Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ )
112 - 180
وقد قدمنا تحقیق مسئلۃ دینار بدرھم وان لیس ربا و لاشبھۃ ربا بمالا مزید علیہ فاذا کان ھذا فی القروش والریال والجنیۃ والتفاریق مع ان کلھا اثمان خلقیۃ وکلھا تشملھا احدی علتی الربا وھو الوزن فما ظنک بالنوط مع الربابی مع ان النوط لیس الا ثمنا مصطلحا ولا تقدیر مالیتہ الا بالاصطلاح الغیر اللازم علی العاقدین ولا یشملہ شیئ من علۃ الربا لا الجنس ولا القدر فالحکم ھٰھنا لایتأتی الامن احد ثلثۃ رفع عنہم القلم صبی ونائم ومجنون، نسأل اﷲ العفو و العافیۃ ھو تحقیق الجواب فی ھذا الباب وارجو اان لا عطر بعد عروس ولکن یاھذا ان ابیت الامااتیت من ان النوط مغرق فی الربابی کانہ ھی فانا اسئلک أبھذاالاغراق وعدم الافتراق صارالنوط حقیقۃ دراھم فضۃ او حکما بان اجری الشرع فی مبادلتہ بالدراہم ماھو حکم مبادلۃ الدراہم بالدراہم کما قلت کانھا عشر ربابی بیعت باثنی عشر اولا ولا ،علی الثالث ماھذہ الشقاشق الفارغۃ عن منشاء و معنی وعلی الاولین یعود الرباعلیک انت اذا بعت نوط عشرۃ بعشرۃ وذٰلک لان حکم الدراہم بالدراہم لم یکن فی الشرع التساوی فی المالیۃ لاجماع الامۃ ان الجید والردی ھٰھنا سواء وانما کان الحکم التساوی فی القدر فیجب علیک ان تضع النوط فی کفۃ والفضۃ من تفریق درھم اوغیرہ فی الکفۃ الاخری فلا تبیعہ الابما ساواہ وزنا ولا یکون ذٰلک الاقطعۃ صغیرۃ او قطعتین فان زدت علیہ شیئا فقد اکلت الربا واحللت الربا وان زعمت ان الحکم الساری الی النوط من الربابی لاجل ھذاالاغراق وعدم الافتراق ھو التساوی فی المالیۃ فھذا جہل منک عظیم یساوی ھزلاویتساوک ھزلا فان التسویۃ فی المالیۃ لم یکن حکم الربابی نفسھا فکیف یسری منھا الٰی شبھھا مالیس فیہا علاان النوط ان اتحد مع الربابی حقیقۃ او حکما لایتحد مع الذھب لامتناع الاتحاد بین نوعین متباینین فاذن ان بیع نوط عشرۃ باثنی عشرۃ جنیہا لایلزم فیہ مالزم ثمہ لعدم الاتحاد فی الجنس حقیقۃ ولا حکماً فحینئذ یرجع ماٰل فتواک الی ان من باع نوط عشرۃ باثنتی عشرۃ ربیۃ فھذا حرام لانہ حصل فضلا بلا عوض وان باعہ باثنی عشر جنیہا فھذا لاحرج علیہ لانہ لم یحصل فضلا یعتد بہ فسبحٰن اﷲ من ھذہ الفتوی ماادقھا نظراواحقھارعایۃ لمقصد الشرع الشریف من تحریم الربا وھو صیانۃ اموال الناس ولاحول ولا قوۃ الا باﷲ العلی العظیم و بالجملۃ کلام ھذا لامانع لایرجع الی اصل شرعی ولا برھان وما ھو الاکلمۃ ھو قائلھا ما انزل اﷲ بھا من سلطٰن والحمد ﷲ وعلیہ التکلان وھو المستعان۔
اور ہم نے اس مسئلہ کی تحقیق کہ ایک روپے کو ایک اشرفی میں بیچنے میں نہ سود ہے نہ سود کا شبہہ ، اوپر اس طرح بیان کی جس سے بڑھ کر کوئی بیان نہیں توجب یہ حکم قرشوں اور ریال اور اشرفی اور ریزگاری میں ہوا حالانکہ وہ سب کے سب خلقۃً ثمن ہیں اور ان سب میں رباکی دو علتوں میں  سے ایک علت یعنی وزن  موجود ہے تو روپیوں کے بدلے نوٹ پر تیرا کیا گمان ہے حالانکہ نوٹ تو صرف ثمن اصطلاحی ہے اور اس کا مالیت کا اندازہ بھی ایک اصطلاح ہے جس کی پابندی بائع مشتری پر لازم نہیں اور اس میں ربا کی دو علتوں میں سے کوئی نہیں،نہ جنس نہ قدر، تو یہاں ناجوازی کا حکم تین ہی شخصوں میں سے کوئی کرسکے گا جن پر سے قلم شرع اٹھالیا گیا ہے ، بچہ اور سوتا اور دیوانہ ۔ ہم اﷲ تعالٰی سے معافی اور پناہ مانگتے ہیں ، اس باب میں یہی تحقیق جواب ہے اور امید کرتا ہوں کہ دولھا کے بعد عطر نہیں ولیکن اے شخص! اگر تو کچھ نہ مانے سوا ا پنی اسی بات کے کہ نوٹ روپیوں میں ایسا غرق ہے کہ گویا وہ روپے کا عین ہے تو اب میں تجھ سے پوچھتا ہوں کہ اس غرق ہونے اور فرق نہ ہونے کے سبب آیا نوٹ حقیقۃً چاندی کا روپیہ ہوا یا حکماً بایں معنی کہ روپیوں سے نوٹ کی بیع میں شرع نے وہی حکم جاری فرمایا جو روپیوں سے روپیوں کی بیع میں ہے جیساکہ تونے کہا تھا کہ گویا وہ دس روپے ہیں کہ بارہ کو بیچے گئے یا حقیقۃً یا حکماً کسی طرح نہیں ، تیسری تقدیر پر یہ کیا بے منشا و معنی لفاظیاں ہیں اور پہلی دونوں صورتوں میں ربا خود تجھ پر پلٹے گا جب کہ دس کا نوٹ دس کو بیچے اس لئے کہ روپیوں سے روپے کی بیع میں شرع کا حکم یہ نہ تھا کہ مالیت میں برابر ہوں ، تمام امت کا اجماع ہے کہ یہاں کھرا کھوٹا برابر ہے بلکہ حکم تویہی تھاکہ وزن میں برابری ہو تو تجھ  پر واجب ہے کہ ایک پلہ میں نوٹ رکھے اور دوسرے پلہ میں روپے کی ریز گاری یا اور کوئی چاندی بس اتنے ہی کو اسے بیچے جتنی چاندی وزن میں نوٹ کے برابر ہو اور یہ دوانی یا چوانی بھر سے زائد نہ ہوگی اور اگر اس پر کچھ زیادہ لے تو تو نے سود کھایا اور سود حلال کیا اور اگر تو یہ زعم کرے کہ اس غرق ہونے اور فرق نہ ہونے کے سبب روپوں سے جو حکم نوٹ کی طرف آیا وہ یہ ہے کہ مالیت میں برابر کرلو تو یہ تیرہ بڑا جہل ہے جو ٹھٹھے بازی کے مثل ہے اور دبلے پن سے لچک لچک ہورہا ہے کہ مالیت میں برابر کرنا خود روپیوں کا حکم نہ تھا تو روپیوں سے ان کے مشابہ نوٹ کی طرف وہ حکم کیونکر سرایت کرے گا جو خود ان میں نہیں ، علاوہ بریں اگر نوٹ روپیوں کے ساتھ حقیقۃً یا حکماً متحد ہوبھی جائے توسونے کے ساتھ متحد نہ ہوگا کہ دو متباین نوعیں متحد نہیں ہوسکتیں تو اس تقدیر پر اگر دس روپے کا نوٹ بارہ اشرفی کو بیچا جائے تو وہ حرج لازم نہ آئے گا جو بارہ روپے سے بیچنے میں تھا کہ یہاں نہ جنس حقیقۃً ایک ہے نہ حکماً اب تیرے فتوٰی کا انجام یہ ٹھہرے گا کہ دس روپے کا نوٹ بارہ کو بیچنا تو حرام ہے اسلئے کہ اس نے بلا معاوضہ ایک زیادتی حاصل کی اور اگر بارہ اشرفی کو بیچے تو کوئی حرج نہیں اسلئے کہ اس نے کوئی ایسی زیادتی حاصل نہ کی جس کا اعتبار کیاجائے تو سبحان اﷲ اس فتوٰی کا کیا کہنا ، کس قدر اس کی نظر دقیق ہے اور رباکے حرام کرنے میں شرع شریف کے جو مقصد تھا یعنی لوگوں کے مال محفوظ رکھناکس درجہ اس نے اس کی رعایت کی ہے ولا حول ولا قوۃ الا باﷲ العلی العظیم ، خلاصہ یہ ہےکہ اس منع کرنے والے کا کلام نہ کسی اصل کی طرف پلٹتا ہے نہ دلیل کی جانب، وہ تو ایک بات ہے کہ وہی اس کا قائل ہے اﷲ نے اس پر کوئی دلیل نہ اتاری ،سب خوبیاں خدا کو اور اسی پر بھروسا ہے اور اسی سے مدد کی طلب۔
واما الثانی عشر

فاقول: نعم یجوز اذا قصداالبیع حقیقۃ دون القرض و ذلک لان البیع جائز والتفاضل جائز والتاجیل جائز کماحققنا کل ذٰلک وما التنجیم الانوع من التاجیل نعم ان اقرض نوط عشرۃ و شرط ان یرد المستقرض اثنتی عشرۃ ربیۃ او احدی عشرۃ او عشرۃ وقطعۃ مثلاحالا اوما لامنجما او غیر منجم فھذاحرام وربا قطعالانہ قرض جرنفعا وقد قال سیدنا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کل قرض جر منفعۃ فھو ربا۱؎، رواہ الحارث بن ابی اسامۃ عن امیر المؤمنین علی کرم اﷲ تعالٰی وجہہ بخلاف ما اذااقرض ولم یشترط شیئا من الزیادۃ ولا کانت معہودۃ من تعاملھما لان المعروف کا لمشروط ثم ان المستقرض اوفاہ وزاد من عند نفسہ تکرما زیادۃ ممتازۃ منحازۃ کیلا تکون ھبۃ مشاع فیما یقسم فھذاجائز لابأس بہ بل ھو من باب''ھل جزاء الاحسان الاالاحسان ۱؎'' وقد قال صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم للوزان فی ثمن سراویل اشتراھا زن وارجح ۲؎ وکذااذاتقاضاہ المقرض فلم یکن عندہ النوط اولم یرد ردہ فوقع الصلح علی اثنتی عشرۃ ربیۃ عوضا عن النوط الذی فی ذمتہ وقبضت الدراہم فی المجلس کیلا یکون افتراقا عن دین بدین فھذا ایضا جائز بالا تفاق ان کان النوط الذی استقرضہ مستھلکا وعند الطرفین مطلقا وان کان باقیا عندہ اذالم یورد العقد علیہ، نعم ان کان موجودا واشتراہ بعینہ باثنی عشر او بعشرۃ او بماشاء فھذا باطل لایجوز عندھما خلافا لابی یوسف رضی ﷲ تعالٰی عنہم لانہ قد ملکہ بالاستقراض فکیف یشتری ملک نفسہ من غیرہ فی وجیز الکردری اذا کان لہ علی اٰخر طعام وفلوس فاشتراہ من علیہ بدراہم وتفرقا قبل قبض الدراہم بطل و ھذا مما یحفظ ۱؎اھ۔
جواب سوال دوازدہم 

فاقول: ( تومیں کہتا ہوں) ہاں جائزہے جبکہ دونوں حقیقۃً بیع کا ارادہ کریں نہ کہ قرض کا اس لئے کہ بیچنا جائز اور کمی بیشی جائز اور مدت معین پر ادھار جائز، جیسا کہ ہم سب باتوں کی تحقیق بیان کرآئے اور قسط بندی بھی ایک قسم کی مدت ہی معین کرنا ہے ، ہاں اگر دس کا نوٹ قرض دیا اور شرط کرلی کہ قرض لینے والا بارہ روپے یا گیارہ یا مثلاً ایک دوانی اوپر دس، اب یا کچھ مدت بعد قسط بندی سے یا بلا قسط واپس دے تو یہ ضرور حرام اور سود ہے اس واسطے کہ وہ ایک قرض ہے جس سے نفع حاصل کیا، اور بیشک ہمارے سردار رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو قرض کوئی نفع کھینچ کرلائے وہ سود ہے ۔ یہ حدیث حارث بن ابی اسامہ نے امیر المومنین علی کرم اﷲ تعالٰی وجہہ سے روایت کی بخلاف اس کے جبکہ قرض دیا اور کچھ زیادہ لینا شرط نہ کیا اور نہ ان کے اگلے عمل درآمد سے زیادہ لینا معروف تھا( کیونکہ جو معروف ہے وہ تو مثل شرط کے ہے ) پھر قرض لینے والے نے قرض ادا کیا اور اپنی طرف سے احساناً کچھ ایسا زیادہ دیا جو الگ ممتاز ہو ( یہ اس لئے کہ قابل تقسیم شے میں ہبہ مشاع نہ ہو جائے ) تو یہ جائز ہے اس میں کچھ حرج نہیں بلکہ اس قبیل سے ہے کہ احسان کا بدلہ کیا ہے سوا احسان کے۔ ا ور بیشک حضور اقدس صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے جو ایک پاجامہ خریدا ( اور وہاں قیمت تول کردی جاتی تھی ) تولنے والے سے فرمایا کہ تول اور زیادہ دے ، یونہی اگر نوٹ قرض دیا تھا اور قرض خواہ نے اس سے تقاضا کیا اس کے پاس ویسا نوٹ نہ تھا یا اس نے نوٹ دینا نہ چاہا عوض میں روپے دینے چاہے دس کے نوٹ کے بدلے بارہ روپے پر صلح ہوئی اور اسی جلسے میں روپے ادا کردئے(تاکہ عاقدین یوں جدانہ ہوں کہ دونوں طرف دین ہو ) تو یہ بھی جائز ہے پھر اگر وہ نوٹ جو اس نے لیا تھا اس کے پاس نہ رہا جب تو بالاتفاق جائز ہے اور اگر نوٹ اس کے پاس موجو د ہے مگر خاص اس نوٹ کو روپیوں سے نہ خریدا بلکہ ذمہ پر قرض تھا اسے خریدا تو امام اعظم اور امام محمد کے نزدیک جائز ہے ہاں اگر وہی نوٹ کہ قرض لیا تھا موجود ہے اور بعینہ اسی کو بارہ روپے یا دس یا جتنے سے چاہے خریدے تو یہ طرفین کے نزدیک باطل ہے اور امام ابویوسف رضی اﷲ تعالٰی عنہم اسے جائز کہتے ہیں ، باطل ہونے کی وجہ یہ ہے کہ جب اس نے یہ نوٹ قرض لیا تو قرض لیتے ہی اس کامالک ہوگیا تو خود اپنی مملوک چیز کو دوسرے سے کیونکر خریدے گا ، وجیز کردری میں ہے جب اس کا کسی پر غلہ یا پیسے آتے ہوں مدیون نے وہ دین اس سے روپیوں کو خریدلیا اور روپیوں پر قبضہ ہونے سے پہلے دونوں جدا ہوگئے تو یہ بیع باطل ہوگئی اور یہ ان مسائل میں سے ہے جن کا یادرکھنا لازم ہے انتہی ،
 (۱؎ کنز العمال بحوالہ الحارث عن علی     حدیث۱۵۵۱۶    مؤسسۃ الرسالۃ بیروت    ۶/ ۲۳۸)

(۱؎ القرآن الکریم    ۵۵ /۶۰)

(۲؎ سنن النسائی     کتاب البیوع    المکتبۃ السلفیہ لاہور    ۲/ ۲۱۷)

(جامع الترمذی     ابواب البیوع    امین کمپنی دہلی         ۱/ ۱۵۶)

(۱؎ فتاوٰی بزازیہ علی ہامش فتاوٰی ہندیۃ     کتاب الصرف    نورانی کتب خانہ پشاور     ۵/ ۶)
Flag Counter