کیافر ماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ذیل میں، کیاکسی مجبوری کی حالت میں بموجب شریعت یہ جائز ہے کہ عمارت مسجد پختہ یا خام دوسری جگہ منتقل کردی جائے اور زمین مسجد پر مکان یا راستہ وغیرہ بنالیا جائے اور اس کے عوض میں دوہری جگہ مناسب زمین لے کر اس پر مسجد بنوادی جائے اور اس کا ملبہ وغیرہ سب اسی میں لگادیا جائے اور خوبصورت بنوادی جائے۔بینواتوجروا۔
الجواب
مسجد کو دوسری جگہ منتقل کرنا اور اس کی زمین پر راستہ یا مکان بنانا سب اشد حرام قطعی ہے اگرچہ اس کے عوض دوسری جگہ سونے کی مسجد بنوادی جائے، مجبوری کی تفصیل لکھی جائے کہ اس پر جواب ہو۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۳۲۶: ازبیلپور ضلع پیلی بھیت مرسلہ مولوی عرفان علی صاحب رضوی سلمہ ۱/شوال۱۳۳۹ھ کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندؤوں کو مسجد کے کنویں سے پانی بھرنے کی اجازت دینے کا کیاحکم ہے اور کیا شرعاً وہ مسجدکے کنویں سے پانی بھرسکتے ہیں؟ یہاں خلافت کمیٹی والوں نے ہندو مسلم اتحاد کی بناء پر کچہری کلکٹری کی مسجد کے کنویں سے ہندوؤں کو پانی بھرنے کی اجازت دی ہے،کنواں مسجد میں ہے تین طرف عین مسجد یعنی فرش مسجد ہے اور ایک جانب فصیل اور وضو کے پانی کی نالی ہے۔ خلافت کمیٹی والے کہتے ہیں کہ فناء مسجد یعنی نالی اور فصیل کی جانب سے داخل ہوکر ہندو پانی بھرسکتےہیں اگرچہ آنکھوں سے دیکھا گیا کہ اہل ہنود برابر عین مسجد میں داخل ہوتے ہیں اور پانی بھرتے ہیں، کیامسلمانان شہر پر فرض ہے کہ حتی الامکان مسجد کو اہل ہنود کی دسترس سے بچائیں۔
الجواب
بلاشبہ مسلمانوں پر لازم ہے کہ مسجد کو مشرکین کی بے حرمتی سے محفوظ کریں اورخلافت کمیٹی کی ہندوپرستی پر لحاط نہ کریں۔ ان لوگوں نے مسجدمیں جاکر پانی بھر نادر کنار بارہا مساجد میں ہندؤوں کولے جاکر مسلمانوں کا واعظ بنایا ہے، فصیل مسجد بھی حکم مسجد میں ہے۔
فتاوٰی عالمگیری میں ہے:
الفناء تبع المسجد فیکون حکمہ حکم المسجد کذافی محیط السرخسی۱؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
فناء مسجد مسجد کے تابع ہوتا ہے لہذااس کاحکم وہی ہے جو مسجد کا ہوتا ہے جیساکہ محیط سرخسی میں ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیۃ کتاب الوقف الباب الحادی عشر فی المسجد نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۴۶۲)
مسئلہ۳۲۷تا۳۲۸: ازمحمد پور وڈہرہ والا تحصیل احمد پور ڈاکخانہ خاص مسئولہ مولوی غلام فرید ۷شوال ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ان مسئلوں میں کہ:
(۱) ایک مسجد کہنہ مسقف جس کے یمین شمال مشرق میں میدان پڑا ہے جس کے جوانب محدود بدیوار ہائے پختہ ہیں گنبد ہائے مسجد گر گئے ہیں اور دیوار جنوبی بھی گرگئی ہے جس کی خشتہائے پختہ بہت عرصہ سے خراب ہورہی ہیں، کیا بموجب شرع شریف یہ خشتہا کسی دوسری مسجد پریا ان کو بیچ کراسی مسجد کہنہ کی تعمیر پر رقم صرف کرنا جائز ہے ورنہ مسجد میں بھی یوں ہی منہدم رہے گی اور خشتہا بھی ضائع ہوجائینگی۔
(۲) سامان مسجد شریف مثل خشتہائے پختہ وکڑی ہائے کہنہ وغیرہ آوارہ پڑی ہیں اور مسجدشریف بھی اس سامان سے مستغنی ہے تو کیا وہ سامان مسجد کا دوسری مسجد پر لگایا جائے یا نہیں؟اگر لگایا جائے تو کسی کی اجازت سے قیمت لی جائے یا خیراتی؟بینواتوجروا۔
الجواب
(۱) ان اینٹوں کا دوسری مسجدمیں دینا حرام ہے اسی مسجد کی تعمیر میں صرف کی جائیں، اور اگر اس مسجد کی تعمیر میں ان کی حاجت نہ ہو مثلاًدیوار شکستہ بن چکی یا اور مضبوط اینٹوں یا پتھروں سے بنانے کا ارادہ ہے تو انہیں متولی یا متدین جماعت محلہ بکمال امانت ودیانت بیچ کر اسی مسجد کی تعمیر ہی میں صرف کریں مسجد کے دوسرے کام میں اس قیمت کا خرچ کرنا حرام ہوگا
والتفصیل الکامل فی فتاوٰنا
(تفصیل کامل ہمارے فتاوٰی میں ہے۔ت)
(۲) ان انقاض کا دوسری مسجد میں دے دینا حرام ہے کسی کی اجازت سے نہیں دے سکتے ہاں جب کہ یہ مسجدان سے مستغنی ہے تو بیع کئے جائیں اور دوسری مسجد کے ہاتھ بیع کرنا اولٰی ہے کہ بدستور معظم رہیں گے وہ قیمت اسی مسجد کی تعمیر میں صرف ہو اور اس وقت تعمیر کی حاجت نہ ہو تو متولی امین متدین کے پاس اسی مسجد کی حاجت تعمیر کےلئے امانت رہے اور کام میں صرف کرنا ہر گز جائز نہیں۔بیع متولی کرے اگر وہ نہ ہو تو امین متدین جماعت محلہ۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ۳۲۹: ازسر شتہ اسلام کمیٹی آگرہ جامع مسجد مسئولہ عبدالرشید سرشتہ دار کمیٹی ۷شوال ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ا س بارے میں کہ نماز یان مسجد کی رائے ہے کہ صحن مسجد کی توسیع کےلئے دکانات متعلقہ مسجد کی چھت پرایک کمرہ تعمیر کیا جائے تا کہ اوپر کی چھت پر مسجد کا صحن ہوجائے اور نیچے اس کے ایک کمرہ ہوجائے مسجد بہت اونچی ہے جب دکانوں پر کمرہ بنے گا تو کمرہ کی چھت صحن مسجد سے برابر ملے گی، اس طرح توسیع صحن کرنا جائز ہے یانہیں؟ بینواتوجروا۔
الجواب
جائز ہے، اس میں کوئی حرج نہیں، اور مسجد جب بھرجائے تو اس کمرے کی چھت پر پڑھنے والوں کو بھی مسجد ہی کا ثواب ملے گا اگرچہ وہ کمرہ صرف وقف علی المسجد رہے۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ۳۳۰: ازدو کوہہ ڈاک خانہ چھاؤنی جالندھری مسئولہ سید حاجی منور شاہ ۲۷شوال ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے اہلسنت اس مسئلہ میں کہ ایک گاؤں میں ایک مسجد تقریباً پچاس برس سے موجود ہے جس کو اس گاؤں کے اہل سنت نے مل کر تعمیر کیا تھا جب سے اب تک ہر نماز اس میں ادا کرتے ہیں چند سال سے اس گاؤں میں چند لوگ رافضی ہوجانے کے سبب اہلسنت سے ہمیشہ چھیڑ چھاڑ رکھتے ہیں کچھ عرصہ سے ان لوگوں نے اس بناپر کہ اس مسجد کی تعمیر میں ہمارے آباواجداد بھی شامل تھے اس لئے ہمیں بھی اذان و نماز کا حق حاصل ہے، قرائن سے یہ معلوم ہوتاہے کہ مسجد پر قبضہ کرلینا چاہتے ہیں اور سنیوں کو بے تعلق کرنا منظور ہے، جھگڑے فساد کا یقین کامل ہے، استفتاء یہ ہے کہ مسجد مذکور میں اہلسنت وروافض اذان ونماز اداکرسکتے ہیں یانہیں اور روافض کے سنی آبا واجداد کے تعمیر مسجد میں شریک ہونے سے انہیں مسجدپر دخل وتصرف کا حق حاصل ہے یانہیں؟بینواتوجروا۔
الجواب
روافض زمانہ علی العموم کفار مرتدین ہیں
کما حققناہ فی ردالرفضۃ بما لامزید علیہ
(جیسا کہ ہم اس کی تحقیق اپنے رسالہ''ردالرفضہ'' میں اس انداز سے کرچکے ہیں جس پر کسی اضافہ کی ضرورت نہیں۔ت)
رافضی جب شیخین کریمین (صدیق وعمر) رضی اﷲ تعالٰی عنہما کو گالیاں بکے یاان پرلعنت بھیجے تو وہ کافر ہے(ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیۃ کتاب السیر الباب التاسع فی احکام المرتدین نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۲۶۴)
قال اﷲ تعالٰی
ان اولیاؤہ الا المتقون۲؎۔
اﷲتعالٰی نے فرمایا : اس کے اولیاء تو پرہیز گار ہی ہیں۔(ت)
(۲؎ القرآن الکریم ۸/ ۳۴)
نہ ان کی اذان اذان، نہ ان کی نماز نماز۔
قال اﷲ تعالٰی
وقدمنا الٰی ماعملوامن عمل فجعلنٰہ ھباء منثورا۱؎۔
اﷲ تعالٰی نے فرمایا: جو کچھ انہوں نے کام کئے تھے ہم نے قصد فرماکر انہیں باریک باریک غبار کے بکھرے ہوئے ذرے کردیا کہ روزن کی دھوپ میں نظر آتے ہیں۔(ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۲۵/ ۲۳)
اور ان کے باپ دادا جبکہ اہلسنت تھے ا ورانہوں نے مذہب رفض اختیار کیا تو نہ وہ ان کے باپ رہے نہ یہ ان کی اولاد، نہ ان کے ذریعہ سے انہیں کوئی دعوٰی پہنچتا ہے،
قال اﷲ تعالٰی
انہ لیس من اھلک انہ عمل غیرصٰلح۲؎۔
واﷲتعالٰی اعلم۔
اﷲتعالٰی نے ارشاد فرمایا: اے نوح ! وہ تیرے گھروالوں میں نہیں بیشک اس کے کام بڑے نالائق ہیں۔ واﷲ تعالٰی اعلم (ت)
( ۲؎ القرآن الکریم ۱۱/ ۴۶)
مسئلہ۳۳۱: ۱۶محرم الحرام۱۳۳۴ھ
عبدالکریم خاں نے جو وارث چھوڑے وہ حسب تفصیل ہیں:عبدالشکورخاں وعبدالحکیم خاں وعبدالنبی خاں وکالے خاں پسران ومسماۃ مندھو زوجہ اپنے کو چھوڑا۔ ایک منزل مکان عبدالکریم خان نے اپنے زوجہ کو بعوض دین مہر کے دیا اور اس کا بیعنامہ مسماۃ مندھو کے نام تحریر کردیا۔ مسماۃ مندھو نے اس مکان کو بدست فدا حسین خاں ولد کالے خاں کے بیع کردیا جس کا لا دعوی مسماۃ مشہدی سے لکھوایاگیا۔ مسماۃ مندھونے جو وارث چھوڑے حسب تفصیل ذیل ہیں:عبدالشکور خاں وعبدالحکیم خاں وعبدالنبی خاں وکالے خاں پسران عبدالنبی خان فوت ہوئے انکے وارث حسب تفصیل ذیل ہیں: عبدالنبی خان وعلی محمد خاں وولی محمد خاں پسران۔ عبدالنبی خاں ومسماۃ کناومسماۃ اولیا بیگم زوجہ عبدالنبی خاں اور دختران عمراؤ واقبال کو چھوڑا۔ عبدالحکیم خان فوت ہوئے اس کے وارث حسب تفصیل ذیل ہیں:حاجی عبدالرحمٰن وعبدالرحیم خان ننھے خان پسران عبدالحکیم خان ولایتی بیگم وچھوٹی بیگم دختران عبدالحکیم خان وزوجہ معلوم کو چھوڑا۔ کالے خان فوت ہوئے ان کے وارث حسب تفصیل ذیل ہیں: فدا حسین خاں پسر کالے خان کو اپنا وارث چھوڑا ۔ فدا حسین خاں فوت ہوئے ان کے وارث حسب تفصیل ذیل ہیں: زوجہ اولٰی کا انتقال فدا حسین خان کے سامنے ہوگیا تھا، یہ نہیں معلوم کہ دین مہر ادا ہوایا معاف ہوا اور زوجہ اولٰی کے فوت ہونے کے بعد زوجہ ثانی کے ساتھ عقد ہوا جس کانام مشہدی بیگم ہے۔ مسماۃ مشہدی بیگم نے مہر معاف نہیں کیا ہے۔ زوجہ مشہدی بیگم لاولد اور زوجہ اولٰی بھی لاولد اور ایک چچاحقیقی عبدالشکور خان وعبدالمجید خاں وعبدالوحید خاں وعبدالعزیز خان پسران عبدالشکور خان اور چچازاد بھائی حاجی عبدالرحمٰن خان وعبدالرحیم خان وننھے خان پسران عبدالحکیم خان مرحوم اور چچازاد بھائی عبدالغنی خان وعلی محمد خان وولی محمد خان پسران عبدالنبی خان مرحوم یہ وارث چھوڑے۔ یہ جائداد جس قدر وقف ہوئی علاوہ مکان مسماۃ مندھو کے یہ کالےخان کی پیدا کی ہوئی تھی اور مکان جس کا بیعنامہ مسماۃ مندھو نے بنام فداحسین خان کیا عبدالکریم خان کا پیدا کردہ ہے جس سے مسماۃ مشہدی بیگم سے لادعوٰی لکھوادیا ہے اقرار نامہ پیش کرتا ہوں۔
منکہ مسماۃ مشہدی بیگم زوجہ فداحسین خان مرحوم وعبدالشکور خاں ولد عبدالکریم مرحوم وحاجی عبدالرحمان خاں وننھے خان وعبدالرحیم خاں پسران عبدالحکیم خان ساکن بریلی محلہ بہاریپور کے ہیں جو کہ جائداد مفصلہ ذیل مالیتی دو ہزار روپے حاجی کالے خاں مرحوم مورث اعلٰی ہمارے واقع محلہ بہاری پور بریلی کے ہیں اس کا تصفیہ باہمی رضامندی ہم سب ورثائے کالے خاں کے یہ قرار پایا کہ جائداد مذکورالصدر تاحیات مسماۃ مشہدی بیگم زوجہ فداحسین خاں کے قبضہ اورتصرف میں رہے گی اور اس کی آمدنی سے وہ تصرفات اپنے کرتی رہے اور علاوہ آمدنی کرایہ جائداد موقوفہ کے ایک روپیہ ماہواری تاحیات اپنی عبدالشکور خان وایک روپیہ ماہواری تاحیات مسماۃ حاجی عبدالرحمٰن دیا کریں اگر مسماۃ مشہدی بیگم دوسرا نکاح کرے یا عفت وعصمت سے گزربسرنہ کرے تو اس کو حق قبضہ اور آمدنی کرایہ جائداد مذکور اور وصول از ماہوار مقررہ عبدالشکور خان وحاجی عبدالرحمان خان باقی نہیں رہے گا اور بحال عقد ثانی اور فوت مسماۃکے یہ جائداد واسطے مصرف مسجد بی بی جی صاحبہ واقع بریلی محلہ بہاری پور وقف متصور ہوگی۔ مسماۃ خواہ دیگر ورثا کو حق وصول زر کرایہ دکانات ومکانات کا حاصل نہ ہوگا۔ جو شخص متولی مسجد ہے یا آئندہ کو ہوگا وہی متولی جائداد مذکور کا ہوگا، ہم مقران یا کسی متولی کو منصب انتقال جائداد بذریعہ بیع ورہن وغیرہ کے نہ ہوگا مرمت شکست ریخت دکانات ومکانات کے مسماۃ اپنے پاس سے کرتی رہے گی اگر خدانخواستہ کوئی دکان و مکان بالکل منہدم ہوجائے تو اس کی تعمیر مسجد بی بی صاحبہ اپنے سرمایہ سے بذریعہ متولی مسجدکے کرے گی، مکان خام موروثی مسکونہ عبدالشکور خاں وعبدالرحیم خاں وننھے خاں وغیرہ میں مسماۃ مذکور کو کچھ تعلق اور دعوٰی نہ ہوگا لہذا ان سب مراتب پر اقرار لاکر یہ اقرار نامہ لکھ دیا کہ سند ہو۔
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ فداحسین خاں ولد کالے خاں نے زوجہ مشہدی بیگم اور چچا عبدالشکور چھوڑ کر انتقال کیا عبدالحکیم خاں کے دوسرے چچا تھے جو فدا حسین خان سے پہلے گزرگئے جائداد کہ فداحسین خان کی پیداکردہ ہے اور مکان کہ فداحسین خان نے اپنی دادی مندھو سے خریدا جو اسے اس کے شوہر نے دین مہر میں دیا تھا ان متروکات فداحسین خاں کے نسبت ایک اقرار نامہ مشہدی بیگم وعبدالشکور خان اور پسران عبدالحکیم خان حاجی عبدالرحمٰن خاں وعبدالرحیم خاں وننھے خاں نے اس مضمون کالکھا کہ جو کہ جائداد مفصلہ ذیل حاجی کالے خاں مرحوم ہمارے مورث عالی کی ہے اس کا تصفیہ برضامندی ہم سے ورثائے کالے خاں کے یہ قرارپایا کہ جائداد مذکور الصدر تاحیات مشہدی بیگم کے قبضہ وتصرف میں رہے گی اس کی آمدنی سے وہ اپنے تصرفات کرتی رہے اور علاوہ آمدنی کرایہ جائداد موقوفہ کے ایک روپیہ ماہوار تاحیات اپنی عبدالشکور خان اور ایک روپیہ ماہوار تاحیات مسماۃ حاجی عبدالرحمن خان دیا کریں اگرمشہدی بیگم دوسرا نکاح کرے یا عفت وعصمت سے گزر نہ کرے تو ان کوقبضہ اور آمدنی کرایہ جائداد مذکور اور وصول ماہوار مقررہ نہ رہے گا اور بحالت عقد ثانی اور فوت مسماۃکے یہ جائداد واسطے مصارف مسجد بی بی جی صاحبہ کے وقف متصور ہوگی مسماۃ دیگر ورثاکو حق وصول زر کرایہ دکانات کا حاصل نہ ہوگا مرمت شکست ریخت مکانات دکانات کی مسماۃ اپنے پاس سے کرتی رہے گی، اگر کوئی دکان مکان بالکل منہدم ہوجائے اس کی تعمیر مسجد اپنے سرمایہ سے کرے گی مکان خام موروثی مسکونہ عبدالشکور خاں وعبدالرحیم خاں وغیرہ میں مسماۃ کو کچھ دعوی نہ ہوگا فقط۔
اس صورت میں یہ دکان ومکان وقف ہوگئے یانہیں؟مشہدی بیگم کس چیز کی مستحق ہے اگر وہ نکاح ثانی کرے تو ا س کاکیا اثر ہے؟مکان خرید کردہ فداحسین خاں جس سے لادعوٰی لکھایا گیاہے وہ ہو ایا نہیں؟مشہدی بیگم ماہوار مذکور عبدالشکور خان وحاجی عبدالرحمٰن خاں سے پانے کی مستحق ہے یا نہیں؟بینواتوجروا۔
الجواب
عبارت اقرار نامہ عجب مختل ہے صورت واقعہ اگر وہ ہے کہ سوال میں مذکور ہوئی تو وہ جائداد حاجی کالے خان کی ہے، نہ عبدالشکور وپسران عبدالحکیم خاں حاجی کالے خان کے وارث ہیں اس کا وارث ننھا فدا حسین خان تھا اور جائداداس کی بھی نہیں فدا حسین خان کی ذاتی یا خرید کردہ ہے بہر حال اس کا مالک صرف فداحسین خاں تھا جسکے وارث فقط مشہدی بیگم زوجہ اور عبدالشکور خان چچا ہیں، مگر اس کا اس اقرار میں شریک ہونا قضاءًان پرحجت ہوگا اور جائداد متروکہ کالے خاں قرار پائے گی لیکن اس سے بھی پسران عبدالحکیم خاں کو اس سے تعلق ثانت نہ ہوگا کہ کالے خان کا بیٹا فداحسین خاں موجود تھا اس کے ہوتے بھتیجوں کا وارث ہونا کوئی معنی نہیں رکھتا پھر جائداد کی نسبت ابتداء میں بطور اشارۃ النص لفظ موقوفہ واقع ہوا مذہب مفتٰی بہ میں اگرچہ صرف اسی قدر سے وقف ہوجاتا ہے۔
درمختار میں ہے:
اکتفی ابویوسف بلفظ موقوفۃ فقط قال الشھید ونحن نفتی بہ للعرف۱؎۔
امام ابویوسف نے وقف کے لئے صرف لفظ موقوفہ پر اکتفاء فرمایا، شہید نے کہا کہ ہم عرف کی بناء پراس کے ساتھ فتوٰی دیتے ہیں۔(ت)
(۱؎ درمختار کتاب الوقف مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۷۷)
مگر آگے عبارۃ النص یہ ہے کہ اگر مشہدی بیگم دوسرانکاح کریں یا عفت سے گزر نہ کریں تو یہ جائداد وقف متصورہوگی، یہ صراحۃ وقف کی تعلیق ہے اور دستاویز واحد کا اول وآخر کلام واحد ہے
کما نص علیہ فی الخیریۃ
(جیساکہ اس پر خیریہ میں نص کی گئی ہے۔ت) تو وہ لفظ موقوفہ کا اطلاق اس شرط سے مقید ہوا اور وقف کا کسی شرط پر تعلق کرنا اسے باطل کردیتا ہے۔
درمختار میں ہے:
شرطہ ان یکون منجزالامعلقاالابکائن۲؎۔(ملتقطا)
وقف کی شرط یہ ہے کہ وہ منجز ہو معلق نہ ہو ہاں شرط موجود کے ساتھ معلق ہوسکتا ہے(ت)
(۲؎ درمختار کتاب الوقف مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۷۷)
ردالمحتارمیں ہے:
اذاجاء غدا اواذاجاء راس الشھر اواذاکلمت فلانا او اذاتزوجت فلانۃ فارضی ھذہ صدقۃ موقوفۃ اوان شئت اواجبت یکون الوقف باطلا لان الوقف لایحتمل التعلیق بالخطر۳؎اھ من الوقف ومن اواخر البیوع۔
واقف نے کہا جب کل کا دن آئے یا جب میں فلاں سے کلام کروں یا فلاں عورت سے شادی کروں تو میری یہ زمین صدقہ موقوفہ ہوگی یا یوں کہا کہ اگر میں چاہوں یا پسند کروں، تو وقف باطل ہوجائیگا کیونکہ وقف قریب الہلاکت چیز سے معلق ہونے کا احتمال نہیں رکھتا اھ وقف اور اواخر کتاب البیوع۔(ت)
(۳؎ ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۳۶۰)
لیکن آگے یہ عبارت ہے کہ مرمت مسماۃ اپنے پاس سے کرتی رہے گی منہدم کی تعمیر مسجد کرے گی یہ اس صورت سے متعلق نہیں کہ مشہدی بیگم نکاح کرے یا مرجائے، موت کے بعد مرمت ناممکن اور بعد نکاح اسے جائداد سے بالکل بے تعلق ٹھہرایا گیا ہے اس کے ذمہ مرمت رکھنے کے کیا معنی، تو یہ ضرور اس کی حیات قبل نکاح کاذکر ہے اور اس وقت کے لئے کہا کہ منہدم کی تعمیر مسجد اپنے سرمایہ سے کرے گی اگر مسجد پر وقف نہیں تو تعمیر منہدم ذمہ مسجد ہونے کے کیا معنی، توبعد تنقیح تام اس مختل عبارت کامحصل یہ نکلاکہ مقرین نے یہ تمام جائداد فی الحال وقف کی اور مصارف میں یہ شرط لگائی کہ تاحیات مشہدی بیگم کے تصرف میں رہیں بشرطیکہ وہ بہ عفت بسرکرے اور دوسرانکاح نہ کرے اس وقت تک آمدنی اس کے لئے ہے اور شکست ریخت کی مرمت اس کے ذمہ ہے منہدم کی تعمیر مسجد خود کرے،تو اگرچہ جائدادفی الحال وقف ہے مگرآمدنی سے حق مشہدی بیگم بشرط مذکور متعلق ہے اگر یہ شرط مفقود ہو یعنی مشہدی بیگم نکاح کرلے یا عفت سے بسر نہ کرے تو اس وقت یہ جائداد ذات و منافع دونوں کے لحاظ سے خالص مسجد پر وقف متصور ہوگی یعنی آمدنی سے بھی مشہدی بیگم کوکوئی تعلق نہ رہے گا، یہ اس اقرار نامہ کا محصل منقح ہے،
وتصحیح الکلام اولٰی من اھمالہ مھما امکن۱؎کما نصوالہ علیہ فی الاشباہ وغیرہا۔
کلام کو حتی الامکان صحیح بنانا اس کو مہمل بنانے سے اولٰی ہے، جیسا کہ اشباہ وغیرہ میں مشائخ نے اس پر نص فرمائی ہے(ت)
(۱؎ الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدۃ التاسعۃ ادارۃ القرآن الکریم ۱/ ۱۶۸)
لہذا جائداد مذکور تمام وکمال مسجد بی بی جی صاحبہ پر وقف صحیح تمام نافذ ہوگئی مشہدی بیگم تا حیات وپابندی شرط مذکور صرف آمدنی کی مستحق ہے اور شرط مذکورکی پابندی نہ کرے تو آمدنی بھی خالص صرف مسجد کی ہوگی مشہدی بیگم کو اس سے تعلق نہ رہے گا، ماہوار کہ عبدالشکور خان وحاجی عبدالرحمٰن خان نے مقررکیا وہ ایک وعدہ ہے جس کا نباہنا ان کو مناسب ہے مگر مشہدی بیگم اس پر مجبور نہیں کرسکتی اگرچہ وہ شرط مذکور کی پابند بھی رہے مکان سے لادعوٰی صحیح نہیں
لان الابراء عن الاعیان باطلۃ
(کیونکہ اعیان سے برائت باطل ہے۔ت) اگر وہ داخل وقف نہ تھا تو حسب شرائط فرائض بعد ادائے مہر وغیرہ اس کا چہارم مشہدی بیگم کا اور تین حصے عبدالشکور خاں کے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔