Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۶(کتاب الشرکۃ، کتاب الوقف )
86 - 112
مسئلہ۳۱۱: مسئولہ حافظ عبدالمجید از ضلع مراد آباد قصبہ بچھرایوں محلہ چودھریاں

کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ میرے باپ جناب قبلہ وکعبہ حاجی عبدالرحمٰن صاحب نے ۲جولائی ۱۸۹۹ء کو اپنی حقیت موضع کھادگوجر پرگنہ سانپور ضلع مرادآباد تعدادی مواضع چار بسوہ کو اور میرے بھائی حاجی عبد اللطیف خان صاحب اور مجھ حافظ عبدالمجید خاں نے اپنی حقیت سواسوابسوہ موضع کافور پور وچک کافور پور پر گنہ بانسٹہ ضلع بجنور کو بنا بر صرف مسجد و چاہ وپیاؤوقف کردیا مگر وہ جگہ جہاں مسجد وکنواں تیار کرانے کا خیال تھا وہ جگہ آبادی قصبہ بچھرایوں سے ڈیڑھ سو گز کے فاصلے پر جنگل میں جانب مشرق اور مسجد لب سڑک سے جو آبادی میں بنی ہوئی ہے دو سو گز کے فاصلہ پر ہے بعد وقف ہوجانے کے جو میری غیبت میں تکمیل ہوا تھا یہ خیال پیدا ہوا کہ اس جگہ مسجد کا بنانا کار آمد نہیں ہے کیونکہ اس موقع پر بوجہ نہ ہونے آبادی کے آباد نہیں رہ سکتی مگر یہ خیال جناب والد بزرگوں صاحب سے ظاہر نہ کرسکا تھا کہ میرٹھ اپنی ملازمت پر تشریف لے گئے وہاں سے ان کا والا نامہ صادر ہوا کہ فوراً مسجد کی تعمیر کرو میں نے بخوف ان کی ناراضی کے اپنا خیال تو ظاہر نہ کیا مگر بموجب ارشاد تعمیل یہ کردیا کہ دیہات سے چار ہیگاری جمع کرکے مسجد کی نیو معین بنیاد کندہ کرائی اور زمین برابر نیو چنوادی چونکہ موسم برسات آنے والا تھا والد بزرگوار قبلہ کو بطور عریضہ یہ عرض کیا کہ بنیاد بھروادی گئی اور تعمیر مسجد بعد برسات شروع کی جائے گی، ا سکے بعد میں خود جناب والد صاحب قبلہ کے پاس پہنچا اور ان سے اپنا خیال ظاہر کیا کہ مسجد تو بموجب ارشاد عالی بنادی جائے گی مگر اس کی آبادی کی کون سی صورت ہے، اول جناب والا وہاں پر اس کا زنانہ ومردانہ بنادیں اور میں وہاں محلہ آباد کرلوں تب مسجد تیار ہونی چاہئے، انہوں نے اس بات کو بخوبی منظور فرمالیا، اس عرصہ میں ان کا انتقال ہوگیا مگر کنواں وپیاؤ تیار ہوگیا تھا اور بدستور جاری ہے نہ مکان تھا نہ وہ آباد ہوا۔ ہم دونوں بھائی آپس میں جدا ہوگئے اور اس وقف کا بعد جناب قبلہ کے میں متولی رہا۔ ایک مسجد درمیان آبادی منہدم ہوگئی تھی، میں نے اس روپیہ سے وہ مسجد از سر نو بنوائی، اور وہ بنیاد مسجد جو جنگل میں بیگاروں سے بھروادی تھی اکھڑ واکر اس کی اینٹیں بھی اس میں لگواکر تیار کروادی، اب اس وقف کی رقم جمع ہے اور ایک مسجد محلہ جو میرے مردانہ مکان کے پیش دروازہ ہے از حد مرمت طلب ہورہی ہے اور کوئی صاحب اس کی طرف توجہ نہیں کرتے، میرا خیال ہے کہ اگر شرع شریف اجازت دے تو میں اس مسجد کی اس روپیہ سے مرمت کرادوں۔دوسرے یہ کہ وہ مسجد جہاں جنگل میں پہلے بنیاد بھروادی تھی اور وہ اس وجہ سے کہ یہ کسی وقت کارآمد وآباد نہیں ہوسکتی اکھڑ واڈالی گئی تھی، اس کا بنانا ضروری ہے یا اس مسجد کی مرمت کرادینا ضرور ہے؟
الجواب: جبکہ یہ صحیح ہو کہ وہ جگہ آباد نہیں ہوسکتی اور وہ مسجد کام میں بھی نہ آئے گی تو وہ مسجد نہ ہوئی، ان اینٹوں اور روپے کو دوسری مسجد میں صرف کرسکتے ہیں،
عالمگیری میں ہے:
رجل بنی مسجدا فی مفازۃ حیث لایسکنہااحد، وقل مایمربہ انسان لم یصر مسجدالعدم الحاجۃ الی صیرورتہ مسجداکذافی الغرائب۱؎۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
اگر کسی شخص نے جنگل میں مسجد بنادی جہاں کوئی بھی نہیں رہتا اور بہت کم ہی کسی انسان کا وہاں سے گزر ہوتا ہے تو وہاں مسجد نہیں ہوئی کیونکہ اس کے مسجد ہونے کی ضرورت نہیں، غرائب میں ایسا ہی ہے۔(ت)
 (۱؎ فتاوٰی ہندیہ    کتاب الکراہیۃ     الباب الخامس فی آداب المسجد    نورانی کتب خانہ پشاور    ۵/ ۳۲۰)
مسئلہ۳۱۲تا۳۱۳: از شہر محلہ باغ احمد علی خاں مسئولہ منشی فتح محمد صاحب ۸محرم الحرام۱۳۳۹ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ:

(۱) ایک مسجد اہل سنت وجماعت کی تعمیر ہورہی ہے اور اس کا چندہ جمع ہورہا ہے، اس مسجد میں کس کس مذہب کا پیسہ لگانا جائز ہے اور کس کس مذہب کا ناجائز؟

(۲) ایک مسجد رافضی کی تیار کی ہوئی ہے جو اس وقت ایک گوشہ میں ویران پڑی ہے اس میں اہلسنت وجماعت کی یہ رائے ہے کہ اس مسجد کو شہید کرکے دوسری جگہ مسجد تعمیر کرائی جائے اس کی زمین کا پیسہ دوسری مسجد اہلسنت وجماعت میں لگایا جائے تو جائز ہے یاناجائز؟اوراس مسجد کا اب کوئی فساد کرنے والا نہیں۔
الجواب

(۱) مسجد میں صرف اہلسنت کا پیسہ لیا جائے، کافروں یا مرتدوں کا ناپاک مال نہ لیا جائے۔

(۲) رافضی جو ایسا ہی مذہب رکھتا ہے جیسا کہ آج کل کے رافضیوں کا ہے اگر اس نے مسجد بنائی اور مرگیا تو اس کی مسجد کی زمین اور عملہ بیچ کر دوسری مسجد میں لگاسکتے ہیں جبکہ فساد کا اندیشہ نہ ہو۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۳۱۴: از حصار محمد عبدالرشید مدرسہ انجمن محاسن الاسلام احاطہ عبدالغفور خاں۱۴محرم۱۳۳۹ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ دکان مرہونہ مسجد کے نام کسی صورت میں جائز ہے یانہیں؟بینواتوجروا۔
الجواب: دکان کہ مسجد پر وقف کی گئی اور واقف نے شروط وقف میں اس کے بدلنے کی اجازت نہ لکھی وہ کسی طرح نہیں بک سکتی، مگر یہ کہ تباہ ویران ہوجائے اورکوئی صورت اس کی آبادی کی نہ رہے تو اسے بیچ کر دوسری جگہ دکان خرید کر متعلق مسجد کردے، یا دکان پر کسی ظالم کا قبضہ ہوگیا اور ا سسے کسی طرح رہائی نہیں ہوسکتی مگر دام دینے پر راضی ہے تو لیں اور دوسری دکان اس کی جگہ قائم کریں۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۳۱۵: از شہر کہنہ درگاہ شاہ دانا صاحب قدس سرہ مسئولہ رحمت علی صاحب ۱۳جمادی الآخر۱۳۳۹ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ شاہ دانا صاحب کا مزار شریف ایک چھوٹے سے احاطہ 

کے اندر نور افروز ہے اور اسی احاطہ میں ایک مسجد اور ایک خانقاہ جانب شمال دو تین گز کے فاصلہ سے واقع ہے خانقاہ قدیم الایام یعنی مزار شریف کی تعمیر کے زمانہ سے اب تک واسطے ٹھہرنے سیاحین زائرین مقرر ہے، چنانچہ اکثر اولیاء سابق در ویش اور سالکین استقامت کیش جو وقتاًفوقتاً واسطے زیارت اور حاصل کرنے مراد اور برکات کے دور دراز سے سفر کرکے آتے ہیں تو اسی خانقاہ میں ٹھہراکرتے ہیں اور جو کہ ایام عرس میں تخمیناًایک ہزار مرد و عورت ولڑکی لڑکے جوان بڈھے مزار اقدس میں جمع ہوتے ہیں اور یہ بھیڑبھاڑتقریباً ایک ماہ تک رہتی ہے تو اس ہنگامہ میں سوا اس مکان کے دھوپ اور بارش وغیرہ کے بچاؤ کے لئے اور کوئی مکان مطلق نہیں ہے اگر وہ مکان نہ ہوتو زائرین کو از حد پریشانی اور تکلیف ہو، دوسرے یہ کہ اس خانقاہ کے اندر دو ایک قبریں بھی ہیں اور ایک قبر خلیفہ ولایت علی صاحب کی بھی ہے کہ اس قبر کو ہموار کرکے اس پر لڑکے پڑھتے ہیں،اب اس خانقاہ اور شرقی حصہ صحن مزار شریف کو عرصہ تقریباً دو ایک ماہ سے بلا اجازت متولی صاحب وبغیر منشا خادمین جو پشت ہا پشت سے اس پر بطور مالکانہ کے قبضہ رکھتے ہیں، چند اشخاص وہابی محلہ شاہدانہ نے بتقریب تحکم مصلیان جدید اس میں جدید مدرسہ قائم کیا ہے، مدرسہ کے اکثر طلبہ جو خانقاہ میں قبریں ہیں ان پر بیٹھ کر پڑھتے ہیں اور صحن مزار شریف میں سوئے ادبی اور بازی اور رسہ کشی کرتے ہیں اور چھوٹے لڑکے ساتھ مسجد میں جاکر فرش مسجد اور لوٹوں کو ناپاک کرتے ہیں اس صورت میں اسلامی قانون نبوی کے مطابق مقام مذکور پر مدرسہ رکھ سکتا ہے یانہیں جبکہ بانی مبانی عمارت شریف کی یہ نیت اورمنشاء نہ ہواور متولی ان حرکات سے اور مدرسہ کے قیام سے قطعاً راضی نہ ہو اور مسافرین اور زائرین کی جگہ جبراًچھین لی ہو، اور لڑکے اس مقام متبرک پر گند باد سے بے ادبی کرتے ہوں اور قبروں کو نشست گاہ بنایا ہو۔بینواتوجروا۔
الجواب : اگر خانقاہ میں عاقل، بالغ، باادب، باتمیز اور قریب بلوغ متأدب لڑکوں کے لئے درس دینے کی اجازت دی جاتی اور قبور کی بیحرمتی نہ کی جاتی اور حاضرین پر ٹھہرنے کی جگہ تنگ نہ ہوتی اور ایام عرس شریف میں خانقاہ ان کے لئے خالی رہتی اور یہ سب کچھ عاریۃ ہوتا نہ کہ خانقاہ یا مسجد پر مالکانہ قبضہ تو حرج نہ تھا مگر مسجد کی بے حرمتی حرام اور اس میں بچوں کا جانا ممنوع۔
ابن ماجہ کی حدیث میں نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
جنبوامساجد کم صبیانکم ومجانینکم ورفع اصواتکم۱؎۔ اپنی مسجدوں کو اپنے بچوں، پاگلوں اور اپنی آوازیں اونچی کرنے سے بچاؤ۔(ت)
 (۱؎ سنن ابن ماجہ     ابواب المساجد    باب مایکرہ فی المساجد    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ص۵۵)
اور مسلمان کی قبرپر بیٹھنا یا چلنا ناجائزہے۔ 

حدیث میں ہے نبی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لان اطأ علی جمرۃ حتی مخلص الی جلدی احب الی من ان اطأ علی قبر مسلم او ماھذا معناہ۱؎۔
مجھے چنگاری پر پاؤں رکھنا یہاں تک کہ وہ جوتا توڑ کر کھال تک پہنچ جائے اس سے زیادہ پسند ہے کہ کسی مسلمان کی قبر پر پاؤں رکھوں۔
 (۱؎ صحیح مسلم     کتاب الجنائز     قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱/ ۳۱۲)

(سنن ابوداؤد     کتاب الجنائز    باب کراہیۃ القبور علی القبر     آفتاب عالم پریس لاہور    ۲/ ۱۰۴)

(الترغیب والترہیب     الترہیب من الجلوس علی القبر    مصطفی البابی مصر    ۴/ ۳۷۴)
دوسری حدیث میں ارشاد ہوا:
لان امشی علی سیف احب الی من ان امشی علی قبر مسلم۲؎۔ اوکما قال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم۔
مجھے تلوار پر چلنا مسلمان کی قبر پر چلنے سے زیادہ پسند ہے(جیساکہ نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا۔ت)
 (۲؎ سنن ابن ماجہ ابواب الجنائز    باب ماجاء فی النہی عن المشی علی القبور    ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ص۱۱۳)
فتاوٰی عالمگیریہ میں ہے:
یکرہ القعود علی القبر لان سقف القبر حق المیت۳؎۔
قبر پر بیٹھنا مکروہ ہے کیونکہ قبر کی چھت میت کاحق ہے۔(ت)
 (۳؎ فتاوٰی ہندیۃ     کتاب ا لکراہیۃ     الباب السادس عشر فی زیارۃ القبور    نورانی کتب خانہ پشاور    ۵/ ۳۵۱)
فتح القدیر ودرمختار وردالمحتار میں ہے:
المرور فی سکۃ حادثۃ فی المقابر حرام۴؎۔
قبر ستان میں جو نیاراستہ بنایا جائے اس میں چلنا حرام ہے۔(ت)
(۴؎ ردالمحتار کتاب الطہارۃ    فصل الاستنجاء     داراحیاء التراث العربی بیروت    ۱/ ۲۲۹)
اور مسلمان کی قبر کو ہموار کردینا اور بھی سخت حرام۔ حاضرین کے لئے جگہ تنگ کرنا جنکی اصل وضع خانقاہ ہے وقف میں تصرف بے جا اور مخالفت غرض واقف ہے کہ شرعاً ناجائز ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۳۱۶تا۳۱۸: ازضلع بردوانمقام رانی گنج مسئولہ میر ضامن سیکریٹری مدرسہ دارالعلوم ۹شعبان ۱۳۳۹ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین:

(۱) مسجد کی موقوفہ جائداد کا متولی مسجدیا مسجد کے متعلق مکان میں تنہا اپنی رائے سے کسی قسم کی ترمیم کرسکتا ہے یانہیں ایسی صورت میں کہ مصلیان مسجد اس ترمیم کے سخت مخالف ہوں۔

(۲) مسجد کی کوٹھری یا حجرہ یا مسجد کا مدرسہ آیا متولی موصوف کی ملکیت ہے یاان کا نظم ونسق وغیرہ۔ امام ومؤذن کی تقرری وبرخاستگی عام مصلیان مسجد کے اتفاق پر موقوف ہے مصلیان مسجد کو اس کے متعلق کوئی باز پرس کرنے کااور جمع خرچ کے سمجھنے کااختیار ہے یانہیں؟

(۳) مصلیان مسجد کے خلاف میں اگر کسی مسجد کا متولی دوسری مسجد کے نمازیوں کو اپنے ساتھ ملاکر مخالفت سے اس مسجد میں کوئی ناپسندیدہ کام کرنا چاہے اور اس کی قابل مرمت چیزیں خراب ہورہی ہوں تو مصلیان مسجد کو اس پر رکاوٹ کا مجاز اور متولی کو ان کا متفق الرائے کرنا ضروری ہے یانہیں؟بینواتوجروا۔
الجواب

(۱) اگر اس ترمیم کااختیار اسے واقف نے دیا تھا تو کرسکتا ہے ورنہ نہیں۔ یہ بات ملاحظہ شرائط وقف سے ظاہر ہوسکتی ہے۔

(۲) مسجد اور اس کے متصل کوئی شے نہ متولی کی ملک ہے نہ مصلیوں کی، نہ کسی غیر خدا کی، وہ سب خالص ملک الٰہی ہے، اوقاف مسجد کا انتظام متولی کے سپرد ہے اور امام ومؤذن کا نصب وعزل بانی مسجد یا اس کی اولاد پھر مصلیوں کے متعلق ہے متولی جو بات خلاف شرائط وقف کرے مصلی بلکہ عامہ مسلمین اس سے باز پرس کرسکتے ہیں۔ متولی امین ہے جب تک اس کی خیانت کا صحیح مظنہ نہ پیدا ہو وہ جمع خرچ سمجھانے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا۔

درمختار میں ہے:
سئل قارئ الھدایۃ عمن طلب محاسبۃ شریکہ فاجاب لایلزمہ بالتفصیل ومثلہ المضارب والوصی والمتولی۔ نھر۱؎۔
قارئ الہدایہ سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا گیا جو اپنے شریک سے محاسبہ کا سوال کرے تو قارئ ہدایہ نے جواب دیا کہ شریک پر مفصل جواب دینا لازم نہیں، اس کی مثل ہے مضارب، وصی اور متولی، نہر۔(ت)
 (۱؎ درمختار    کتاب الشرکۃ     مطبع مجتبائی دہلی     ۱/ ۳۷۳)
ردالمحتار میں ہے:
یحمل اطلاقہ علی غیر المتھم۲؎
 (اس کا اطلاق اس شخص پر محمول کیا جائیگا جس پر تہمت نہ لگائی جاتی ہو۔ت)
 (۲؎ ردالمحتار    کتاب الشرکۃ     داراحیاء التراث العربی بیروت    ۳/ ۳۴۷)
(۳) سائل نے ناپسندیدہ کام کی تفصیل نہ کی، ان کو ناپسندیدہ ہے یا شرعاً، جو شرعاً ناپسندیدہ ہے اس کا اختیار کسی کو نہیں، نہ وہ کسی کے متفق الرائے سے ہونے سے ہوسکتا ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
Flag Counter