مسئلہ۳۲۰: ازلکھنؤجھوائی ٹولہ بادشاہ محل کی ڈیوڑھی مسئولہ منشی انور علی ۱۰رمضان ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین وفضلائے شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص موذن مسجد ہے اور اس شخص مؤذن نے حجرہ مسجد جو وقف تھا اس میں اپنا دخل اور تصرف مالکانہ کرکے ایک مکان اوپر اس حجرہ کے بنایا اور حجرہ وقف کو اپنے مالکانہ تصرف اور ماتحت میں لاتا اور اس میں خانہ داری وسکونت کرتا ہے، آیا عندالشرع الشریف یہ جائز ہے یانہ اور اہل محلہ اس کو خارج کرسکتے ہیں یانہ؟بینواتوجروا۔
الجواب: حجرہ اگر سکونت مؤذن کےلئے واقف نے وقف کیا تھا اور اس نے اس کے اوپر کوئی عمارت اپنے روپے سے وقف کے لئے بناکر اس میں سکونت کی تواس پر الزام نہیں، نہ یہ کوئی تصرف مالکانہ ہے بلکہ مطابق شرط واقف ہے اور اگر حجرہ مسجد کے دیگر مصارف کےلئے وقف ہوا تھا جن میں سکونت مؤذن داخل نہیں، تو بیشک ناجائز ہے اور مہتممان مسجد اسے خارج کرسکتے ہیں۔ واﷲتعالٰی اعلم۔
مسئلہ۳۲۱: ازگرواڑہ ریاست بڑودہ مسئولہ یوسف علی خاں بہادر ۷ذی الحجہ ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص نے عرصہ دس سال سے اپنی کتابیں جامع مسجد بڑودہ میں فی سبیل اﷲ وقف کردی ہیں، عرصہ دس سال سےا نجمن اصلاح اہلسنت وجماعت کے قبضے میں ہیں اب وہ شخص رافضی کی طرفداری میں ہوکر کتب خانہ موقوف کو واپس اپنے قبضہ میں کرنا چاہتا ہے تو وہ شخص اس بات کا مستحق ہے کہ انجمن اہل سنت وجماعت کا قبضہ چھڑ ا کر اپنا قبضہ کرے یا کتابوں کو دوسری مسجد یا مدرسہ کی طرف منتقل کردے۔ بینواتوجروا۔
الجواب
اگر اس نے کتابیں مسجد جامع پر وقف کیں تو جائز نہیں کہ وہ کسی مدرسہ یا دوسری مسجد کی طرف منتقل کی جائیں۔
ردالمحتا رمیں ہے:
ظاہر اس کا یہی ہے کہ وہ اسی مسجد کے لئے مختص ہے اور یہی ظاہر ہے جبکہ خود واقف نے اسی مسجد کے لئے معین کردیا تھا(ت)
(۱؎ ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۳۷۶)
قنیہ میں ہے:
سبل مصحفا فی مسجد بعینہ للقرائہ لیس لہ بعد ذلک ان یدفعہ الٰی اٰخر من غیر اھل تلک المحلۃ للقرائۃ۲؎۔
کسی شخص نے قرآن مجید ایک خاص مسجد میں تلاوت کےلئے صدقہ کیا تو اب اس کو اختیار نہیں کہ وہ اس مسجد کے اہل محلہ کے علاوہ کسی دوسرے کو پڑھنے کےلئے دے۔(ت)
(۲؎ القنیۃ المنیۃ للتتمیم الغنیۃ کتاب الوقف کلکتہ انڈیا ص۲۱۳)
درمختارمیں ہے:
وبہ عرف حکم نقل کتب الاوقاف من محالھا للانتفاع بھا، والفقہاء بذٰلک مبتلون فان وقفھا علی مستحقی وقفہ لم یجز نقلھا و ان علی طلبۃ العلم وجعل مقرھا فی خزانتہ التی فی مکان کذا ففی جواز النقل تردد نھر۱؎۔
اسی سے کتب اوقاف کے انتفاع کی غرض کا اپنے مکانات سے منتقل کرنے کا حکم معلوم ہوگیا اور فقہاء اس کے ساتھ مبتلی ہیں پس اگر توواقف نے صرف اپنے وقف (یعنی اپنی مسجد و مدرسہ) کے مستحقوں کےلئے ان کتابوں کو وقف کیا ہے تو ان کو منتقل کرنا جائز نہیں اور اگر مطلقاً طالبان علم کیلئے وقف کیا اور ٹھکانا ان کتابوں کا اپنے اس خزانہ میں مقرر کیا جو فلاں مکان میں ہے تو منتقل کرنے کے جواز میں تردد ہے، نہر(ت)
(۱؎ درمختار کتاب الوقف مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۸۱)
ردالمحتار میں ہے:
الذی تحـصل من کلامہ انہ اذا وقف کتبا وعین موضعھا فان وقفھا علی اھل ذلک الموضع لم یجز نقلھا منہ لالھم ولا بغیرھم، وظاہرہ انہ لایحل لغیرھم الانتفاع بھا، وان وقفھا علی طلبۃ العلم فلکل طالب الانتفاع بھا فی محلہا وامانقلھا منہ ففیہ تردد ناشیئ مماقدمہ عن الخلاصۃ من حکایۃ القولین من انہ لو وقف المصحف علی المسجد ای بلاتعیین اھلہ قیل یقرأفیہ ای یختص باھلہ المترددین الیہ وقیل لایختص بہ ای فیجوز نقلہ الی غیرہ وقد علمت تقویۃ القول الاول بمامر عن القنیۃ۲؎۔
اس کے کلام سے جو معنی حاصل ہورہا ہے وہ یہ ہے کہ اگر واقف نے کتابوں کووقف کیا اور ان کےلئے مکان معین کردیا پھراگر صرف اسی جگہ والوں کےلئے وقف کیا تو اب منتقل نہیں کرسکتا نہ ان لوگوں کےلئے نہ دوسروں کےلئے۔ اس کا ظاہر یہ ہے کہ ان لوگوں کے غیر کےلئے ان کتب موقوفہ سے انتفاع حلال نہیں اور اگر ان کتب کو طالبان علم پر وقف کیا تو ان کتب کے محل معین میں ان سے ہر طالب علم کو انتفاع کا حق ہے لیکن ان کتابوں کو اس محل معین سے منتقل کرنے میں تردد ہے جو خلاصہ کے حوالہ سے ان دو قولوں سے پیدا ہوا جن کی سابق میں حکایت کی جاچکی ہے یہ کہ اگر کسی شخص نے قرآن مجید کسی مسجد پر وقف کیا مگر اس مسجد والوں کی تعیین نہیں کی تو ایک قول یہ ہے کہ اس کے ساتھ مختص نہیں لہذا اس کو منتقل کرنا جائز ہے تو تحقیق تو قول اول کی تقویت قنیہ کی تائید سے پہلے ہی جان چکا ہے۔(ت)
(۲؎ ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۳۷۶)
واقف کتب اگر کتابیں اسی مسجد میں رکھنا چاہتا اور قبضہ انجمن سے نکال کر اپناقبضہ متولیانہ رکھتا تو اس کے جواز کی طرف راہ تھی، امام ابویوسف کے نزدیک جائز تھا، اشباہ میں فرمایا
بہ یفتی
(اس پر فتوٰی ہے۔ت)، اور امام محمد کے نزدیک ناجائز تھا جب تک وقت وقف یہ شرط نہ کرلیتا کہ متولی کے بدلنے کا مجھے اختیار ہے۔ صاحب ہدایہ نے تجنیس میں فرمایا:
الفتوی علی قول محمد
(فتوی امام محمد رحمہ اﷲ تعالٰی کے قول پر ہے۔ت) اور اسی پر علامہ قاسم نے تصحیح القدوری اور خود صاحب اشباہ نے اپنے رسائل میں جزم فرمایا کہ ناجائز ہے، لیکن اگر وہ قبضہ اس لئے چاہتا ہے کہ کتابیں دوسری جگہ منتقل کردے تو اس کی اجازت نہ دیں گے اور اگر رافضی کو متولی کرنے کے لئے یہ حیلہ کرتا ہے تو بالاتفاق ہر گز ہرگز جائز نہیں کہ رافضی کا متولی کرنا حرام محض ہے
کما حققناہ فی الفتوی الاولٰی
(جیسا کہ پہلے فتوے میں ہم اس کی تحقیق کرچکے ہیں۔ت) اس صورت میں اگر واقف خود پہلے سے متولی ہوتا فوراً وہ خود نکال لیا جاتا کہ اس سے وقف کی بدخواہی ثابت ہوئی ہے
کما تقدم من الدر ینزع وجوبا ولوالواقف غیرمامون۱؎
(جیساکہ در کے حوالے سے گزرچکاہے کہ وقف متولی سے وجوباً لے لیا جائے گا اگرچہ خود واقف ہو جب وہ امانت دار نہ ہو۔ت)واﷲ تعالٰی اعلم۔
(۱؎ درمختار کتاب الوقف مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۸۳)
مسئلہ۳۲۲: ازاودے پور میواڑ مہارانی ہائی اسکول مرسلہ مولوی وزیر احمد صاحب ۱۸صفر ۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کافر اگر اپنی خوشی سے زمین دے کہ اس زمین میں مسجد بنالو یا کوئی سامان دے کہ مسجد میں لگالو،یا روپیہ دے کہ اس کو بھی مسجد میں لگانا، تو اس کی یہ چیزیں مسجد میں لگاناجائز ہے یانہیں؟
الجواب
کافر اگر زمین اپنی ملک رکھ کر مسلمانوں کو اس پر مسجد بنانے کی اجازت دےتو وہ مسجد مسجد ہی نہ ہوگی فان الکافر لیس اھلا لوقف المسجد(کیونکہ کافر وقف مسجد کی اہلیت نہیں رکھتا۔ت) ہاں اگر کافر کسی مسلمان کو اپنی زمین ہبہ کرکے قبضہ دے دے کہ مسلمان مالک ہوجائے اور وہ مسلمان اپنی طرف سے اسے مسجد کرے تو صحیح ہے سامان اگرکافر نے ایسادیا کہ بعینہٖ مسجد میں لگایا جائے گا جیسے کڑیاں یا اینٹیں تو جائزنہیں کہ وہ مسجد کےلئے وقف کا اہل نہیں وہ مال اسی کی ملک رہے گا اور مسجد میں ملک غیر کا خلط صحیح نہیں، ہاں یہاں بھی اگر مسلمان کو تملیک کردے اور مسلمان اپنی طرف سے لگائے تو حرج نہیں، مسجد میں لگانے کو روپیہ اگراس طور پردیتا ہے کہ مسجد یا مسلمانوں پر احسان رکھتا ہے یا اس کے سبب مسجد میں اس کی کوئی مداخلت رہے گی تو لینا جائز نہیں اور اگر نیاز مندانہ طور پر پیش کرتا ہے تو حرج نہیں جب کہ اس کے عوض کوئی چیز کافر کی طرف سے خرید کر مسجد میں نہ لگائی جائے بلکہ مسلمان بطور خود خریدیں یاراجوں مزدوروں کی اجرت میں دیں اور اس میں بھی اسلم وہی طریقہ ہے کہ کافر مسلمان کو ہبہ کردے مسلمان اپنی طرف سے لگائے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۳۲۳تا۳۲۴: ازبریلی مدرسہ منظر اسلام مسئولہ مولوی رمضان علی بنگالی۲۰صفر ۱۳۳۸ھ کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ:
(۱) ایک محلہ میں دو مسجد ہیں اور دونوں مسجد کے متولی ایک ہی آدمی ہیں فی الحال محلہ کے سب آدمی بالاتفاق دونوں مسجد کے اسباب سے ایک مسجد تیار کرنی چاہتے ہیں، شرعاً دونوں مسجد کو ایک مسجد بنانا جائزہے یانہیں؟
(۲) کسی مسجد میں کڑی، چونا، اینٹ وغیرہ زائد ہے کسی کام میں صرف نہیں ہوتا اگر بہ رائے سب مصلی کے اس اسباب کو دوسری مسجد میں بھیجنے یا کوئی شخص اپنے کام کےلئے خرید کرلے جائے یامحلہ کے آدمی تقسیم کرکے لے جائیں تو جائزہے یانہیں؟
الجواب
(۱) اگر یہ چاہتے ہیں کہ دونوں مسجدوں کو معدوم کرکے تیسری جگہ مسجد بنائیں تو یہ حرام حرام سخت حرام اشد ظلم ہے،
قال اﷲ تعالٰی
ومن اظلم ممن منع مسٰجد اﷲ ان یذکرفیہا اسمہ وسعٰی فی خرابھا۱؎۔
اﷲ تعالٰی نے فرمایا: اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اﷲ کی مسجدوں کو ان میں اﷲ کا نام لئے جانے سے روکے اور ان کی ویرانی میں کوشش کرے ایسوں کے لئے دنیامیں رسوائی اور آخرت میں بڑا عذاب۔
(۱؎ القرآن الکریم ۲/ ۱۱۴)
اور اگر دونوں مسجدیں متصل ہیں یہ چاہتے ہیں کہ بیچ کی دیوار ہٹاکر دونوں کو ایک کرلیں تو یہ جائز ہے۔
اشباہ ودرمختار میں ہے:
لاھل المحلۃ جعل المسجدین واحدا۲؎۔
اہل محلہ کو اختیار ہے کہ دو مسجدوں کو ایک کرلیں۔(ت)
(۲؎ درمختار کتاب الصلٰوۃ باب مایفسد الصلٰوۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۹۴)
(۲) اہل محلہ یا کوئی اسے اپنے تصرف میں کرلے یہ حرام، اسے دوسری مسجد میں دے دیں یہ حرام۔ اسے بیچ کر اس کی قیمت اسی مسجد کی تعمیر و مرمت کےلئے محفوظ رکھیں یہ جائز۔واﷲ تعالٰی اعلم۔