| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ ) |
ثم اقول: علاان ما ذکر العلامۃ قاری الھدایۃ ذھولین صریحین عن مسائل المذہب ذھول عما نص علیہ علماؤنا ان الفلوس بالاصطلاح خرجت عن الوزنیۃ الی العددیۃ تبطل باصطلاح العاقدین وان بطلا نھا لایبطل الاصطلاح علی العددیۃ،وکل ذٰلک منصوص علیہ فی الھدایۃ وغیرہ وھذا نصھا ولھما ان الثمنیۃ فی حقھما تثبت باصطلاحھما واذا بطلت الثمنیۃ تتعین بالتعیین ولا یعود وزنیا لبقاء الاصطلاح علی العدّ ۱؎اھ وسنلقی علیک ان محمدا ایضا سلم فی السلم بطلان الثمنیۃ وانما انکرہ فی البیع لعدم الدلیل فھو مجمع علیہ بین ائمتنا فاذن اسلام احد النقدین فی الفلوس لیس سلما فی ثمن ولا اسلام موزون فی موزون بلا موزون فی عددی متقارب مثمن ولا باس بہ باجماع علمائنا رحمھم اﷲ تعالٰی، وبالجملۃ فالعبد الضعیف لایعلم لہذہ الفتوی وجہ صحۃ اصلا تأمل لعل لکلامہ وجھا لست احصلہ بفھمی السخیف ولعلی انا الاولٰی بالخطأ من ھذاالعلامۃ العریف رحمہ اﷲ تعالٰی، ثم اقول ولئن سلمنا فلنا ان نقول ماذکر انما یتمشی فی الفلوس اما النوط فلیس بموزون اصلا فان الورقات لا توزن عرفا قط فلم یشملھا المعیار کحفنۃ من حب وذرۃ من ذھب فمسئلتنا ھذہ سالمۃ عن الخلاف علی کل حال والحمد ﷲ ذی الجلال ھکذا ینبغی التحقیق واﷲ ولی التوفیق۔
ثم اقول: (پھرمیں کہتاہوں) علاوہ بریں وہ جو امام قاری الہدایہ نے ذکر کیا اس میں مسائل مذہب سے صاف دو ذہول ہیں ایک ذہول تو اس سے جو ہمارے علماء نے تصریح فرمائی کہ پیسے اصطلاح کے سبب وزن کی چیز ہونے سے خارج ہوکر گنتی کی چیز ہوگئے، اور دوسرا ذہول اس سے جو علماء نے نص فرمایا کہ پیسوں کا ثمن ہونا بائع و مشتری کی اپنی اصطلاح سے باطل ہو جاتا ہے اور ثمنیت کے بطلان سے وہ اصطلاح جو ٹھہری ہوئی ہے کہ پیسے گنتی کی چیز ہیں باطل نہیں ہوتی، ان تمام باتوں کی ہدایہ وغیرہ میں تصریح ہے، ہدایہ کی عبارت یہ ہے امام اعظم اور امام ابویوسف کی دلیل یہ ہے کہ ثمنیت بائع و مشتری کے حق میں ان کی اصطلاح سے ثابت ہوتی ہے اس لئے کہ اوروں کو ان پر کچھ ولایت نہیں تو وہ اپنی اصطلاح میں اسے باطل بھی کرسکتے ہیں اور جب ثمن ہونا باطل ہوگیا تو معین کئے سے معین ہوجائیں گے اور اس سے تول کی چیز نہ ہوجائیں گے کہ گنتی پر اصطلاح باقی ہے اھ اور عنقریب ہم تمہیں بتائیں گے کہ امام محمد نے بھی سلم میں بطلان ثمنیت تسلیم فرمالیا ہے ہاں بیع میں دلیل نہ ہونے کے سبب اس کا انکار کیا ہے تو اس پر ہمارے سب اماموں کا اجماع ہے تو اس حالت میں روپے یا اشرفی سے پیسوں کی بدلی کرنا ثمن کی بدلی نہیں اور نہ باہم تول کی دو چیزوں میں بدلی بلکہ تول کی چیز کے عوض ایک متاع عددی کی بدلی ہے جس کے افراد باہم مشابہ ہیں اور ہمارے علماء رحمہم اﷲ تعالٰی کا اجماع ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں، الحاصل بندہ ضعیف اس فتوٰی کے لئے اصلاً کوئی وجہ صحت نہیں جانتا، تأمل کر، شائدان کے کلام کے لئے کوئی ایسی وجہ ہو کہ میں اپنی فہم سست سے اسے نہیں سمجھتا اور کیا عجب کہ بہ نسبت ان علامہ کثیر المعرفۃ رحمہ اﷲ تعالٰی کے میں ہی غلطی سے زیادہ قریب ہوں۔ ثم اقول: (تو میں کہتا ہوں) اگر تسلیم بھی کرلیں تو ہمیں اس کہنے کا اختیار ہے کہ وہ جو علامہ نے ذکر فرمایا وہ پیسوں ہی میں جاری ہوتا ہے اور نوٹ تو اصلاً وزن کی چیز نہیں اس لئے کہ کاغذ کے پرچے عرف میں کبھی تو لے نہیں جاتے تو معیار انہیں شامل نہ ہوئی جیسےغلہ سے ایک ہتھیلی بھر اور سونے سے ایک ذرہ، تو ہمارا یہ مسئلہ بہر حال مخالفت سے محفوظ ہے اور حمداﷲ کے لئے جو بزرگی والا ہے ایسی ہی تحقیق ہونی چاہئے اور توفیق کا مالک اﷲ ہے۔
(۱؎ الہدایہ کتاب البیوع باب الربوٰ مطبع یوسفی لکھنؤ ۳ /۸۳)
واما العاشر فاقول: نعم یجوز السلم فی النوط و قد یقال لایجوز فانہ ثمن و لاسلم فی الاثمان کما تقدم عن النھر والتحقیق ان ھذا انما یبتنی علی روایۃ نادرۃ عن محمد والا فالمنصوص علیہ فی المتون جواز السلم فی الفلوس وانما لا یجوز فی الاثمان الخلقیۃ وھی النقدان لا غیر لعدم قدرۃ العاقدین علی ابطال ثمنیتھما بخلاف الاثمان الاصطلاحیۃ قال فی التنویر و الدر (یصح ای السلم فیما امکن ضبط صفتہ) کجودتہ و ردائتہ (ومعرفۃ قدرہ کمکیل و موزون و) خرج بقولہ (مثمن) الدراہم و الدنانیر لانھما اثمان فلم یجز فیہا السلم خلافا لمالک (وعددی متقارب کجوز و بیض وفلس ۱؎ الخ ۔
جواب سوال دہم فاقول(تو میں کہتا ہوں) ہاں نوٹ میں بدلی جائز ہے اور کبھی کہا جاتا ہے کہ جائز نہ ہو اس لئے کہ نوٹ ثمن ہے اور ثمن میں بدلی جائز نہیں جیسا کہ نہر سے گزرا، اور تحقیق یہ ہے کہ یہ قول صرف ایک روایت نادرہ پر مبنی ہے جو امام محمد سے آئی ورنہ متون میں تو یہ نص ہے کہ پیسوں میں بدلی جائز ہے ہاں جو ثمن ہونے کے لئے پیدا کئے گئے ان میں جائز نہیں اور وہ صرف چاندی سونا ہے وبس، اس لئے کہ بائع ومشتری ان کی ثمنیت باطل کرنے پر قدر ت نہیں رکھتے بخلاف ان چیزوں کے جو اصطلاحاً ثمن قرار پائی ہیں۔ تنویر الابصار اور درمختار میں فرمایا سلم جائز ہے ہر اس چیز میں جس کی صفت کا انضباط ہوسکے جیسے اس کا کھرا اور کھوٹا ہوناا ور اس کا اندازہ پہچان سکیں جیسے ناپ اور تول کی چیز، اور یہ جو مصنف نے فرمایا کہ وہ چیز ثمن نہ ہو اس سے روپے اور اشرفی نکل گئے اس لئے کہ وہ ثمن ہیں تو ان میں بدلی جائز نہیں امام مالک کا اس میں خلاف ہے یا گنتی سے بکنے کی چیز ہو تو ایسی ہو کہ اس کے افراد باہم قریب قریب ہوتے ہوں جیسے اخروٹ اور انڈے اور پیسے الخ ۔
(۱؎ الدرالمختار شرح تنویر الابصار کتاب البیوع باب السلم مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۴۷)
قال ابن عابدین قولہ وفلس الاولٰی وفلوس لانہ مفرد لا اسم جنس، قیل وفیہ خلاف محمد لمنعہ بیع الفلس بالفلسین الاان ظاہر الروایۃ عنہ کقولھا وبیان الفرق فی النھر وغیرہ اھ ۱؎ فکان النھر انما ابداہ تاویلا لفتوٰی قاری الھدایۃ حتی یحصل لہ مستند ولو فی النوادر ولم یرد بہ تعویلا علیہ، وفی الھدایۃ وکذا فی الفلوس عددا وقیل ھذا عند ابی حنیفۃ و ابی یوسف رحمہما اﷲ تعالٰی وعند محمد لا یجوز لانھا اثمان ولھما ان الثمنیۃ فی حقھما باصطلاحھما فتبطل باصطلاحھما ۲؎ ۔
علامہ شامی نے فرمایا کہ مصنف نے جو پیسہ کہا اولٰی یہ ہے کہ پیسے کہیں اس لئے کہ فلس واحد کا صیغہ ہے، اسم جنس نہیں، بعض نے کہا کہ اس مسئلہ میں امام محمد کا خلاف ہے اس لئے کہ وہ دو پیسوں کو ایک پیسہ بیچنا منع فرماتے ہیں مگر روایت مشہورہ ان سے بھی مثل قول امام اعظم اور ابویوسف کے ہے اور فرق کا بیان نہر وغیرہ میں ہے انتہی تو گویا نہر نے یہ بات فتوٰی قار ی الہدایہ کی تاویل کے لئے ظاہر کی تاکہ اس کے لئے کوئی سند ہوجائے اگرچہ نو ادر میں اور اس سے اس پر اعتماد کرنا نہ چاہا، اور ہدایہ میں ہے یونہی پیسوں میں بدلی جائز ہے ان کی گنتی مقرر کرکے، اور کہا گیا کہ یہ امام اعطم اور امام ابویوسف کے نزدیک ہے اور امام محمد کے نزدیک جائز نہیں اس لئے کہ پیسے ثمن ہیں اور شیخین کی دلیل یہ ہے کہ ثمن ہونا بائع و مشتری کے حق میں ان کی اصطلاح کی بناء پر ہے تو ان کی اصطلاح سے باطل بھی ہوجائے گا،
(۱؎ ردالمحتار کتاب البیوع باب السلم داراحیا ء التراث العربی بیروت ۴ /۲۰۳) (۲؎ الہدایہ کتاب البیوع باب السلم مطبع یوسفی لکھنؤ ۳ /۹۴)
قال فی الفتح ای یجوز السلم فی الفلوس عدداھکذا ذکرہ محمد رحمہ اﷲ تعالٰی فی الجامع من غیر ذکر خلاف فکان ھذا ظاہر الروایۃ عنہ و قیل بل ھذا قول ابی حنیفۃ وابی یوسف اما عندہ فلا یجوز بدلیل منعہ ببیع الفلس بالفلسین فی باب الربٰو لانھا اثمان واذا کانت اثما نالم یجز السلم فیہا لکن ظاہر الروایۃ عنہ الجواز و الفرق لہ بین البیع و السلم ان من ضرورۃ السلم کون المسلم فیہ مثمنا فاذا اقدما علی السلم فقد تضمن ابطالھما اصطلاحھما علی الثمنیۃ ویصح السلم فیہا علی الوجہ الذی یتعامل فیہا بہ وھو العد بخلاف البیع فانہ یجوز ورودہ علی الثمن فلا موجب لخروجھا فیہ عن الثمنیۃ فلایجوز التفاضل فامتنع بیع الفلس بالفلسین ۱؎ اھ
فتح القدیر میں فرمایا پیسوں میں گنتی سے بدلی جائز ہے، اسی طرح امام محمدنے جامع میں ذکر فرمایااور کسی خلاف کا نام نہ لیا، تو یہی امام محمد سے روایت مشہورہ ہوئی ، اور بعض نے کہا یہ قول شیخین کا ہے امام محمد کے نزدیک جائز نہیں اس دلیل سے کہ وہ دو پیسوں کو ایک پیسہ سے بیچنا منع فرماتے ہیں کہ وہ ثمن ہیں اور جب وہ ثمن ہوئے تو ان میں بدلی جائز نہ ہوئی مگر روایت مشہورہ میں امام محمد سے بھی جوا ز ہے اور بیع اور بدلی میں وہ یہ فرق کرتے ہیں کہ بدلی میں تویہ امر ضرور ہے کہ جو چیز وعدہ پر لینی ٹھہرے وہ ثمن نہ ہو تو جب انہوں نے پیسوں کی بدلی پر اقدام کیا تو ضمناً ان کی اصطلاح ثمنیت کو باطل کردیا اور ان کی بدلی اسی طور پر جائز ہے جس طرح ان میں معاملہ کیا جاتا ہے یعنی گن کر بخلاف بیع کہ وہ ثمن پر بھی وارد ہوسکتی ہے تو بیع میں ان کو ثمنیت سے خارج کرنے کا کوئی موجب نہیں تو کمی بیشی جائز نہ ہوئی اور ایک پیسہ کی دو پیسے سے بیع منع ٹھہری انتہی۔
(۱؎ فتح القدیر کتاب البیوع باب السلم مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶/ ۹۔۲۰۸)