Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۶(کتاب الشرکۃ، کتاب الوقف )
87 - 112
مسئلہ۳۱۹: مولوی غلام محی الدین صاحب راندیری۱۳شعبان ۱۳۳۹ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ قصبہ جام نگر (علاقہ کاٹھیاوار) میں دو مسجدیں ایسی مسلمان بائیوں(عورتوں) کے نام سے بنی ہوئی ہیں کافر راجہ نے ان کو باوجود اسلام پر قائم رہنے کے اپنی ہی مجامعت میں ہمیشہ کےلئے قائم و دائم زبردستی کرکے رکھا ایک فاطمہ بائی کی مسجد راجہ سے مال کثیر لے کر اصل پرانی مسجد پر اپنے مسلمان ناظر نوکر کے مال حوالہ کرکے مسجد بنائی ہے۔ اسی طرح دوسری امرت بائی کی مسجد نو تعمیر ہوکر امرت بائی کے نام سے مشہور ہے۔دوسرے راجہ کے وقت میں قصبہ ہذا میں سات مسجدیں سات بائیوں کے نام سے پچاس سال ہوئے ہیں بنائی ہیں:

ایک دھن بائی کی مسجد جو جامع مسجد دھن بائی کی مشہور ہے پرانی مسجد پر اس کی تعمیر ہوئی۔

دوسری ناتھی بائی کی مسجد رافضی پورہ محلہ میں پرانی مسجد کو شہید کرکے نئی بنائی گئی ہے۔

تیسری جان  بائی کی ٹاور کی مسجد، یہ بھی ایک پرانی مسجد شہیدکرکے نئی بنائی گئی ہے۔

چوتھی دالبائی کی مسجد جو پرانی جیل کے قریب بالکل نئی تعمیر کی گئی ہے۔

پانچویں رتن بائی کی مسجد لنگھاواڑ میں نئے سرے سے بنائی گئی ہے، قبل ازیں یہاں کوئی مسجد نہ تھی۔

چھٹی ہنس بائی کی مسجد جو ملک لوگوں کی مسجد تھی اس کو شہید کرکے وسیع پیمانے پر بنائی گئی ہے۔

ساتویں چھوٹی دھن بائی کی مسجد جو گجراتی واڑ میں کہنہ خورد مسجد کو شہید کرکے اسی پر بنائی گئی ہے۔

یہ عورتیں مسلمان صوم وصلوٰۃ کی پابند تھیں اور کافر راجاؤں کے جبر سے مرتے دم تک ان کے مکان میں رہیں،اور راجاؤں سے ان عورتوں نے مال حاصل کرکے اپنے نوکر مسلمان ناظر کو مال حوالہ کردیا اور ان ناظروں نے مسجدیں بنواکر مسلمانوں کے قبضہ میں کردیں اور تا ایں دم مسلمان کے قبضہ میں ہیں۔ یہ عورتیں مرچکی ہیں ان کی ہر ایک کی قبر ہر مسجد کے فنا میں بنی ہوئی ہے، اور ان میں سے جو مسجدیں سابق پرانی مسجدوں کو شہیدکرکے تعمیر کی گئی ہیں، ان کے فنا میں اولیاء کے مزاربھی ہیں، ان مسجدوں کے ان بائیوں کے نام سے موسوم ہونے پر کافر کاروپیہ لگنے کے باعث اگرچہ ان عورتوں میں سے ہر ایک نے اپنے نوکر ناظر مسلمان کو حوالہ کرکے مسجد کی تعمیر کرائی ہے اور مسلمانوں کے قبضہ میں کردی گئی ہیں باوجود اس کے مسلمانوں کے دو گروہ ازاں دم تا ایں دم چلے آتے ہیں، ایک گروہ ان مسجدوں میں نماز پڑھنا جائز سمجھتا ہے اور دوسرا گروہ بوجوہ بالاناجائز سمجھ کر ان میں نماز نہیں پڑھتا اور پڑھنے والے کو روکتا ہے، معترض گروہ نے اپنے استدلال میں ایک عربی رسالہ بھی لکھا ہے جو منسلک استفتاء ہذا ہے۔ قائلین جواز اکثر فتاوٰی کی عبارت پیش کرتے ہیں۔ یہ مسجدیں اپنے مصارف کےلئے قطعاً کسی کی محتاج نہیں ہیں کیونکہ ہر مسجد اپنے تعلق میں دکانیں رکھتی ہے۔ موجودہ کافر راجہ کو اگر یہ معلوم ہوجائے کہ ان مسجدوں میں بحکم شرع شریف نماز ناجائز ہے تو وہ ان کے انہدام میں ایک لمحہ دیر نہ لگائے اور مسجدیں دکانیں جن کی عمارت تقریباً ۵لاکھ بلکہ زائد ہوگی مسلمانوں کے قبضہ وتصرف سے نکل جائینگی اور مزارات اولیاء کرام جوان مسجدوں کی فناء میں واقع ہیں مسمار کردئے جائینگے، آپ نہایت تفصیل سے عام فہم زبان میں ارشاد فرمائیں کہ حکم شرع شریف کیا ہے تاکہ مسلمانوں میں فساد مذکورہ بالاکی بیخ کنی ہوجائے۔بینواتوجروا۔
الجواب: وہ مسجدیں شرعاً مساجد ہیں اور ان میں نماز قطعاً جائز، اور ان کا ہدم ظلم شدید، اور ان نماز پڑھنے سے روکنا، ان کی ویرانی میں کوشش کرنا حرام۔
قال اﷲ تعالٰی
ومن اظلم ممن منع مسجد اﷲ ان یذکر فیہا اسمہ وسعٰی فی خرابھا۱؎۔
اﷲ تعالٰی نے فرمایا:اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اﷲ کی مسجدوں کو ان میں نام الٰہی لینے سے روکے اور ان کی ویرانی میں کوشش کی۔
(۱؎ القرآن الکریم ۲/ ۱۱۴)
عربی رسالے میں اجرت زنا کی حرمت کا بیا ن ہے اس میں کسے کلام ہے مگر اسے یہاں سے کیا علاقہ، اور ان مسجدوں کی ابطال مسجدیت سے تو اسے اصلاً مس نہیں، یہاں نہ اجارہ ہو انہ وہ مال کہ ان عورتوں نے پایا اجرت تھا، نہ ان کے لئے حکم حرمت تھا، اور بالفرض ہوتا تو ان مسجدوں کو مسجد نہ ماننا جہالت تھا، 

اولاً اجارہ کہ بیع منافع ہے مثل بیع محتاج ایجاب وقبول وتراضی طرفین ہے، اور سوال میں زبردستی کرکے رکھا، کافر راجاؤں کے جبر سے رہیں تو نہ کوئی اجارہ تھا نہ ایجاب و قبول، خود رسالہ عربیہ میں اقرار کیا ہے کہ صورت مبحوث عنھا میں عقد اجارہ نہیں تو مسئلہ اجرت زنا کی بحث بیکار تھی۔ رہا رسالہ کا یہ گمان کہ جب بے عقد ہے تو بدرجہ اولی حرام ہے کہ اب اس کی حرمت پر اتفاق ہے، 

ذخیرۃ العقبٰی میں ہے:
مااخذتہ الزانیۃ ان کان بعقد الاجارۃ فحرام عندھما وان کان بغیر عقد فحرام اتفاقا لانھا اخذتہ بغیر حق کذا فی المحیط۱؎۔
جو کچھ زانیہ نے لیا اگر عقد اجارہ کے طور پر ہے صاحبین کے نزدیک حرام ہے اور اگر بلا عقد ہے تو بالاتفاق حرام ہے کیونکہ زانیہ نے اس کو ناحق لیا ہے جیسا کہ محیط میں ہے(ت)
 (۱؎ ذخیرۃ العقبٰی     کتاب الاجارۃ     باب الاجارۃ الفاسدہ    نولکشور کانپور    ۳/ ۵۱۲)
اقول:  یہ ہی وہ نافہمی ہے جس نے غلطی میں ڈالا، بلاوجہ کسی کا مال لے لینا کہ بالاتفاق حرام ہے مال معصوم میں ہے جو کہ مسلمان یا ذمی یا مستأمن کا مال ہے ان کے غیر کامال کہ بلاعذر ملے خصوصاً جو خود اس کی رضا سے ہو اس کی حرمت کی کوئی وجہ نہیں اگرچہ بلاوجہ محض بلکہ بنام وجہ فاسد وناجائز مثل ربا وقمار وغیرہما ہو۔ ہدایہ وفتح القدیر میں ہے:
 (مالھم مباح) واطلاق النصوص فی مال محظوروانمایحرم علی المسلم اذا کان بطریق الغدر(فاذالم یاخذ غدرا فبای طریق یاخذہ حل) بعد کونہ برضا۲؎۔
 (ان کا مال مباح ہے) اور نصوص کا اطلاق مال ممنوع پر ہوتا ہے اور بیشک وہ (کافر حربی کا مال) مسلمان پر اسی صورت میں حرام ہوتا ہے جب بطور غدر لیا جائے، اور اگر غدر ودھوکے سے نہ لے تو جس طرح بھی حاصل کرے حلال ہے بشرطیکہ اس کا فر کی رضامندی سے ہو۔(ت)
(۲؎ فتح القدیر    کتاب البیوع    باب الرباء     مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر    ۶/ ۱۷۸)
مبسوط میں صدیق اکبر رضی اﷲ تعالٰی عنہ کا کفار مکہ سے نصرت مسلمین پر شرط باندھ کر مال لینا اور حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا اسے جائز رکھنا بلکہ خود بحکم حضور شرط میں اضافہ کرنا مذکور۔ 

محقق علی الاطلاق فرماتے ہیں:
وھو القمار بعینہ بین ابی بکر ومشرکی مکۃ وکانت مکۃ دار شرک۳؎۔
اور وہ سید صدیق اکبر رضی اﷲ تعالٰی عنہ اور مشرکین کے درمیان بعینہ جواتھا اور مکہ دار شرک تھا۔(ت)
 (۳؎فتح القدیر    کتاب البیوع    باب الرباء     مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر    ۶/ ۱۷۸)
ثانیاً جب ان کا رہنا بجبر واکراہ تھا تو عقد درکنار شرط زنا پر لینا بھی نہ ہوا تو رسالہ عربیہ کاکہنا کہ:
ماتاخذہ الزانیۃ علی الزنا بغیر عقد الاجارۃ حرام اتفاقا وھو المبحوث عنہ۔
جو کچھ زانیہ زنا پر بغیر عقد اجارہ کے لے وہ بالاتفاق حرام ہے اور یہ زیر بحث ہے(ت)

یوں بھی صحیح نہیں اور اب مال کافر کی بھی قید نہ رہی،
ففی الھندیۃ عن المحیط عن المنتقی ابراہیم عن محمد امرأۃ نائحۃ اوصاحب طبل او مزماراکتسب مالا قال ان کان علی شرط ردہ علی اصحابہ لانہ اذا کان الاخذ علی الشرط کان المال بمقابلۃ المعصیۃ فکان الاخذ معصیۃ والسبیل فی المعاصی ردھااما اذا لم یکن الاخذ علی الشرط لم یکن الاخذ معصیۃ والدفع حصل من المالک برضاہ فیکون لہ ویکون حلالالہ۱؎۔
پس ہندیہ میں محیط سے بحوالہ منتقی ابراہیم سے بروایت امام محمد منقول ہے کہ نوحہ کرنے والی عورت، ڈھول بجانے والے اور سارنگی بجانے والے نے جومال کمایا اگر وہ کسی شرط پر تھا تو وہ مالکوں کو واپس کریں کیونکہ جب اس کا لینا شرط پر ہوا تو وہ معصیت کے مقابلہ میں ہوا اور معاصی میں چھٹکارے کی سبیل اس کو مالکوں کی طرف لوٹانا ہے اور اگر وہ شرط کی بنیاد پر نہ تھا اس کا لینا معصیت نہ ہوااور یہ دینا خود مالک کی طرف سے اس کی رضاکے ساتھ متحقق ہوا لہذا وہ اس کے لئے حلال ہوگا۔(ت)
 (۱؎ فتاوٰی ہندیہ     کتاب الکراہیۃ    الباب الخامس عشر فی الکسب     نورانی کتب خانہ پشاور     ۵/ ۳۴۹)
ثالثاً حقیقت امریہ ہے کہ نواب وراجہ جو عورتیں رکھتے اور انہیں اپنا پابند کرتے ہیں اپنے زعم مردود میں انہیں مثل ازواج وکنیزاں رکھتے ہیں اور جو کچھ ادرار وما ہوار انہیں دیتے ہیں نہ بعوض زنا ہوتا ہے نہ بشرط زنا بلکہ نفقہ ازواج کی طرح جزاء احتباس سمجھ کردیتے ہیں ولہذا اگر ان میں بعض کی صورت بھی مہینوں نہ دیکھنے میں آئی ادرار میں فرق نہیں آتا یہ حبس ضرور ظلم و حرام ہے، اور اگر برضائے زنا ہوتو قطعاً یہ بھی عاصیہ کہ رضابالحرام حرام ہے لیکن جب بالجبر ہے تو اس کی طرف سے معصیت نہیں،
قال تعالٰی
 ومن یکرھھن فان اﷲ من بعد اکراھھن غفور رحیم۲؎۔
اﷲتعالٰی نے فرمایا: اور جوان پر جبر واکراہ کرے تو اﷲ تعالٰی ان عورتوں کے مجبور ہونے کے بعد بخشنے والا مہربان ہے۔(ت)
(۲؎ القرآن الکریم ۲۴/ ۳۳)
تو وہ ان کےلئے کسی طرح مقابل معصیت نہیں اور امام محمد کا ارشاد بلا دقت صادق کہ مال برضاء مالک ملا تو ان کے لئے حرام نہیں۔ علاوہ ماہوار بعض منظورات نظر کو اور اموال جو زائد دیتے ہیں مسلم کی طرف سے ہوتے تو ضرور حرام ہوتے کہ رشوت تھی،
والراشی والمرتشی کلاھما فی النار۱؎۔
رشوت دینے والا اور لینے والا دونوں جہنمی ہیں۔(ت)
(۱؎ کنز العمال     بحوالہ طب ص عن ابن عمر    حدیث ۱۵۰۷۷    موسسۃ الرسالہ بیروت    ۶/ ۱۱۳)

(الترغیب والترھیب     ترھیب الراشی والمرتشی     مصطفی البابی مصر    ۳/ ۱۸۰)
لینے والی مالک نہ ہوتی اور ان کا دینے والے کو واپس دینا فرض ہوتا۔
ہندیہ میں قنیہ سے ہے:
المتعاشقان یدفع کل واحد منھما لصاحبہ اشیاء فھی رشوۃ لایثبت الملک فیہا وللدافع استردادھا۲؎۔
باہمی معاشقہ کرنے والوں میں سے ہر ایک نے جو دوسرے کودیا وہ رشوت ہے اس سے ملک ثابت نہیں ہوتی اور دینے والے کو اختیار ہے کہ واپس لے لے۔(ت)
 (۲؎ فتاوٰی ہندیۃ     کتاب الھبۃ     الباب الحادی عشر فی المتفرقات     نورانی کتب خانہ پشاور    ۴/ ۴۰۳)
یہاں کہ دینے والا حربی غیر مستأمن ہے اور ان کی طرف سے غدر نہیں بلکہ برضائے مالک ہے تو بحکم استیلاء ان 

کی ملک ثابت اور ہدایہ کا ارشاد صادق کہ:
بای طریق اخذہ المسلم اخذمالا مباحا اذالم یکن فیہ غدر۳؎۔
مسلمان جس طرح بھی لے ایک مال مباح لیتا ہے جبکہ اس میں غدر نہ ہو۔
 (۳؎ الھدایۃ         کتاب البیوع    باب الربو        مطبع یوسفی لکھنؤ    ۳/ ۸۷)
خصوصاً وہ روپیہ کہ راجہ سے مسجد کےلئے مانگ کرلیا اور اس نے بخوشی دیا اسے زبردستی زیر حرمت مان لینا کیا معنی۔
رابعاً بالفرض یہ روپیہ حرام ہی ہوتا تو امام کرخی کے مذہب مفتی بہ پر مسجد کی طرف اس کی خباثت سرایت نہ کرسکتی جب تک اس پر عقد ونقد جمع نہ ہوتے یعنی وہ روپیہ دکھاکر بائعوں سے اینٹ کڑیاں زمین وغیرہا خریدی جاتیں کہ اس روپے کے عوض میں دے پھر وہی زرحرام ثمن میں ادا کیا جاتا۔ظاہر ہے کہ عام خریداریاں اس طور پر نہیں ہوتیں تو اب بھی ان مسجدوں میں اثر حرام ماننا جزاف و باطل تھا۔
تنویر الابصار میں ہے:
تصدق بالفلۃ لو تصرف فی المغصوب اوالودیعۃ وربح اذاکان متعینا بالاشارۃ اوبالشراء بدراہم الودیعۃ او الغصب ونقدھا، وان اشارالیہا ونقد غیرہا اوالٰی غیرہا اواطلق ونقدھا لا، وبہ یفتی۱؎۔
اور باقیماندہ منفعت کو صدقہ کرے، اگر اس نے مغصوب اور ودیعت میں تصرف کیااور اس سے نفع حاصل ہوا جبکہ وہ مغصوب یا و دیعت متعین ہو چاہے اشارہ سے متعین ہو یا غصب و ودیعت کے دراہم کے بدلے  خریدنے اور انہی دراہم کو اداکرنے سے متعین  ہواور اگر اشارہ دراہم  غصب وودیعت کی طرف کیا اور ادا دوسرے درھم کئے یا اشارہ دراھم غصب وودیعت کے غیر کی طرف کیا اور ادا دراہم غصب و ودیعت کئے یاذکر مطلق دراہم کا کیا بلااشارہ کے اور ادا دراہم غصب وودیعت کئے تو ان تینوں صورتوں میں منفعت صدقہ نہ کرے، اسی پر فتوٰی دیا گیاہے۔(ت)
 (۱؎ درمختار شرح تنویر الابصار    کتاب الغصب     مطبع مجتبائی دہلی     ۲/ ۰۶۔۲۰۵)
خامساً پورے تنزل کے بعد بالفرض سرایت خبث بھی سہی تو یہ خبث بوجہ فساد ملک ہوگا نہ بوجہ عدم ملک کہ بسبب استیلاء ملک زناں میں شبہ نہیں۔
درمختار میں ہے:
دخل مسلم دارالحرب بامان حرم تعرضہ لشیئ منھم فلواخرج شیئا ملکہ ملکا حراما للغدر فیتصدق بہ۲؎۔
اگر کوئی مسلمان دارالحرب میں امان لے کر داخل ہوا توان کی کسی چیز سے تعرض کرنا اس کو حرام ہے اگر وہ ان حربی کافروں کی کوئی چیز نکال لایا تو دغابازی کی وجہ سے اس کا مالک بہ ملک حرام ہوا لہذا اس کو صدقہ کردے۔(ت)
(۲؎ درمختار     کتاب الجہاد        باب المستأمن  مطبع مجتبائی دہلی   ۱/ ۳۴۶)
تو اس صورت میں بھی صحت مسجدیت وجواز نماز کےلئے روایات کثیرہ جلیلہ موجود ہیں ۔

متفرقات وقف عالمگیریہ میں محیط سے ہے:
لواشتری ارضاشراء فاسدافقبضھا واتخذھا مسجدا وصلی الناس فیہ ذکر ھلال رحمہ اﷲ تعالٰی فی وقفہ انہ مسجد وعلی المشتری قیمتھا ولاترد الی البائع قال ھلال ھذا قول اصحابنا فی المسجد والوقف علی قیاسہ۱؎۔
اگر کسی نے شراء فاسد کے ساتھ کوئی زمین خریدی اور اس پر قبضہ کرکے اس کو مسجد بنادیا اور لوگوں نے اس میں نماز پڑھ لی تو ھلال رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ نے وقف میں فرمایا کہ وہ مسجد ہے اور اس کی قیمت مشتری کے ذمے ہے اس کو بائع کی طرف نہیں لوٹایا جائے گا، ہلال رحمہ اﷲ نے فرمایا کہ ہمارے اصحاب کا یہ قول مسجد کے بارے میں ہے اور وقف کو اسی پر قیاس کیا جائیگا(ت)
 (۱؎ فتاوٰی ہندیۃ    کتاب الوقف    الباب الرابع عشر فی المتفرقات     نورانی کتب خانہ پشاور    ۲/ ۸۵۔۴۸۴)
فتاوٰی قاضیخاں نیز ہندیہ اوائل الوقف میں ہے:
لواشتری رجل داراشراء فاسداوقبضہا ثم وقفھا علی الفقراء والمساکین جاز وتصیر وقفا علی ماوقفت وعلیہ قیمتھا۲؎۔
اگر کسی نے شراء فاسد کے ساتھ گھر خریدا اور اس نے قبضہ کرلیا پھر اس کو فقراء ومساکین پر وقف کردیا تو جائز ہے اور وہ ان پر وقف ہوجائیگا جن پر اس نے وقف کیا اور اس کی قیمت اسی مشتری پر لاز م ہوگی۔(ت)
 (۲؎فتاوٰی ہندیۃ    کتاب الوقف    الباب الاول فی تعریفہ        نورانی کتب خانہ پشاور      ۲/ ۳۵۴)
تنویر الابصار احکام البیع الفاسد میں ہے:
فان وقفہ وقفا صحیحا نفذ۳؎۔
اگر اس کو وقف صحیح کے ساتھ وقف کیا تو نافذ ہوجائے گا۔(ت)
 (۳؎ درمختار شرح تنویر ابصار     کتاب البیوع     باب البیع الفاسد     مطبع مجتبائی دہلی     ۲/ ۲۹)
درمختارمیں ہے:
لانہ استھلکہ حین وقفہ واخرجہ عن ملکہ ومافی جامع الفصولین علی خلاف ھذاغیر صحیح کما بسطہ  المصنف۴؎۔
اس لئے کہ اس نے وقف کرکے اس کو ہلاک کر ڈالا اور اس کو اپنی ملک سے خارج کردیا، اور وہ جو جامع الفصولین میں اس کے خلاف آیا ہے وہ صحیح نہیں جیساکہ مصنف نے اس کو تفصیل سے بیان کیا۔(ت)
 (۴؎ درمختار    شرح تنویر ابصار     کتاب البیوع     باب البیع الفاسد     مطبع مجتبائی دہلی     ۲/ ۲۹)
ردالمحتار میں ہے:
فی جامع الفصولین لو وقفہ او جعلہ مسجدا لایبطل حق الفسخ مالم یبن اھ ای فالمانع من الفسخ ھوالبناء حملہ فی النھر علی احدی روایتین وھو اولی من التغلیط وحملہ فی البحر علی مااذا لم یقض بہ، قلت لکن المسجد یلزم بدون القضاء اتفاقا۱؎۔
جامع الفصولین میں ہے کہ اگر مشتری نے اس کو وقف کیا یا مسجد بنایا تو جب تک عمارت نہ بنادے حق فسخ باطل نہیں ہوتااھ یعنی مانع فسخ، عمارت ہے، صاحب نہر نے اس کودو روایتوں میں سے ایک پرمحمول کیا اور یہ اس کی تغلیط سے اولٰی ہے اور بحر میں اس کو اس پر محمول کیا کہ جب تک اس کے ساتھ قضاء واقع نہ ہو۔ میں کہتا ہوں لیکن مسجد توبغیر قضاء قاضی کے لازم وثابت ہوجاتی ہے بالاتفاق۔(ت)
 (۱؎ ردالمحتار     کتاب البیوع     داراحیاء التراث العربی بیروت    ۴/ ۱۲۶)
اسی کے اوائل وقف میں ہے:
صح وقف ماشراہ فاسدا بعد القبض۲؎۔
قبضہ کے بعد اس چیز کا وقف صحیح ہے جس کو شرا فاسد کے ساتھ خریدا ہو۔(ت)
 (۲؎ردالمحتار     کتاب الوقف  داراحیاء التراث العربی بیروت     ۳/ ۳۵۹)
نظر بحالت مذکورہ سوال انہیں پر فتوٰی واجب ہوتا
اذلایفتی فی الوقف الابما ھو انفع لہ
 (وقف میں صرف اسی پر فتوٰی دیا جاتا ہے جو اس کے حق میں زیادہ نافع ہو اس کے غیر پر فتوٰی نہیں دیا جاتا۔ت) نہ کہ ان مباحث عظیمہ کے ساتھ جوہم نے ابتداءً ذکر کیں جن کے بعد شبہ کو اصلاً گنجائش نہیں، وﷲ الحمد، واﷲ تعالٰی اعلم۔
Flag Counter