مسئلہ۳۵۷: مرسلہ مولوی سلیمان صاحب اکبر آبادی۲۳ شعبان ۱۳۲۸ھ
زید ایک انجمن اسلامیہ کا سکرٹری ہے اور پیشہ وکالت کرتا ہے اور لوگوں کو سود کی ڈگریاں دلواتا ہے اور خلاف حق مقدمات میں کوشش کرنے سے نہیں بچتا اور اکثر اوقات عقائد سرسید احمد خان کا مداح رہتا ہے ایسا شخص آیا منتظم امور اہل اسلام یعنی سکریٹری انجمن اسلامیہ رہ سکتا ہے یانہیں؟اور جو اہل اسلام اس کو اپنا سکریٹری بنائیں ان کا کیاحکم؟
الجواب
امور بالا سے تو یہ شخص فاسق فاجر ہوتا مگر عقائد کفریہ کافر کا مداح خود کافر ومرتد ہے اور کافر کسی طرح مسلمانوں کے کسی کام کا والی نہیں ہوسکتا۔
اﷲ عزوجل فرماتا ہے:
ولن یجعل اﷲ للکفرین علی المؤمنین سبیلا۲؎۔
اور ہر گز اﷲ تعالٰی کافروں کو مومنوں پر کوئی راہ نہیں دے گا۔(ت)
(۲؎ القرآن الکریم۴/ ۱۴۱)
ان سے استعانت ناجائز ہے، رسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
انالانستعین بمشرک۳؎
(بیشک ہم کسی مشرک سے مدد طلب نہیں کرتے۔ت) جو ایسے کی سپردگی میں مسلمانوں کا کام دے اس نے اﷲ ورسول اور سب مسلمانوں کی خیانت کی۔
(۳ ؎ سنن ابی داؤد کتاب الجہاد آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۱۹)
(سنن ابن ماجہ ابواب الجہاد الاستعانۃ بالمشرکین ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۰۸)
(المصنف لابن ابی شیبہ حدیث۱۵۰۰۹ کتا ب الجہاد ادارۃ القرآن کراچی ۱۲/ ۳۹۵)
حدیث میں ہے رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من استعمل علی عصابۃ رجلا وفیہم من ھوارضی منہ ﷲ فقدخان اﷲ ورسولہ والمؤمنین۴؎۔واﷲسبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
جس نے کسی شخص کو ایسی جماعت مسلمین پر عامل بنایا جس جماعت میں اس سے زیادہ پسندید کوئی شخص موجودہے تو اس نے اﷲ تعالٰی، اس کے رسول صلی اﷲ علیہ سلم اورتمام مومنوں سے خیانت کی۔ واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم(ت)
(۴؎ المستدرک للحاکم کتاب الاحکام الامارۃ اماتہ دارالفکربیروت ۴/ ۹۳۔۹۲)
مسئلہ۳۵۸: مرسلہ احمد نبی خان از مراد آباد ۲۶شعبان ۱۳۳۰ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک اہل اسلام عادل اور ثقہ نے بلاتحریر وقف نامہ کے ایک جائداد جس کو عرصہ زائد ایک سوسال کا ہوا، بدون مصارف کے وقف کیا اگرچہ وقف واقف کا کوئی گواہ زندہ نہیں ہے مگر بعد وفات واقف کے تمام مرد عورت عادل وصالح اہل خاندان واقف کے وقتاً فوقتاً متولی ہوتے رہے کبھی کوئی شخص غیر خاندان کا متولی نہیں ہوا اور باعتبار اس عملدرآمد کے منشائے واقف بھی ایسا ہی معلوم ہوتا ہے کہ سوائے اہل خاندان صالح اور عادل کے اور کوئی متولی نہ کیا جائے، اب ایک مسماۃ متولیہ اہل خاندان کی نسبت بیان کیا جاتا ہے کہ اس نے ایک شخص غیر خاندان کے نام ایک وصیت نامہ لکھ دیا ہے کہ بعد میرے وہ متولی کیا جائے اہل خاندان واقف جن میں اکثر مرد صالح اور عادل ہیں یہ دعوٰی کرتے ہیں کہ یہ شخص جس کو متولی ہونا بیان کیا جاتا ہے فاسق اورغیر خاندان واقف سے ہے، اس کو بمقابلہ اہل خاندان صالح کے حق تولیت حسب وصیت حاصل ہے یانہیں؟
الجواب
جس وقف کے شرائط واقف معلوم نہ ہوں اور طول مدت کے سبب گواہان مشاہدہ نہ رہے ہوں اس میں عملدرآمد قدیم پر کارروائی کی جائے۔
فتاوٰی خیریہ میں ہے:
قد صرح فی الذخیرۃ بانہ اذااشتبھت مصارف الوقف ینظر الی المعہود من حالہ فیما سبق من الزمان، فیبنی علی ذٰلک لان الظاہر انھم کانوا یفعلون ذٰلک علی موافقۃ شرط الواقف وھوالمظنون بحال المسلمین فیعمل علی ذلک۱؎۔
تحقیق ذخیرہ میں تصریح کی گئی ہے کہ اگر مصارف وقف میں اشتباہ ہو تو زمانہ قدیم سے اس وقف میں جاری معلوم کو دیکھا جائے گا اور اسی پر بناء کی جائے گی کیونکہ ظاہر یہی ہے کہ متولیان سابقہ شرط واقف کے مطابق ہی ایساکرتے ہوں گے اور مسلمانوں کے حال کے بارے میں یہی گمان غالب ہے لہذا اسی پر عمل کیا جائیگا۔(ت)
(۱؎ فتاوی خیریہ کتاب الوقف دارالمعرفۃ بیروت ۱/ ۲۳۔۱۲۲)
اسی میں کتاب الوقف للخصاف سے ہے:
اذاوجد شرط الواقف فلاسبیل الی مخالفتہ، واذافقد عمل بالاستفاضۃ والاستیمارات العامۃ المستمرۃ من تقادم الزمان۱؎۔
جب واقف کی شرط موجود ہوتو اس کی مخالفت کی کوئی راہ نہیں اور اگر شرط واقف مفقود ہو تو قدیم زمانوں سے متولیوں کا جو عملدرآمد اور معمول اس وقف کے بارے میں مشہور ومعروف چلاآرہا ہے اسی پر عمل کیاجائےگا۔(ت)
(۱؎ فتاوٰی خیریہ کتاب الوقف دارالمعرفۃ بیروت ۱/ ۱۲۳)
علاوہ بریں خود حکم شرع ہے کہ جب تک اقربائے واقف میں کوئی شخص لائق تولیت ہو بیگانہ آدمی متولی نہ کیا جائے،
درمختار میں ہے:
مادام احد یصلح للتولیۃ من اقارب الواقف لایجعل المتولی من الاجانب، لانہ اشفق ومن قصدہ نسبۃ الوقف الیھم۲؎۔
جب تک واقف کے قریبی رشتہ داروں میں کوئی صالح تولیت موجود ہو اجنبیوں میں سے کسی کو متولی نہیں بنایا جائے گا کیونکہ یہ وقف کے معاملہ میں زیادہ شفیق واقع ہوگا اور اس کا مقصد یہ ہوگا کہ وقف کی نسبت اس کے خاندان کی طرف قائم رہے۔(ت)
(۲؎ درمختار کتاب الوقف فصل یراعی شرط الواقف فی اجارتہ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۸۹)
پھر اس شخص غیر کا فاسق ہونا سب پر طرہ ہے فسق کے بعد تو خود واقف اگر متولی ہوتو وہ بھی معزول کردیا جائے گا نہ کہ اجنبی فاسق کو متولی کیاجائے۔
متولی سے ولایت وقف بطور وجوب واپس لی جائیگی اگرچہ خود واقف ہو جبکہ وہ امین نہ ہو یا عاجزہو یا اس سے کوئی فسق شراب نوشی وغیرہ کی مانند ظاہرہو (جب واقف کا حال یہ ہے) تو غیر واقف سے بدرجہ اولٰی ولایت وقف صورت مذکورہ میں واپس لینا واجب ہوگا، فتح۔(ت)
(۳؎ درمختار کتاب الوقف فصل یراعی شرط الواقف فی اجارتہ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۸۳)
لہذا وصیت پر عمل نہیں بلکہ خاندان واقف سے کسی صالح متدین ہوشیار کارگزار کو متولی کیا جائے۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۳۵۹: مولوی حشمت علی ساکن گڈھیا ۲/رجب المرجب ۱۳۳۱ھ
کیاہندو وغیرہ کفار متولی مسجد وغیرہ اوقاف ہوسکتے ہیں؟ اگر نہیں توعالمگیری کی اس عبارت
ولایشترط الحریۃ والاسلام۱؎الخ
(اس میں حریت واسلام شرط نہیں الخ۔ت) کا کیا مطلب لیا جائیگا اور ایک ہندو مسجد کا حوض اپنے روپے سے بناناچاہتا ہے۔بینواتوجروا۔
(۱؎ فتاوٰی ہندیۃ کتاب الوقف الباب الخامس فی ولایۃ الوقف نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۴۰۸)
الجواب
فقیر نے یہاں حاشیہ ردالمحتار میں لکھا:
اقول: وباﷲ التوفیق عدم اشتراط للصحۃ لایستلزم عدم اشتراطہ للحل وقدتقدم فی کتاب الزکوٰۃ باب العاشر تحریم جعل کافر عاشر ا لان فیہ تعظیمہ وھو حرام وعن شرح السیر الکبیر ان امیر المؤمنین رضی اﷲ تعالٰی عنہ کتب الی سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ تعالٰی عنہ لاتتخذ احدامن المشرکین کاتباعلی المسلمین قال وبہ ناخذ لقولہ تعالٰی لاتتخذوابطانۃ من دونکم ویأتی فی الاضحیۃ کرہ ذبح الکتابی وتعلیلہ بانہ لاینبغی ان یستعان بالکافر فی امور الدین وقد صح عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم انا لانستعین بمشرک وقد علم تحریم تولیۃ الخائن وھذاربنا عزوجل یقول''لایالونکم خبالا''واﷲ الموفق۲؎اھ ماکتبت علیہ۔
میں اﷲ تعالٰی کی توفیق سے کہتا ہوں کہ صحت کے لئے شرط نہ ہونا حل کے لئے شرط نہ ہونے کو مستلزم نہیں اور کتاب الزکوٰۃ باب العاشر میں گزرچکا ہے کہ کافر کو عاشر مقرر کرنا حرام ہے کیونکہ اسے عاشر بنانے میں اس کی تعظیم ہے اور کافر کی تعظیم حرام ہے،سیر کبیر کی شرح سے منقول ہے کہ امیر المومنین(عمر) رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ تعالٰی عنہ کو لکھا کہ مسلمانوں کے معاملات کیلئے کسی مشرک کو کاتب مت بنانا اور شارح سیر کبیر نے کہا کہ ہم اسی کو اخذ کرتے ہیں بدلیل اس ارشاد الٰہی کہ''(اے ایمان والو!) غیروں کو اپنا رازدار مت بناؤ''۔ کتاب الاضحیہ میں آرہا ہے کہ کتابی کا ذبیحہ مکروہ ہے اور اس کی علت یہ بیان کی گئی کہ امور دینیہ میں کافر سے مدد نہیں مانگنی چاہئے، اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے منقول یہ حدیث مرتبہ صحت کو پہنچ چکی ہے کہ بیشک ہم مشرک سے مدد نہیں طلب کرتے، اور تحقیق خائن کو متولی بنانے کی حرمت معلوم ہوچکی ہے اور ہمارا رب عزوجل یہ ارشاد فرماتا ہے کہ''وہ تمہاری برائی میں کمی نہیں کرتے'' اور اﷲ تعالٰی ہی توفیق عطا فرمانے والا ہے۔ ردالمحتار پر میراحاشیہ ختم ہوا۔(ت)
(۲؎ جدالممتار علٰی ردالمحتار)
اس سے حکم مسئلہ واضح ہوگیا کہ کافر کو متولی کیا جائے تو ہوجائے گا مگر اسے متولی کرنا، کوئی امردینی اس کو اختیار میں دینا حرام ہے اور اسے معزول کرنا واجب، نہ کہ خاص مسجد پر کہ اعظم اوقاف دینیہ ہے؎
مؤذن گریباں گرفتش کہ ہین سگ ومسجد اے فارغ از عقل ودیں
(مؤذن نے اس (بے دین) کا گریبان پکڑا کہ خبردار!کتے اور مسجد کا کیا تعلق اے عقل اور دین نہ رکھنے والے۔ت)
ہندو سے کسی کار دینی میں مدد نہ لی جائے گی وہ اس میں مسجد ومسلمانان پر اپنا احسان سمجھے گا۔
اللّٰھم لاتجعل لفاجرعلی یداً۱؎
(اے اﷲ ! مجھ پر کسی فاجر کا احسان مت رکھ۔ت) دعائے ماثورہ ہے، واﷲ تعالٰی اعلم۔
(۱؎ اتحاف السادۃ المتقین کتاب المحبۃ بیان حقیقۃ المحبۃ الخ دارالفکر بیروت ۹/ ۵۵۴)