Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۶(کتاب الشرکۃ، کتاب الوقف )
90 - 112
مسئلہ۳۳۲: ہدایت یارخاں از شاہ پور جہلم رسالہ چھاؤنی نمبر۵ڈاکخانہ چک نمبر۳۸رسالہ براہ ملک پنجاب ۹جمادی الثانی ۱۳۳۴ھ
بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم،یافتاح، بخدمت فضیلت پناہ، عالی دستگاہ، جناب فیض مآب پیر صاحب، دام اﷲ تعالٰی فیضکم، السلام علیکم ورحمۃ اﷲ علیکم،
 واضح رائے عالی ہو کہ ایک مسجد شریف ایک آبادی میں تھی، اب وہ لوگ وہاں سے چلے گئے اور وہ مسجد جنگل میں رہ گئی اس مسجد قدیم کا اسباب اٹھاکر دوسری مسجد جو بنائی جائے درست ہے یا نہیں؟بینواتوجروا۔ خداتعالٰی سایہ رحمت تا دیر برسر ماغریباں قائم رکھے، آمین ثم آمین!
الجواب

وعلیکم السلام ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ،۔ اگر اس مسجد کے آباد رکھنے، حفاظت کرنے کا کوئی طریقہ نہ ہو اور یوں جنگل میں چھوڑ دی جائے گی تو چور اور متغلب لوگ اس کا مال لے جائیں گے تو جائز ہے کہ اس کا اسباب وہاں سے اٹھاکر دوسری جگہ مسجد بنائیں اور یہ کام ہوشیار اور دیانتدار مسلمانوں کی نگرانی میں ہو وھو اعلم فقط۔
مسئلہ ۳۳۳: ۱۳ذی القعدہ ۱۳۲۲ھ

کیافرماتے علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ جب میت کے واسطے دفن کرنے کے لے جاؤ، اور دفن کرو تو اجازت متولی قبرستان کی واسطے دفن کرنے میت کے لینا ضرورہے اور عمرو کہتا ہے کہ قبرستان اور مسجد وقف ہیں وہ کسی کی ملکیت نہیں ہوتے ہیں اجازت لینے کی کچھ ضرورت نہیں، اگر قبرستان میں اجازت کی ضرورت ہوگی تو مسجد میں بھی بلااجازت نماز پڑھنا درست نہ ہوگا، متولی صرف مسجد کے جھاڑو وغیرہ دینے کو ہوتا ہے ایسے ہی تکیہ میں واسطے صفائی کے ہوتا ہے جس کو تکیہ دار کے نام سے پکارتے ہیں تکیہ اور مسجدعام مسلمانوں پر وقف ہے جس کا دل چاہے جس مسجد میں نمازپڑھے اور جس قبرستان میں چاہے اپنا مردہ دفن کرے۔بینواتوجروا۔
الجواب

زید غلط کہتا ہے، اس کا قول شرع شریف پرمحض افتراء ہے، مقبرہ عام مسلمانوں کے لئے وقف ہوتا ہے، ہر مسلمان کو اس میں دفن کاحق پہنچتا ہے، مقبرہ کا متولی کوئی چیز نہیں، نہ اس کی اجازت کی حاجت نہ ممانعت کی پرواہ ہے۔
 عالمگیری میں ہے:
 لافرق فی الانتفاع فی مثل ھذہ الاشیاء بین الغنی والفقیر حتی جازللکل النزول فی الخان والرباط والشرب من السقایۃ والدفن فی المقبرۃ کذافی التبیین۱؎۔
ان اشیاء سے انتفاع حاصل کرنے غنی وفقیر کے درمیان کوئی فرق نہیں یہاں تک کہ ہر شخص کو سرائے اور خانقاہ میں نزول کاحق ہے اسی طرح ہرشخص وقف سبیل سے پانی پی سکتا ہے اور قبرستان میں مردہ دفن کرسکتا ہے۔ یونہی تبیین میں ہے(ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیۃ کتاب الوقف  الباب الثانی عشر فی الرباطات  نورانی کتب خانہ پشاور  ۲/ ۴۶۶)
اسی میں ہے:
لوبنی مسجداً لاھل محلۃ وقال جعلت ھذاالمسجد لاھل ھذاالمحلۃ خاصۃ، کان لغیراھل تلک المحلۃ ان یصلی فیہ ھکذا فی الذخیرۃ۱؎۔
اگر کسی نے ایک محلہ والوں کےلئے مسجد بنائی اور کہہ دیا کہ میں نے یہ مسجد خاص اس محلہ والوں کےلئے بنائی ہے تو اس محلہ والوں کے غیر کوبھی اس میں نماز پرھنے کااختیار ہے، اسی طرح ذخیرہ میں ہے۔(ت)

(۱؎ فتاوٰی ہندیۃ     کتاب الوقف    الباب الحادی عشرفی المسجد    نورانی کتب خانہ پشاور     ۲/ ۵۸۔۴۵۷)
بلکہ مقبرہ کا عموم مسجد کے عموم سے بھی بہت زیادہ ہے بہت لوگ ہیں جنہیں مسجد سے روکنے کا حکم ہے مثلاً جذامی اور ابرص جس کا برص شائع ہو یا جس کے منہ یا بدن یا لباس میں بدبو ہو یا جس کے آنے سے فتنہ اٹھے جیسے غیر مقلد وہابی یا رافضی وغیرہم،
درمختار میں ہے:
 اٰکل نحوثوم یمنع منہ(ای من المسجد) وکذاکل موذ ولو بلسانہ۲؎۔
تھوم کھانے والے کو مسجد سے روکا جائے گا اسی طرح ہر موذی کو روکا جائے گا اگرچہ وہ زبان سے ایذاپہنچاتا ہو۔(ت)

(۲؎ درمختار     کتاب الصلٰوۃ     باب مایفسد الصلٰوۃ     مطبع مجتبائی دہلی     ۱/ ۹۴)
ردالمحتار میں ہے:
قال الامام العینی فی شرحہ علی صحیح البخاری یلحق بمانص علیہ فی الحدیث کل مالہ رائحۃ کریھۃ ماکولا او غیرہ، وکذٰلک الحق بعضہم من بفیہ بخراوبہ جرح لہ رائحۃ وکذلک القصاب والسماک والمجذوم والابرص اولٰی بالالحاق، وقال سحنون لااری الجمعۃ علیھماواحتج بالحدیث والحق بالحدیث کل من اذی الناس بلسانہ وبہ افتی ابن عمر (رضی اﷲ تعالٰی عنہما) وھو اصل فی نفی کل من یتأذی بہ ۱؎اھ بالاختصار۔
امام عینی نے اپنی شرح صحیح بخاری میں فرمایا کہ حدیث کے ساتھ ہر اس شیئ کو ملحق کیا جائے گا جس میں ناگوار بدبو ہو چاہے کھانے کی چیز یا کوئی اور، اسی طرح بعض نے ملحق کیا اس شخص کو بھی جس کے منہ سے بدبو آتی ہو یا اس کوایسا زخم ہو جس سے ناپسندیدہ بو آتی ہو، اسی طرح قصاب، مچھلی کا گوشت بیچنے والا اور جذام وبرص کا مریض۔ تو الحاق کےلئے اولٰی ہے۔ اور سحنون نے کہاکہ میں ان دونوں(مجذوم وابرص) پر جمعہ فرض نہیں سمجھتا اور دلیل حدیث کو قرار دیا اور حدیث کے ساتھ زبان سے لوگوں کو ایذادینے والے ہر شخص کو ملحق کیا گیا ہے اور حضرت ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما نے اس پر ہی فتوٰی دیا اور یہ اصل ہے ہر اس چیز کی نفی میں جس سے اذیت پہنچتی ہواھ (اختصارا)۔(ت)
(۱؎ ردالمحتار کتاب الصلٰوۃ   باب مایفسد الصلٰوۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۴۴۴)
مگر مقبرہ اہلسنت میں کسی سنی مسلمان کو ممانعت نہیں ہوسکتی،
لعدم الوجہ وحصول الاذن من جھۃ الشرع۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
کیونکہ ممانعت کی کوئی وجہ نہیں اور شرع کی طرف سے اذن حاصل ہے۔(ت) واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۳۳۴:ازبانٹوہ ملک کاٹھیاوار مرسلہ مولوی محمد عبدالمطلب ۱۱ ربیع الاول شریف ۱۳۳۲ھ
چہ می فرمایند علمائے دین ومفتیان شرع متین اندریں مسئلہ
 (کیافرماتے ہیں علمائے دین اور شرع متین کے مفتیان کرام اس مسئلہ میں کہ۔ت) ایک مرد نے مقبرہ بنایایعنی گنبد پختہ سطح دار اوراس میں صندوقیں تیار کرائیں اور ایک مسجد نیز اس مقبرہ کے جوار میں بناء کی اوراب وہ چاہتا ہے کہ اس مقبرہ مذکورکو مسجد کے سطح کے ساتھ ملاکر برائے بانگ ونماز وقف کردیا جائے اور اب ایسے مقبرہ کی سطح پر نماز پڑھنا درست ہے کہ جس میں حالاً دو تین میت مدفون کی گئی ہیں اور آئندہ نیز ہوں گی اور اس کی سطح کو مسجد سے ملانا اور وقف کرنا برائے بانگ نماز شرعاً درست ہے یانہ؟بحوالہ کتب معتبرہ جواب سے مشکور وممنون فرمائیں۔
الجواب

اگر زمین مقبرہ اس کی ملک ہے اور اب تک اس نے وقف نہ کی اگرچہ بعض اموات اس میں دفن ہوگئیں تو اگر صرف اس کی چھت کو وقف کرے گا اور زمین بدستور اپنی ملک رکھے گا تو وہ چھت وقف نہ ہوگی
لکونہ وقف منقول قصدامن دون تعارف
 (کیونکہ یہ وقف منقول ہے قصداً بغیر تعارف کے۔ت) اور اگر زمین کو بھی مسجد کے لئے وقف کردے گاتو چھت کا وقف بھی صحیح ہوجائے گا اور اگر زمین کو مقبرہ کیلئے وقف کرچکا ہے تو عمارت مقبرہ قبل از وقف بنائی ہے یابعد، اگر قبل از وقف بنائی ہے تو کچھ حرج نہیں، چھت کو اذان ونماز کے لئے وقف کردے ہوجائے گی
لحصول التابید بوقفیۃ الاخری وان کانت موقوفۃ علی جھۃ اخری علی ماھو الاصح ووقف البناء علی المقابر لایصح کما فی الخانیۃ والھندیۃ وغیرہما فھو علی ملکہ ولہ وقفہ علی مایشاء۔
کیونکہ دوسری مرتبہ وقف کرنے سے تابید ودوام حاصل ہوجائے گا اگرچہ وہ دوسری جہت پر موقوف تھی زیادہ صحیح قول کے مطابق اور عمارت کو قبرستان پر وقف کرنا صحیح نہیں جیسا کہ خانیہ وہندیہ وغیرہ میں ہے چنانچہ وہ اس کی ملک میں ہے اور اس کو اختیار ہے جس پر چاہے وقف کرے(ت)
اوراگر بعد وقف بنائی ہے تو یہ عمارت خود ہی ناجائز ہے کہ مقابر موقوفہ میں عمارت بنانے کی اجازت نہیں تو اس پر اذان وغیرہ کےلئے بھی چھت بنانا بھی نہیں ہوسکتا
لانہ یستحق الازالۃ لاالادامۃ
(کیونکہ وہ مستحق ہے اس بات کی کہ اس کو زائل کیا جائے نہ کہ اس کو دوام بخشا جائے۔ت) اسی طرح وہ زمین مقبرہ اس کی ملک نہ تھی بلکہ وہ قبرستان وقف تھا جس میں اس نے عمارت بنالی جب بھی حکم عدم جواز ہے، واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۳۳۵: مسئولہ سید مظفر علی صاحب مدرس مدرسہ کریمہ خانقاہ سلون ضلع رائے بریلی ۳۰ربیع الثانی ۱۳۳۲ھ                  کیافرماتے ہیں علمائے دین وواقفان شرع متین اس مسئلہ میں، قبرستان کہ جس میں بہت سی قبریں مومنین ومومنات کی ہیں ستون سے مسقف کرکے کہ سب قبریں چھت کے نیچے رہیں اس چھت پر چلے پھرے اور بیٹھے اٹھے اور دوسرے حوائج انسانی ادا کرے تو عندالشرع جائز ہے یاناجائز ؟ بینواتوجروا۔
الجواب

اگر وہ قبرستان وقف ہے جیسے کہ عام مقابر ہوتے ہیں تو زمین وقف میں اس کے خلاف تصرف کی اجازت نہیں ہوسکتی
فی الھندیۃ لایجوز تغییرہ الوقف عن ھیأتہ۱؎
 (ہندیہ میں ہے کہ وقف کو اس کی ہیأت سے متغیر کرنا جائزنہیں۔ت) اور اگر ملک غیر ہے تو اس میں بے اجازت مالک تصرف ناجائز ہے،
 (۱؎ فتاوٰی ہندیۃ     کتاب الوقف    الباب الرابع عشر فی المتفرقات     نورانی کتب خانہ پشاور     ۲/ ۴۹۰)
قال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لیس لعرق ظالم حق۲؎۔
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا کہ عرق ظالم کا کوئی حق نہیں(ت)
 (۲ ؎ صحیح البخاری     کتاب الحرث والمزارعۃ     باب من احیاء ارضا ومواتا    قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱/ ۳۱۴)

(سنن ابوداؤد         کتاب الخراج     باب احیاء التراث العربی بیروت    آفتاب عالم پریس لاہور  ۲ / ۸۱ )
اور اگر اس کی اپنی ملک ہے تو اس طرح مسقف کرنا کہ دیوار یا پایہ عین کسی قبر پر نصب ہو جائز نہیں کہ اس میں میت کی ایذاء ہے
کما نطقت بہ احادیث اوردناھافی الامر باحترام المقابر
 (جیسا کہ متعدد حدیثیں اس پر ناطق ہیں جن کو ہم نے "الامر باحترام المقابر"میں ذکرکیا ہے۔ت) اور مسلمان کی ایذاحیاًہو یا میتاً ہرطرح حرام ہے،
قال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یا صاحب القبر انزل من علی القبر لاتؤذی صاحب القبر ولایؤذیک۱؎وفی حدیث عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ انی اکرہ اذی المسلم فی مماتہ کما اکرہ اذاہ فی حیاتہ۲؎۔
نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ قبر سے اترجا، نہ تو صاحب قبر کو ایذاء پہنچا نہ وہ تجھے ایذاء پہنچائے، حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی حدیث میں ہے کہ میں بعد از موت مسلمان کی ایذا کو اتنا ہی مکروہ جانتا ہوں جتنا حالت حیات میں اسے ایذاء دینا مکروہ خیال کرتا ہوں۔(ت)
 (۱؎ الترغیب والترھیب     بحوالہ الطبرانی     الترھیب من الجلو س علی القبر     مصطفی البابی مصر    ۴/ ۳۷۴)

( مرقاۃ المفاتیح         بحوالہ الطبرانی     باب فی دفن المیت    الفصل الاول         مکتبہ امدادیہ ملتان    ۴/ ۶۹)

( مجمع الزوائد     باب البناء علی القبور    دارالکتاب بیروت    ۳/ ۶۱) 

(۲؎ مرقاۃ المفاتیح     بحوالہ سعید بن منصور، باب فی دفن المیت    الفصل الاول، مکتبۃ امدادیہ ملتان     ۴/ ۶۹و۷۹)
مگر اس صورت میں کہ قبور بے اجازت کے غصباً بنی ہوں تو اسے اختیار ہے کہ زمین خالی کرے یا صبر کرے یہاں تک کہ میت بالکل خاک ہوجائے اور اس کےلئے بہت زمانہ دراز درکار ہے اس وقت ان قبور پر عمارت بناسکتا ہے،
کما فی الدرجاز زرعہ والبناء علیہ۳؎وقد حققناہ فی اھلاک الوھابیین علی توھین قبور المسلمین۔
جیساکہ درمیں ہے کہ اس میں زراعت کرنا اور عمارت بنانا جائزہے اور بے شک ہم نے توہین قبور مسلمین کی تحقیق رسالہ ''اھلاک الوہابیین علٰی قبور المسلمین'' میں کردی ہے۔(ت)
 (۳؎ الدرالمختار        باب صلٰوۃ الجنازۃ     مطبع مجتبائی دہلی     ۱/ ۱۲۶)
اور اگر زمین اس کی ملک ہے اور قبور کے باہر باہر دیواریں یا ستون قائم کرکے مسقف کرتا ہے تو جائز ہے اور اس چھت پر چلنا پھرنا اٹھنا بیٹھناوغیرہا افعال کی بھی اجازت ہے کہ یہ سقف مکان  ہے سقف قبر نہیں
کما نصوابجواز الصعود علٰی سطح بیت فیہ مصحف کما فی الدرروغیرہ
(جیساکہ مشائخ نے اس پر نص کی ہے کہ اس مکان کی چھت پر چڑھناجائز ہے جس میں قرآن مجید ہو، جیساکہ درر وغیرہ میں ہے۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم۔
Flag Counter