مسئلہ۳۵۴: ازقصبہ حسن پور ضلع مراد آباد مرسلہ منشی ہدایت اﷲصاحب ۲۴صفر۱۳۲۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس امر میں کہ نواب غلام چشی خان صاحب رئیس قصبہ
حسن پور ضلع مراد آباد موضع عیسٰی پور بطریق زکوٰۃریاست وموضع بچی کہیر ابطور خیرات حقیت اپنی کواول وقف کیا
سال ۱۲۸۴ھ میں اس حقیت موقوفہ کے بابت ایک وصیت نامہ سادہ تحریر کیا جس میں انتظام واہتمام تولیت جائداد موقوف اور مصارف خیر کی بابت شرائط درج کئے، چنانچہ تاحیارت اپنی خود واقف ہر دو مواضعات مذکورہ کے مہتمم رہے اور بعض فوت ان کے نواب محمد عبدالکریم خان صاحب مرحوم یکے از واقف مہتمم مقرر ہو ئے ،وصیت نامہ میں واقف نے یہ شرط تحریر کی ہے اقرار یہ ہے کہ حین حیات اپنی آمدنی وپیداوار مواضعات مذکور جو لائق ہووے نسلاً بعد نسلٍ اور بطناً بعد بطنٍ حسب دستور بطریقہ مستعملہ مجھ گنہگار کے صر ف کرتا ہے، ۲۱/اکتوبر ۱۹۰۸ء کو مہتمم ثانی نے وفات پائی، اب دریافت طلب یہ مسئلہ ہے کہ فقرہ نسلاً بعد نسلٍ کے کیا معنی اور مطلب، اور نسل سے منشا واقف کا اپنی اولاد سے ہے یا مہتمم ثانی کی اولاد سے، اور شرعاً بعد فوت ہونے مہتمم ثانی کے اصل واقف کے اولاد میں سے مہتمم مقرر ہونا چاہئے یا مہتمم ثانی کی اولاد میں سے۔ بینواتوجروا۔
الجواب
صورت مستفسرہ میں جب تک واقف کی اولاد صلبی سے کوئی مرد لائق باقی رہے گا اولاد اولاد کو تولیت نہ پہنچے گی، جب ان میں کوئی نہ رہے گا اس وقت اولاد اولاد سے کوئی لائق متولی کیا جائے گا اور ان میں جب تک کوئی رہا تیسرے درجہ سے مقررر نہ کیا جائے گا وعلی ھذا القیاس نسلاً بعدنسلٍ اور بطناً بعد بطنٍ کے یہی معنی ہیں اس میں واقف کی اپنی اولاد واولاد اولاد واولاد اولاد ، اولاد سب داخل ہیں مگر بترتیب کہ سب سے مقدم اولاد پھر اولاد اولاد ، اولاد اولاد اولاد الٰی آخر الدہر۔
اسعاف میں ہے:
لایکون للبطن الاسفل شیئ مابقی من البطن الاعلی احدوھکذا الحکم فی کل بطن حتی تنتہی البطون موتا۱؎۔واﷲسبحانہ وتعالٰی اعلم۔
بطن اسفل کو کچھ حق نہ ملے گا جب تک بطن اعلٰی میں سے کوئی ایک موجود ہے، اور یہی حکم تمام بطنوں کا ہے حتی کہ موت کے سبب بطون منتفی ہوجائیں۔واﷲسبحانہ وتعالٰی اعلم(ت)
(۱؎ العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوٰی الحامدیۃ بحوالہ الاسعاف کتاب الوقف ارگ بازار قندھار افغانستان ۱/ ۱۵۳)
مسئلہ ۳۵۵تا۳۵۶: مرسلہ حاجی محمد حسین صاحب رئیس ازقصبہ حسن پور ضلع مراد آباد ۱۸ربیع الاول ۱۳۲۷ھ
سوال اول:کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زیدنے ایک جائداد وقف کی اور دربارہ تولیت یہ شرط تحریر کی کہ بعد میرے میری اولاد سے ایک شخص از قسم ذکور جو لائق ہونسلاً بعد نسلٍ اور بطناً بعد بطنٍ حسب دستور مجھ گنہگار کے صرف کرتا رہے، آیا اس عبارت مذکورہ سے واقف کا منشا کسی خاص اولاد کی نسبت یعنی بیٹیوں کی پوتوں کی نسبت ہے یا ا س میں کوئی خصوصیت نہیں ہے۔
سوال دوم: جائداد موقوفہ کے اشخاص ذیل متولی ہوسکتے ہیں یانہیں اور شرعاًلفظ لائق کن اشخاص سے مراد ہے؟
(۱) جو باوصف استطاعت بائیس سال سے نہ حج کرتا ہو نہ زکوٰۃ اور نہ عشر دے۔
(۲) جو علانیہ فسق وفجور مبتلا ہو۔
(۳)کیا تارک جماعت لائق متولی ہوسکتا ہے ۔
(۴) جو طمع نفسانی سے متولی ہونا چاہے اور جس کو بیحد کوشش تولیت کی ہو۔
(۵) جوسود جائز سمجھ کرلیتا ہو۔
(۶) جو شطرنج اور تاش بازی میں مصروف رہتا ہو وہ قابل تولیت ہے یانہیں؟بینواتوجروا۔
الجواب
(۱) نہ اس میں ایسا خصوص ہے کہ بعضے طبقات اولاد کواصلاً شامل نہ ہو، نہ ایسا عموم کہ ہر طبقہ کی اولاد معاً مستحق ہو بلکہ وہ جمیع طبقات کو بشرط ترتیب عام ہے یعنی جب تک خاص اولاد صلبی واقف سے کوئی مردلائق تولیت باقی رہے گا پوتے اگرچہ لائق ہوں بلکہ الیق ہوں نہ پاسکیں گے
لان الواقف انما شرط اللائق دون الالیق
(واقف نے تولیت کےلئے لائق کی شرط لگائی ہے نہ کہ لائق ترین کی۔ت) اور جب اولاد صلبی سے کوئی مرد نہ ہو یاجتنے باقی ہوں ان میں کوئی لائق تولیت نہ ہو تو پوتوں میں جو لائق ہو اسے پہنچے گی اب ان میں کا جب تک کوئی لائق باقی رہے گا پرپوتوں کا استحقاق نہ ہوگا
وعلی ھذاالقیاس الی انقراض النسل
(اور اسی پر قیاس کرتے چلو یہاں تک کہ اس کی نسل ختم ہوجائے۔ت) اور نواسے بہر حال مستحق نہ ہوں گے جس نے نواسوں کو بھی شمول لکھ دیاخطا کی۔
فتاوٰی امام قاضیخاں میں ہے:
ان قال علی ولدی وولد ولدی یصرف الی اولادہ ابداما تنا سلوا الاقرب والابعد فیہ سواء الا ان یذکر الاقرب فالا قرب او یقول بطنا بعد بطن فیبدابما بدأبہ الواقف۱؎(ملخصاً)
اگر واقف نے کہا کہ یہ چیز میری اولاد اور اولاد کی اولاد پر وقف ہے، تو یہ وقف اس کی اولاد کی طرف ہی پھیراجائےگا جب تک اس کی اولاد کا سلسلہ جاری رہے گا۔قریب وبعید والے اس میں برابر ہوں گے یا ا س نے یوں کہا یہ وقف ایک بطن کے بعد دوسر ے بطن کے لئے ہے تو اسی سے ابتداء کریں گے جس سے واقف نے ابتداء کی ہے(ملخصاً)۔(ت)
(۱؎ فتاوٰی قاضیخان کتاب الوقف فصل فی الوقف علی الاولاد نولکشور لکھنؤ ۴/ ۷۲۹)
واقف نے اگر اپنی اولاد اور اولاد کی اولاد کاذکر کیا توظاہر الروایۃ کے مطابق بیٹی کی اولاد اس میں داخل نہیں ، اور اسی پر فتوی ہے۔اور محیط سرخسی میں اسی طرح ہے۔(ت)
(۳؎ فتاوٰی ہندیہ کتاب الوقف الباب الثالث فی المصارف نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۳۷۴)
(۲) لائق وہ ہے کہ دیانت کار گزار ہوشیار ہو جس پر دربارہ حفاظت وخیرخواہی وقف اطمینان کافی ہو، فاسق نہ ہو جس سے بطمع نفسانی یا بے پروائی یاناحفاظتی یا انہماک لہو ولعب وقف کو ضرر پہنچانے یا پہنچنے کا اندیشہ ہو بدعقل یا عاجز یا کاہل نہ ہو کہ اپنی حماقت یا نادانی یا کام نہ کرسکنے یا محنت سے بچنے کے باعث وقف کو خراب کرے، فاسق اگرچہ کیسا ہی ہوشیار کارگزار مالدار ہو ہر گز لائق تولیت نہیں کہ جب وہ نافرمانی شرع کی پروانہیں رکھتا کسی کاردینی میں اس پر کیا اطمینان ہوسکتا ہے، ولہذا حکم ہے کہ اگر خود واقف فسق کرے واجب ہے کہ وقف اس کے قبضہ سے نکال لیا جائے اورکسی امین متدین کو سپردکیاجائے پھر دوسرا تو دوسرا ہے۔
ردالمحتار میں ہے:
قال فی الاسعاف ولا یولی الاامین قادربنفسہ او بنائبہ لان الولایۃ مقیدۃ بشرط النظر ولیس من النظر تولیۃ الخائن لانہ یخل بالمقصود وکذاتولیۃ العاجزلان المقصود لایحصل بہ۱؎۔
اسعاف میں فرمایا ہے کہ متولی صرف اسی کو بنایا جائے گا جوامین ہو اور بذات خود یا اپنے نائب کے اعتبار سے وقف کی حفاظت پر قادر ہو کیونکہ ولایت نگرانی کی شرط سے مقید ہے اور خائن کو متولی بنانے میں نگرانی کا فقدان ہے کیونکہ خائن کی تولیت مخل مقصود ہے یہی حال عاجز کو متولی بنانے کا ہے کہ اس سے مقصود حاصل نہیں ہوتا۔(ت)
(۱؎ ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۳۸۵)
متولی سے ولایت وقف وجوباً واپس لے لی جائیگی (بزازیہ اگرچہ وہ خود واقف ہو(درر)تو غیر واقف سے بدرجہ اولٰی واپس لے لی جائیگی جب کہ وہ امین نہ ہو یا عاجز ہو یا اس کا فسق شراب نوشی وغیرہ ظاہر ہوچکاہو(فتح)۔(ت)
(۲؎ درمختار کتاب الوقف مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۸۳)
سود لینا گناہ کبیرہ ہے تو اس کا ارتکاب اگرچہ ایک ہی بار یقینا اجماعاً فاسق وبددیانت کردیگا جب کہ حرام جان کرکرے اور دارالاسلام میں جائز سمجھا تو فسق درکنار صریح کافر مرتد ہوجائے گا
لاستحلالہ ماعلم حرمتہ ضرورۃ من الدین
(اس چیز کو حلال جاننے کی وجہ سے جس کی حرمت ضروریات دین سے معلوم ہے۔ت) یونہی جو بلا عذر صحیح شرعی ترک جماعت کیا کرے فاسق ومردود الشہادۃ ہے۔
غنیہ میں ہے:
تارکھابلاعذر یعزر وتردشھادتہ۳؎۔
بلاعذر ترک جماعت کرنے والے پر تعزیز لگائی جائے اور اس کی شہادت رد کردی جائے گی۔(ت)
(۳؎ غنیۃ المستملی فصل فی الامامۃ سہیل اکیڈمی لاہور ص۵۰۹)
بلاعذر ایک بار جماعت کو چھوڑنا عراقیوں کے قول کے مطابق موجب گناہ ہے اور خراسانی تب اس کو گناہگار قرار دیتے ہیں جب وہ ترک جماعت کو عادت بنالے،جیسا کہ قنیہ میں ہے(ت)
راجح قول کے مطابق جماعت واجب ہے یا حکم واجب میں ہے جیسا کہ بحر میں ہے، اور مشائخ نے تصریح کی ہے کہ تارک جماعت فاسق ہے۔(ت)
(۱؎ ردالمحتار کتاب الصلٰوۃ باب صفۃ الصلٰوۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۳۰۷)
مذہب صحیح ومعتمد پر زکوٰۃ کا وجوب فوری ہے تو جو اس سال کی زکوٰۃ نہ دے یہاں تک کہ دوسرا سال گزرجائے گنہگار ہے، یونہی قول اصح وارجح پر حج کا وجوب، تو جس سال استطاعت ہو اسی سال جائے ورنہ گنہگار ہوگا، اور اگر زکوٰۃ یا حج بعد وجو ب بلاعذر صحیح تین سال تک ادا نہ کرے تو فاسق ہے نہ کہ بائیس سال۔
زکوٰۃ کی فرضیت فوری ہوتی ہے اور اسی پر فتوی ہے تاخیر کرنے والا گنہگار ہے اور اس کی گواہی مردود ہے۔(ت)
(۲؎ درمختار شرح تنویر الابصار کتاب الزکوٰۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۱۳۰)
ردالمحتار میں ہے :
فی البدائع عن المنتقی بالنون اذا لم یؤد حتی مضی حولان فقد اساء واثم ۔۳
بدائع میں بحوالہ منتقی ہے کہ کسی نے زکوۃ ادا نہیں کی یہاں تک کہ اگلا سال ختم ہو گیا تو براکیا اور گنہگار ہو ا ۔ (ت)
(۳؎ ردالمحتار کتاب الزکوٰۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/ ۱۳)
درمختار کتاب الحج میں ہے:
فرض علی الفور فی العام الاول عند الثانی واصح الروایتین عن الامام ومالک واحمد فیفسق وترد شہادتہ بتاخیرہ ای سنینا لان تاخیرہ صغیرۃ وبارتکابہ مرۃ لایفسق الابالاصرار، بحر۴؎۔
حج کی فرضیت علی الفور ہوتی ہے اور پہلے ہی سال ادا کرنا چاہئے امام ابویوسف کے نزدیک ، اور امام ابوحنیفہ سے منقول دو روایتوں میں سے اصح روایت کے مطابق اور امام مالک واحمد کے مطابق چند سال مؤخر کرنے سے فاسق قرار دیا جائے گا اور اس کی شہادت مردود ہوگی کیونکہ تاخیر حج گناہ صغیرہ ہے اس کے مرتکب کو اس پر اصرار کے بغیر فاسق قرار نہیں دیا جائے گا، بحر۔(ت)
(۴؎ درمختار کتاب الحج مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۶۰۔۱۵۹)
عشر بھی ایک نوع زکوٰۃ ہے یا کم از کم اس کا حکم حکم زکوٰۃ ہے اور اسی طرح بعینہ اسی دلیل سے اس کا وجوب بھی فوری اور تین برس تک نہ دینے میں فسق۔
عشر کو ماتن نے زکوٰۃ میں ذکرکیا کیونکہ یہ زکوٰۃ میں سے ہی ہے۔ فتح میں کہا کہ بے شک عشر زکوٰۃ ہے یہاں تک کہ اس کو مصارف زکوٰۃ پر صرف کیا جاتا ہے اھ اور شیخ اسمٰعیل نے اس کی تائید کی بایں طور کہ عشر انہی چیزوں میں واجب ہوتا ہے جن میں اس کے سواکچھ نہیں لیا جاتا اور یہ زکوٰۃ کے ساتھ جمع نہیں ہوتا، اور حدیث میں عشر کا نام صدقہ رکھنے اور زکوٰۃ کی طرح اس کے وجوب علی الفور اور وجوب علی التراخی میں فقہاء کے اختلاف سے بھی اس کا زکوٰۃ ہونا ہی معلوم ہوتا ہے۔(ت)
(۱؎ ردالمحتار کتاب الزکوٰۃ باب العشر داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/ ۴۸)
درمختارمیں ہے:
الامر بالصرف الی الفقیر معہ قرینۃ الفور وھی انہ لدفع حاجتہ وھی معجلۃ فمتی لم تجب علی الفور لم یحصل المقصود من الایجاب علی وجہ التمام وتمامہ فی الفتح۲؎۔
عشر کو فقیر پر صرف کرنے کا حکم قرینہ ہے اس کے وجوب علی الفور پر ، کیونکہ یہ دفع حاجت کےلئے ہے اور حاجت معجل ہے تو اگر اس کا وجوب علی الفور نہ ہو تو اس کے ایجاب کا مقصود پوری طرح حاصل نہیں ہوسکتا اس کی تفصیل فتح میں ہے(ت)
(۲؎ درمختار کتاب الزکوٰۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۱۔۱۳۰)
شطرنج اگر ترک جماعت وغیرہ منکرات کی طرف مؤدی یا ان پر مشتمل ہو بالاتفاق حرام ہے اور اس کی عادت مطلقاً ممنوع اور بحکم تجربہ ضرور داعی معاصی، اور تاش اور اسی طرح گنجفہ بوجہ اشتمال واعزاز تصاویر مطلقاً بلاشرط ممنوع وناجائز ہے اور مصروف رہنا فسق۔
درمختار میں ہے:
کرہ کل لھولقولہ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کل لھوالمسلم حرام الاثلثۃ ملا عبتہ اھلہ وتادیبہ لفرسہ ومناضلتہ بقوسہ۱؎۔
ہر کھیل مکروہ ہے حضور انور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے اس ارشاد کی بنا پر کہ مسلمان کا ہر کھیل حرام ہے سوائے تین کھیلوں کے:اپنی بیوی سے ملاعبت کرنا اور اپنے گھوڑے کی تعلیم وتادیب کرنا اور سبقت کےلئے اپنی کمان سے تیر اندازی کرنا۔(ت)
(۱؎ درمختار کتاب الحظر والاباحۃ فصل فی البیع مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۴۸)
رہا وہ شخص کہ اپنے لئے تولیت کی کوشش کرے اگر ثابت ہو کہ یہ کوشش بطمع نفسانی و نیت فاسدہ ہے جب تو ظاہر ہے کہ اسے متولی بناناحرام
لان الشرط کونہ امینا والطالب لطمع غیرامین
(تولیت کےلئے شرط ہے کہ متولی امین ہو اور حرص وہوا کے لئے تولیت کا مطالبہ کرنے والا غیر امین ہے۔ت) اور ایسا نہیں تو اگر اس کےلئے تولیت ثابت ہے صرف اس کا نفاذچاہتاہے تو کوئی حرج نہیں اگرچہ کسی قدر کوشش کرے کہ یہ کوشش حق کےلئے ہے اور حق کےلئے کوشش حق ہے مثلاً واقف نے شرط کی کہ میری اولاد ذکور سے جو لائق ہو متولی ہو، یہ شخص اس کی اولاد ذکور سے ہے اور جملہ شرائط مذکورہ لیاقت کاجامع ہے تو اس کی کوشش بے جانہیں، اور اگر اس کےلئے تولیت ثابت نہیں پھر تحصیل تولیت کےلئے کوشش کرتا ہے تو اسے متولی نہ کرنا چاہئے اگرچہ کیسا ہی لائق ہو۔ درمختار میں ہے:
طالب التولیۃ لایولی الاالمشروط لہ النظر لانہ مولی فیرید التنفیذ،نھر۲؎۔
طالب تولیت کو متولی نہیں بنایا جائے گاسوائے اس کے جس کے لئے تولیت مشروط ہوچکی ہوکیونکہ وہ بسبب شرط کے متولی ہوچکا ہے اور اب اس کی تنفیذ چاہتا ہے،نہر۔(ت)
(۲؎ درمختار کتاب الوقف فصل یراعی شرط الواقف فی اجارتہ مجتبائی دہلی ۱/ ۳۸۹)
رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
انالن نستعمل علی عملنا من ارادہ۳؎۔ رواہ احمد والبخاری وابوداؤد والنسائی عن ابی موسی الاشعری رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
ہم ہرگز اپنے دینی کام پر اسے مقرر نہ کریں گے جو خود اس کی خواہش کرے(اس کو امام احمد بخاری، ابوداؤد اور نسائی نے سیدنا حضرت ابوموسی اشعری رضی اﷲتعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے۔ت)
(۳؎ صحیح البخاری کتاب الاجارات باب استیجارالرجل الصالح قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۳۰۱)
ردالمحتار میں ہے:
طالب التولیۃ لایولی کمن طلب القضاء لایقلد فتح وھل المرادانہ لاینبغی اولایحل استظھر فی البحر الاول تأمل۱؎واﷲ تعالٰی اعلم۔
طالب تولیت کو متولی نہیں بنایا جائے گا جیسا کہ طالب قضاء کا مطالبہ نہیں مانا جاتا، فتح، کیا اس سے مراد یہ ہے کہ مناسب نہیں یہ مراد ہے کہ حلال نہیں، بحر میں پہلے قول کو ترجیح دی ہے،غور کر۔واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
(۱؎ ردالمحتار کتاب الوقف فصل یراعی شرط الواقف فی اجارتہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۴۱۰)