصلا لا بدأ ولا عودا فذا اولی واحری ان یحل بالاتفاق من دون نزاع ولا شقاق وان شئت الزیادۃ فی امرالحیل فھذا ربنا تبارک وتعالٰی قائلا لعبدہ ایوب علیہ الصلوٰۃ والسلام'' خذ بیدک ضغثا فاضرب بہ ولا تحنث۱؎'' وھذا سیدنا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قد علم المخلص من الربا وطریق الوصول الی المرام مع التحرز عن الحرام روی الشیخان عن ابی سعید الخدری رضی اﷲ تعالٰی عنہ قال جاء بلال رضی اﷲ تعالٰی عنہ الی النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بتمر برنی فقال لہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم من این ھذا، قال بلال کان عندنا تمرردی فبعت منہ صاعین بصاع فقال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اوہ عین الربا عین الربا لا تفعل ولکن اذا اردت ان تشتری فبع التمر ببیع اٰخر ثم اشتربہ ۱؎ و ایضا لھما عنہ وعن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہما ان رسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم استعمل رجلا علی خیبر فجاء ہ بتمر جنیب فقال لہ رسول اﷲصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اکل تمر خیبر ھکذا قال لا واﷲ یارسول انا لنا خذ الصاع من ھذابالصاعین والصاعین بالثلٰث فقال رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم لاتفعل بع الجمع بالدراہم ثم ابتع بالدراہم جنیبا ۲؎۔
اقول: ( میں کہتاہوں) پھر یہ بھی اس صورت میں ہے کہ بیع اور قرض جمع ہوں یوں کہ اسے کچھ روپے قرض دے اور تھوڑی سی چیز زیادہ قیمت کو اس کے ہاتھ بیچے تو حاجت قرض کے سبب اسے قبول کرے گا تو اس صورت میں اگر قرض پہلے ہے تو بعض نے بیع کو مکروہ کہا اس لئے کہ یہ وہ قرض ہوا جس نے ایک منفعت کھینچی اور اگر بیع پہلے ہو چکی تھی تو بالاتفاق اس میں کوئی حرج نہیں اس لئے کہ وہ ایک بیع ہے جو قرض کا نفع لائی جیساکہ امام شمس الائمہ حلوانی نے افادہ فرمایا اور اسی پر فتوٰی دیا جیسا کہ ردالمحتار میں ہے اور وہ مسئلہ جس میں ہم بحث کررہے ہیں یعنی نوٹ یہ تو خالص بیع ہے اس میں قرض اصلاً نہیں ، نہ ابتدا میں نہ بعد کو ، تو اس کا بالاتفاق بلاخلاف وبلا نزاع جائز ہونا زیادہ لائق و مناسب ہے ، اور اگر تو مسئلہ حیلہ ، میں زیادت چاہے تو یہ ہے ہمارا رب عزوجل تبارک وتعالٰی اپنے بندہ ایوب علیہ الصلوٰۃ والسلام سے فرماتا ہوا اپنے ہاتھ میں ایک جھاڑو لے لے اس سے مار اور قسم نہ توڑاور یہ ہیں ہمارے سردار رسول اﷲصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کہ انہوں نے ربا سے بچنے کا حیلہ اور ایسا طریقہ کہ مقصود  حاصل ہوجائے اور حرام سے محافظت رہے تعلیم فرمایا اسے بخاری ومسلم نے ابوسعید خدری رضی اﷲتعالٰی عنہ سے روایت کیا کہ انہوں نے فرمایا بلال رضی اﷲ تعالٰی عنہ نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے پاس خرمائے برنی لائے نبی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ یہ تم نے کہاں سے لئے، بلا ل رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے عرض کی ہمارے پاس خراب چھوہارے تھے ہم نے اس کے دو صاع کے بدلے ان کا ایک صاع خریدا، نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا اف خاص ربا ہے خاص ربا ہے ایسا نہ کر۔ مگر جب ان کو خریدنا چاہو تو اپنے چھوہاروں کو کسی اور چیز سے بیچ کراس شیئ کے بدلے ان کو خریدو نیز بخاری و مسلم نے ابوسعید خدر ی اور ابوہریرہ رضی اﷲتعالٰی عنہما دونوں سے روایت کی کہ رسول اﷲصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ایک صاحب کو خیبر پر عامل صوبہ کرکے بھیجا وہ خدمت اقدس میں خرمائے جنیب لے کر حاضر ہوئے حضور اقدس صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا خیبر کے سب چھوہارے ایسے ہی ہیں، عرض کی نہیں خدا کی قسم یارسول اﷲ! ہم اس میں ایک صاع دو صاع کو ، دو صاع تین صاع کو لیتے ہیں۔ نبی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا ایسا نہ کرو اپنے چھوہارے روپیوں سے بیچ کر روپیوں سے یہ چھوہارے خریدلو۔
 (۱؎ القرآن الکریم     ۳۸ /۴۴)

(۱؎ صحیح البخاری     کتاب الوکالۃ     باب اذا باع الوکیل شیئا فاسدا الخ     قدیمی کتب خانہ کراچی     ۱/ ۳۱۱)

(صحیح مسلم     کتاب المساقات    باب الربا    قدیمی کتب خانہ کراچی    ۲ /۲۶)

(۲؎ صحیح البخاری     کتاب البیوع    باب اذا ارادبیع تمر بتمر خیر منہ       قدیمی کتب خانہ کراچی   ۱/ ۲۹۳)

(صحیح مسلم     کتاب المساقات    باب الربا     قدیمی کتب خانہ کراچی  ۲/ ۲۶)
Flag Counter