Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ )
101 - 180
اقول: لکن فی الفرق نظر فان محمدا لایقول بخروجھاعن الثمنیۃ بمجرد قصد العاقدین مع اتفاق سائر الناس علیہا قال فی الھدایۃ یجوز بیع الفلس بالفلسین باعیا نھما عند ابی حنیفۃ وابی یوسف رحمھما اﷲ تعالٰی وقال محمدرحمہ اﷲ تعالٰی لایجوز لان الثمنیۃ تثبت باصطلاح الکل فلا تبطل باصطلاحھما واذا بقیت اثمانا لا تتعین فصارکما اذا کانا بغیر اعیانھما وکبیع الدرھم بالدرھمین ولھما ان الثمنیۃ فی حقھما تثبت باصطلاحھما ۲؎الٰی اخر ماتقدم و قد اقرہ المحقق فی الفتح وقررہ علی ھذا النھج فکیف یقول محمد ھھنا ان اقدامھما علی السلم ابطال منھما لاصطلاح الثمنیۃ الاان یقال ان ھذا رجوع عن التعلیل الاول ولم یکن عن نص محمد وانما ابداہ المشایخ وظہر الاٰن بھذاالفرق ان الوجہ لمحمد لم یکن ذٰلک بل ھو ایضا قائل بان لھما ابطال الاصطلاح فی حقھما ولکن اذا ثبت ھذا عنھما وقد ثبت فی السلم لان المسلم فیہ لایکون ثمنا قط فاقد امھما علی جعلھا مسلما فیہا دلیل علی الابطال ولم یثبت فی البیع اذلیس من ضرورتہ ان لایکون المبیع ثمنا فلم یثبت منھما ابطال البیوع وھذا التقریر علی ھذاالوجہ ربما یمیل الٰی ترجیح قول محمد فی البیع فافھم (عہ) واﷲ تعالٰی اعلم۔
اقول: (میں کہتا ہوں) مگر اس فرق میں اعتراض ہے اس لئےکہ امام محمد اس کےقائل ہی نہیں کہ صرف عاقدین کے ارادہ سے وہ ثمنیت سے خارج ہوجائیں حالانکہ باقی تمام لوگ اس کے ثمن ہونے پر متفق ہیں ہدایہ میں فرمایا کہ امام اعظم و امام ابویوسف کے نزدیک ایک پیسہ دو پیسے معین کو بیچنا جائز ہے اور امام محمد رحمہ اﷲ نے فرمایا جائز نہیں اس لئے ان کا ثمن ہونا سب لوگوں کی اصطلاح سے ثابت ہو ا تھا تو صرف ان دو کی اصطلاح سے باطل نہ ہوجائےگا اور جبکہ وہ ثمنیت پر باقی رہے تو متعین نہ ہوں گے تو یہ ایسا ہی ہوگیا جیسے ایک پیسہ دو پیسے غیر معین کو بیچ لیا اور جیسے ایک معین روپیہ دو معین روپے کو بیچ لیا اور شیخین کی دلیل یہ ہے کہ ثمنیت عاقدین کے حق میں ان کی اصطلاح سے ثابت ہوتی ہے آخر تقریر گزشتہ تک اور بیشک محقق نے اسے فتح القدیر میں مقرر رکھا اور اسی طور پر اس کی تقریر کی تو امام محمد یہاں کس طرح فرمائیں گے کہ عاقدین کا ان کی بدلی پراقدام کرناان کی اصطلاح ثمنیت کو باطل مان لینا ہے مگر یہ کہا جائے کہ یہ پہلی تعلیل سے رجوع ہے اور وہ تعلیل خود امام محمد سے منقول نہ تھی مشائخ نے پیدا کی تھی اور اب اس فرق سے ظاہر ہو ا کہ امام محمد کے نزدیک وجہ وہ نہ تھی بلکہ  وہ بھی اسی کے قائل ہیں کہ عاقدین کو اپنے حق میں ثمنیت باطل کرنے کا اختیار ہےمگر یہ جب ہےکہ عاقدین سے ابطال ثمنیت کا ارادہ ثابت ہوجائے اور وہ بدلی میں ضرور ثابت ہوگیا اس لئےکہ اس میں جو چیز وعدہ پر لینی ٹھہرے وہ کبھی ثمن نہیں ہوسکتی تو پیسوں میں بدلی پر ان کا اقدام ان کی ثمنیت باطل کرنے کی دلیل ہے اور بیع میں ان کا یہ ارادہ ثابت نہ ہوا کہ اس میں بیع کا ثمن نہ ہونا کچھ ضرور نہیں تو عاقدین سے ابطال اصطلاح ثابت نہ ہوا تو پیسے بحال خود ثمن رہے تو متعین نہ ہوئے تو بیع باطل ہوئی، اور یہ تقریر اس طرز پر کبھی اس طرف جھکے گی کہ مسئلہ بیع میں امام محمد کے قول کو ترجیح دی جائے، تو غور کرو، واﷲ تعالٰی اعلم۔
 (۲؎ الہدایۃ   کتاب البیوع    باب الربوٰ  مطبع یوسفی لکھنؤ    ۳ /۸۳)
عہ:  یشیر الی الجواب بان الحاجۃ الی تصحیح العقد یکفی قرینۃ علی ذٰلک ولایلزم کون ذٰلک ناشیا عن نفس ذات العقد کمن باع درھما ودینا رین بدرھمین ودینار یحمل علی الجواز صرف للجنس الی خلاف الجنس مع ان نفس ذات العقد لاتابی مقابلۃ الجنس بالجنس واحتمال الربا کتحققہ فما الحامل علیہ الا حاجۃ التصحیح وکم لہ من نظیر اھ منہ۔
 یہ اس جواب کی طرف اشارہ ہے کہ عقد صحیح کرنے کی حاجت اس پر کافی قرینہ ہے اور اس کی خود ذات عقد کی طرف سے ناشئی ہونا کچھ ضرور نہیں جیسے کوئی ایک روپیہ اور دواشرفیاں دو روپوں اور ایک اشرفی کو بیچے تو اسے صورت جواز پر حمل کرینگے جنس کو غیر جنس کی طرف پھیر کر حالانکہ خود ذات عقد میں جنس کے مقابل جنس ہونے سے انکار نہیں اور سود کا شبہ مثل حقیقت کے ہے تو اس پر یہی حاجت تصحیح عقد کا باعث، اور اس کی نظیریں بکثر ت ہیں ۱۲منہ۔
واما الحادی عشر

فاقول:  نعم یجوز بیعہ بازید من رقمہ بانقص منہ کیفما تراضیا لم علمت ان تقدیر ھا بھذا المقادیر انما حدث باصطلاح الناس وھما لاولایۃ للغیر علیہما کما تقدم عن الھدایۃ والفتح فلھما ان یقدرابما شاءا من نقص وزیادۃ وقد تم الجواب بھذا القدر عند کل من لہ سلامۃ الفکر وقد افتیت بہ مرارا وافتی علیہ ناس من کبار علماء الھند کا لفاضل الکامل محمد ارشا د حسین الرامفوری رحمہ اﷲ تعالٰی وغیرہ وما خالفنی فیہا الارجل (عہ) من لکنؤ ممن یعد من الاعیان ویشار الیہ بالبنان ولم اطلع علی خلافہ الابعد موتہ لماطبعت وریقات باسم فتاواہ ولو راجعتہ فی حیاتہ لرجوت ان یرجع لان الرجل کان اذا عرف عرف واذا عرف انصرف فالاٰن ازیدک بیانا بعد بیان لایبقی ان شاء اﷲ للحق الا القبول والاذعان ۔
جواب سوال یازدہم 

فاقول: (تومیں کہتا ہوں) ہاں نوٹ پر جتنی رقم لکھی ہے اس سے زیادہ یا کم کو جتنے پر رضا مندی ہوجائے اس کا بیچنا جائز ہے اس لئے کہ اوپر معلوم ہوچکا کہ نوٹ کا ان مقداروں سے اندازہ کرنا صرف لوگوں کی اصطلاح سے پیدا ہوا ہے اوربائع و مشتری پر ان کے غیر کی کوئی ولایت نہیں، جیساکہ ہدایہ و فتح القدیر سے گزرا تو ان دونوں کو اختیار ہے کہ کم زیادہ جتنا چاہیں اندازہ مقرر کرلیں جو شخص فکر سلیم رکھتا ہے اس کے نزدیک جواب اتنے ہی سے پورا ہوگیا اور میں نے بارہا اس پر فتوٰی دیا اور اکابر علمائے ہند سے متعدد عالموں کا یہی فتوٰی ہوا جیسے فاضل کامل مولوی محمد ارشاد حسین صاحب رامپوری رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ وغیرہ اور اس میں میرا خلاف نہ کیا مگر لکھنؤ کے ایک شخص نے جو عمائد سے گنے جاتے اور ان کی طرف انگلیاں اٹھتیں اور مجھے ان کے خلاف پر اطلاع نہ ہوئی مگر ان کی موت کے بعد جبکہ کچھ مختصر ورق ان کے فتاوٰی کے نام سے چھپے اور اگر میں ان کی زندگی میں اس بارے میں ان سے گفتگو کرتا تو امید تھی کہ وہ رجوع کرلیتے کہ ان صاحب کی عادت تھی جب سمجھا ئے جاتے تو سمجھ لیتے اور جب سمجھ لیتے تو واپس آتے اور اب میں تجھے ایضاح کے بعد اور ایضاح زیادہ کروں جو ان شاء اﷲ تعالٰی حق کے لئے نہ باقی رکھے سوا قبول و تسلیم کے،
عہ:  یدعی المولوی عبدالحی اللکنوی اھ منہ     عہ :جن کو مولوی عبدالحی صاحب کہا جاتا ہے ۱۲منہ
فاقول: اولا نص علماؤنا قاطبۃ ان علۃ حرمۃ الربا القدر المعہود بکیل ا ووزن مع الجنس فان وجداحرم الفضل والنسأ وان عدما حلاوان وجد احدھما حل الفضل و حرم النسأ وھذہ قاعدۃ غیر منخرمۃ وعلیہا تدورجمیع فروع الباب و معلوم ان لااشتراک فی النوط والدراھم فی جنس ولاقدر اما الجنس فلان ھذا قرطاس و تلک فضۃ وما القدر فلان الدراہم موزونۃ ولا قدر للنوط اصلا لامکیل و لاموزون فیجب ان یحل الفضل والنسأ جمیعا فاذن لیس النوط من الاموال الربویۃ اصلا وسنزیدک تحقیق الامر فی ذٰلک عن قریب ان شاء اﷲ تعالٰی۔
فاقول: (تو میں کہتا ہوں) اولاً ہمارے جمیع علماء رحمہم اللہ تعالی نے تصریح فرمائی کہ حرمت ربا کی علت وہ خاص اندازہ یعنی ناپ یا تول ہے اتحاد جنس کے ساتھ، تو اگر قدر و جنس دونوں پائی جائیں تو بیشی اور ادھار دونوں حرام ہیں، اور اگر وہ دونوں نہ پائی جائیں تو حلال ہیں، اور اگر دونوں میں سے ایک پائی جائے تو بیشی حلال اور ادھار حرام ہے، اور یہ ایک عام قاعدہ ہے جو کہیں منتقض نہیں اور باب ربا کے جمیع مسائل اسی پر دائرہیں اور معلوم ہے کہ نوٹ اور روپوں میں شرکت نہ قدر میں سے نہ جنس میں، جنس میں تو اس لئے نہیں کہ یہ کاغذ ہے اور وہ چاندی اور قدر میں اس لئے نہیں کہ روپے تول کی چیز ہیں اور نوٹ نہ تول کی نہ ناپ کی، تو واجب ہوا کہ بیشی او رادھار دونوں جائز ہوں،تو ظاہر ہوا کہ نوٹ سرے سے مال ربا ہی سے نہیں اور ہم ان شاء اﷲ تعالٰی عنقریب زیادہ تحقیق بیان کریں گے،
وثانیاً قال فی ردالمحتار وغیرہ کلما حرم الفضل حرم النسأ ولا عکس وکلما حل النسأ حل الفضل ولا عکس ۱؎اھ وقد اقمنا البرھان القاطع فی جواب التاسع علی حل النسأ ھٰھنا فوجب حل الفضل و انتظرمایأ تی و ثالثاً ھذاسیدنا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یقول اذا اختلف ھذہ الاصناف فبیعوا کیف شئتم ۲؎ رواہ مسلم عن عبادۃ بن الصامت رضی اﷲ تعالٰی عنہ فمن الحاجر بعد اذن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ورابعاً ھذہ دلائل واضحۃ لاتخفے حتی علی الصبیان والاٰن اٰتیک بشیئ یکون لک فیہ مجال تکلم بحسب عقلک ثم اکشف الحجاب لابانۃ الصواب ،
ثانیاً ردالمحتاروغیرہ میں فرمایا جہاں بیشی حرام ہوتی ہے ادھار بھی حرام ہے اور اس کا عکس نہیں اھ، اورجہاں ادھار حلال ہو بیشی بھی حلال ہوتی ہےاوراس کاعکس نہیں انتہی اورہم جواب سوال نہم میں دلیل قطعی قائم کرچکےہیں کہ نوٹ میں ادھار جائزہے تو واجب ہوا کہ بیشی بھی حلال ہو اور آئندہ تقریر کے منتظر رہو_____ثالثا یہ ہیں ہمارے سردار رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کہ فرمارہے ہیں جب جنس مختلف ہو تو جیسے چاہو بیچو یہ حدیث صحیح مسلم میں عبادہ بن صامت رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے ہے تو رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی اجازت کے بعد منع کرنے والا کون ہے، رابعاً یہ تو ایسی روشن دلیلیں ہیں کہ بچے پر بھی مخفی نہ رہیں اور اب میں تجھ سے ایک ایسی چیز بیان کروں جس میں تجھے اپنی عقل کے لائق کچھ کلام کی گنجائش ہو پھر اظہار صواب کےلئے اس  کا پردہ کھولوں ،
 (۱؎ ردالمحتار     کتاب البیوع     باب الربوٰ     داراحیاء التراث العربی بیروت    ۴ /۸۰۔ ۱۷۹)

(۲؎ صحیح مسلم    کتاب البیوع     باب الربوٰ    قدیمی کتب خانہ کراچی     ۲ /۲۵)
Flag Counter