Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۶(کتاب الشرکۃ، کتاب الوقف )
99 - 112
مسئلہ ۳۷۵:مسئولہ فیض رسول خاں ساکن چاند پور

کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ولی حسین خاں نے عرصہ اکتیس سال سے تحریر تولیت نامہ حقیت موضع پر تیت پور پر گنہ نواب گنج محلہ باغ کے قابض کرکے متولی مقرر کردیا، بعدہ پندرہ برس کے ولی حسین خان فوت ہوئے اس کے بعد کو بھی متولی بدستور پندرہ سال تک اور کام تولیت کا انجام دیتا ہے اور اب تک قابل انجام وہی کام تولیت کے ہے۔ اب تقی حسین خاں پسر ولی حسین خاں نے جبر ناجائز دے کر متولی سے دستبرداری لکھائی اور جائداد موقوفہ سے ایک باغ رد کراکر اپنے ملازم سے مشتری باغ ظاہر کرایااور آمدنی خیر کو مصارف ناجائز میں صرف کرنا شروع کیا۔ جواب بالا میں متولی سابق برخاست ہوسکتا ہے اور تقی حسین خاں قابل تولیت کے ہوسکتا ہے اور تصرف ناجائز آمدنی خیر میں عنداﷲ وعندالرسول کے کیا احکام ہیں؟
الجواب

دستاویز دست برداری ملاحظہ ہوئی وہ دست برداری مطلق نہیں بلکہ بحق تقی حسین خاں ہے اور پیش قاضی بقبول قاضی نہیں بلکہ بطور خود ہے اور مرض الموت متولی میں نہیں بلکہ اس نے اپنی صحت میں کی ہے اور دستاویز وقف ملا حظہ ہوئی، اس میں واقف سے متولی کوکوئی اختیار اپنے عزل اور دوسرے کے نصب کا نہیں دیا۔ پس دست برداری مذکور محض مردود و باطل ہے اس سے نہ فیض رسول خاں کی تولیت زائل نہ تقی حسین خاں کو اصلاً کوئی حق حاصل بلکہ فیض رسول خان بدستور متولی اور تقی حسین خان نرا اجنبی ہے اگرچہ وہ بددیانتی بھی نہ کرے اور بحال بددیانتی جیسا کہ سوال میں مذکور ہے خود واقف بھی اگر متولی ہوتا فوراً نکال دیا جاتا نہ کہ دوسرا شخص۔
درمختار میں ہے:
اراد المتولی اقامۃ غیرہ مقامہ فی حیاتہ ان کان التفویض لہ بالشرط عاما صح والا لایصح۱؎(ملخصاً)
متولی نے اپنی زندگی میں کسی اور کو اپنی جگہ متولی بنانا چاہا اگرتو اس کو واقف کی طرف شرط کے تحت عام تفویض تولیت کی اجازت حاصل ہے تو صحیح ورنہ نہیں۔(ملخصاً)۔(ت)
 (۱؎ درمختار     کتاب الوقف     فصل یراعی شرط الواقف فی اجارتہ    مطبع مجتبائی دہلی     ۱/ ۳۸۹)
ردالمحتار میں ہے:
معنی العموم کما فی انفع الوسائل انہ ولاہ واقامہ مقام نفسہ، وجعل لہ ان یسندہ الی من شاء ففی ھذہ الصورۃ یجوز التفویض منہ فی حال الحیوۃ۱؎۔

عموم کا معنی جیسا کہ انفع الوسائل میں ہے یہ ہے کہ واقف نے اس کو متولی بنایا اور اس کو اپنے قائم مقام کردیا اور اسے اختیار دیا کہ وقف کو جس کی طرف چاہے منسوب کردے تو اس صورت میں اس کو اپنی زندگی میں تفویض تولیت جائز ہے۔(ت)
 (۱؎ ردالمحتار کتاب الوقف  فصل یراعی شرط الواقف فی اجارتہ  داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۱۲۔۴۱۱)
اسی میں ہے:
الفراغ مع التقریر من القاضی عزل لاتفویض ویدل علیہ قولہ فی البحر اذاعزل نفسہ عندالقاضی فانہ ینصب غیرہ وبہ ظھران قولہم لایصح اقامۃ المتولی غیرہ مقامہ فی حیاتہ وصحتہ مقید بمااذالم یکن عند القاضی، ولایرد ان العزل یکفی فیہ مجرد علم القاضی لان الفراغ عزل خاص مشروط فانہ لم یرض بعزل نفسہ الالتصیر الوظیفۃ لمن نزل لہ عنھا۲؎اھ مختصرا۔
متولی کا فارغ ہونا جبکہ قاضی د وسرے کو مقرر کرے عزل ہے تفویض نہیں اسی پر دلالت کرتا ہے بحر میں اس کا قول کہ اگر متولی نے قاضی کے پاس خود کو معزول کرلیا تو قاضی کسی دوسرے کو مقرر کرے، اسی سے ظاہر ہوا کہ فقہاء کا یہ قول کہ متولی اپنی زندگی میں حالت صحت میں غیر کو اپنے قائم مقام نہیں کرسکتا مقید ہے اس شرط کے ساتھ کہ وہ قائم مقام کرنا قاضی کے پاس نہ ہو۔ اس پر یہ اعتراض وارد نہیں ہوتا کہ عزل میں توصرف قاضی کو علم ہونا کافی ہے عدم ورودکی وجہ یہ ہے کہ فراغ ایک خاص مشروط عزل ہے  کیونکہ متولی اپنی معزولی پر صرف اس صورت میں رضامند ہواکہ ولایت اسی کی طرف منتقل ہو جس کے لئے اس نے معزولی اختیار کی اھ اختصاراً(ت)
 ( ۲؎ ردالمحتار کتاب الوقف     فصل یراعی شرط الواقف فی اجارتہ داراحیاء التراث العربی بیروت    ۳/ ۱۲۔۴۱۱)
درمختا رمیں ہے:
وینزع وجوباً بزازیۃ،لو الواقف درر، فغیرہ بالاولٰی غیر مامون۳؎۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
خائن متولی سے وجوباً ولایت لے لی جائےگی(بزازیہ) اگر وہ متولی خودواقف ہو(درر)تو خیانت کے سبب غیرواقف سے بدرجہ اولٰی ولایت لے لینا واجب ہوگا۔واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
(۳؎ درمختار         کتاب الوقف    مطبع مجتبائی دہلی    ۱/ ۳۸۳)
مسئلہ۳۷۶: مسئولہ فیض محمد صاحب محلہ بہادر گنج شاہجہان پور     ۳۰شوال۱۳۳۳ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ مسجد کی تحویل کاروپیہ رشوت میں صرف کیا جائے اور اپنے تصرف میں لایا جائے تو آیا ایسی صورت میں تحویل رکھنے والا یا مشورت میں شریک ہونے والا شرعاً کس تعزیر کا مستوجب ہے؟ بینواتوجروا۔
الجواب

کیا شرعی تعزیرات یہاں جاری ہیں،کیا کوئی دے سکتا ہے تحویل اس سے نکال لینی واجب ہے، اور جو اپنے صرف میں لایا یا خاص کار ضروری مسجدبحالت مجبوری محض کے سوا رشوت میں اٹھایا اس کا تاوان اس پر لازم ہے مسلمان اس سے توبہ لیں، نہ مانے تو اس سے میل جول چھوڑدیں ہاں اگر نہ اپنے صرف میں لایانہ اور کوئی تصرف بیجا کیا کسی معاملہ میں مسجد کو ضرر شدید پہنچاتھا اور بے کچھ دئے لئے کسی طرح نجات نہ تھی یوں صرف کیا تو مسجد کا اس پر کچھ الزام نہیں، واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۳۷۷: مسئولہ حاجی کریم نور محمد جنرل مرچنٹ اتوار ملوک ناگپور شہرناگپور۹صفر المظفر ۱۳۳۴ھ

متولی مسجد کا کون شخص ہوسکتا ہے اور اس کے لئے کیا حقوق خدمات مسجد کے ہیں؟
الجواب

متولی مسجد ایک قادر متدین ہونا چاہئے کہ ہوشیاری دیانتداری سے کام کرسکے اوقاف مسجد کا سب نظم ونسق اس کے سپردہوگا نیز مسجد کی نگہداشت غور پر داخت۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ۳۷۸: ازسہسوان ضلع بدایوں عبداللطیف مدرس قرآن شریف۱۲صفر المظفر۱۳۳۴ھ

محمود الاقران نعمان الزمان دامت برکاتہم السلام علیکم وعلٰی من لدیکم، متولی وقف کو مال وقف بطو رقرض اپنے تصرف میں لانا یا کسی مسلمان کو قرض دینا روا یا ناروا؟بینواتوجروا۔
الجواب

متولی کو روا نہیں کہ مال وقف کسی کو قرض یا بطور قرض اپنے تصرف میں لائے۔
مسئلہ ۳۷۹ تا ۳۸۱: از شہر آگرہ محلہ کھڑکی مسئولہ محمود حسن صاحب امام جامع مسجد سابق یکم شعبان ۱۳۳۴ھ

(۱) ایک شخص خانقاہ کی سجادگی حاصل کرکے اپنے بھائی کو ہبہ مشاع اس شرط پر کرے کہ موہوب لہ سجادہ نشین رہے اور واہب مسند نشیں اور آمد ہر قسم سرکاری ونذر وفتوح وغیرہ سب بالتنصیف تقسیم رہے اور یہ سلسلہ نسلاً بعد نسل چلا جائیگا مگر اس موہوب لہ سجادہ نشین کی اولاد اصل واہب کی اولاد کی منع مسند نشینی کے ساتھ نذر وفتوح وغیرہ کو بالتنصیف نہیں دیتی ہے کیا ایسی حالت میں واہب موہوب لہ سے شے موہوب واپس لے سکتا ہے ؟

(۲) جو اس سجادگی حاصلہ موہوبہ ومسند نشینی سے پہلے تھے ان کے حقوق وغیرہ معافیات بدستور قائم رہے اس میں کچھ رقم متعلق مرمت خانقاہ رہی موہوب لہ سجادہ نشین نے ان سوابق کوخانقاہ میں آنے اور خدمت کرنے سے منع کرادیا یا کردیا یاایسے اسباب ڈالے جس سے مجبوراً ممنوع ہوئے اور مرمت وغیرہ بھی ان کی جانب سے نہ ہونے دی اور نہ کرنے دی اب سوابق مستحقین کے اولاد سے وہ (رقم مرمت جو پاتے رہے ہیں اولاد سجاد ہ نشین(موہوب لہ) لینا چاہتی ہے، کیا لے سکتی ہے یانہیں؟باوجودیکہ وہ لوگ اپنی ذات سے خدمت اور مرمت کرنا چاہتے ہیں۔

(۳) بعدنظر ڈالنے ہر دو قلم یہ بھی دریافت طلب ہے کہ شرعاً اس خانقاہ کا اصل راس یا مکھیا کس کو سمجھا جائے اور کون ہے اولاد سوابق مستحقین موہوب لہ کی اولاد،مسند نشین اصل واہب کی اولاد؟
الجواب

نذر وفتوح جو جسے دے اس کی ملک ہیں واہب ہو یا موہوب لہ یا ان میں کسی کی اولاد، سجادہ نشین یا کسے باشد۔ رہا معاہدہ تنصیف وہ ایک وعدہ ہے جس کی وفا پر اصل وعدہ کنندہ بھی حکماً مجبور نہ کیا جاتا نہ کہ اس کی اولاد۔
فقد نصواعلی انہ لاجبر علی الوفاء بالوعد۱؎
 (مشائخ نے اس پر نص کی ہے وفاء عہد پر جبر نہیں کیا جاتا۔ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیۃ     کتاب الاجارہ     الباب السابع فی الاجارۃ    نورانی کتب خانہ پشاور     ۴/ ۴۲۷)
مگر یہاں ایک دقیقہ ہے کہ آگے ظاہر ہوگابیان سائل سے معلوم ہوا کہ شے موہوب ملک واہب نہ تھی بلکہ جائداد وقف خانقاہ تھی اور سجادہ نشین حسب دستور اس کا متولی، اس نے اپنے بھائی کو یہ نصف ہبہ کیا۔ ظاہر ہے کہ یہ ہبہ باطل محض ہوا کہ جائداد موقوف اس کی ملک نہ تھی جسے ہبہ کرسکتا اور حق تولیت قابل ہبہ نہیں، متولی اپنی صحت میں دوسرے کو قائم مقام نہیں کرسکتامگراس حالت میں کہ جہت واقف سے اسے اس کا اختیارعام  دیا گیا ہو۔
درمختار میں ہے:
ارادالمتولی اقامۃ غیرہ مقامہ فی صحتہ ان کان التفویض لہ بالشرط عاما صح والالا۔۲؎
متولی نے اپنی زندگی میں حالت صحت میں کسی کو اپنا قائم مقام بنانے کا ارادہ کیا، اگر واقف کی طرف سے شرط کے سبب سے عام تفویض کاحق حاصل ہے توصحیح ہے ورنہ نہیں(ت)
(۲؎ درمختار         کتاب الوقف فصل یراعی شرط الواقف فی اجارتہ     مطبع مجتبائی دہلی     ۱/ ۳۸۹)
تو اگر واہب کے لئے اختیار حسب شرط واقف یا تعامل قدیم کی دلیل شرط واقف ہے حاصل نہ تھا تو اس کااپنے بھائی کو سجادہ نشین کرنا باطل محض ہوا بلکہ وہی واہب بدستور سجادہ نشین رہا،
فانہ جعلہ مستقلا لاوکیلا عنہ حتی یجوز ولاینعزل بعزل نفسہ الاعند قاضی الشرع ولاقاضی ثمہ۔
اس لئے کہ اس نے اسے مستقل کیا ہے نہ کہ وکیل حتی کہ جائز ہوتا اور خود کو معزول کرلینے سے معزول نہیں ہوتامگر اس وقت جبکہ قاضی شرع کے پاس ایسا کرے اور یہاں قاضی شرع موجود نہیں(ت)
اس صورت میں جو نذور وفتوح موہوب لہ کو دی جائیں اگر دینے والا خود ا س کی ذات کو دیتے وہ اس کی ملک تھیں اور اگر نذر سجادہ بحیثیت سجادہ نشینی دیتے تو اس کو ان کا لینا جائز نہ تھا کہ وہ واقع میں سجادہ نشین نہ ہوا،
ومن اعطی احدابظن وصف ولم یکن فیہ لم یحل لہ اخذہ۱؎کما حققہ فی احیاء العلوم وغیرہ۔
اگر کوئی شخص کسی شخص میں کوئی وصف گمان کرکے عطیہ دے اور وہ وصف موہوب لہ میں نہ ہوتو اس کو یہ عطیہ لیناجائز نہیں،جیساکہ احیاء العلوم وغیرہ میں اس کی تحقیق کی گئی ہے(ت)
 (۱؎ احیاء العلوم کتاب الزہد والفقر ۴/ ۲۰۸،کتاب الحلال والحرام۲/ ۱۵۴،کتاب اسرار الزکوٰۃ۱/ ۲۲۳ مطبعۃ المشہد الحسینی القاہرہ مصر)
اس صورت میں واپس لینے کے کوئی معنی نہیں کہ وہ دینا ہی صحیح نہ ہوا واپسی تو دینے کے بعد ہے۔ہاں اگر واہب کو حسب شرط واقف اس کا اختیاربھی تھا تو بھائی کی شرکت صحیح ہوگئی اور واپسی کا اختیار نہیں مگر یہ کہ واقف نے یہ اختیار بھی دیا ہو۔
درمختارمیں ہے:
ان کان التفویض لہ عاماصح ولایملک عزلہ الااذاکان الواقف جعل لہ التویض والعزل۲؎۔
اگر اس کو تفویض عام حاصل ہے تو صحیح ہے اوروہ اس کو معزول نہیں کرسکتا سوائے اس کے کہ واقف نے اس متولی کو تفویض وعزل دونوں کا اختیار دیاہو(ت)
( ۲؎ درمختار     کتاب الوقف    فصل یراعی شرط الواقف فی اجارتہ     مطبع مجتبائی دہلی     ۱/ ۳۸۹)
 (۲) جو بحکم واقف یا حسب عملدرآمد قدیم اوقاف میں کوئی حق شرعی رکھتے تھے وہ بلاوجہ شرعی کسی کے ممنوع کئے ممنوع نہیں ہوسکتے۔
بحرالرائق وردالمحتار میں ہے:
استفید من عدم صحۃ عزل الناظربلاجنحۃ عدمھا لصاحب وظیفۃ فی وقف بغیر جنحۃ وعدم اھلیۃ۱؎۔
متولی وقف کو بلاجرم معزول کرنے کی عدم صحت سے معلوم ہوا کہ وقف میں کسی صاحب وظیفہ کوجرم اور عدم اہلیت کے بغیر معزول کرنا صحیح نہیں۔(ت)
(۱؎ ردالمحتار    کتاب الوقف    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۳/ ۳۸۶)
 (۳) مستحقین اپنے اپنے حقوق لینے تک کے مختار ہوتے ہیں اصل و رأس وہی متولی اوقاف ہے جس کا بیان جواب سوال اول میں گزرا۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
Flag Counter