Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ )
103 - 180
قلت : جئت لک بتقریر الاعتراض بمالو ابدیتہ من نصک لعلک لم تقدر علی احسن منہ الاٰن اسمع الجواب بتوفیق الوھاب عزجلالہ امااولا فلانہ این ذھب عنک فرق الخلق والاصطلاح فان مالیۃ الذہب وکونہ اعز من اضعاف وزنہ من الفضۃ امر خلقی لامدخل فیہ لفرض احد وتقدیرہ ففی مقابلۃ دینار بدرہم ینقدح رجحان المالیۃ فی کل ذہن بخلاف النوط فان تقدیرہ بعشرۃ مثلا انما ھو مجرد اصطلاح من الناس والا فنفس القرطاس لا یساوی درھما ولو عشرۃ فان نظرت الی الاصل فبیع ماقدر بعشرۃ ایضا رجحان عظیم فی المالیۃ وان نظر الی الاصطلاح فاصطلاح غیر حاکم علی العاقدین کما اسمعناک نص الھدایۃ والفتح فاذا قدرہ الناس بعشرۃ وما ھو فی اصلہ الابفلس مثلاً فما المانع لہما ان یقدراہ باثنی عشر فصا عدااوثمانیۃ فما دونھما فلا مساس لھٰذہ المسألۃ بما نحن فیہ واما ثانیا فلان کلامھم فی مقابلۃ الجنس بالجنس اذفیہ یظہر الفضل الاتری الٰی قولہ تبایعا فضۃ بفضۃ او ذھبا بذھب واحدھما اقل ۱؎ولم یقل تبایعا فضۃ بذہب واحدھما اقل مالیۃ بالسعر المعہود فاذا قوبل الذہب بالذھب المساوی لہ ظہر الفضل وحینئذ یمیز العقل ان المضاف ھل یبلغ مقدار ھذاالفضل اولا بخلاف النوط بالدراھم فانھما جنسان مختلفان فانی یظہر الفضل، ومتی یطابق الفرع الاصل قال فی الفتح الربا ھو الفضل المستحق لاحد المتعاقدین فی المعاوضۃ الخالی عن عوض شرط فی العقد، وعلمت ان الخلو فی المعاوضۃ لایتحقق الاعند المقابلۃ بالجنس اھ ۲؎،
میں کہوں گا کہ تیرے لئے میں نے اس اعتراض کی اس طور پر تقریر کردی کہ اگر تو اپنی طرف سے کرتا تو شاید اس سے بہتر نہ کرسکتا اور اب وہاب جل جلالہ کی توفیق سے جواب سن اولاًپیدائش اور اصطلاح کا فرق تیرے ذہن سے کدھر جاتا رہا کہ سونے کی مالیت اور اس کا چاندی سے کئی گناہونا ایک خلقی بات ہے جس میں کسی کے فرض و قرار دادکو دخل نہیں تو ایک اشرفی ایک روپے سے بدلنے میں مالیت کی زیادتی ہر ذہن میں آجائے گی بخلاف نوٹ کے کہ مثلاً اس کی قیمت دس روپے ہونا صرف لوگوں کی اصطلاح سے ہے ورنہ خود کاغذتو نہ ایک روپیہ کا ہے نہ روپے کے دسویں حصہ کا، تو اگر تو اصل کو دیکھے تو دس کا نوٹ دس کو بیچنے میں بھی مالیت میں زیادتی ہے اور اگر اصطلاح کو دیکھیں تو اصطلاح بائع و مشتری پر حاکم نہیں جیساکہ ہم نے تجھ کو ہدایہ و فتح القدیر کا نص سنا دیا تو جب لوگوں نے اسے دس کا قرار دے لیا اور وہ اپنی اصل میں مثلاً ایک ہی پیسے کا ہے تو بائع ومشتری کو اس سے کون منع کرتا ہے وہ اسے بارہ یا زیادہ یاآٹھ یا اس سے بھی کم کا ٹھہرالیں تو اس مسئلہ کو ہماری مبحث سے کوئی علاقہ نہیں، ثانیاً ان کا کلام اس صورت میں ہے جب جنس کے بدلے جنس ہو کہ اسی میں زیادتی ظاہر ہوتی ہے تو کیا تونے ہدایہ کا یہ قول نہ دیکھا جب چاندی چاندی سے یا سونا سونے سے بیچا اور ایک طرف کمی ہے، اوریوں نہ فرمایا کہ سونے چاندی سے بیچا اور نرخ معروف کے اعتبار سے ایک طرف مالیت کم ہے تو سونا اپنی برابر کے سونے کے برابر جب کیاجائے گا زیادتی ظاہر ہوجائیگی اور اس وقت عقل یہ تمیز کرے گی کہ وہ چیز جو کم کے ساتھ ملائی گئی ہے اس زیادت کے قدر کو پہنچتی ہے یانہیں بخلاف اس کے کہ نوٹ روپوں کو بیچیں کہ وہ دو جنس مختلف ہیں تو زیادتی کدھر سے ظاہر ہوگی اور یہ فرع اس اصل کے کیونکر مطابق آئے گی، فتح القدیر میں فرمایا: ربا وہ زیادتی ہے کہ عقد معاوضہ میں عاقدین میں سے کسی کو اس کا مستحق قرار دیا جائے اور اس زیادتی کے مقابل کوئی عوض اس عقد میں شرط نہ کیا گیا ہو اور تجھے معلوم ہوگیا کہ عوض سے خالی ہونا اسی وقت متحقق ہوگا جبکہ شے کا اس کے جنس سے مقابلہ کیا جائے انتہی۔
 (۱؎ الہدایہ     کتاب الصرف     مطبع یوسفی لکھنؤ    ۳ /۱۰۹)

(۲؎ فتح القدیر     کتاب البیوع    باب الربا     مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر    ۶ /۱۵۱)
وقد قال سیدنا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اذا اختلف النوعان فبیعو اکیف شئتم ۳؎، فھذا اطلاق منہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وھو الشارع والیہ المرجع والیہ المفزع فمن حجرہ بعدہ ما سوغہ فیرد علیہ ولا یسمع،
اور بیشک ہمارے رسول اﷲصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا جب دو چیزیں مختلف قسم کی ہوں تو جیسے چاہو بیچو۔ تو یہ نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی کی طرف سے اجازت ہے اور حضور ہی صاحب شرع ہیں اور حضور ہی کی طرف رجوع اور حضور ہی کے یہاں پناہ، تو نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی جائز کی ہوئی چیز کو جو منع کرے تو اس کا منع کرنا اسی پر رد کردیا جائے گا اور مسموع نہ ہوگا،
(۳؎ نصب الرایۃ لاحادیث الہدایۃ    کتاب البیوع     المکتبۃ الاسلامیۃ لصاحبہا الریاض    ۴/۴)
واما ثالثا فان الکراھۃ فیما اذا لم یبلغ المضموم قیمۃ الفضل انما اثرت عن محمد اماالامام الاعظم والھمام الاقدم وصاحب المذہب الاکرم رضی اﷲ تعالٰی عنہ فد نص علی عدم الکراھۃ فیہ قال فی الفتح بعد ذکر المسألۃ قیل لمحمد کیف تجدہ فی قلبک قال مثل الجبل ولم ترو الکراھۃ عن ابی حنیفۃ بل صرح فی الایضاح انہ لا باس بہ عند ابی حنیفۃ ۱؎ اھ وسیأ تی فی مثلہ عن البحر عن القنیۃ عن البقالی ان عدم الکراھۃ ھو مذہب ابی حنیفۃ وابی یوسف معا رضی اﷲ تعالٰی عنہما وفی الھندیۃ قبیل الکفالۃ عن محیط السرخسی عن محمد رحمہ اﷲ تعالٰی انہ قال لو باع الدرہم بالدرہم وفی احدھما فضل من حیث الوزن وفی الاٰخر فلوس جاز ولکن اکرہہ لان الناس یعتادون التعامل بمثل ھذا ویستعملونہ فیما لایجوز، وقال ابوحنیفۃ رحمہ اﷲ تعالٰی لاباس بہ لانہ امکن تصحیحہ بان یجعل الفضل بازاءالفلوس۱؎ وبالجملۃ النقل عن الامام فاش مستفیض و معلوم ان العمل والفتوی علی قول الامام علی الاطلاق الا لضرورۃ کتعامل بخلافہ ونحوہ وقد فصلناہ فی کتاب النکاح من العطایا النبویۃ بما لامزید علیہ،
ثالثا جس حالت میں کم کے ساتھ ملائی ہوئی چیز کی قیمت مقدار زیادت کو نہ پہنچے حکم کراہت صرف امام محمد سے مروی ہے اور امام اعظم ہمام اقدم صاحب مذہب اکرم رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے تصریح فرمائی کہ اس میں کچھ کراہت نہیں، فتح القدیر میں اس مسئلہ کو ذکر کرکے فرمایاامام محمد سے عرض کی گئی کہ اس کو آپ اپنے نزدیک کیسا پاتے ہیں ؟ فرمایا پہاڑ کی طرح گراں، اور امام اعظم سے کراہت مروی نہیں بلکہ ایضاح میں تصریح فرمائی کہ اس میں امام اعظم کے نزدیک کچھ حرج نہیں انتہی۔ اور اس صورت کے مثل میں عنقریب بحر سے بحوالہ قنیہ آتا ہے کہ امام بقالی نے فرمایا کہ اس میں کراہت نہ ہونا امام اعظم اور امام ابویوسف رضی اﷲتعالٰی عنہما دونوں کا مذہب ہے ہے اور فتاوٰی عالمگیری میں کفالت سے کچھ پہلے بحوالہ محیط امام سرخسی امام محمد سے ہے کہ اگر ایک روپیہ ایک روپیہ کو بیچا اور ایک وزن میں زیادہ ہے اور کم وزن والے کے ساتھ کچھ پیسے ہیں تو جائز ہے مگر میں اسے مکروہ سمجھتا ہوں کہ لوگ اس قسم کے معاملے کے عادی ہوجائیں گے پھر ناجائز جگہ بھی یہ کارروائی کرنے لگیں گے اور امام اعظم نے فرمایا اسمیں کچھ حرج نہیں اور اس واسطے کہ اسے یوں صحیح ٹہہرانا ممکن ہے کہ وہ زیادتی پیسوں کے مقابل ہوجائے، بالجملہ امام سے یہ روایت مشہور و معروف ہے اور معلوم ہے کہ عمل وفتوٰی ہمیشہ قول امام پر ہےمگرکسی ضرورت سے، جیسے کہ عمل در آمد مسلمانوں کا اس کے خلاف پر ہوگیا ہو، اور ایسی ہی بات ہم نے العطایا النبویہ کی کتاب النکاح میں ایسی مفصل بیان کی ہے جس سے زیادہ کوئی بیان نہیں۔
(۱؎ فتح القدیر     کتاب الصرف     مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر     ۶/ ۲۷۱)

(۱؎ فتاوٰی ہندیہ     کتاب البیوع     الباب السادس     نورانی کتب خانہ پشاور     ۳ /۲۵۱)
واما رابعا وھو الطراز المعلم فلان الحق ان ھذہ الکراھۃ (عہ) لیست الاکراھۃ تنزیہ ولا تغتر بالاطلاق فانھم ربما یطلقون ویریدون بہ ماھواعم من التنزیہ والتحریم وربما یطلقون ولا یریدون بہ الاکراھۃ تنزیہ کما لایخفی من عاشر نفائس عرائس کلما تھم،
رابعاً اور وہی سب سے زیادہ چمکتی بات ہے حق یہ کہ کراہت صرف کراہت تنزیہی ہے کراہت کے مطلق چھوڑنے سے دھوکانہ کھانا کہ فقہاء بارہا اسے مطلق چھوڑتے ہیں اور اس سے مراد وہ معنی ہوتے ہیں جو کراہت تنزیہی اور تحریمی دونوں کو عام ہیں اور بارہا مطلق بولتے ہیں اور اس سے صرف کراہت تنزیہیہ مراد لیتے ہیں جیسا کہ اس پر پوشیدہ نہیں جس نے ان کے کلمات کی نفیس دلہنوں کے ساتھ زندگی بسرکی ہے ،
عہ اقول:  محمد وما ادرٰک ما محمد، محمد سید مسود محرر المذہب المسدد قال فی الجامع الکبیر الذی ھو من کتب ظاہر الروایۃ اذا کانت ھذہ الدراہم صنوفا مختلفۃ منھا ماثلثا ھا فضۃ ومنھا ما ثلثا ھا صفر و منھا نصفہا فضۃ فلا باس ببیع احدھا بالاٰخر متفا ضلا ید ابید بصرف فضۃ ھذا الی صفرذٰلک وبالعکس کما لو باع صفراو فضۃ بصفر وفضۃ ولا یجوز نسیئۃ لانہ یجمعھما الوزن وھما ثمنان فیحرم النسأ واما اذا باع جنسا منھا بذٰلک الجنس متفاضلافلو الفضۃ غالبۃ لایجوز لان المغلوب ساقط الاعتبار فکان الکل فضۃ فلا یجوز الامثل بمثل ولو الصفر غالبا اوکانا سواء جاز متفاضلا صرفا للجنس الی خلاف جنسہ و یشترط کونہ ید ابید ۱؎ نقلہ فی الفصل السادس من بیوع الذخیرۃ وقال وعلی ھذا قالو اذا باع من العدلیات التی فی زمانناواحد باثنین یجوز یدا بیداھ۲؎ ۔
اقول: (میں کہتا ہوں) محمد، اور تو نے کیا جانا کیا محمد، محمد سردار ہیں، سردار کئے گئے، مذہب مستقیم کی تحریر و تلخیص فرمانے والے، وہ جامع کبیر میں (کہ کتب ظاہر الروایۃ میں سے ہے) فرماتے ہیں کہ جب کھوٹے روپے مختلف قسم کے ہوں کسی میں دو تہائی چاندی ہو، کسی میں دو تہائی پیتل، کسی میں آدھوں آدھ چاندی، تو ان میں ایک قسم کا روپیہ دوسری قسم کے روپے سے کمی بیشی کے ساتھ بیچنے میں کچھ حرج نہیں جبکہ دست بدست ہو اس لئےکہ اس کی چاندی اس کے پیتل سے بیچنا قرار دیں گے اور اسکی چاندی اس کے پیتل سے جیسے کوئی شخص پیتل اور چاندی،  پیتل اور چاندی کے بدلے بیچے، ہاں ادھار بیچنا روا نہ ہوگا کہ دونوں کو وزن شامل ہے اور دونوں ثمن ہیں تو ادھار حرام ہے۔ رہا ان میں کسی قسم کا روپیہ اسی قسم کے روپوں سے کمی بیشی کو بیچنا اس میں اگر اس روپے میں چاندی کا حصہ زیادہ ہے تو جائز نہیں کہ مغلو ب اعتبار سے ساقط ہے تو گویا وہ نری چاندی ہے تو برابر ہی کو بیچنی جائز ہوگی اور اگر پیتل زیادہ یا دونوں برابرہیں تو کمی بیشی جائز ہوگی، اسی طرح کہ ہر ایک کی چاندی دوسرے کے پیتل  کے مقابلہ کریں گے اور دست بدست ہونا ضروری ہوگا کہ دونوں طرف چاندی بھی ہے فقط پیتل نہیں کہ باعیا نہما ہونا یعنی تعیین شرط ہوگی اسے فتاوٰی ذخیرہ کی کتاب البیوع فصل ششم میں نقل کیااور کہا اسی بنا پر مشائخ نے فرمایا کہ ہمارے زمانے میں جو کھوٹے روپے عدلی نام سے چلتے ہیں ان میں ایک روپیہ دو روپوں سے دست بدست بیچنا جائز ہے انتہی۔
(۱؎ الجامع الکبیر  )  (۲؎ فتاوٰی ذخیرۃ  کتاب البیوع فصل ششم )
Flag Counter