Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ )
106 - 180
اقول: قول ابی یوسف فعلہ کثیر من الصحابۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہم مرسل اصولی فانہ عندنا مالم یتصل سندہ مطلقا والفرق بین انواعہ وتسمیتھا مرسلا ومنقطعا و مقطوعا ومعضلا مجرد اصطلاح من المحدثین لافادۃ مایقع فیہ من الصور، اما الحکم فمتحد عند نا وھو القبول اذاکان من ثقۃ کما حققناہ فی کتابنا منیر العین فی حکم تقبیل الابھا مین ۱۳۱۳ھ ونص علیہ فی مسلم الثبوت وغیرہ وای ثقۃ او ثق ترید من ابی یوسف فاذاصح عن کثیر من الصحابۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہم فعلہ و مدحہ لا یعدل عنہ لان مذہب امامنا رضی اﷲ تعالٰی عنہ تقلید ھم رضی اﷲ تعالٰی عنہم وقد امرنا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم باقتدائھم اما الحدیث اذا اتبایعتم بالعینۃ ۱؎، رواہ احمد و ابوداؤد و البزار وابویعلی و البیہقی عن نافع عن ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما قال ابن حجر سندہ ضعیف ولہ عند احمداسناداخر امثل من ھذا اھ۲؎۔
اقول : (میں کہتا ہوں) امام ابویوسف کا فرمانا کہ اسے بہت سے صحابہ رضی اﷲ تعالٰی عنہم نے کیا، اصول فقہ کی اصطلاح پرحدیث مرسل ہے کہ ہمارے نزدیک مرسل ہر اس حدیث کو کہتے ہیں جس کی سند متصل نہ ہو اور اس کے اقسام میں فرق کرنا اور ان کے جدا جدا نام مرسل ومنقطع و مقطوع و معضل رکھنا یہ محدثین کی نری اصطلاح ہے جس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ اس میں کتنی صورتیں ہوتی ہیں، رہا حکم وہ ہمارے نزدیک ایک ہے اور وہ یہ ہے کہ ثقہ اگر کوئی حدیث مرسل لائے تو مقبول ہے جیساکہ ہم نے اپنی کتاب منیر العین فی حکم تقبیل الابہا مین میں اس کی تحقیق بیان کی اور مسلم الثبوت وغیرہ میں اس کی تصریح فرمائی اور امام ابویوسف سے بڑھ کر تجھے اور کون ساثقہ درکار ہے، توجب بکثر ت صحابہ کرام رضی اﷲتعالٰی عنہم سے اس کا کرنااور اس کی تعریف ثابت ہوئی تو اس سے عدول نہ ہو گا اس لیے کہ ہمارے امام رضی اللہ تعالی عنہ کا مذہب صحابہ رضی اﷲ تعالٰی عنہم کی تقلید ہے اور بیشک رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے ہمیں ان کی پیروی کا حکم دیا، رہی وہ حدیث کہ جب تم بطور عینہ خرید و فروخت کروگے اسے امام احمد وابوداؤد و بزار و ابویعلٰی و بیہقی نے نافع سے انہوں نے عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے روایت کیا امام ابن حجر نے فرمایا اس کی سند ضعیف ہے اور امام احمدکے یہاں اس کی ایک سند اور ہے اس سے بہتر انتہی۔
 (۱؎ سنن ابوداؤد    باب فی النہی عن العینہ     آفتاب عالم پریس لاہور    ۲/ ۱۳۴)

(مسند احمد بن حنبل     مروی از عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ     المکتب الاسلامی بیروت    ۲ /۴۲،۸۴)

(۲؎ منیران الاعتدال )
وفی سند ہ ابوعبدالرحمٰن الخر اسانی اسحٰق بن اسید الانصاری، قال ابن ابی حاتم لیس بالمشہور وقال ابوحاتم لا یشتغل بہ وقال الذھبی جائز الحدیث۱؎ ثم اعادہ فی الکنی فعد الحدیث من مناکیرہ ۲؎ وقال فی التقریب فیہ ضعف ۳؎ اھ۔ وقد رمز الامام السیوطی فی الجامع الصغیر لحسنہ وجاء من طرق کثیرۃ عقد لھا البیہقی بابافی سننہ وبین عللھا،
اور ابوداؤد کی سند میں ابوعبدالرحمٰن خراسانی اسحاق بن اسید انصاری ہیں، ابن ابی حاتم نے کہا وہ کچھ ایسے مشہور نہیں، اور ابوحاتم نے کہا ان سے کام نہ رکھا جائے، اور ذہبی نے کہا وہ جائز الحدیث ہیں،پھر کنیتوں میں انہیں دو بارہ ذکرکیا اور اس حدیث کو ان کی احادیث منکرہ سے گنا اور تقریب میں فرمایا کہ ان میں ضعف ہے انتہی۔ بالجملہ یہ حدیث درجہ حسن سے نازل نہیں، اور بیشک امام سیوطی نے جامع صغیر میں اس کے حسن ہونے کی رمز لکھی اور یہ حدیث بہت سندوں سے آئی جن کیلئے بیہقی نےاپنی سنن میں ایک فصل خاص وضع کی اور ان کی علتیں بیان کیں،
 (۱؎ میزان الاعتدال فی نقد الرجال     ترجمہ ۷۳۷     اسحاق بن اسید     دارالمعرفۃ بیروت    ۱/ ۱۸۴  و  ۴ /۵۴۷)

(۲؎ میزان الاعتدال فی نقد الرجال     ترجمہ  ۱۰۳۷۸        اسحاق بن اسید     دارالمعرفۃ بیروت   ۴ /۵۴۷)

(۳؎ تقریب التہذیب     ترجمہ ۳۴۲    اسحاق بن اسید     دارالکتب العلمیۃ بیروت    ۱ /۷۹)
اقول: وظاہر کلام الفتح ان محمدا احتج بھذا الحدیث فاذا ھو صحیح ولا شک لان المجتہد اذا استدل بحدیث کا ن تصحیحا لہ کما افادہ المحقق حیث اطلق فی التحریر وغیرہ فی غیرہ وعلی کل فلیس فی الحدیث مایدل علی منعہ الاتری الی قولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم معہ واخذ تم اذناب البقر ۴؎ ای حرثتم  وزرعتم کما فسرہ بہ فی الفتح قال لانھم حینئذ یترکون الجہاد وتألف النفس الجبن ۱؎ اھ بل ھو فی نفس روایۃ بلفظ اخذتم اذناب البقر ورضیتم بالزرع و ترکتم الجہاد ۲؎ الحدیث و معلوم ان الزرع غیر منھی عنہ بل ھو افضل وجوہ الکسب بعدالجہاد عند الجمہور و قیل التجارۃ ثم الزراعۃ ثم الصناعۃ کما فی وجیز الکردری لاجرم لما احتج فی العنایۃ بالحدیث علی ذمہ قال العلامۃ سعدی اٰفندی اقول :  لوصح ذٰلک تکون الزراعۃ مذمومۃ ایضا اھ ۳؎ ولم یعلل الکراھۃ فی الھدایۃ والتبیین والدرر وغیرہا الابالاعراض عن مبرۃ الاقراض زاد فی الھدایۃ مطاوعۃ لمذموم البخل۴؎ ۔
اقول: کلام فتح القدیر سے ظاہر یہ ہے کہ امام محمد رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ نے اس حدیث کو حجت ٹھہرایا ہے تو اس صورت میں تو وہ ضرور صحیح ہے اس لئے کہ مجتہد جب کسی حدیث سے استدلال کرے تو وہ اس حدیث کی صحت کاحکم ہے جیسا کہ محقق علی الاطلاق نے تحریر اور ان کے غیر نے غیر میں افادہ فرمایا بہر حال حدیث میں بیع عینہ کی ممانعت پر کوئی دلالت نہیں کیا اس کے ساتھ نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے اس ارشاد کو نہیں دیکھتے کہ جب تم بیلوں کی دمیں  پکڑویعنی کھیتی کرو زراعت میں پڑوجیسا کہ اس کی یہ تفسیر فتح القدیر میں فرمائی، فرمایا اس لئے کہ وہ اس وقت جہاد چھوڑدینگے اور طبیعت نامردی کی عادی ہوجائے گی انتہی بلکہ وہ نفس روایت ابوداؤد میں ان لفظوں سے ہے کہ جب تم بیلوں کی دمیں پکڑو اور کشت کاری میں پڑجاؤ اور جہاد چھوڑ دو آخر حدیث تک، اور معلوم ہے کہ کھیتی منع نہیں بلکہ وہ جمہور کے نزدیک جہاد کے بعد سب پیشوں سے افضل ہے، اور بعض نے کہا کہ جہاد کے بعد تجارت، پھر زراعت، پھر حرفت، جیسا کہ وجیز کردری میں ہے۔ ولہٰذا جبکہ عنایہ میں اس حدیث سے بیع عینہ کی مذمت پردلیل لائے، علامہ سعدی آفندی نے فرمایا کہ میں کہتا ہوں اگر یہ دلیل صحیح ہوجائے تو زراعت بھی مذموم ہوجائے گی اور ہدایہ و تبیین و درمختار وغیرہا میں ا س کی کراہت کی صرف اتنی دلیل بتائی کہ اس میں قرض دینے کی نیک سلوک سے رو گردانی ہے، ہدایہ میں اتنا زیادہ فرمایا کہ بخل مذموم کی پیروی کرکے،
 (۴؎ سنن ابوداؤد     کتاب البیوع     باب فی النہی عن العینۃ    آفتاب عالم پریس لاہور    ۲/ ۱۳۴)

 (۱؎ فتح القدیر     کتاب الکفالۃ مکتبہ رضویہ سکھر    ۶ /۳۲۴)

(۲؎ سنن ابوداؤد     کتاب البیوع     باب فی النہی عن العینۃ    آفتاب عالم پریس لاہور    ۲/ ۱۳۴)

(۳؎ حاشیہ آفندی ہامش فتح القدیر     کتاب الکفالۃ     مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر    ۶ /۳۲۴)

(۴؎ الہدایہ     کتاب الکفالۃ    مطبع یوسفی لکھنؤ    ۳ /۲۴۔۱۲۳)
Flag Counter