| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ ) |
اقول: وباﷲ التوفیق ھذا اردء واخنع ولا غرو اذ القوس فی ید غیرباریہا قد علم کل من ترعرع عن الصبا ولو قلیلا ان الاثمان الاصطلاحیۃ انما تقدر بالحقیقۃ بل النقود کلھا لھا تقدیر بالدراہم دنانیر کانت او غیرہا ولا بدلھا من نسبۃ الی الربابی فجنیہ بخمسۃ عشر وقطعۃ صغیرۃ بثمن ربیۃ واخری بالربع واخری بالنصف و ست عشر اٰنۃ بربیۃ و النوط الفلان بعشرۃ والفلان بمائۃ ھکذا واذااستوت رواجا ومالیۃ فاھل العرف لایفرقون بینھا فی الاخذ والاعطاء فی معاملا تھم فمن شری ثوبا بجنیۃ افرنجی وادی خمس عشرربیۃ او بالعکس لا یعد ھذا تبدیلا ولا تحویلا ولاینکرہ البائع ولاغیرہ وکذا القطعۃ الصغیرۃ وثمانیۃ فلوسا افرنجیۃ لا یفرقون بینھما فی اخذ ولااعطاء وکذا ربع الربیۃ وستۃ عشر فلسا ومن اشتری شیئا بنصف ربیۃ ، فاما ان یودی النصف بعینہ اوربیع ربیۃ او رابعۃ اثمانہ او ربع وثمنین او ربعا وثمنا و ثمانیۃ فلوس او ثلثۃ اثمان وثمانیۃ فلوس او ربعا وستۃ عشر فلسا او ثمنا واربع وعشرین فلسا اوالکل بالفلوس اثنین وثلثین فلسا الصور(عہ) التسع جمیعا سواء عندھم ولا یفرقون بینھا اصلا لا ستوائھاجمیعا فی المالیۃ والرواج ولیس ھذا فی العرف فقط بل الشرع ایضا خیر المشتری ان یؤدی ایہا شاء ولو امتنع البائع من قبول بعضھا و اراد الزام المشتری باحدالوجوہ کان تعنتا منہ ولم یقبل ،
اقول: وباﷲ التوفیق ( میں کہتا ہوں اور اﷲ ہی کی طرف سے توفیق ہے ۔ت) یہ شبہہ تو اور بھی ردی اور بھونڈا ہے مگر کوئی تعجب نہیں کہ کمان انجان کے ہاتھ میں ہے ہر وہ شخص جو بچپن سے کچھ بھی آگے بڑھاہے جانتا ہے کہ اصطلاحی ثمنوں کے اندازے حقیقی ہی ثمن سے کئے جاتے ہیں بلکہ تمام نقدوں کے لئے روپیوں سے اندازہ ہے خواہ اشرفیاں ہوں یا اور کچھ ، اور انہیں کچھ نہ کچھ روپیوں سے نسبت ضرور ہوگی تو ایک ساورن پندرہ روپے کی اور دوانی روپے کا آٹھواں حصہ اور چوانی چوتھائی اور اٹھنی آدھا اور ایک روپے کے سولہ آنے اور فلاں نوٹ دس روپے کا فلاں سو کا ، وعلٰی ھذا القیاس، اور جب ان کا چلن اور مالیت یکساں ہو تو اہل عرف معاملات میں ان کے لین دین میں کوئی فرق نہیں کرتے تو جو کوئی کپڑا ایک پونڈ انگریزی کو خریدے اور دے پندرہ روپے یا اس کا عکس تونہ اسے کوئی تبدیل کہے گا نہ قرارداد کا پھیرنا اور نہ اس سے بائع انکار کرے گا نہ کوئی اور ، یونہی دوانی اورآٹھ پیسے انگریزی ان کے لین دین میں بھی کوئی فرق نہیں کرتا، ، یونہی چونی اور سولہ پیسے اور جس نے کوئی چیز اٹھنی کو خریدی وہ یا تو خود اٹھنی دے یا دو چونیاں یا چار دوانیاں یا ایک چوانی اور دو دوانیاں یا ایک چوانی اور ایک دوانی اور آٹھ پیسے یا ایک چوانی اور سولہ پیسے یا ایک دوانی اور چوبیس پیسے یا سب کے بتیس پیسے ، یہ نوکی نو صورتیں سب ان کے نزدیک برابرہیں اور ان میں اصلاً فرق نہیں کرتے اس لئے کہ سب میں مالیت اور چلن یکساں ہیں اور یہ کچھ عرف ہی میں نہیں بلکہ شریعت نے بھی خریدار کو اختیار دیا کہ ان میں سے جس صورت پر چاہے ادا کرے اور اگر بیچنے والا ان میں سے کسی صورت کو نہ مانے اور کوئی دوسری صورت مشتری پر لازم کرنا چاہے تو یہ اس کی طرف سے بیجا ہٹ ہوگی اور مانی نہ جائے گی ۔
عہ: والان اذقد راج تفریق جدید یسمی اٰنۃ صح اداء نصف ربیۃ بستۃ وثلثین وجہا والکل سواء کما لایخفی اھ منہ۔
عہ: اور اب کہ ایک نئی ریز گاری چل گئی ہے جسے اکنی کہتے ہیں تو اٹھنی کے دام چھتیس طرح ادا ہوسکتے ہیں اور سب برابر ہیں جیساکہ پوشیدہ نہیں ۱۲منہ۔
قال ابن عابدین تحت قول المتن ینصرف مطلقہ ( ای مطلق الثمن ) الی غالب نقد البلد وان اختلف النقود مالیۃ فسد العقد مع الاستواء فی رواجھا۱؎مانصہ اما اذااختلف رواجا مع اختلاف مالیتہا او بدونہ فیصح وینصرف الی الاروج وکذایصح لو استوت مالیۃ ورواجا لکن یخیر المشتری بین ان یؤدی ایہما شاء، ومثل فی الھدایۃ مسئلۃ الاستواء فی المالیۃ والرواج بالثنائی والثلاثی واعترضہ الشراح بان مالیۃ الثلثۃ اکثر من الاثنین واجاب فی البحر بان المراد بالثنائی ماقطعتان منہ بدرھم وبالثلاثی ماثلثۃ منہ بدرھم، قلت وحاصلہ انہ اذااشتری بدرھم فلہ دفع درھم کامل او درھم مکسر قطعتین او ثلثۃ حیث تساوی الکل فی المالیۃ والرواج ، ومثلہ فی زماننا الذھب یکون کاملا ونصفین واربعۃ ارباع وکلھا سواء فی المالیۃ والرواج ومنہ یعلم حکم ماتعورف فی زماننا من الشراء بالقروش فان القرش فی الاصل قطعۃ مضروبۃ من الفضۃ تقوم باربعین قطعۃ من القطع المصریۃ المسماۃ فی مصرنصفا ثم ان انواع العلمۃ المضروبۃ فی امر تقوم بالقروش فمنھا مایساوی عشرۃ قروش ومنھا اقل ومنھا اکثر فاذا اشتری بمائۃ قرش فالعادۃ انہ یدفع ماارادامامن القروش اوممایساویہا من بقیۃ انواع العلمۃ من ریال اوذھب ولا یفہم احدان الشراء وقع بنفس القطعۃ المسماۃ قرشاً بل ھی او مایساویہا من انواع العملۃ متساویۃ فی الرواج المختلفۃ فی المالیۃ ولا یردان صورۃ الاختلاف فی المالیۃ مع التساوی فی الرواج ھی صورۃ الفساد لانہ ھنالم یحصل اختلاف مالیۃ الثمن حیث قدر بالقروش و انما یحصل الاختلاف اذالم یقدربھا کمالواشتری بمائۃ ذھب وکان الذھب انواعا کلھا رائجۃ مع اختلاف مالیتہا فقدصارالتقدیر بالقروش فی حکم مااذااستوت فی المالیۃ والرواج وقد مران المشتری یخیر فی دفع ایھما شاء۔ قال فی البحر فلو طلب البائع احدھما للمشتری دفع غیرہ لان امتناع البائع من قبول مادفعہ المشتری ولا فضل تعنت ۱؎ اھ (ملخصاً)
تنویر الابصار میں جو فرمایا کہ مطلق ثمن شہر کے اس نقد کی طرف پھرتا ہے جس کا چلن زیادہ ہو اور اگر وہ سکے مالیت میں مختلف ہوں اور چلن ایک سا ہو تو عقد فاسد ہوجائیگا اس کے تحت میں علامہ شامی نے فرمایا لیکن اگر چلن ایک سانہ ہو مالیت خواہ مختلف ہو یا نہیں تو عقد صحیح رہے گا اور جس کا چلن زیادہ ہے وہ مراد ٹھہریگا یونہی اگر مالیت اور چلن دونوں یکساں ہوں جب بھی عقدصحیح رہے گا مگر اس صورت میں خریدار کو اختیار ہوگا کہ دونوں میں سے جو چاہے ادا کرے ، اور ہدایہ میں چلن اور مالیت یکساں ہونے کی مثال ثنائی اور ثلاثی سے دی اور شارحوں نے ا س پر اعتراض کیا کہ تین کی مالیت دو سے زیادہ ہے ، اور بحرالرائق میں جواب دیا کہ ثنائی سے وہ مراد ہے جس کے دو ایک روپے کے برابر ہوں ، اور ثلاثی وہ جس میں تین ایک روپے کے برابر ہوں، میں کہتا ہوں اس کا حاصل یہ ہے کہ جب اس نے کو ئی چیز ایک روپے کو خریدی توچاہے ایک روپیہ پورا دے چاہے دو اٹھنیاں چاہے تین تہائیاں جبکہ سب مالیت اور رواج میں برابر ہوں۔ اسی طرح اشرفی ہمارے زمانے میں پوری اور دو نصف اور چار پاؤلی ہوتی ہے اور سب کی مالیت اور چلن یکساں ہیں ، اور اسی سے معلوم ہوگیا قرشوں کے عوض خریدنے کا حکم جو ہمارے زمانے میں شائع کی ہے کہ قرش اصل میں ایک چاندی کا سکہ ہے جس کی قیمت چالیس قطعہ مصری ہوتی ہے جس کو مصر میں نصف کہتے ہیں پھر قسم قسم کے لئے سب کی قیمت قرشوں سے لگائی جاتی ہے تو ان میں کوئی دس قرش کا کوئی کم کا کوئی زیادہ کا، تو جب کوئی چیز سو قر ش کو خریدی تو عادت یہ ہے کہ وہ جو چاہے دے خواہ قرش ہی دے دیا اور سکے جو مالیت میں اس کے برابر ہوں ریال یا گنی ، اور یہ کوئی نہیں سمجھتا ہے کہ خریداری خاص اس ٹکڑے پر واقع ہوئی ہے جس کا نام قرش ہے بلکہ قرش یا اور سکوں سے جو مالیت سے مختلف ہیں اور چلن میں یکساں ہیں اتنا کہ اس کی مالیت کے برابر ہوجائیں اور یہ اعتراض وارد نہ ہوگا کہ مالیت مختلف ہونا اور چلن میں یکساں ہونا یہی تو فساد عقد کی صورت ہے اسلئے کہ یہاں ثمن کی مالیت میں اختلاف نہ پڑا جب کہ ا سکا اندازہ قرشوں سے کیا گیا ، ہاں اختلاف جب ہوتا کہ ان سے اندازہ نہ کرتے جیسے کہ سواشرفیوں کو خریدے اور وہاں اشرفیاں کئی قسم کی ہوں ، چلن میں سب ایک سی اور مالیت میں مختلف ، اور جب قرشوں سے اندازہ کرلیا یہ ایسا ہوگیا گویا مالیت اور چلن سب برابر ہیں ، اور اوپر گزرچکا کہ مشتری کو اختیار ہوگا کہ ان میں سے جوچاہے دے ۔ بحرالرائق میں فرمایا اگر بائع ان میں سے ایک سکہ طلب کرے تو مشتری کو اختیار ہے کہ دوسرا دے اس لئے کہ جو مشتری دے رہا ہے اس کے لینے سے بائع کا انکار بے جا ہٹ ہے جبکہ مالیت میں تفاوت نہیں انتہی۔
(۱؎درمختار شرح تنویر الابصار کتاب البیوع مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۷) (۱؎ ردالمحتار کتاب البیوع داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۲۶)
وھذا کلہ واضح جلی وای تسویۃ وعدم تفرقۃ اعظم من ان یشتری المشتری بالقروش ثم یخیران یؤدی منھا او من الریا ل او من الذھب الکامل اومن التفاریق وان لم یقبل البائع کان متعنتا ومع ھذا لا یتوھم عاقل ان القروش والریال والجنیۃ والتفاریق کلھا صارت جنسا واحدالایحل فیہا التفاضل اوان بعضھا مغرق فی بعض کانہ ھو من دون فرق فالتفاضل ان لم یکن ربا فبشبھہ یلحق بہ ویحرم مع نصھم قاطبۃ اجمعین ان عند اختلاف الجنس یحل التفاضل بل مع قول رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اذا اختلف النوعان فبیعوا کیف شئتم۲؎،
اور یہ سب ظاہر روشن باتیں ہیں اور اس سے بڑ ھ کرا ور کیا برابر جاننا اور فرق نہ کرنا ہے کہ مشتری خریدے تو قرشوں کو، پھر اسے اختیار دیا جائے کہ چاہے قرش دے خواہ ریال چاہے سونے کا پورا سکہ یا اس کی ریزگاری ، اور بائع نہ مانے تو بے جاہٹ ٹھہرے ، بایں ہمہ کوئی یہ وہم نہیں کرسکتا کہ قرش اور ریال اور اشرفی اور ریزگاری سب کے سب ایک جنس ہوگئے ان میں سے ایک دوسرے کو بیچیں تو کمی بیشی جائز نہ ہو یا ان میں ایک دوسرے میں ایسا غرق ہے کہ گویا بعینہ بلا فرق دونوں ایک ہیں تو کمی بیشی اگر سود نہ ہو تو اس کی مشابہت کے سبب اس کے حکم میں ہوکر حرام ہوجائے حالانکہ تمام علماء بالاجماع تصریح فرمارہے ہیں کہ اختلاف جنس کے وقت کمی بیشی جائز ہے بلکہ خود حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا ارشاد موجود ہے کہ جب نوعیں بدلیں تو جیسے چاہو بیچو،
(۲؎ نصب الرایۃ لاحادیث الہدایۃ کتاب البیوع المکتبۃ الاسلامیہ ، ریاض ۴/۴)