Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۶(کتاب الشرکۃ، کتاب الوقف )
94 - 112
مسئلہ۳۵۰: ازمارہرہ شریف ضلع ایٹہ     مرسلہ حافظ عبدالحمید امام مسجد کمبوہ۲۱ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ
زید نے اپنی زمینداری کے ایک قطعہ کو جوعہ/بیگھ خام ہے اور اس کا سالانہ منافع ؎/ہے اس تصریح کے ساتھ کہ ۴ ؎/سالانہ اس محلہ کی مسجد میں جس میں واقف رہتا ہے صرف ہواکریں اور ۴ ؎/سالانہ غرباء ومساکین کے لڑکوں کی تعلیم جو قرآن شریف اور دینیات پڑھتے ہیں قرآن شریف یا متفرق پارہ اور کتب دینیہ خرید کر امداد کی جائے اور اس مصرف میں ہمیشہ صرف ہوتے رہیں اور۴ ؎ /سالانہ یتیماں وبیوگاں کی تیاری پارچہ سرما وغیرہ صرف کئے جائی، اپنے دل میں مذکورہ مصارف کی نیت کرکے وقف کردیااور ایک سال سے اس کا منافع بھی کاشتکار سے وصول نہیں کیا اور وقف کی کوئی تحریر بھی نہیں لکھی ، اب زید یہ چاہتا ہے کہ قطعہ اراضی مذکورہ بالا سے جس کے وقف کی نیت کی ہے بہتر اور عمدہ اور زیادہ منافع کی دیگراراضی کو جو اس کی ملکیت ہے بجائے اس کے وقف کردے اوربموجب شرع شریف کے تحریر وتکمیل کردے اور متولی اس کا مقرر کرکے اس کے قبضہ میں اس زمین کو دے دے کہ منافع اس کا مصارف مذکور میں صرف کیا کرے اور آئندہ متولی اس کا زید کے رشتہ داران اور نمازیان مسجد محلہ کے مشورہ سے مقررہوا کرے گا، اس صورت میں امید ہے کہ ؎/سالانہ سے زیادہ منافع سالانہ وقف کاہوگا صرف نیت وقف کرلینے سے جو خاص قطعہ اراضی کی نسبت کی ہے اوراس کی تحریر بھی نہیں لکھی اور اراضی جو اس سے بہتر اور عمدہ زیادہ منافع کی ہے وقف کرکے تحریر کردے شرع ممانعت تو نہیں کرتی؟
الجواب

تحریرتو شرعاً کوئی ضروری چیز نہیں، نہ اس پر وقف موقوف ، اگر اس نے زبان سے کہہ دیا تھا کہ میں نے اس کو اﷲکےلئے وقف کردیاتو وقف ہوگئی اب اس سے رجوع نہیں کرسکتا مگر یہ کہ وقت وقف شرط استبدال کرلی ہو یعنی مجھے اختیار ہے کہ جب چاہوں اس زمین کے بدلے اور زمین وقف کردوں تو البتہ اس حالت میں تبدیل کااختیار ہے، اگر زبان سے بھی نہیں کہا تھا صرف دل سے نیت کی تھی تو وہ زمین وقف نہ ہوئی، گر واقعی اس سے بہتراور زیادہ منافع کی زمین وقف کرنا چاہتاہے تو اس پر کچھ الزام نہیں،
قال اﷲ تعالٰی
ماعلی المحسنین من سبیل۱؎
 (اﷲتعالٰی نے فرمایا: نیکی کرنے والوں پر (مواخذہ کی) کوئی راہ نہیں۔ت) واﷲتعالٰی اعلم
(۱؎ القرآن الکریم۹/ ۹۱)
مسئلہ۳۵۱: ازشہر مسئولہ محمدخلیل اﷲصاحب ۱۴شعبان ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس باب میں کہ ایک موقع پر ایک جائداد موقوفہ متعلق مسجد واقع ہے تو علاوہ بیع کے جو ہر طرح ناجائز ہے آیا اس موقع پر جائداد مذکورہ سے تبادلہ کا جواز اسی قلیل قیمت اور حیثیت کی جائداد سے یا کسی دیگرنوع سے کسی صورت بھی ہوسکتا ہے یانہیں؟
الجواب

اس خاص وقف کرتے وقت واقف نے استبدال کی شرط نہ کرلی ہوتو ہرگز کسی حال میں جائزنہیں جب تک اس سے انتفاع ممکن ہے اگرچہ دوسری کی اس کے بدلے میں ملے اس سے قیمت حیثیت ومنفعت میں بہت زائد ہو،
فانا امرنا بابقاء الوقف علی ماکان علیہ دون زیادۃ اخری۱؎۔ کما حققہ المحقق فی الفتح۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہم وقف کو سابقہ ہیأت پر باقی رکھیں نہ کہ دیگر زیادت کو، جیسا کہ محقق علیہ الرحمۃ نے فتح القدیر میں اس کی تحقیق فرمائی ہے، واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت)
(۱؎ فتح القدیر   کتاب الوقف  مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر    ۵/ ۴۴۰)
مسئلہ۳۵۲:۱۰جمادی الاخری۱۳۲۶ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین شرع متین اس مسئلہ میں کہ منشی کریم الدین کی دو بیویاں تھیں اور دونوں سے اولاد ہے، پہلی بیوی سے تین لڑکیاں اور ایک لڑکا ، اور دوسری بیوی سے دو لڑکیاں تھیں، منشی صاحب مرحوم نے ایک باغ، ایک موضع،ایک مدرسہ اور کچھ دکانیں پہلی بیوی کے انتقال ہونے کے بعد وقف کیں اس طرح پر کہ میرے بعد میری زوجہ متولی رہے اور زوجہ کے بعد لڑکا جو کہ پہلی بیوی سے تھا اور لڑکے کے بعد ان کی اولاد، چونکہ لڑکا ان کی حیات میں فوت ہوگیااور لڑکے کی اولاد میں ایک لڑکی تھی وہ لڑکی ناقابل انتظام تھی اور اس کا شوہر بوجہ بدچلنی کے ناقابل انتظام تھا اس وجہ سے منشی صاحب نے ایک اقرار نامہ وقف نامہ کی تحریر کے بارہ سال بعد اس طرح تحریرکردیا کہ میرے بعد میری دوسری زوجہ متولی رہے اور اس کے بعد اس کی بڑی لڑکی اور لڑکی  کے بعد اس کی اولاد میں بڑالڑکا جو لائق ہو متولی رہے اس طرح سلسلہ برابرجاری رہے اس اقرار نامہ کی تحریر کو عرصہ دو سال ہوگیا اور وقف نامہ کو چودہ سال، اس وقت منشی صاحب مرحوم کی دوسری زوجہ حیات ہے اورمنشی صاحب نے جائداد مذکورہ مفصلہ ذیل اخراجات کے واسطے وقف کی ہے، مولود شریف، گیارھویں شریف ، فاتحہ حسنین ، خرچ مدرسہ وتکیہ وغیرہ چونکہ پہلی بیوی کی لڑکیاں اور منشی صاحب کے لڑکے کی لڑکی حیات ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ بروئے وقف نامہ کے جائداد مذکورہ کے ہم متولی ہیں اس لئے التماس ہے کہ شرعاً اس وقت جائداد مذکورہ کا متولی کون شخص قرار دیا جائے گا اور اس کے بعد کون ، اقرار نامہ کا قانوناً بھی داخل خارج ہوگیا ہے بموجب حکم شرع شریف تحریر فرمایا جائے۔فقط
الجواب

تولیت کوئی ترکہ نہیں کہ ہر وارث کا اس میں حق ہو تو لیت واقف کے اختیار کی ہے جسے متولی کردے

وہی ہوگا۔
درمختار میں ہے:
ولایۃ نصب القیم الی الواقف۱؎
(متولی مقرر کرنے کی ولایت واقف کو حاصل ہے۔ت)
 (۱؎ درمختا رکتاب الوقف فصل یراعی شرط الواقف فی اجازتہ    مطبع مجتبائی دہلی     ۱/ ۳۸۹)
تو اس میں شک نہیں کہ فی الحال وقف کی متولی صرف زوجہ ثانیہ ہے کہ وقف نامہ اور اقرار نامہ دونوں اپنے بعد اس کو متولی لکھا ہے اور جب زوجہ کا انتقال ہوتو حسب شرط اقرارنامہ اسی زوجہ کی بڑی لڑکی پھر اس کے بعد اس لڑکی کی اولاد میں جو بڑالڑکا  لائق ہو ورنہ جو لائق ہوں بہر حال پہلی بیوی کی لڑکیوں کا تو کوئی استحقاق تولیت میں سرے سے نہ تھا کہ وقف نامہ، اقرار نامہ کسی میں ان کی تولیت نہیں رہی پسر متوفی کی لڑکی اگرچہ وقفنامہ میں اپنے بعد پسر پھر اولاد پسر کی تولیت لکھی تھی مگر وہ واقف کے سامنے مرگیا اور اب اس نے ان شرائط کو تبدیل کردیا اور دوبارہ تولیت واقف کو تغیر وتبدل کا اختیار ہے تو اب عمل بموجب اقرارنامہ ہوگا۔
ردالمحتار میں ہے:
التولیۃ من الواقف خارجۃ من حکم سائر الشرائط لانہ لہ فیہا التغییر والتبدیل کلما بدالہ من غیر شرط فی عقدۃ الوقف۲؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
واقف کی تولیت تمام شرائط کے حکم سے خارج ہے کیونکہ واقف کو ان شرائط میں تبدیلی کا اختیار ہے جب بھی وہ مناسب سمجھے اگرچہ اس نے عقد وقف میں اس کی شرط نہ لگائی ہو۔واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
 (۲؎ ردالمحتار    کتاب الوقف فصل یراعی شرط الواقف فی اجازتہ    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۳/ ۴۱۰)
Flag Counter