مسئلہ۳۳۶تا۳۳۷: ازجاودضلع نیمچ مرسلہ عبدالمجید خلف الرشید حافظ عبدالکریم صاحب مرحوم پیش امام مسجد چھیپان ۵رجب ۱۳۳۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس باب میں:
(۱) مسلمان قصبہ جاودسکونت پذیرہوئے اس وقت فرمانروائی قصبہ مذکور میں رانا صاحب والی ریاست اودے پور تھی مسلمانوں کے قبرستان کے واسطے دو سو بیگھ اراضی نسلاً بعدنسل ازروئے سندکے مرحمت کی بعد حصول سند پختہ کے جملہ اقوام اہل اسلام نے بطور ملکیت کے اپنا قبضہ پاکر قبرستان تجویز کیاہے اور مردے اپنے اس میں دفن کرتے رہے اور اسی سندکی رو سے اس وقت موتی دفن ہوتے ہیں اوربامید ثواب اس قبرستان میں درخت ثمری وغیر ثمری لگائے جاتے ہیں اوربارش میں گھاس اگتا ہے بعد خشک ہونے گھاس کے اور بیکار ہونے لکڑی قبرستان کے محافظ قبرستان یعنی فقیرکو صدقۃً دے دی گئی اور جملہ اہل اسلام کی اجازت سے یہ صدقہ قدیم سے لے رہاہے، بعد حکومت رانا صاحب کے گورنمنٹ دور قائم ہوا، بعد ازاں سیندھیا صاحب بہادر کا تسلط ہوگیا لیکن موافق عطائے سند قبرستان میں عمل در آمد مسلمانوں کا چلا آتا ہے اور اسی طریق سے تمام ممالک ہند میں مسلمان قبرستان کی اراضی پر ملکیت کے زمرہ میں اپنا قبضہ حاصل کئے ہوئے ہیں کسی غیر مذہب کو اس میں دخل نہیں ہے، قصبہ جاود کے زمینداران ہنود نے چند عرصہ کے بعد اپنی حقیت وملکیت زمینداری قبرستان مسلموں میں اراضی بشمول موضع قرار دے کر لکڑی وگھاس قبرستان سے حاصل کرنے کے واسطے دعویدار ہوئے، بعہد راناصاحب یہ زمینداری قائم نہ تھی، اس عہد کے بعد ٹھیکہ ہوا ہے لیکن کبھی قبرستان کی لکڑی وگھاس غیر مذہب کو نہیں دیا گیا، اور نہ غیر مذہب اس کا مستحق ہے کیونکہ یہ شیئ بطور صدقہ کے ہے، اب زمینداروں کا یہ دعوی ہے کہ مسلمان اپنے مردے قبرستان میں دفن کرتے رہیں لکڑی وگھاس قبرستان سے ہم زمیندارلیں گے اور مویشی چرائیں گے، اسی صورت غیر مذہب کی مداخلت سے بے حرمتی قبرستان اور مویشیوں کے چرنے سے منہدم ہونا قبروں کا ظاہر ہے شرعاً اس بات میں کیا حکم ہے؟ اور ہنود کا قبرستان کی لکڑی وگھاس پر حقیت جدید قائم کرکے لینا کیسا ہے؟
(۲) بغرض رفع فساد یا ناواقفیت مسئلہ کے مابین تنازعہ کے فریقین نے اس امر کا اقرار نامہ لکھاکہ افتادہ زمین میں بلحاظ راستہ قبرستان کے کاشتکاری نہ کی جائے گی صرف اس اراضی میں مسلمان اپنے مردے دفن کرتے رہیں اور زمیندار اپنے مویشی چراتے رہیں اب وہ اراضی بھی افتادہ نہ رہی مردے دفن ہوگئے قبریں تعمیر ہوگئیں، اس ہیئت پر مویشی چرائے جائیں تو تمام قبریں منہدم ہوجائیں گی، اقرار نامہ قابل فسخ کے ہے یا اسی پر عملدرآمد ہوگا؟
الجواب
جب وہ زمین مسلمانوں کو نسلاً بعد نسل ہمیشہ کےلئے دی گئی اور مسلمانوں نے اس پر بطور ملک قبضہ کرکے اسے قبرستان کردیا اور مردہ دفن ہو اوہ زمین ہمیشہ ہمیشہ قبرستان مسلمین کےلئے وقف ہوگئی،کسی زمیندار کا اس پر کوئی حق ودعوٰی نہ رہا، ہندو ہو یا مسلمان۔ زمیندار اگر مسلمان ہوتو عام مسلمانوں کی طرح اتنا حق اسے بھی ہوگا کہ اپنے مردے دفن کرے، اس سے زیادہ اسے اپنی حقیت و ملکیت وہ بھی نہیں ٹھہراسکتا، تمام جہان جانتا ہےکہ وقف کسی کی ملک نہیں ہوتا خالص ملک الٰہی جل جلالہ ہوتا ہے
الوقف لایملک
(وقف کسی کی ملکیت نہیں ہوتا۔ت) ایک عام زبان زدحکم ہے جسے بچے بھی جانتے ہیں۔
درمختار میں ہے:
عندھما ھو حبسھا (ای العین علی حکم ملک اﷲ تعالٰی وصرف منفعتھا علی من احب ولو غنیا فیلزم فلایجوزلہ ابطالہ ولایورث عنہ وعلیہ الفتوی ابن الکمال وابن الشحنۃ۱؎۔
اور صاحبین کے نزدیک وقف نام ہے عین کو اﷲ تعالٰی کی ملکیت کے حکم پر حبس کرنے اور اس کی منفعت کو اس پر صرف کرنے کا جس پر واقف چاہے اگرچہ وہ موقوف علیہ غنی ہو پس وہ وقف لازم ہوجائیگا اور واقف اس کو باطل نہیں کرسکتا اور نہ ہی اس میں میراث جاری ہوگی اور اسی پر فتوٰی ہے(ابن کمال وابن شحنہ)۔(ت)
(۱؎ درمختار کتاب الوقف مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۷۷)
فتاوٰی عالمگیری میں ہے:
فی العیون والیتیمۃ ان الفتوی علی قولھما کذافی شرح الشیخ ابی المکارم للنقایۃ۲؎۔
عیون او یتیمہ میں ہے کہ فتوی صاحبین کے قول پر ہے جیسا کہ شیخ ابو المکارم کی شرح نقایہ میں ہے۔(ت)
(۲؎ فتاوٰی ہندیۃ کتاب الوقف الباب الاول نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۳۵۰)
فتاوٰی امام قاضی خان میں ہے:
عندھما الوقف لازم بغیر ھذہ التکلفات، والناس لم یأخذوابقول ابی حنیفۃ رحمہ اﷲ فی ھذاللاثار المشہورۃ عن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم والصحابۃ،وتعامل الناس باتخاذ الرباطات والخانات اولھاوقف الخلیل صلوات اﷲ وسلامہ علیہ۱؎۔
صاحبین کے نزدیک وقف ان تکلفات کے بغیر لازم ہوجاتا ہے اور لوگوں نے اس مسئلہ میں امام ابوحنیفہ کے قول کو نہیں اپنایاکیونکہ متعدد آثار رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اﷲ تعالٰی علیہم سے اور لوگوں کا تعامل خانقاہیں اور سرائیں بنانے کے بارے میں منقول ہے ان میں سے پہلا وقف حضرت خلیل علیہ الصلوات والسلام کا ہے۔(ت)
(۱؎ فتاوٰی امام قاضی خاں کتاب الوقف نولکشور لکھنؤ ۴/ ۷۰۹)
اور جب اس زمین میں زمینداروں کا اصلاً کوئی حق نہیں تو اس کی لکڑی اور گھاس پر ان کو کیا دعوٰی پہنچ سکتا ہے، زمین خالص خدا کی ملک ہے گھاس بھی، اور لکڑی کے مالک پیڑوں کے بونے والے ہیں جو انہوں نے فقیر پر تصدق کردئے ،بہرحال زمینداروں کا ان میں کچھ دعوٰی نہیں۔
فتاوٰی قاضیخان میں ہے:
مقبرۃ فیھا اشجاران علم غارسھا کانت للغارس اھ۲؎مختصراً۔
ایک قبرستان میں کچھ درخت ہیں اگر ان کا بونے والا معلوم ہے تو اسی کے ہیں اھ مختصراً(ت)
(۲؎ فتاوٰی امام قاضی خاں کتاب الوقف فصل فی الاشجار نولکشور لکھنؤ ۴/ ۷۲۴)
قبرستان میں جو گھاس اگتی ہے جب تک سبز ہے اسے کاٹنے کی اجازت نہیں۔ جب سوکھ جائے تو کاٹ کر جانوروں کےلئے بھیج سکتے ہیں مگر جانوروں کا قبرستان میں چرانا کسی طرح جائز نہیں مطلقاً حرام ہے قبروں کی بے ادبی ہے، مذہب اسلام کی توہین ہے، کھلی مذہبی دست اندازی ہے،
ردالمحتار میں بحرالرائق اور درر الحکام اورغنیـہ اورامداد الفتاح اورفتاوٰی قاضیخان سے ہے:
یکرہ قطع النبات الرطب من المقبرۃ دون الیابس۳؎۔ قبرستان سے تر گھاس کاٹنا مکروہ ہے خشک کاٹنا مکروہ نہیں۔(ت)
(۳؎ ردالمحتار کتاب الصلٰوۃ باب صلٰوۃ الجنائز داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۶۰۶)
اگر قبرستان میں گھاس ہوتو کاٹ کر چو پاؤں کی طرف ڈالی جائے نہ کہ چوپاؤں کو اس کی طرف چھوڑاجائے، جیسا کہ البحر الرائق میں ہے(ت)
(۴؎ فتاوٰی ہندیۃ کتاب الوقف الباب الثانی نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۴۷۱)
زمینداروں سے معاہدہ افتادہ زمین کی بابت ہوا تھا جب وہاں قبریں ہوگئیں زمین افتادہ کب رہی، اور اگر کوئی غلط وباطل وخلاف شرع حق تلفی اموات مسلمین کا معاہدہ کسی نے اپنی جہالت سے خواہ دیدہ ودانستہ کرلیا تو وہ معاہدہ مردود ہے اس پر عملدرآمد ہر گز نہ ہوگا نہ اس کے فسخ کی ضرورت ہے، فسخ تو جب کیا جائے کہ وہ معاہدہ سمجھا بھی جائے وہ معاہدہ ہی نہیں ایک بیہودہ و بے معنی تحریر ہے۔
ہمارے نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
مابال اناس یشترطون شروطالیست فی کتاب اﷲ،من اشترط شرطا لیس فی کتاب اﷲ فلیس لہ(وفی روایۃ فھو باطل) وان شرط مائۃ مرۃ شرط اﷲ احق واوثق۱؎، رواہ الشیخان عن ام المومنین رضی اﷲ تعالٰی عنہا۔ واﷲتعالٰی اعلم۔
ان لوگوں کا کیا حال ہے جو ایسی شرطیں لگاتے ہیں جو اﷲ تعالٰی کی کتاب میں نہیں، جس نے ایسی شرط لگائی جو کتاب اﷲ میں نہیں، تو وہ اس کےلئے نہ ہوگی، اور ایک روایت میں ہے کہ وہ باطل ہے، اگر سوبارشرط لگائے اﷲ تعالٰی کی شرط زیادہ حق والی اور زیادہ پختگی والی ہے۔ اس کو شیخین نے ام المومنین(سیدہ عائشہ صدیقہ) رضی اﷲ تعالٰی عنہا سے روایت کیا۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
(۱؎ صحیح البخاری کتاب الشروط باب الشروط فی الولاء قدیمی کتب خانہ پشاور ۱/ ۳۷۷)
(صحیح مسلم کتاب العتق باب بیان ان الولاء لمن اعتق قدیمی کتب خانہ پشاور ۱/ ۴۹۴)
مسئلہ۳۳۸:ازقصبہ جائس ضلع رائے بریلی محلہ غور یاں کلاں مرسلہ محمد حسن صاحب ۸جمادی الاولٰی ۱۳۳۶ھ
اہالیان جائس کا دستور قدیم رہا ہے کہ اپنے مقابر میں مساجد بھی بنادیا کرتے تھے جس پر مسافران و خود اہالیان قصبہ وقف بے وقف نماز ادا کیا کرتے تھے زمانہ کے دستبرد سے بعض ایسی مسجدیں تودہ خشت بن کر رہ گئیں اور بعض اب بھی موجود ہیں ایسے تود ہائے خاک وخشت کو فضیلت مسجد حاصل ہے یانہیں اور وہ مسجد کے حکم میں ہے یا نہیں ؟ اگرنہیں ہے تو آیا وہاں اینٹوں کو فروخت کرکے اپنے صرف میں لانایا اس قطعہ زمین میں اپنا مسکن بنانا یا مزروعہ کرکے کاشت میں لانادرست ہے یانہیں؟اور اگر کسی نے ایسا کیا ہے تو اس کے لئے کیا حکم ہے؟
الجواب
مقبرہ اگر وقف ہے اور مقابر عامہ غالباً وقف ہی ہوتے ہیں تو جو مسجد واقف نے قبل وقف بنائی کہ اتنے حصہ کو مسجد اور باقی کو مقبرہ کیا وہ ابد الآباد تک مسجد ہے اگرچہ ویران ہوجائے
ھو الصحیح وبہ یفتی
( یہی درست ہے اور اسی پر فتوٰی ہے۔ت) اس حالت میں تو اس کا آباد کرناواجب اور اس میں آداب مسجد لازم،اور اسے زراعت وغیرہ سے اپنے تصرف میں لانا حرام، اوراگر زمین مقبرہ کےلئے وقف ہوچکی تھی، اس کے بعد اس کے کسی حصہ کو مسجد کیا اگرچہ خود واقف نے تو وہ مسجد نہیں ہوسکتا، نہ آداب مسجد کا مستحق ، مگر ذاتی تصرف زراعت وغیرہ اس میں بھی حرام کہ وہ مقبرہ کےلئے وقف ہے اور مقبرہ تصرفات سے آزاد، اور اگر وہ مقبرہ وقف نہیں جیسے دیہات میں مالکان دیہہ کی اجازت سے لوگ دفن ہوتے ہیں بے اسکے کوئی قطعہ مقابرکے لئے معین کرکے وقف کیا جائے اس میں اگر مالک نے مسجد بنائی یا دوسرے نے، اور مالک نے اسے جائز کیا تو وہ مسجد ہوگئی، اور اس کا وہی حکم ہے جو پہلے گزرا کہ اس کا ادب لازم، اور اس میں تصرف حرام، بشرطیکہ وہ زمین خالی میں بنائی گئی ہو، نہ قبور پر کہ قبروں کی زمین صالح مسجد یت نہیں اور اگر غیر مالک نے بنائی اور مالک نے جائز نہ کیا تو وہ مسجد نہیں، مالک کو اس میں تصرف کا اختیار ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔