Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ )
102 - 180
فاقول: ارأیتک ھل لیس من المعلوم عندک وعند کل من لہ عقل ان المال الذی یکون فی السعر العام المعروف المجمع علیہ من الناس بعشرۃ دراہم یجوز لکل احد ان یبیعہ برضا المشتری بمائۃ او یعطیہ بفلس واحد ولاحجر فی شیئ من ذلک عن الشرع المطہر قال تعالٰی الا ان تکون تجارۃ عن تراض منکم ۱؎، وقد قال فی الفتح کما تقدم ان لوباع کاغذۃ بالف یجوز ولا یکرہ ۲؎ وکل احد یعلم ان قطعۃ قرطاس لا تبلغ قیمتہ الفا ولا مائۃ ولا درھما واحدا قط فما ذلک الا لان القیمۃ والثمن متغایران ولا یجب علیہما التقید بھا فیما ثامنا بل لھما ان یقدر الثمن باضعاف القیمۃ او بجز ء من مائۃ جزء لھا،
فاقول : (تو میں کہتا ہوں) بھلا بتا تو کیا تجھے اور ہر ذی عقل کو معلوم نہیں کہ وہ مال کہ عام بھاؤ سے سب کے نزدیک دس روپے کی قیمت کا ہے ہر شخص کو جائز ہے کہ خریدار کی رضا مندی سے اسے سوروپے کو بیچے یا ایک پیسہ کو دے دے اور شرع مطہر کی طرف سے اس بارے میں کوئی روک نہیں۔ اﷲ عزوجل فرماتا ہے: مگر یہ کہ کوئی سودا ہو تمہاری آپس کی رضا مندی کا، اور بیشک فتح القدیر میں فرمایا جیسا کہ اوپر گزرا کہ اگر ایک کاغذ کے ایک ٹکڑے کی قیمت ہر گز نہ ہزار روپے تک پہنچتی ہے نہ سو تک نہ ایک روپے تک، تو اس کا یہی سبب ہے کہ قیمت اور ثمن جد اجدا چیزیں ہیں اور بائع و مشتری پر قیمت (یعنی بازار کے بھاؤ) کی پابندی ثمن میں لازم نہیں (یعنی جوان کے ہاہم قرار داد ہوا) بلکہ انہیں اختیار ہے کہ بازار کے بھاؤ سے کئی گنے زائد پر رضامندی کرلیں یا ا سکے سوویں حصہ پر،
 (۱؎ القرآن الکریم     ۴ /۲۹)

(۲؎ فتح القدیر     کتاب الکفالۃ     مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر     ۶ /۳۲۴)
فان قلت ھذا فی السلعۃ اما النوط فثمن اصطلاحا قلت: اولا فکان ماذا وقد ابنت الجواب بقولک اصطلاحا فان اصطلاح غیر ھما لیس مکرہا لھما فضاع الفرق وضاء الحق وثانیا ان سلمنا انھما لایقدر ان علی ابطال الثمنیۃ فمن این لک ان الاثمان الاصطلاحیۃ لا یمکن التغییر فیہا عن التقدیر المصطلح الاتری ان فلوس ربیۃ متعینۃ بتعیین العرف ابدا فکل صبی عاقل یعقل ان ربیۃ بست عشرۃ آنۃ لابخمس عشرۃ ولا بسبع عشرۃ ثم ھذا التعیین العرفی وکونھما اثمانا مصطلحۃ لایحرم علی العاقدین النقص والزیادۃ قال فی التنویر وشرحہ للعلائی من اعطی صیر فیا درھما کبیرا فقال اعطنی بہ نصف درہم فلوسا ونصفا الاحبۃ صح ویکون النصف الاحبۃ بمثلہ وما بقی بالفلوس ۱؎اھ ولفظ الہدایۃ لوقال اعطنی بنصفہ فلوسا وبنصفہ نصفا الاحبۃ جاز ۲؎ وثالثا اعل عن الثمن الاصطلاحی ھذان حجران ثمنان خلقۃ و لا یقدر احد علی ابطال ثمنیتھا وقد عقل کل من عقل ان الدینار یساوی ابداعدۃ دراھم ولا یوجد دینار قط یقوم بدرھم واحد و مع ٰذلک نص ائمتنا ان بیع دینار بدرھم صحیح لاربا فیہ وما ذٰلک الالان الجنس اذا اختلف حل التفاضل واختلاف جنس النوط والربابی مما لایجھلہ الامجنون قال فی الھدایۃ والدر و عامۃ الاسفار الغر صح بیع درہمین و دینار بدرہم و دینارین بصرف الجنس بخلاف جنسہ وکذا بیع احد عشر درھما بعشرۃ دراہم و دینار ۱؎ اھ،
اب اگر تو کہے کہ یہ تو متاع کا حکم ہے اور نوٹ تو اصطلاح میں ثمن ہے میں کہوں گا اولاً پھر کیا ہوا تو نے اصطلاحاً کہہ کر خود ہی جواب ظاہر کردیا کہ اوروں کی اصطلاح عاقدین کو مجبور نہیں کرتی تو فرق ضائع ہوا اور حق واضح ہوگیا ثانیاً ہم نےنہ  مانا کہ عاقدین ابطال ثمنیت پر قادر نہ ہوں تو یہ تونے کہا ں سے نکالا کہ اصطلاحی ثمنوں کی مقدار مصطلح سے تغییر جائز نہیں، کیا نہیں دیکھتا کہ ایک روپے کے پیسے عرف کی تعیین سے ہمیشہ متعین رہتے ہیں کہ ہر سمجھ والا بچہ جانتا ہے کہ ایک روپیہ سولہ آنے کا ہے، نہ پندرہ کا، نہ سترہ کا۔ پھر یہ عرفی تعین اور پیسوں کا ثمن اصطلاحی ہونا بائع ومشتری پر کمی بیشی حرام نہیں کرتا۔ تنویر الابصار اور اس کی شرح درمختار میں فرمایا جس نے صراف کو ایک روپیہ دیا اور کہا اس کے عوض مجھے آٹھ آنے کے پیسے دے دے اور ایک سکہ کہ اٹھنی سے رتی بھر کم ہو تو ایسی بیع جائز ہے روپے کی اتنی چاندی جو اس چھوٹے سکہ کے برابر ہو وہ تو اس سکہ کے عوض رہے گی اور باقی کے عوض پیسے انتہی، اور ہدایہ کی عبارت یوں ہے کہ اگر کہا آٹھ آنے پیسے دے دو اور رتی کم اٹھنی تو جائز ہے ثالثا ثمن اصطلاحی سے اوپرچل یہ ہیں سونا چاندی کی ثمنیت باطل کرنے پر قادر نہیں اور ہر عاقل جانتا ہے کہ اشرفی ہمیشہ کئی روپے کی ہوتی ہے اور ہر گز کوئی اشرفی نہ پائی جائے گی جو ایک روپے قیمت کی ہو اور باوصف اس کے ہمارے ائمہ نے تصریح فرمائی کہ ایک اشرفی ایک روپے کی بیچنا صحیح ہے اور اس میں اصلاً ربا نہیں اور اس کے سوا اس کا کوئی سبب نہیں کہ جب جنس مختلف ہوں تو کمی بیشی جائز ہے اور نوٹ اور روپوں کی جنس مختلف ہونا ایسی بات ہے جس سے کوئی مجنون ہی ناواقف ہو۔ ہدایہ اور درمختار اور عام نورانی کتابوں میں فرمایا دو روپوں اور ایک اشرفی کو ایک روپے اور دو اشرفی کے عوض بیچنا درست ہے کہ ہر جنس اپنی مخالف جنس کے مقابل کردی جائے گی اسی طرح گیارہ روپوں کو دس روپے اور ایک اشرفی کے عوض بیچنا انتہی،
(۱؎ الدرالمختار  شرح تنویرالابصار    کتاب البیوع     باب الربوٰ     مطبع مجتبائی دہلی     ۲/ ۵۷)

(۲؎ الہدایۃ     کتاب الصرف     مطبع یوسفی لکھنؤ     ۳ /۱۱۲)

(۱؎ الہدایہ     کتاب الصرف     مطبع یوسفی لکھنؤ     ۳ /۹۔ ۱۰۸)

(الدرالمختار    کتاب البیوع     باب الصرف     مطبع مجتبائی دہلی     ۲ /۵۵)
قال ابن عابدین فتکون العشرۃ بالعشرۃ والدرھم بالدینار ۲؎ اھ فاذا صح بیع ربیۃ بجنیۃ قیمتہ بالعرف العام خمس عشرۃ ربیۃ ولم یکن ربا فکیف یکون بیع نوط مرقوم علیہ رقم عشرۃ باثنتی عشرۃ ربیۃ ربا ما ھذا الا بھت بحت فانقلت ماذکر تم من المسائل وان صح البیع فیہا لکنہ مکروہ والمکروہ ممنوع فلا یحل وان صح کذا ھذاقال فی الھدایۃ لو تبایعا فضۃ بفضۃ او ذھبا بذھب واحد ھما اقل و مع اقلھما شیئ اٰخر تبلغ قیمتہ باقی الفضۃ جاز البیع من غیر کراہیۃ وان لم تبلغ فمع الکراھۃ وان لم یکن قیمۃ کالتراب لایجوز البیع لتحقق الربا اذا الزیادۃ لایقابلھا عوض فیکون ربا اھ ۱؎ واقرہ فی الفتح والشروح والبحر وردالمحتار وغیرہا و معلوم ان مطلق الکراھۃ ینصرف الی کراھۃ التحریم بل قال عبدالحلیم علی الدرر بعد نقل المسئلۃ واحالۃ تفصیلھا علی الفتح مانصہ ''اذا عرفت ھذا فما یتداول فی الدولۃ العثمانیۃ من بیع قرش واحد بثمانین درھما عثمانیا لم یجز لزیادۃ القرش ولو کان مع الدراھم نحو فلس جازمع الکراھۃ فالواجب علی المحتاط تسویتھما وزنا ا و یکون قیمۃ ماکان مع الدراہم قدر قیمۃ الزیادۃ حتی یخلص عن عہدۃ الکراھۃ ۲؎ اھ فقد صرح بالوجوب فکان فی خلافہ کراھۃ تحریم وکفی بھا للتأثیم،
ردالمحتار میں فرمایا دس روپے تو دس روپے بدلے ہوجائیں گے اور گیارہویں روپے کے بدلے ایک اشرفی انتہی، تو جب ایک روپیہ ایک اشرفی کو بیچنا درست ہوا جس کی قیمت عام طور پر پندرہ روپے ہیں اور ربا نہ ہوا تو دس کا نوٹ بارہ کو بیچنا کیونکر سود ہوگا، یہ تو نرا بہتان ہے، اگر تو کہے کہ یہ جو مسئلے تم نے ذکر کئے ان میں اگرچہ بیع صحیح ہے مگر مکروہ ہے اور مکروہ ممنوع ہوتاہے توحلال نہ ہوگا اگرچہ صحیح ہو، ایسے ہی یہاں ہے۔ ہدایہ میں فرمایا اگر سونے کو سونے یا چاندی کو چاندی سے بیچا اور ایک طر ف کم ہے اور اس کے ساتھ کوئی اور چیز شامل ہے جس کی قیمت باقی چاندی کے برابر ہے جب تو بیع بلا کراہت جائز ہے اور اگر اتنی قیمت کی نہیں تو کراہت کے ساتھ، اور اگر اس کی قیمت کچھ نہیں جیسے مٹی تو اب بیع جائز ہی نہ ہوگی کہ سود موجود ہے اس لئے کہ جتنی زیادتی ایک طرف رہی اس کے مقابل دوسری طرف کچھ نہیں تو سود ہوگا انتہی، اور اس کلام کو فتح القدیر اور دیگر شروح اور بحر اور ردالمحتاروغیرہ میں برقرار رکھا اور معلوم ہے کہ لفظ کراہت جب مطلق بولتے ہیں تو اس سے کراہت تحریم مراد ہوتی ہے بلکہ فاضل عبدالحلیم نے حاشیہ درر میں یہ مسئلہ نقل کیااور اس کی تفصیل کو فتح القدیر پر حوالہ کرکے یوں کہا جب تجھے یہ معلوم ہوچکا تو وہ جو سلطنت عثمانیہ میں رائج ہے کہ ایک ایک قرش اسی روپے عثمانی کو بیچتے ہیں جائز نہیں اس لئے کہ قرش زائد ہے اور اگر روپوں کے ساتھ مثلاً ایک پیسہ ہو تو کراہت کے ساتھ جائز ہے تو احتیاط والے پر واجب ہے کہ ان دونوں کا وزن برابر کرلے یا وہ چیز جو روپوں کے ساتھ ملائی جائے اتنی قیمت کو ہو جس قدر قرش میں روپوں پر زیادتی ہے تاکہ کراہت سے عہدہ بر آہو انتہی، تو انہوں نے وجوب کی تصریح کردی تو ا س کا خلاف مکروہ تحریمی ہوا اور گناہ کے لئے کراہت تحریم کافی ہے،
 (۲؎ ردالمحتار     کتاب البیوع     باب الصرف   داراحیا ء التراث العربی بیروت     ۴/ ۲۳۹) 

(۱؎ الہدایۃ     کتاب البیوع     باب الصرف     مطبع یوسفی لکھنؤ     ۳/ ۱۰۹)

(۲؎ حاشیۃ الدرر لعبد الحلیم )
Flag Counter