(کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں۔ت) کہ قبرستان کی آمدنی کا روپیہ مسجد میں صرف کرنا چاہئے یانہیں اور قبرستان کی مالک مسجد ہوسکتی ہے یانہیں؟ہماری شریعت مطہرہ کیا حکم دیتی ہے؟
تفصیل آمدنی: (۱)میت کی چادروں کی قیمت(۲) چادر کے ہمراہ مالک میت نقد دیتا ہے۔(۳) قبرستان میں جو درخت ہیں ان کی لکڑی کی قیمت ۔
تفصیل خرچ: مسجد کے کسی حصہ کی تعمیر میں فرش ،لوٹے، روغن، رسی، یا رمضان المبارک کے اخراجات میں یہ روپیہ لانا۔
الجواب
نہ مسجدقبرستان کی مالک ہوسکتی ہے نہ قبرستان کسی مال کا مالک ہوتا ہے۔ سائل نے بیان کیا کہ اہل میت اہل محلہ میں کسی کو چادریں اور کچھ نقد دیتے ہیں اور دینے والوں کو معلوم ہے کہ یہ مسجد کے لئے لیتے ہیں، اور درخت بہت قدیم ہے بونے والے کا پتانہیں، جو لکڑی سوکھ جاتی ہے گر پڑتی ہے مسجد کے سقائے وغیرہ میں صرف کی جاتی ہے، اس صورت میں ان سب چیزوں سے مسجد کے وہ سب صرف جائز ہیں کوئی حرج نہیں۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۳۴۰:ازمئوناتھ بھنجن ضلع اعظم گڑھ محلہ الہ داد پورہ مسئولہ صابر حسین صاحب۴رمضان ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین کہ قبرستان کا مسلمانوں کے کیاحکم ہے اور کیا کرنا چاہئے؟کوئی شخص اس
پر کوئی کام دیدہ دانستہ دنیاوی کرے مثلاًتجارت، اور اصرار کرے کہ ہم قبرستان ہی پر کاروبار کرینگے دوسری جگہ نہیں کرینگے، یہ کسی کو برا معلوم ہویا بھلا، اور ساتھ اس کے ہنود کو ملاکر زور دے کہ اس کو کھیت بنائیں اور کسی مصرف میں لے لیں اور مسلمانوں کو بے قبضہ کردیں اور وہاں کے اشجار پربھی قبضہ کرلیں اور یہی کوشش کررہے ہوں اور بصورت انکار قبر کو عندالتحقیقات کھدوادیں وغیرہ وغیرہ تو اس شخص کے ایمان کا کیا حال ہے اور ایسے شخص کی ناحق پر تائید کرنا کیا ہے اور کس جر م کا مرتکب ہوگا۔بینواتوجروا۔
الجواب
مسلمانوں کاعام قبرستان وقف ہوتا ہے اور اس میں سوائے دفن کے اور تصرف کی اجازت نہیں اسے تجارت گاہ بنانا یا اس پر کھیت کرنا سب حرام ہے۔
فتاوٰی عالمگیریہ میں ہے:
لایجوز تغییر الوقف عن ھیأتہ۱؎۔
وقف کی ہیئت کو تبدیل کرنا جائز نہیں۔(ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیۃ کتاب الوقف الباب الرابع عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۴۹۰)
اشباہ وغیرہامیں ہے:
شرط الواقف کنص الشارع فی وجوب العمل بہ۲؎۔
واقف کی شرط وجوب عمل میں شارع علیہ الصلٰوۃ والسلام کی نص کی مثل ہے(ت)
(۲؎ الاشباہ والنظائر کتاب الوقف الفن الثانی ادارۃ القرآن کراچی ۱/ ۳۰۵)
اور مسلمان کی قبر کو کھودنا تو نہایت سخت شدید جرم ہے، اسلامی سلطنت ہو تو ایسا شخص سخت تعزیر کا مستحق ہے یہاں تک کہ سلطان اسلام کی اگر رائے ہوتو جو ایسی حرکات کا مرتکب ہواکرتا ہوا سے سزائے قتل دے سکتا ہے، جو شخص ناحق پر اس کی تائید کرتے ہیں سب اسی کی طرح مرتکب جرم ومستحق سزا ہیں۔
قال اﷲ تعالٰی
ولاتعاونوا علی الاثم والعدوان۳؎۔
اﷲتعالٰی نے فرمایا: گناہ اور ظلم پر تعاون مت کرو۔(ت)
(۳؎ القرآن الکریم۵/ ۲)
حدیث میں ہے نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من مشی مع ظالم لیعینہ وھو یعلم انہ ظالم فقد خلع من عنقہ ربقۃ الاسلام ۴؎۔
جو دانستہ کسی ظالم کی امداد کو چلے اس نے اپنی گردن سے اسلام کی رسی نکال دی۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
(۴؎ المعجم الکبیر حدیث ۶۱۹ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۱/ ۲۲۷ وکنز العمال حدیث ۱۴۹۵۵بیروت ۶/ ۸۵)
(والفردوس بما ثور الخطاب حدیث ۵۷۰۹ دارالباز مکۃ المکرمۃ سعودی عرب ۳/ ۵۴۷)
مسئلہ۳۴۱تا۳۴۴:مسئولہ احمد نبی خاں صاحب از مراد آباد۲۲صفر۱۳۳۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین مبین سوالات مفصلہ میں:
(۱) جزوجائداداراضی موقوفہ کاروپیہ معاوضہ سرکار انگریزی سے متولی جائداد کو ملا، اس روپیہ کو متولی کو کیا کرنا چاہئے؟ آیا جائداد خرید کرکے شامل جائداد موقوفہ کرنا چاہئے یا کسی مصارف خاص میں یا عام مصارف جائز میں اس رقم کا صرف کرنا جائز ہے؟
(۲) متولی فوت ہوگیا اور اس نے اپنے زمانہ حیات میں اس روپیہ معاوضہ مذکور سے کوئی جائداد خریدکرکے شامل جائداد موقوفہ نہیں کی اور روپیہ معاوضہ مذکور کا کوئی مصرف جائز بھی کسی قسم کااس کی حیات میں ظاہر نہیں ہوا اور اکثر اوقات متولی متوفی اور اس کے مختار عام اور سربراہ کاریہ ظاہرکرتے رہے کہ ہنوز کوئی جائداد متصل موقوفہ کے دستیاب نہیں ہوئی ہے کوشش کی جاتی ہے جس وقت کوئی جائداد فروخت ہوئی خرید کرکے شامل وقف کی جائے گی۔
(۳) متولی متوفی نے اپنی جائداد مملوکہ ومقبوضہ چھوڑی ہے جس پر اس کے وارثان قابض ودخیل ہیں۔
(۴) متولی حال کا بحالت موجودہ کیا فرض ہے، آیا وارثان متولی متوفی سے روپیہ مذکور طلب کرنے اور اس کی جائداد متروکہ سے وصول کرنے کا عندالشرع مستحق ہے یانہیں؟بینواتوجروا۔
الجواب
صورت مستفسرہ میں متولی سابق پر اس زر معاوضہ کا تاوان لازم ہے جو اس کی جائداد متروکہ سے وصول کیا جائے گا متولی حال پر لازم ہے کہ اسے وصول کرے اور اس میں سستی کو راہ نہ دے بعد وصول جب کہ وہ روپیہ خود عین اراضی موقوفہ کا بدل ہے کسی مصرف میں صرف نہیں ہوسکتا بلکہ لازم ہے کہ اس سے ویسی ہی جائداد خرید کی جائے کہ جائداد رفتہ کی جگہ وقف ہو۔
درمختاروعقود الدریہ میں ہے:
الناظر لو مات مجھلا لمال البدل ضمنہ کما فی الاشباہ ای لثمن الارض المستبدلۃ۱؎۔
ناظر اگر مرجائے مال بدل مجہول چھوڑ کر تو تبدیل شدہ زمین کے ثمن کاضامن ہوگا جیسا کہ اشباہ میں ہے۔(ت)
(۱؎ العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوٰی الحامدیۃ کتاب الوقف الباب الثالث ارگ بازار قندھار افغانستان ۱/ ۲۱۸)
نیزدرمختار وردالمحتار میں ہے:
(لایجوز استبدال العامر الافی اربع)الاولٰی لوشرطہ الواقف، الثانیۃ غصبہ غاصب واجری علیہ الماء حتی صاربحرافیضمن القیمۃ ویشتری المتولی بھا ارضابدلا، الثالثۃ ان یجحدہ الغاصب ولابینہ ای اراد دفع القیمۃ فللمتولی اخذھا لیشتری بھا بدلاالخ۱؎واﷲ تعالٰی اعلم۔
زمین وقف کا بدلنا جائز نہیں سوائے چار صورتوں کے،پہلی صورت یہ کہ واقف نے اگر استبدال کی شرط کی ہو۔ دوسری صورت یہ ہے کہ غاصب نے اس کو غصب کیا اور اس پر اتنا پانی بہایاکہ وہ دریا بن گئی تو متولی اس سے ضمان لے کر اس کے بدلے میں دوسری زمین خریدے۔ تیسری صورت یہ کہ زمین وقف کا غاصب انکاری ہے اور متولی کے پاس گواہ نہیں اور غاصب قیمت دینا چاہتا ہے تو غاصب سے قیمت لےکر اس کے عوض متولی دوسری زمین خریدلے الخ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
(۱ ؎ ردالمحتار کتاب الوقف مطلب لایستبدل العامر الافی اربع داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۳۸۹)
مسئلہ۳۴۵: مسئولہ مجیداﷲ صاحب بتوسط عطا احمد صاحب مولوی محلہ بدایوں ۲۸جمادی الاولٰی ۱۳۳۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی ایک جائداد بلا تخصیص مقام ہر جگہ کے مسلمانوں کی تعلیم کےلئے وقف کی اور ایک خاص قصبہ مدرسہ بنانے کےلئے نامزد کردیا کہ اس قصبہ میں تعلیم گاہ بنائی جائے لیکن کوئی خاص اراضی تعمیر مدرسہ کےلئے وقف نہیں کی گئی اب کسی مجبوری ونیز اس وجہ سے کہ جو قصبہ مدرسہ بنانے کےلئے وقف نامہ میں معین کیا گیاتھا عام مسلمانوں کی تعلیم میں وہاں سہولت نہیں ہے دوسری جگہ اسی غرض تعلیمی کےلئے وہ مدرسہ بنانا چاہتا ہے جہاں عام مسلمانوں کےلئے سہولت ہو، پس یہ تبدیلی مقام شرعاً جائزہے یانہیں، یعنی اگر اس تبدیل شدہ جدید مقام پر مدرسہ بناکر جائداد موقوفہ کی آمدنی اس پر خرچ کی جائے تو جائز ہے یانہیں؟بینواتوجروا۔
الجواب
واقف کو ایسی تغییر جائز ہے جبکہ مصلحت وقف اس میں نہیں اس کے خلاف میں ہے۔
ردالمحتار میں ہے:
فی فتاوٰی مؤید زادہ اذالم یکونوا اصلح اوفی امرھم تھاون فیجوز للواقف الرجوع عن ھذاالشرط اھ وھکذا نقلہ عنھا فی شرحہ علی الملتقی ثم نقل عن الخلاصۃ لایجوز الرجوع عن الوقف اذاکان مسجلا ولکن یجوز الرجوع عن الموقوف علیہ وتغییرہ وان کان مشروطا کالمؤذن والامام والمعلم ان لم یکونوااصلح اوتھا ونوافی امرھم فیجوز للواقف مخالفۃ الشرط۱؎اھ واﷲ تعالٰی اعلم۔
فتاوٰی مؤیدزادہ میں ہے کہ اگر موقوف علیہ زیادہ صلاحیت والے لوگ نہ ہوں یا وہ اپنے معاملے میں غفلت کرتے ہوں تو واقف کو اس شرط سے رجوع کرلینا جائز ہے اھ اسی طرح ماتن نے فتاوٰی موید زادہ سے ملتقی پر اپنی شرح میں نقل کیا، پھر خلاصہ سے یوں نقل کیا کہ وقف جب رجسٹرڈ ہوتو اس سے رجوع جائز نہیں لیکن موقوف علیہ سے رجوع اور ا سکو تبدیل کرنا جائز ہے اگرچہ مشروط ہو جیسے مؤذن،امام اور معلم، اگر وہ وقف کی زیادہ صلاحیت نہ رکھتے ہوں یا وہ اپنے معاملات میں غفلت اور سستی کا ارتکاب کرتے ہوں تو واقف کے لئے شرط کی مخالفت کرنا جائز ہے اھ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
(ا؎ ردالمحتار کتاب الوقف فصل یراعی شرط الواقف فی اجارتہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۴۳۱)