| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ ) |
وانت تعلم ان الاعراض عن المبرۃ لاتوجب کراھۃ تحریم ولذا قال فی الفتح لاباس فی ھذافان الاجل قابلہ قسط من الثمن والقرض غیر واجب علیہ دائما بل ھو مندوب اھ ۱؎ وقال فی العنایۃ الاعراض عن الاقراض لیس بمکروہ والبخل الحاصل من طلب الربح فی التجارات کذالک والالکانت المرابحۃ مکروھۃ ۲؎ اھ،
اور تجھے معلوم ہے کہ نیک سلوک سے رو گردانی کچھ کراہت تحریم کی موجب نہیں، لہذافتح القدیر میں فرمایا اس میں کچھ حرج نہیں کہ وعدہ کے مقابل تو ثمن کا ایک حصہ ہولیا اور آدمی پر واجب نہیں کہ ہمیشہ قرض دیا کرے بلکہ وہ ایک نیک بات ہے انتہی، اور عنایہ میں فرمایا قرض دینے سے رو گردانی مکروہ نہیں اور اتنا بخل کہ آدمی تجارتوں میں نفع چاہے وہ بھی ایسا ہی ہے ورنہ نفع پر بیچنا مکروہ ہوتا انتہی،
(۱؎ فتح القدیر کتاب الکفالۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶ /۳۲۴) (۲؎ العنایۃ علی ہامش فتح القدیر کتاب الکفالۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶ /۳۲۳)
اقول : بل لیست التجارۃ الاان تبغوافضلا من ربکم والمماکسۃ فی المبایعۃ مسنونۃ، وقد قال صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم المغبون لامحمود ولا ماجور ۳؎ رواہ اصحاب السنن عن الحسین بن علی والطبرانی فی الکبیر عن الحسن بن علی والخطیب عن سید نا علی کرم اﷲ تعالٰی وجوھھم الکرام، فغایۃ مافیہ کراھۃ التنزیہ والا فقد صح ان الصحابۃ فعلوہ وحمدوہ و فی حاشیۃ الفاضل عبدالحلیم معاصر العلامۃ الشرنبلالی رحمہما اﷲ تعالٰی علی الدرر والمروی عن ابی یوسف انہ قال العینۃ جائزۃ مأجورۃ لمکان الفرار فیہا عن الحرام و الاحتیال للفرار عن الحرام مندوب ولانہ فعلہ کثیر من الصحابۃ و حمدواذٰلک ۱؎ اھ،
اقول: بلکہ تجارت تو اسی کا نام ہے کہ اپنے رب کا فضل تلاش کرو اور خرید و فروخت میں قیمت کم کرانا سنت ہے، اور بیشک نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا کہ غبن کھانے میں نہ ماموری نہ ثواب، یہ حدیث اصحاب سنن نے امام حسین اور طبرانی نے اپنی معجم میں امام حسن اور خطیب نے مولی علی کرم اﷲ تعالٰی وجوھہم الکرام سے روایت کی تو اس میں انتہا درجہ کراہت تنزیہ ہے ورنہ بصحت ثابت ہولیا کہ صحابہ کرام نے اسے کیا اور تعریف فرمائی اور علامہ عبدالحلیم معاصر علامہ شرنبلالی رحمہما اﷲ تعالٰی حاشیہ درر میں لکھتے ہیں امام ابویوسف سے روایت یوں ہے کہ بیع عینہ جائز اور ثواب کاکام ہے اس لئے کہ اس میں حرام سے بھاگنا ہے اور حرام سے بھاگنے کا حیلہ کرنا مستحب ہے اور اس لئے کہ بکثرت صحابہ نے اسے کیا اور اس کی تعریف فرمائی انتہی،
(۳؎ المعجم الکبیر للطبرانی حدیث ۲۷۳۲ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۳ /۸۳) (۱؎ حاشیۃ الدرر لعبد الحلیم کتاب البیوع )
وظاھر سیاقہ ان جملۃ ''والاحتیال للفرار عن الحرام مندوب'' من کلام الامام ابی یوسف رحمہ اﷲ تعالٰی واﷲ تعالٰی اعلم، ھذا احدالدلائل علیہ والثانی: تصریحھم قاطبۃ ان القدر والجنس اذاعدم احدھما حل الفضل و معلوم قطعاً ان الدینار والدرھم او الدینار و الفلس لایتجانسان فیجب الحل فمن این تأتی کراھۃ التحریم، وتحقیقہ ان للتفاضل اربع صور الاول ان یکون الاکثر مالیۃ ھو الاکثر قدراً والثانی ان یکون اقل ولکن مالیۃ بعد زائدۃ بل اضعاف مضاعفۃ کالجنیۃ مع الربیۃ والثالث ان یکون اقل الی حد تنقص مالیتہ ایضا البدل والرابع ان یقل الی ان یتساوی المالیتان وھم قاطبۃ قالوا عند اختلاف الجنس حل التفاضل ولم یقیدوہ بشیئ من الصور اصلا فیعمہا جمیعا ولو کانت ثم کراھۃ تحریم لم تحل الاصورۃ واحدۃ من الاربع وھی الرابعۃ ثم ھنا وجہ اٰخران یکون جنسان متحدی المالیۃ عند اتحاد القدر و ھم قد حکموا بحل التفاضل وھو یستلزم التفاضل فی المالیۃ فوجب حلہ ،
اور ان کی روشن عبارت سے ظاہر یہ ہے کہ یہ جملہ بھی امام ابویوسف کا کلام ہے کہ حرام سے بھاگنے کا حیلہ کرنا مستحب ہے واﷲ تعالٰی اعلم، یہ صورت مذکورہ کے مکروہ تحریمی نہ ہونے کی ایک دلیل ہے، دلیل دوم: تمام علماء کی تصریح ہے کہ جب قدر یا جنس میں کوئی معدوم ہو تو زیادتی حلال ہے اور یقینا معلوم ہے کہ اشرفی اور روپیہ یا اشرفی اور پیسہ ایک جنس نہیں تو حلال ہونا واجب ہوا تو کراہت تحریمی کدھر سے آئیگی، اور تحقیق یہ ہےکہ زیادتی کی چار صورتیں ہیں: اول یہ کہ جس کی مالیت زیادہ ہو اسی کی مقدار زیادہ ہو۔ دوسری یہ کہ اسکی مقدار تو کم ہو مگر مالیت اب بھی زیادہ بلکہ کئی گنا بڑھ کر، جیسے روپے کے ساتھ اشرفی۔تیسری یہ کہ مقدار میں اتنی کم ہو کہ اس کی مالیت بھی اس کے مقابل سے گھٹ جائے، چوتھی، یہ کہ اسکی مقدار اس حد تک کم ہو کہ دونوں مالیت میں برابر ہوجائیں، اور تمام علماء نے اتنا ہی فرمایا ہے کہ جب جنس مختلف ہو تو کمی بیشی جائز ہے اور اسے کسی خاص صور ت کے ساتھ مقید نہ کیا تو چاروں صورتوں کو شامل ہوگا اور اگر وہاں کراہت تحریمی ہوتی تو چاروں صورتوں میں سے صرف ایک حلال ہوتی اور وہ چوتھی صورت ہے پھر یہاں ایک صورت اور ہے وہ یہ کہ دو جنس کی چیزیں مقدار میں برابر ہوں تو ان کی مالیت بھی یکساں ہو اور علماء نے کمی بیشی حلال ہونے کا حکم فرمایا اور وہ اس صورت میں مالیت کی کمی بیشی کو مستلزم ہے تو اس کا حلال ہونا واجب ہوا،
والثالث: قولہ صلی ا ﷲ تعالٰی علیہ وسلم اذااختلف النوعان فبیعو اکیف شئتم ۱؎، فمن ذالذی یعدہ معصیۃ ومکروھا تحریما مع اذن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فیہ والرابع ماقدمنا انفا عن الخانیۃ انہ یدفع فلسا عوضا عن الدرہم فیجوز ذٰلک ویقع الامن ای امن بعد حصول المعصیۃ،
دلیل سوم: نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا ارشاد کہ جب جنس مختلف ہو تو جیسے چاہو بیچو تو وہ کون ہے جو اسے گناہ اور مکروہ تحریمی بتائے گا حالانکہ نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اس کی اجازت فرماچکے۔ دلیل چہارم وہ جو ابھی ہم فتاوٰی قاضی خان سے بیان کرآئے کہ روپے کے بدلے ایک پیسہ دے دے تو یہ جائز ہوجائے گا اور امان حاصل ہوگی اور گناہ ہونے کے بعد کون سی امان ہے۔
(۱؎ نصب الرایۃ لاحادیث الہدایۃ کتاب البیوع المکتبۃ الاسلامیۃ لصاحبہا الحاج ریاض الشیخ ۴/۴)
الرابع : ما قدمنا انفا عن الخانية انه يدفع فلسا عوضا عن الدراهم فيجوزذلك ويقع الا من اي امن بعد حصول المعصية .
دلیل چہارم: وہ جو ابھی ہم فتاوی قاضی خان سے بیان کر آئے کہ روپے کے بدلے ایک پیسے دے دے تو یہ جائز ہوجائے گا اور امان حاصل ہوجائے گی اورگناہ ہونے کے بعد کون سی امان ہے
والخامس: لیس التفاضل بین درہم اودینار او فلس ودینار مثلا الابالمالیۃ فان کان ذلک موجبا لکراھۃ التحریم لانہ حصل لاحد العاقدین اکثر واربح مما حصل لاٰخر فاربی ھذا علیہ یجب ان یکون مساواۃ الجید والردی وزنا مکروھا تحریما اذااربی الجید علی الرد بمالایتغابن فیہ الناس کأن تکون مالیتہ ضعف مالیتہ او اضعافھا لان موجبھا المذکور حاصل ھٰھنا ایضا قطعا، والشیئ لایتخلف عن موجبہ مع ان المساواۃ ھو المامور بہ شرعا وکذٰلک مازاد بالصناعۃ حتی صارت قیمتہ اضعاف قیمۃ مایساویہ وزنا من التبراوالدراہم یکون التساوی فیہ موجب لما او جبتم بہ کراھۃ التحریم مع انہ ھو الواجب شرعا فاذن یکون الشرع قد اوجب ماھو معصیۃ فان المکروہ تحریما منھی عنہ وارتکابہ اثم و معصیۃ وان کانت صغیرۃ کما نص علیہ فی البحر والدروغیرہما وبالاعتاد یصیر کبیرۃ ولا شک ان الشرع متعال عن ان یامر بمعصیۃ و یوجب ارتکاب اثم بخلاف المکروہ تنزیہا فانہ من المباح ولیس من المعصیۃ قطعا وربما یتعمدہ الانبیاء علیہم الصلٰوۃ والسلام بیانا للجواز، وقد زلت قدم ذاک اللکنوی فی رسالتہ فی الدخان فجعل المکروہ تنزیہا من المعاصی والاصرار علیہ من الکبائر وھذہ مزلۃ فاحشۃ بینت عوارھا فی رسالۃ مستقلۃ سمیتھا''جمل مجلیۃ ان المکروہ تنزیہا لیس بمعصیۃ ۱۳۰۴ھ'' والاعتذار بان الشرع اھدراعتبار المالیۃ عند اتحاد الجنس لایجدی نفعا فان ذٰلک اول الکلام ان لوکان الاربا فی المالیۃ موجب المعصیۃ فی نظر الشرع فلم اھدر اعتبارھا مع مافیہ من ابطال مقصد نفسہ اعنی الشرع وھو صیانۃ اموال الناس وانما الاموال بالمالیۃ وفیہ ایصال اکلۃ الربا الٰی قصدھم الفاسد فان غرضم انما یتعلق بالمالیۃ فاذااربوا فیہا فقد فاز وابمرادھم ولا نظر لھم الی زیادۃ الوزن وقلتہ فتبین ان الاربا فی المالیۃ لانظر الیہ للشرع ولایمکن ان یوجب کراھۃ تحریم اصلا وھو المقصود،
دلیل پنجم :مثلاً اشرفی اور روپے یا پیسہ اور اشرفی میں کمی بیشی نہیں مگر مالیت کی، تو اگر اس سے کراہت تحریم لازم ہوتی اس بناء پر کہ دونوں عاقدوں میں سے ایک نے وہ پایا جو مالیت اور نفع میں زائد ہے تو اس کو اس پر زیادتی رہی تو واجب ہوگا کھرے اور کھوٹے کا وزن میں برابر ہونا مکروہ تحریمی ہو جبکہ کھرے کی قیمت کھوٹے سے اتنی زیادہ ہو جس میں لوگ ایک دوسرے سے غبن نہ کھائیں جیسے اس کی مالیت اس کی مالیت سے دونی یا کئی گناہو اس لئے کہ کراہت تحریم کاوہ موجب یہاں بھی یقینا حاصل ہے اور حکم اپنے موجب سے پیچھے نہیں ہٹتا حالانکہ کھوٹے کھرے کا وزن میں برابر ہونا اسی کا شرع نے حکم دیا ہے اور ایسے ہی وہ جو صناعی کے سبب بڑھائے یہاں تک کہ اسکی قیمت اس کے ہم وزن پتر یا روپوں سے کئی گنا ہوجائے تو اس میں وزن کی برابری اسی کراہت تحریم کی موجب ہوگی جو تم نے قراردی ہے حالانکہ وہی شرعاً واجب ہے تو اس وقت یہ ہوگا کہ شرع نے وہ چیز واجب کی جو گناہ ہے اس لئے کہ مکروہ تحریمی ممنوع ہے اور اس کا کرنا گناہ اگرچہ صغیرہ ہے جیسا کہ بحرالرائق و درمختار وغیرہما نے تصریح کی اور عادت ڈالے سے کبیرہ ہوجائے گا ، اور شک نہیں کہ شرع اس سے بلند وبالا ہے کہ معصیت کا حکم دے اور گناہ کرنا واجب کرے بخلاف مکروہ تنزیہی کے کہ وہ مباح میں سے ہے اور معصیت میں سے یقینا نہیں، کبھی انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام اسے قصداً کرتے ہیں کہ اس کا جائز ہونا ظاہر ہوجائے اور انہیں لکھنوی کا حُقّہ کے رسالہ میں قدم پھسلا تو مکروہ تنزیہی کو گناہ اور اس پر اصرار کو کبیرہ ٹھہرادیا اور یہ فاحش غلطی ہے کہ اس کا عیب میں نے ایک مستقل رسالہ میں بیان کیا اس کا نام ''جمل مجلیۃ ان المکروہ تنزیہا لیس بمعصیۃ ۱۳۰۴ھ'' رکھا اور یہ عذر کرناکہ ایک جنس ہونے کی حالت میں شرع نے مالیت کا اعتبار ساقط فرمادیا ہے کچھ نفع نہ دے گا اس لئے کہ یہی تو پہلی بحث ہے کہ اگر شرع کی نظر میں مالیت کی زیادتی موجب معصیت تھی تو کیوں اس کا اعتبار ساقط فرما دیا حالانکہ اس میں خود مقصود شرع کا باطل کرنا تھا مقصود کیا ہے لوگوں کا مال بچانا اورمال کی حقیقت مالیت ہی ہے اور اس میں سود خوروں کو ان کے قصد فاسد تک پہنچانا ہوگا کہ ان کی غرض تو مالیت ہی سے متعلق ہے جب انہوں نے مالیت زیادہ پالی تو اپنی مراد کو پہنچے اور وزن کی کمی بیشی کی طرف ان کی نظر نہیں تو ظاہر ہوگیا کہ مالیت میں زیادتی کی طرف شرع اصلاً نظر نہیں فرماتی تو ممکن نہیں کہ اصلاً کراہت تحریم واجب کرے اور یہی مقصود ہے۔