Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۶(کتاب الشرکۃ، کتاب الوقف )
93 - 112
مسئلہ۳۴۶تا۳۴۷: ازشیخ پور مرسلہ شیخ امین الدین حیدررئیس۲۹جمادی اولٰی ۱۳۳۴ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں:

(۱) وقف نامہ ہمرشتہ کے کسی شرط کو واقفان بذریعہ تتمہ دستاویز تبدیل یا ترمیم کرسکتے ہیں یا نہیں؟

(۲) اگر واقفان کسی مصلحت سے مدرسہ کا مقام رقبہ شیخ پور سے کسی دوسرے موضع یا شہر کے رقبہ میں تبدیل کردیں اور مصرف وغرض وقف فوت نہ ہوتو وقف میں نقصان نہ واقع ہوگا۔
الجواب

(۱) وقف نامہ میں واقفوں نے اگر شرط کردی ہوتی کہ ہم کو تبدیل شرائط کا اختیار ہے تو اختیار ہوتا، اب کہ یہ شرط نہ کی بلاضرورت صحیحہ واجازت شرعیہ کسی تبدیل وترمیم کا اختیار نہیں۔ 

ردالمحتار میں حموی سے ہے:
الوقف اذالزم لزم مافی ضمنہ من الشروط۲؎۔
وقف جب لازم ہوتا ہے تو اس کے ضمن میں پائی جانے والی تمام شرطیں لازم ہوجاتی ہیں(ت)
 (۲؎ ردالمحتار    کتاب الوقف    فصل یراعی شرط الواقف فی اجارتہ     داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/ ۴۲۰)
 (۲) اگر شیخ پور میں ہونا اغراض وقف کےلئے مفید نہ ہوا اوردوسری جگہ مصلحت شرعی ہوتو واقفوں کو اس تبدیل کی اجازت ہے،

عالمگیریہ میں ہے:
اشتراط الاستبدال بارض من البصرۃ لیس لہ ان یستبدل من غیرہا، وینبغی ان کانت احسن ان یجوز، لانہ خلاف الٰی خیرکذافی فتح القدیر۱؎۔
اگر یہ شرط لگائی گئی کہ زمین وقف کوبصرہ زمین سے بدلوں گا تو بصرہ کے ماسوا دوسری زمین سے بدلنے کا واقف کو اختیار نہ ہوگا مگر چاہئے یہ کہ کہ اگر دوسری جگہ کی زمین اس کے بدلے میں زیادہ بہتر ہے تو جائز ہو کیونکہ یہ خلاف کرنا بہتری کی طرف ہے فتح القدیرمیں اسی طرح ہے۔(ت)
(۱؎ ردالمحتار      کتاب الوقف    فصل یراعی شرط الواقف     داراحیاء التراث العربی بیروت    ۳/ ۴۳۱)
ردالمحتار میں بحوالہ درمنتقی خلاصۃ الفتاوٰی سے ہے:
یجوز الرجوع عن الموقوف علیہ وتغییرہ وانکان شروطا کالمؤذن والامام والمعلم ان لم یکونو ا اصلح اوتھاونوا فی امرھم فیجوز للواقف مخالفۃ الشرط۲؎۔
واﷲ تعالٰی اعلم۔
موقوف علیہ سے رجوع اور اس میں تبدیلی جائز ہے اگرچہ وہ مشروط ہو جسیے مؤذن ، امام اور معلم اگر یہ لوگ وقف کے لئے زیادہ صلاحیت کے حامل نہ ہوں یا اپنے معاملات میں سستی کرتے ہوں تو واقف کےلئے جائز ہے کہ شرط کی مخالفت کرے۔واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
(۲؎ ردالمحتار      کتاب الوقف    فصل یراعی شرط الواقف     داراحیاء التراث العربی بیروت    ۳/ ۴۳۱)
مسئلہ۳۴۸: مسئولہ بدرالدین صاحب ۳۰محرم الحرام۱۳۳۵ھ               

کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع اس صورت میں کہ جامع مسجد بمبئی کے گیارہ مشاورین  میں سے اکثرین نے یہ قرار داد منظور کی کہ مسجد کے اوقاف کی آمدسے مسجدکے احاطہ میں جو کھلی جگہ ہے وہاں باغیچہ قائم کیا جائے اور درخت اور کنڈیاں نصب کئے جائیں اور اس کے انتظام کےلئے ایک باغبان مشاہرہ سے رکھا جائے، اطلاعاً گزارش ہے کہ جس زمین پر باغیچہ تیار کرنا منظور ہے وہ جگہ پیش تر سے نماز پڑھنے کے لئے عیدین اور یوم الجمعہ میں استعمال کی جاتی ہے پس اس حالت میں مشاورین مسجد کو اوقاف مسجد سے ایسا خرچ کرنا جائز ہے یانہیں؟اور جس زمین پر زمانہ قدیم سے نمازیں ہوتی تھیں اس پر باغیچہ بناکر لوگوں کو ادائے نماز سے روکنا مشاورین مسجد کے لئے شرعاً جائز ہے یانہیں؟بناءً علی عدم جواز مرتکبین اس فعل کے اپنے عہدہ ہائے مفوضہ سے معزول ہونگے یانہیں؟بینواتوجروا
الجواب

وقف کو اس کی ہیئت سے بدلنا جائز نہیں اگرچہ مقصود واحد ہو مـثلاً کسی مسجد پر دکانیں وقف ہیں کہ ان کا کرایہ مسجد میں صرف ہوتا ہے انہیں حمام کردیا جائےا ور اس کا کرایہ مسجد کو دیا جائے یا حمام کا کرایہ مسجد پر وقف تھا اسے دکانیں کردیا جائے یہ ناجائزہے حالانکہ مقصودیعنی کرایہ واحد ہے۔
عالمگیریہ میں ہے:
لایجوز تغییر الوقف عن ھیئتہ فلایجعل الدکان خاناالخ۱؎۔

وقف کی ہیئت میں تبدیلی کرنا جائز نہیں لہذا دکان کو سرائے بنادینا جائز نہیں الخ(ت)

(۱؎ فتاوٰی ہندیہ کتاب الوقف    الباب الرابع عشر     نورانی کتب خانہ پشاور     ۲/ ۴۹۰)
نہ کہ خلاف مقصود اوروہ بھی محض سود مردود، باغیچہ امراء کے مکانوں کی زینت ہوتا ہے، بیت اﷲ کی زینت ذکر اﷲ ہے، ولہذا علماء نے مساجد میں پیڑلگانا منع فرمایا اور فرمایا کہ مساجد کو یہود ونصارٰی کے کنیسوں گرجوں سے مشابہ نہ کرو ، پھر اس میں نمازیوں پر جمعہ وعیدین میں تنگی ہے اورجو مسلمانوں پر تنگی کرے گا اللہ اس پر تنگی کرے گا
من ضیق ضیق اﷲعلیہ
(جس نے تنگی کی اﷲتعالٰی اس پر تنگی فرمائیگا۔ت)
اس میں منع خیر ہے اور مناع للخیر کی مذمت کلام اﷲمیں ہے، اس میں متعلق مسجد کو نماز سے روکنا ہے ۔
اور اﷲ عزوجل فرماتا ہے :
ومن اظلم ممن منع مسجداﷲ ان یذکر فیہا اسمہ وسعی فی خرابھا اولٰئک ماکان لھم ان یدخلوھا الاخائفین لھم فی الدنیا خزی ولھم فی الاٰخرۃ عذاب عظیم۲؎۔
اس سے بڑھ کرظالم کون جو اﷲ کی مسجدوں کو ان میں نام الٰہی لئے جانے سے روکے اور انکی ویرانی میں کوشش کرے ان کو اس زمین میں قدم دھرنا نہ تھا مگر ڈرتے ہوئے ایسوں کے لئے دنیا میں رسوائی ہے اور آخرت میں بڑا عذاب۔
(۲؎ القرآن الکریم۲/ ۱۱۴)
ایسے مشاور اگر باز نہ آئیں واجب العزل ہیں من استرعی الذئب فقد ظلم جس نے بھیڑئیے کوچرواہا بنایا اس نے بکریوں پر ظلم کیا۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۳۴۹:مسئولہ منشی خلیل الرحمٰن صاحب پارچہ فروش     ازنگینہ ۳۰محرم الحرام ۱۳۳۵ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک مسجد ایک محلہ کے اندر واقع ہے کہ جس میں  کچھ اراضی زائد فرش سے ہے اور اس اراضی میں ایک مزار شریف بھی ہے ، اس مسجد کی خبر گیری اہل محلہ جس میں چند قوم کے آدمی ہیں کرتے ہیں منجملہ چند اقوام کے ایک قوم ایک مدرسہ خاص قومی اس اراضی موقوفہ میں بنانا چاہتی ہے کہ جس میں دوسری قوم کا تعلیم نہیں پائے گا احیانا کسی وقف میں اس اراضی موقوفہ کی ضرورت مسجد کو ہوئے تو وہ تعمیر مدرسہ اٹھواکر اپنے تصرف خواہ کسی قسم کا تصرف ہو لاسکتے ہیں یانہیں، جس قوم کا مدرسہ تعمیر ہوتا ہے اس قوم کے چند لوگ مہتمم ومتولی ہیں وہ ایک اقرار نامہ بدیں مضمون لکھتے ہیں کہ اگر کسی وقت میں مسجد کو ضرورت اراضی کی ہو تو وہ نہیں لے سکتی یہ اقرار ان کا لکھنا جائز ہو گا یانہیں، علاوہ اس قوم کے دیگر اقوام یا دیگر محلہ یہ چاہیں کہ مدرسہ قومی خاص نہ رہے تو وہ اس عمارت میں مدرسہ ہذارہنے دے سکتے ہیں یانہیں، اور یہ مدرسہ خصوصیت قوم کے ساتھ تعمیر کیا جاتا ہے اوراسی قوم کے بچے مستفیض ہوں گے جواب خلاصہ ومشرح مرحمت فرمایاجائے، مکرر عرض ہے جواب کے ارسال میں دیر نہ فرمائی جائے، مکرر عرض ہے کسی وجہ سے کل کو وہاں مدرسہ نہ رکھاگیا تو اس تعمیر کی مالک قوم یا اہل مدرسہ ہوگا یانہیں یا مسجدکی ہی ملکیت ہوجائے گی مدرسہ کو اختیار اس کے کرایہ پر دینے کا رہے گا یا نہیں؟بینواتوجروا۔
الجواب

جو زمین متعلق مسجد ہے وہ مسجد ہی کے کام لائی جاسکتی ہے اور اس کے بھی اسی کام میں جس کے لئے واقف نے وقف کی، وقف کو اس کے مقصد سے بدلنا جائز نہیں،
شرط الواقف کنص الشارع فی وجوب العمل بہ۱؎
 (واقف کی شرط وجوب عمل میں شارع علیہ الصلٰوۃ والسلام کی نص کی مثل ہے۔ت)
 (۱؎ الاشباہ والنظائر     الفن الثانی کتاب الوقف    ادارۃ القرآن الکریم ۱/ ۳۰۵)
واقف نے اگر یہ مدرسہ بنانے کی اجازت نہ دی تو اس میں عام مدرسہ بھی نہیں بن سکتا نہ کہ خاص،اور اگر خلاف اجازت ایسا تصرف کرینگے غاصب ہوں گے اور وہ عمارت منہدم کرادینے کے قابل ہوگی اور بعد انہدام جو کچھ اینٹیں کڑیاں ہوں اس کے مالک وہی لوگ ہوں گے جنہوں نے عمار ت بنوائی تھی۔واﷲتعالٰی اعلم۔
Flag Counter