| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ ) |
ومثلہ فی البحر عن الخلاصۃ عن النوازل للامام الفقیہ ابی اللیث رحمہ اﷲ تعالٰی ثم قال فی الخانیۃ رجل طلب من رجل دراہم لیقرضہ بدہ دوازدہ فوضع المستقرض متاعا بین یدی المقرض فیقول للمقرض بعت منک ھذا المتاع بمائۃ درہم فیشتری المقرض ویدفع الیہ الدراہم ویأخذ المتاع ثم یقول المستقرض بعنی ھذا المتاع بمائۃ وعشرین فیبیعہ لیحصل للمستقرض مائۃ درہم ویعود الیہ متاعہ ویجب للمقرض علیہ مائۃ وعشرون درھما والاوثق والاحوط ان یقول المستقرض للمقرض بعد ماقرر المعاملۃ کل مقالۃ و شرط کان بیننا فقد ترکتہ ثم یعقدان بیع المتاع اھ ۱؎ ،
اور اسی طرح بحرالرائق میں بحوالہ خلاصہ، نوازل امام فقیہ ابوللیث رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ سے ہے۔ پھر خانیہ میں (دوسرا حیلہ) یہ فرمایا ایک شخص نے دوسرے سے کچھ روپے قرض مانگے اس طور کہ دینے والے کو دس کے بارہ ملیں تو یوں چاہئے کہ قرض لینے والا دینے والے کے سامنے کوئی متاع رکھے اور اس سے کہے میں نے یہ متاع تیرے ہاتھ سو روپے کو بیچی قرض دینے والا خرید لے اور روپے اسے دے دے اور متاع پر قبضہ کر لے پھر قرض لینےوالا اس سے کہے یہ متاع میرے ہاتھ ایک سو بیس روپے کو بیچ ڈال وہ بیع کردے تاکہ قرض لینے والے کو سوروپے مل جائیں اور اس کی متاع بھی اس کے پاس واپس آئے اور قرض دینے والے کے اس پر ایک سو بیس لازم آئیں اور زیادہ اطمینان واحتیاط کی بات یہ ہےکہ قرض لینے والا قرض دینے والے سے معاملہ مذکورہ کی قرار داد کرکے یوں کہہ دے کہ جو کچھ گفتگو اور شرط ہمارے آپس میں ٹھہری تھی وہ میں نے چھوڑدی پھر متاع کی خرید و فروخت کریں انتہی۔
(۱؎ فتاوٰی قاضی خان کتاب البیوع باب فی بیع مال الربوٰ نولکشور لکھنؤ ۲ /۴۰۶)
ثم قال فان کان المتاع للمقرض ولیس للمستقرض شیئ ویریدان یقرضہ عشرۃ بثلثۃ عشر الی اجل فان المقرض یبیع من المستقرض سلعۃ بثلثۃ عشر ویسلم السلعۃ الی المستقرض ثم ان المستقرض یبیع السلعۃ من اجنبی بعشرۃ ویدفع السلعۃ الی الاجنبی ثم الاجنبیۃ یبیع السلعۃ من المقرض بعشرۃ ویأخذ بعشرۃ منہ ویدفعھا الی المستقرض فیبرأ الاجنبی من الثمن الذی کان علیہ للمستقرض و تصل السلعۃ الی المقرض بعشرۃ و للمقرض علی المستقرض ثلثۃ عشر الی اجل اھ ۱؎ ،
تیسراحیلہ یہ فرمایا کہ وہ متاع بھی قرض دینے والے کی ہو قرض لینے والے کے پاس کوئی متاع بھی نہیں اور دینے والا چاہتا ہے کہ دس روپے قرض دے اور کسی میعاد پر تیرہ روپے اس سے وصول کرے تو قرض دینے والا لینے والے کے ہاتھ کوئی متاع تیرہ روپے کو بیچے اور متاع اس کے قبضہ میں دے دے پھر قرض لینے والا اس متاع کو کسی اجنبی کے ہاتھ دس روپے کو بیچے اور وہ متاع اس اجنبی کو دے دے وہ اجنبی قرض دینے والے کے ہاتھ دس کو بیچ ڈالے اور وہ اجنبی اس سے دس روپے لے کر قرض لینے والے کو دے دے تو اجنبی پر جو قرض لینے والے کا دین تھا وہ اترجائے گا اور وہ متاع قرض دینے والے کے پاس دس میں پہنچ جائیگی اور قرض لینے والے پر اس کے تیرہ روپے ایک وعدہ پر لازم ہوجائیں گے انتہی۔
(۱؎ فتاوٰی قاضی خان کتاب البیوع باب فی بیع مال الربوٰ نولکشور لکھنو ۲ /۴۰۶)
ثم قال وحیلۃ اخری ان یبیع المقرض سلعۃ بثلثۃ عشر الی اجل معلوم و یدفع السلعۃ الی المستقرض ثم یبیعہ المستقرض من الاجنبی ثم ان المستقرض یقیل البیع مع الاجنبی قبل القبض اوبعدہ ثم یبیعھا المستقرض من المقرض بعشرۃ و یاخذ العشرۃ فیحصل للمستقرض عشرۃ وعلیہ للمقرض ثلثۃ عشر وتصل السلعۃ الی المقرض والمقرض وان صار مشتریا ماباع باقل مماباع قبل الثمن الا ان ذٰلک جائز لتخلل البیع الثانی وھو البیع الذی جری بین المستقرض والاجنبی ۲؎ اھ،
چوتھا حیلہ یہ فرمایا کہ قرض دینے والا لینے والے کے ہاتھ کوئی متاع ایک معین وعدہ پر تیرہ روپے کوبیچے او راس کے قبضہ میں دے دے اور قرض لینے والا اسے کسی اجنبی کے ہاتھ بیچے پھر قرض لینے والا اس اجنبی کے ساتھ بیع فسخ کرے خواہ متاع اس کے قبضہ میں دی ہو یا نہ دی ہو پھر قرض لینے والا دینے والے کے ہاتھ اسے دس کو بیچے تو قرض لینے والے کو دس روپے ملیں گے اور دینے والے کے اس پر تیرہ لازم ہوں گے اور متاع دینے والے کے پاس پہنچ جائے گی قرض دینے والے نے اس صورت میں اگرچہ اپنی بیچی ہوئی چیز ادائے ثمن سے پہلے جس قدر کو بیچی تھی اس سے کم کو خرید لی مگر یہاں یہ جائز ہے اس واسطے کہ بیچ میں دوسری بیع آگئی وہ جو قرض لینے والے اور اجنبی میں ہوئی انتہی۔
(۲؎فتاوٰی قاضی خان کتاب البیوع باب فی بیع مال الربوٰ نولکشور لکھنو ۲/ ۴۰۷)
ثم قال وحیلۃ اخری ان یبیع المقرض من المستقرض سلعۃ بثمن مؤجل ویدفع السلعۃ الی المستقرض ثم ان المستقرض یبیعھا من غیرہ باقل مما اشتری ثم ذٰلک الغیر یبیعھا من المقرض بما اشتری لتصل السلعۃ الیہ بعینہا ویأخذ الثمن و یدفعہ الی المستقرض فیصل المستقرض الی القرض ویحصل الربح للمقرض اھ، اقول: ھذہ ھی الحیلۃ الثالثۃ المارۃ قال ''وھذہ الحیلۃ ھی العینۃ التی ذکرھا محمد رحمہ اﷲ تعالٰی و مشایخ بلخ بیع العینۃ فی زماننا خیر من البیوع التی تجری فی اسواقنا وعن ابی یوسف رحمہ اﷲ تعالٰی انہ قال العینۃ جائزۃ ماجورۃ وقال اجرہ لمکان الفرار من الحرام ۱؎اھ ،
پھر ایک حیلہ یہ فرمایا کہ قرض دینے والا لینے والے کے ہاتھ کوئی متاع ادھار بیچے اور متاع اس کے قبضہ میں دے دے پھر قرض لینے والا اس متاع کو کسی اور کے ہاتھ اتنے سے کم کو بیچے جتنے کو خرید ی پھر وہ دوسر اشخص اس قرض دینے والے کے ہاتھ اتنے کو بیچے جتنے کو خود خریدی تاکہ وہ متاع بعینہا اسے پہنچ جائے اور اس سے قیمت لے کر قرض لینے والے کو دیدے تو قرض لینے والے کو قرض مل جائے گا اور دینے والے کو نفع حاصل ہوجائیگا انتہی، اقول:(میں کہتا ہوں) یہ وہی تیسرا حیلہ ہے جو گزرچکا، امام قاضیخان نے فرمایا کہ اس حیلہ کا نام بیع عینہ ہے جس کو امام محمد رحمہ اﷲ تعالٰی نے ذکر فرمایا اور مشائخ بلخ نے فرمایا کہ بیع عینہ ان بیعوں سے کہ ہمارے بازاروں میں آج کل رائج ہیں بہتر ہے اور امام ابویوسف رحمہ اﷲتعالٰی سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا عینہ جائز ہے اور اس پر ثواب ملے گا اور فرمایا ثواب کی وجہ یہ ہے کہ اس میں حرام یعنی سود سے بھاگنا ہے انتہی۔
(۱؎ فتاوٰی قاضی خان کتاب البیوع باب فی بیع مال الربا نولکشورلکھنؤ ۲ /۴۰۷)
ثم قال رجل لہ عشرۃ دراہم صحاح فاراد ان یبیعھا باثنی عشر درھما مکسرۃ یجوز لانہ ربا، فان ارادالحیلۃ یستقرض من المشتری اثنی عشرۃ درھما مکسرۃ ثم یقضیہ عشرۃ جیادا ثم ان المقرض یبرئہ من درھمین فیجوز ذلک اھ ۱؎ ،
پانچواں حیلہ یہ فرمایا کہ ایک شخص کے پاس دس روپے صحیح ہیں وہ چاہتا ہے کہ ان کو بارہ روپے پھوٹے ہوؤں سے بیچے تو جائز نہیں کہ سود ہے پھر اگر وہ حیلہ چاہے تو یہ چاہئے کہ مشتری سے بارہ روپے پھوٹے ہوئے قرض لے پھر دس کھرے اس کو ادا کرے پھر وہ اسے باقی دو روپے معاف کردے تو یہ جائز ہے،
(۱؎ فتاوٰی قاضی خان کتاب البیوع باب فی بیع مال الربوٰ نولکشور لکھنؤ ۲ /۴۰۷)
ثم قال ولوکان لہ علی رجل عشرۃ دراہم مکسرۃ الی اجل فلما حل الاجل جاء المدیون بتسعۃ صحاح فقال ھذہ التسعۃ بتلک العشرۃ لایجوز لانہ ربا فان ارادالحیلۃ یأخذ التسعۃ بالتسعۃ ویبرئہ عن الدرھم الباقی فان خاف المدیون ان لا یبرئہ عن الدرہم الباقی یدفع الی صاحب الدین تسعۃ دراہم صحاحا وفلسا او شیئا یسیراعوضا من الدرہم الباقی جاز ذلک و یقع الامن ۲؎ اھ وفیہا فوائد لاتخفی علیک و سنمر علیہا فیما یأتی ان شاء اﷲ تعالٰی وکفانا تشبیہہ فی الوجہ الاول ببیع العینۃ وقولھم فانہ مکروہ لہذاو ذٰلک لانہ لایکرہ الاتنزیھا فکذا ھذا، ولا یھولنک قول محمد انہ یجدہ مثل الجبل ۳؎ فانہ قال مثلہ بل اشد منہ فی العینۃ وماثبت لھا الاکراھۃالتنزیہ قال فی ردالمحتار عن الطحطاوی عن ابی یوسف العینۃ جائزۃ ماجور من عمل بھا کذا فی مختار الفتاوی ہندیۃ وقال محمد ھذاالبیع فی قلبی کا مثال الجبال ذمیم اخترعہ أکلۃ الربا وقال علیہ الصلٰوۃ والسلام اذ اتبایعتم بالعین واتبعتم اذناب البقر ذللتم وظہر علیکم عدوکم، قال فی الفتح ولا کراھۃ فیہ الاخلاف الاولٰی لما فیہ من الاعراض من مبرۃ القرض اھ ۱؎ واقرہ علیہ فی البحر والنھر والدر والشرنبلالیہ و غیرہا وقال ایضا فی فتح القدیر قال ابویوسف لایکرہ ھذا البیع لانہ فعلہ کثیر من الصحابۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہم وحمدواعلی ذٰلک ولم یعدوہ من الربا اھ ۲؎،
چھٹا حیلہ یہ فرمایا اگر کسی شخص پر دس روپے پھوٹے ہوئے ایک وعدہ پر آتے تھے جب وعدہ کا وقت آیا مدیون نو روپے کھرے لایا اور کہا کہ ان دس کے بدلے یہ نو ہیں تو یوں جائز نہیں اس لئے کہ سود ہے، تو اگر حیلہ چاہے تو نو کے بدلے نو لے لے اور ایک معاف کردے پھر اگر مدیون کو اندیشہ ہوکہ وہ ایک جو باقی رہا یہ معاف نہ کرے گا تو قرض خواہ کو نوروپے کھرے اور ایک پیسہ یا کوئی اور تھوڑی سی چیز اس باقی روپے کے عوض دے دے تو اب جائز ہوگا اور وہ اندیشہ جاتا رہے گا انتہی اور اس عبارت میں وہ فائدے ہیں جو تجھ پر پوشیدہ نہ رہیں گے اور آئندہ تقریر میں ان شاء اﷲ ہم اوپر گزرکریں گے اور ہم کو یہی کافی ہے کہ وجہ اول میں اسے بیع عینہ سے تشبیہ دی اور علماء نے فرمایا وہ بھی اسی وجہ سے مکروہ ہے اور یہ اس لئے کہ بیع عینہ نہیں مگر مکروہ تنزیہی، تو ایسے ہی یہ بھی اورامام محمد کا یہ ارشاد کہ وہ ان کے نزدیک پہاڑ کی طرح گراں ہے تجھے ہول میں نہ ڈالے کہ انہوں نے ایسا ہی کہا بلکہ اس سے بھی سخت تربیع عینہ میں فرمایا ہے اوراس کے لئے ثابت نہ ہوئی مگر کراہت تنزیہ،ردالمحتار میں طحطاوی اس میں عالمگیری اس میں مختار الفتوی ا س میں امام ابویوسف رحمہ اﷲ تعالٰی سے ہے کہ عینہ جائز ہے اس کے کرنیوالے کو ثواب ملے گا، اور امام محمد رحمہ اﷲ تعالٰی نے فرمایا اس بیع کی برائی میرے قلب میں پہاڑوں کے برابر ہے اسے سود خوروں نے ایجاد کیا، اورنبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا جب تم بطور عینہ خریدو فروخت کرو اور بیلوں کی دم کے پیچھے چلو تو ذلیل ہوجاؤگے اور تمہارا دشمن تم پر غالب آجائے گا۔ فتح القدیر میں فرمایا عینہ میں کوئی کراہت نہیں سوا خلاف اولٰی کے، اس لئے کہ اس میں قرض دینے کے اچھے سلوک سے رو گردانی ہے انتہی۔ اور اسے بحرالرائق اور نہر الفائق اور درمختار اور شرنبلالیہ وغیرہا نے برقرار رکھا نیز فتح القدیر میں ہے امام ابویوسف نے فرمایا یہ بیع مکروہ نہیں اسلئے کہ بہت سے صحابہ رضی اﷲ تعالٰی عنہم نے اسے کیا اور اس کی تعریف کی اور اسے سود نہ ٹھہرایا انتہی،
(۲؎فتاوٰی قاضی خان کتاب البیوع باب فی بیع مال الربوٰ نولکشور لکھنؤ ۲ /۴۰۷) (۳؎ فتح القدیر کتاب الصرف مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶/ ۲۷۱) (۱؎ ردالمحتار کتاب الصرف داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۲۴۴) (۲؎ فتح القدیر کتاب الکفالہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶ /۳۲۴)