مسئلہ ۳۶۰ تا ۳۶۵: ازمراد آباد بتوسط حاجی امیر اﷲ صاحب ۱۶/ذی الحجہ ۱۳۳۱ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ:
(۱) زید ایک مسجد کا جس کی آمدنی مستقل زائد از بیس روپے ماہوار ہے مدت سے متولی ہے،مسجد میں قطعی بندوبست نماز کا بغیر صلوٰۃ جمعہ نہیں، جس کا دل چاہا خواہ فاسق معلن ہو یا بے علم اس نے امامت کرلی، اور اکثر اوقات نزاع وفساد دربارہ امامت ووقت رہتا ہے، متولی مذکور صراحۃً وکنایۃً ان مکروہات کے انسداد کے واسطے فہمائش منجانب مصلیان ہوئی بھی تو قطعی خیال نہ کیا، زیادہ سے زیادہ مسجد کے خرچ میں درمیان پانچ یا چھ روپیہ ماہوار کے آتا ہے،علاوہ اس کے مسجد کی خدمت دربارہ صفائی بھی کماحقہ نہیں ہوتی بلکہ پانی سقایہ ونیز اس کا سرما میں گرم ہونا بیشتر چندہ سے ہوتا ہے۔ پس ایسی حالت میں متولی مذکور قابل رہنے کے ہے یانہیں؟
(۲) مسجد کی آمدنی کا روپیہ کس شخص کوخواہ متولی ہو یا دیگر اپنے خرچ میں لانا جائزہے یانہیں؟
(۳) جس مسجد کی آمدنی اتنی معقول ہو اس میں اگر دوسرا شخص بطور چندہ یااپنی طرف سے مسجد کی خدمت کرے تو وہ ماجور ہوگا یانہیں اور مسجد اس چندہ کو شرعاً قبول کرسکتی ہے یانہیں؟
(۴) اگر متولی لطائف الحیل سے ضروریات مسجد کو ٹال دے یعنی نماز وامامت اور باوجود ضروریات دین اور نیز فہمائش کے مسجد کی خدمت کماحقہ ادا نہ کرے نہ خود امامت کرے بلکہ دن رات نفسانی ہو اوہوس میں مشغول رہے اور اسی بناء پر امامت سے اعراض کرے تو اس کا کیاحکم ہے و شرع شریف کے نزدیک ایسا متولی قابل رکھنے کے ہے یانہیں؟
(۵) محض خالصاً لوجہ اﷲ والناس جواب ہونا چاہئے انہیں صورتوں میں جب کہ امام مقتدیوں سے ضروریات شرعیہ میں ہر طرح سے کم ہے اور پھر بھی امام بنا ہے تو علاوہ نماز خراب ہونے کے متولی بھی اس گناہ میں ماخوذ ہوگا یانہیں؟اور اول مقتدیوں کی نماز جو اس امام سے علم وفضل میں زائد ہیں کس درجہ تک ناقص ہوگی یا قطعی نہ ہوگی؟
(۶) اگر کوئی شخص شرارتاً وباغوائے متولی قبروں پر مع جوتیاں چڑھتا ہو اور ہانڈی کا دھوون، پان کی اگال، استنجا قبروں پر کرتا ہو تاکہ اوروں کو جو اس شرارت سے روکتے ہیں ایذا ہوتو ایسے شخص اور متولی کے واسطے کیا حکم ہے؟
الجواب
(۱) جب کہ مسجد کی آمدنی بیس روپیہ ماہوار سے زائد ہے اور متولی صرف پانچ چھ روپے خرچ کرتا ہے باقی کا پتا نہیں دیتا اور مسجد کی ضروریات مثل صفائی وغیرہ معطل رہتے ہیں یا چندہ سے ہوتے ہیں تو اسکا ظاہر حال خیانت ہے اگروجہ معقول وحساب صحیح پیش نہ کرے معزول کرنا لازم ہے۔
درمختار میں ہے:
ینزع وجوبا ولوالواقف فغیرہ اولی لو غیر مأمون۱؎۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
متولی خائن سے ولایت وجوباً واپس لے لی جائیگی اگر وہ خود واقف ہو لہذا غیر واقف سے توبدجہ اولٰی ولایت واپس لینا واجب ہوگا۔واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
(۱؎ درمختار کتاب الوقف مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۸۳)
(۲) مسجد کی آمدنی کو کوئی شخص اپنے ذاتی صرف میں نہیں لاسکتا مگر متولی بقدر اجرت مثل یعنی اتنے کام پر عرف میں کیا ماہوار ہوتا ہے اتنا پاسکتا ہے۔
(۳) پاک مال نیک نیت سے مسجد کی خدمت کرنے والا ضرور ماجور ہے اور مسجد اسے قبول کرسکتی ہے اگرچہ مسجد کی آمدنی کثیرہو۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
(۴) امامت ذمہ متولی لازم نہیں اورہواو ہوس اگر تاحد فسق نہ ہو مانع تولیت نہیں اور ضروری خدمتوں میں تقصیر یا بربنائے عجز ہوگی یا بربنائے بے پروائی دونوں صورتوں میں لائق عزل ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
(۵) مفضول فاضل کی امامت کرسکتا ہے جب کہ شرائط صحت وجواز امامت کا جامع ہو اس سے فاضل کی نفس نماز میں کوئی نقص آئے گا نہ متولی پر اس کا الزام ہے، ہاں اگر متولی دیدہ دانستہ افضل کے ہوتے ہوئے مفضول کو امام کرے تو وہ اس حدیث کا مورد ہے کہ:
من استعمل علی عشرۃ من فیھم ارضی منہ ﷲ تعالٰی فقد خان اﷲ ورسولہ و المؤمنین۱؎۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
جس نے دس شخصوں پر کسی ایسے کو افسر کیا کہ نظر شرع میں اس سے بہتر ان میں موجود تھا تو اس نے اﷲ ورسول اور مسلمان سب کی خیانت کی۔
(۱کنز العمال بحوالہ ع عن حذیفہ حدیث ۴۱۶۵۳ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۶/ ۱۹)
کنز العمال میں حدیث کے الفاظ اس طرح ہیں:
ایما رجل استعمل رجلا علی عشرۃ انفس علم ان فی العشرۃ افضل ممن استعمل فقد غشی اﷲ وغشی رسولہ وغشی جماعۃ المسلمین___جبکہ مستدرک حاکم میں حدیث کے الفاظ اس طرح ہیں: من استعمل رجلا من عصابۃ وفی تلک العصابۃ من ھو ارضی ﷲ منہ فقد خان اﷲ وخان رسولہ وخان المومنین۔
ملاحظہ ہو جلد ۴ص۹۲مطبعہ دارالفکر بیروت۔
(۶) قبر مسلم کا ادب واجب ہے اس پر استنجا کرنا حرام ہے اس پر اگال یا دھون ڈالنا توہین ہے، اس پر بلاضرورت و مجبوری شرعی پاؤں رکھنا ناجائز ہے، نہ کہ معاذاﷲ اس پر جوتا پہنے چڑھنا۔
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لان یجلس احدکم علی جمرۃ فتحرق ثیابہ فتخلص الی جلدہ خیرلہ من ان یجلس علی قبر۲؎۔ رواہ مسلم عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
بیشک تم میں کسی کا چنگاری پر بیٹھنا کہ وہ اس کے کپڑے جلا کر اس کی کھال تک پہنچ جائے اس کے حق میں قبر پر بیٹھنے سے بہتر ہے۔ (اس کو مسلم نے ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ت)
(۲؎ صحیح مسلم کتاب الجنائز فصل فی النہی عن الجلوس علی القبر قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۳۱۲)
اور فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم:
لان امشی علی جمرۃ او سیف احب الی من ان امشی علی قبر مسلم۳؎۔
بیشک مجھے آگ یا تلوار پر چلنا مسلمانوں کی قبر پر چلنے سے زیادہ پسند ہے۔
(۳؎ سنن ابن ماجہ ابواب الجنائز باب ماجاء فی النہی عن المشی علی القبور ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۱۳)
اس میں بکثر ت احادیث وروایات ہمارے رسالہ اھلاک الوھابیین۴؎میں ایسا کرنے والا سب سے سخت عذاب کا مستحق ہے اور متولی کہ ایسے فعل کا اغواکرتا ہے اس سے بھی بدتر ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۳۶۶: از بریلی بہاری پور معماران مسئولہ رحیم بخش صاحب۵صفر المظفر۱۳۳۲ھ
ایک شخص کی معرفت جو بہت معزز صاحب تھے کام مسجد کے واسطے خشت خریدی گئی اور وہ خشت مسجد کے کام میں آئی، روپیہ اسکا جو مسجد کے چندہ کا جمع تھا ان صاحب کو دے دیا گیا۔ اس شخص نے روپیہ مالک بھٹہ کو نہیں دیا اپنے پاس صرف کرلیا۔ مالک بھٹہ نے نالش مہتمم مسجد پر کردی آخر کارڈ گری مہتمم مسجد پر ہوگئی اور اس کا روپیہ جس قدر تھا وہ مہتمم مسجد نے فی الحال دیا اب مہتمم مسجد وہ روپیہ کس طرح سے وصول کرے اور وہ شخص کہ جس نے روپیہ اپنے پاس صرف کرلیا ہے۔زیادہ حدادب۔
الجواب
بیان سائل سے معلوم ہوتا ہے کہ نالش کا روپیہ اس نے اپنے مال سے دیا اس کا معاوضہ زر مسجد سے نہیں لے سکتا، وہ شخص جس نے روپیہ مار لیااس سے حتی الامکان مسجد کا روپیہ وصول کرے وہ غاصب ہے، مرتکب غصب مستحق غضب ہے۔والعیاذ باﷲ تعالٰی، واﷲ تعالٰی اعلم وعلمہ اتم واحکم۔
مسئلہ ۳۶۷ تا۳۷۴: ازسہسوان ضلع بدایوں مرسلہ مولوی سید پرورش علی صاحب ولد مولوی سید عبدالعزیز صاحب ۷رمضان المبارک ۱۳۲۳ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسائل ذیل میں:
(۱) متولی وقف کے مسکن وصندوق سے مال وقف چور ی گیا تاوان لازم یانہیں؟
(۲) مدرسین وقف کودوچار چھ ماہ کی پیشگی تنخواہ دیناروایا ناروا؟
(۳) متولی کو مال وقف بطورقرض اپنے صرف میں لانا پھر ادا کرنا روایا نا روا ؟
(۴) مال وقف سے کسی مسلمان کو قرضہ دینا روایا ناروا؟
(۵) کتب وقف ایک مدرسہ دوسری جگہ مستعار دینا روا یا ناروا؟
(۶) دو مدرسوں کے متولی کو ایک وقف کا مال دوسرے میں صرف کرنا بطور قرض روایا ناروا؟ اور واقف دونوں وقف کے جدا جدا ہیں۔
(۷) زمین مشترک کا روپیہ ایک شریک وصول کرتا ہے قبل تقسیم اپنے صرف میں لانایاکسی مسلمان کو اس میں سے قرض دینا جائز یانہ؟
(۸) تعمیر مدرسہ کے واسطے بمشورہ مسلمین قرض لینا روایا ناروا ؟ حنفی کی معتمدات سے جواب عنایت ہو مع حوالہ کتاب۔بینواتوجروا۔
الجواب
(۱) اگر متولی نے کوئی بے احتیاطی نہ کی تو اس پر تاوان نہیں
لانہ کالوصی امین فالقول قولہ بیمین
(کیونکہ وہ(متولی) وصی کی طرح امین ہے تو قسم کے ساتھ اس کی بات مان لی جائے گی۔ت) اور اگر بے احتیاطی کی مثلاً صندوق کھلا چھوڑدیا غیر محفوظ جگہ رکھا تو اس پرتاوان ہے
لان الامین بالتعدی ضمین
(کیونکہ تعدی کی وجہ سے امین پر ضمان لازم ہوتا ہے۔ت)
(۲) روانہیں مگر جہاں اجازت واقف یا تعامل قدیم ہو
لانہ یحمل علی المعھود من عند الواقف
(کیونکہ یہ خود واقف کی طرف سے معہود پر محمول ہوگا۔ت)
(۳) حرام حرام
لانہ تعدی علی الوقف والقیم اقیم حافظ لامتلف
(کیونکہ یہ وقف پر تعدی ہے حالانکہ متولی کو بطور محافظ مقرر کیا جاتا ہے نہ کہ ضائع کرنے والا۔ت)
(۴) نہ،
لانہ صرف فی غیر المصرف
(کیونکہ یہ غیر مصرف میں صرف کرنا ہوا۔ت)
(۵) شر ط واقف کا اتباع کیا جائے گا اگر منع کردیا ناجائز ہے، اور اگر یہ شرط کردی کہ کتاب جو عاریۃ لے جانا چاہے اتنا مال اس کے عوض گویا بطور گروی رکھا جائے تو یونہی کیا جائے گا بے اس کی اجازت نہیں اور اگر بلاشرط عاریۃً کی اجازت قوم یا اشخاص خاص کو دی تو انہیں کےلئے اجازت ہوگی اور عام تو عام
(بسبب فقہاء کے اس قول کے کہ شرط واقف وجوب عمل میں شارع علیہ الصلوٰۃ والسلام کی نص کی طرح ہے اور یہ مسئلہ اشباہ، نہر، درمختاراور ردالمحتار میں ہے جو کچھ اس پر وہاں تقریر کی گئی یہ اس کا خلاصہ ہے۔ت)
(۱؎ درمختار کتاب الوقف فصل یراعی شرط الواقف اجارتہ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۹۰)
( الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدۃ الاولٰی ادارۃ القرآن کراچی ۱/ ۱۴۳ وکتاب التعریف ۱/ ۳۰۵)
قرض دینا تبرع ہے اور تبرع فی الحال تلف کرنا ہے جبکہ متولی تو حفاظت کے لئے ہوتا ہے نہ کہ تلف کرنے کےلئے اور واقف وجہت وقف کے اختلاف کا مسئلہ تنویر، در اور جلیل القدر ضخیم کتابوں میں مذکور ہے۔(ت)
(۷) اپنے حق تک صرف کرسکتا ہے۔
(۸) متولی کو وقف پر قرض لینے کی دو شرط سے اجازت ہے ایک یہ کہ امر ضروری ومصالح لابدی وقف کے لئے باذن قاضی شرع قرض لے اگر وہاں قاضی نہ ہو خود لے سکتا ہے،د وسرا یہ کہ وہ حاجت سوائے قرض اور کسی سہل طریقہ سے پوری نہ ہوتی ہو مثلاً وقف کا کوئی ٹکڑا اجارہ پر دے کر کام نکال لینا۔
وقف پر قرض لینا متولی کو جائز نہیں مگر اس وقت جائز ہے جبکہ اس کی حاجت ہو جیسے وقف کی مرمت یا زمین وقف میں کاشت کے لئے بیج خریدنا، تو اس صورت میں دو شرطوں کے ساتھ جائز ہے شرط اول یہ ہے کہ اذن قاضی سے قرض لے اگر قاضی دور ہو تو متولی از خود قرض لے سکتا ہے، شرط ثانی یہ ہے کہ عین وقف کو اجارہ پر دینا اور اس کی اجرت سے خرچ کرنا ممکن نہ ہو۔ استدانت سے مراد قرض لینا اور شراء سے مرد ادھار پر خریدنا ہے۔(ت)
(۱؎ درمختار کتاب الوقف فصل یراعی شرط الواقف فی اجارتہ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۹۱)
ردالمحتار میں ہے:
المختار انہ اذالم یکن من الاستدانۃ بد تجوز بامرالقاضی ان لم یکن بعیداعنہ، امامالہ منہ بدکالصرف علی المستحقین فلا کما فی القنیۃ الاالامام والخطیب والمؤذن فیما یظھر لقولہ فی جامع الفصولین لضرورۃ مصالح المسجد اھ والاالحصیر والزیت بناء علی القول بانھما من المصالح وھو الراجح، ھذاخلاصۃ مااطال فی البحر۲؎اھ واﷲ تعالی اعلم۔
مختار یہ ہے کہ اگر قرض کرلینے سے چھٹکارا نہ ہو تو قاضی کی اجازت سے جائز ہے جبکہ قاضی دور نہ ہو لیکن اگر اس سے چھٹکارا ہوسکتا ہے تو جائز نہیں جیسے مستحقین پر خرچ کرنے کے لئے قرض لینا جیسا کہ قنیہ میں ہے۔ مگر امام، خطیب اور مؤذن پر خرچ کرنے کے لئے قرض لینا جائز ہے جیسا کہ جامع الفصولین کے قول سے ظاہرہے کیونکہ اس میں مسجد کی مصلحت ہے اھ اور اسی طرح مسجد کے لئے چٹائی اور تیل وغیرہ کےلئےقرض لینا بھی جائزاس قول کی بناء پر کہ یہ مصالح مسجد میں سے ہیں اور یہی راجح ہے، یہ بحر کی طویل بحث کا خلاصہ ہے اھ واﷲ اعلم(ت)
(۲؎ ردالمحتار کتاب الوقف فصل یراعی شرط الواقف فی اجارتہ داراحیاء التراث العربی بیروت۳/ ۴۱۹)