مسئلہ۳۰۶: ازبمبئی نشان پاڑاکر اس روڈ بوساطت سید غوث پیران صاحب مرسلہ میمن آدم عبدالرحمٰن صاحب ۲جمادی الآخرہ۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین، ایک حنفی المذہب عورت نے انتقال کیاجس نے اپنی جائداد کے ساتھ ایک شوہر، دو بیٹیاں، ایک حقیقی بھائی اور ایک عم زاد بہن کا بیٹا چھوڑا اس کا ترکہ کس طرح تقسیم ہوگا۔ قبل از تقسیم ترکہ مرحومہ کی وفات کے دو سال بعد اس کے شوہر نے جائداد مذکورہ سے زمین کا ایک قطعہ مسجد بنانے کے لئے وقف کردیا جس پر بتوسل جماعت مسجد تعمیر کی گئی اور پنجوقتہ نماز بھی قائم ہوگئی، لیکن بعض لوگ اس میں عدم جوازنماز کے قائل ہیں کہ وقف صحیح نہ ہوا۔ مرحومہ کا شوہر یہ کہتا ہے کہ مجھ سے مرحومہ نے یہ وصیت کی تھی کہ مسجد کی عمارت کےلئے ایک قطعہ زمین وقف کرے اگر شرعاً یہ وقف صحیح نہ ہوگاتو میں اپنے حصہ رسدی سے اس وقف کو برقرار رکھوں گا۔ صورت مذکورہ میں وقف اول صحیح ہوکر نماز پڑھنا اس میں درست ہے یانہیں؟برصورت عدم جواز اپنے حصہ میراث سے وقف کا برقرار رکھنا جائز ہے یانہیں؟
الجواب: ترکہ متوفی حسب شرائط فرائض بارہ سہام ہوکر تین سہم شوہر، چار چار ہر دختر، ایک برادر کو ملے گا۔ عم زاد بہن کا بیٹا محروم ہے۔اگر صحیح ہے کہ مورثہ نے یہ وصیت کی تھی اور یہ قطعہ(بعد ادائے دین اگر ذمہ موروثہ ہو) ثلث متروکہ سے زائد نہیں تو وقف صحیح ونافذ ہوگیا اور وہ قطعہ مسجد اور اس میں نماز مسجد میں نماز۔یوہیں اگر ثلث متروکہ سے زائد ہو اور باقی ورثہ یعنی بیٹیاں اور بھائی سب عاقل بالغ اور سب اس وصیت کو قبول کیا اور جائز رکھا، جب بھی یہی حکم ہے۔ یونہی اگر وصیت ثابت نہ ہو اور شوہر نے ایک قطعہ معینہ جس میں باقی ورثہ کے بھی حصے تھے تعمیر مسجد کے لئے وقف کردیا اور باقی سب ورثہ نے بشرط عقل وبلوغ اسے جائز رکھا جب بھی یہی حکم ہے۔ ان سب صورتوں میں وہ مسجد ہوگیا،
وذٰلک لانہ فی الاخیر فضولی فی حصصھم وقد صدر منہ مالہ مجیزحین صدورہ وقد اجازوا فنفذ ولم یمنع الشیوع لعدمہ عند اجتماعھم علی تجویزہ قال فی ردالمحتار لوبینھما ارض وقفاھاودفعاھا معا الٰی قیم واحد جاز اتفاقا لان المانع من الجواز عند محمد ھو الشیوع وقت القبض لاوقت العقد ولم یوجد ھٰھنا۱؎۔
اور یہ اس لئے ہے کہ صورت اخیرہ میں وہ (شوہر) دیگر ورثاء کے حصص کو مسجد بنانے میں فضولی ہے اور یہ فعل اس سے اس حال میں صادر ہوا کہ صدور کے وقت اسکو جائز کرنے والا موجود ہے اور انہوں نے اس کی اجازت دے کر جائز کردیا اور شیوع یہاں مانع نہیں ہوگا کیونکہ جب وہ تمام اس کے جائز رکھنے پر مجتمع ہوگئے تو شیوع رہا ہی نہیں، ردالمحتار میں ہے دو شخصوں کی اگر مشترکہ زمین ہو اور دونوں نے معاًاس زمین کو وقف کرکے ایک ہی متولی کے حوالے کردیا تو بالاتفاق جائز ہے، اس لئے کہ امام محمد علیہ الرحمۃ کے نزدیک مانع جواز شیوع ہے جو وقت قبض ہو نہ کہ وقت عقد، اور یہاں وقت قبض شیوع نہیں پایا گیا(ت)
(۱؎ ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۳۶۵)
ہاں اگر کوئی وارث غیر عاقل یانابالغ ہے یا ان بعض نے اس تصرف کو جائز نہ رکھا بے وصیت مطلقاً اور بحال وصیت جبکہ ثلث سے زائد ہوتو البتہ وہ مسجد مسجد نہیں اور اس سبب سے کہ اس میں ایسے کی ملک ہے جس کی اجازت نہیں یاجس کی اجازت شرعاً اجازت نہیں اس میں نماز ناجائز۔ یہ حکم بھی متفق علیہ ہے کہ مسجد میں شیوع بالاجماع ممنوع،
لان بقاء الشرکۃ یمنع الخلوص ﷲتعالٰی ش عن النھر والفتح۲؎۔
کیونکہ بقاء شرکت اﷲ تعالٰی کے لئے شے کے خالص ہونے سے مانع ہے، ش نے نہر اور فتح سے واضح کیا۔(ت)
(۲؎ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۳۶۴)
ہاں اگر شوہر تقسیم صحیح شرعی کرائے اور یہ قطعہ اس کے حصہ میں آئے اس کے بعد اسے یہ مسجد کرے تو اب مسجد ہوجائے گا لزوال المانع(مانع ختم ہوجانے کی وجہ سے۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۳۰۷: مسئولہ سید مصباح القیوم صاحب ساکن شہر رائے پور بیجناتھ پارہ مدرسہ اصلاح المسلمین صوبہ سی پی۵جمادی الآخر۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک مسجد کے متعلق طہارت خانہ وغیرہ بنانے کی غرض سے مسجد کے روپیہ سے ایک قطعہ زمین کا مسجد سے علیحدہ مگر قریب میں خریدا کیونکہ زمین بہت ہے مسجد کی ضرورت کی چیزیں بن جانے پر بھی باقی رہ گئی اور مسجد کی کوئی منفعت مقصود نہیں اور اہلسنت نے ایک مدرسہ قائم کیا ہے اس کےلئے مکان کی ضرورت ہے تو کچھ مسلمان یہ چاہتے ہیں کہ زمین مذکور پر مدرسہ تعمیر کرادیں اور قیمت زمین کی مدرسہ کی آمدنی سے لے کر مسجد میں داخل کیا جائے تو شرعاً یہ جائز ہے کہ نہیں اور در صورت
عدم جواز کوئی حیلہ اس کے جواز کا ہوسکتا ہے یانہیں؟
الجواب: جائز ہے کہ وہ باقیماندہ حاجت مسجد سے زیادہ زمین(کہ سابق سے وقف نہ تھی بلکہ مسجد کے روپیہ سے مسجد کےلئے خرید ی تھی) مدرسہ کےلئے بیع بقیمت مناسب کرکے زر ثمن داخل مسجد کیا جائے جبکہ احتیاط و امانت کاملہ سے کام لیاجائے۔
عالمگیری میں ہے:
متولی المسجد اذااشتری بمال المسجد حانوتا اودارا ثم باعھا جاز اذاکانت لہ ولایۃ الشراء بناء علی ان ھذہ الداروالحانوت ھل تلتحق بالحوانیت الموقوفۃ علی المسجد معناہ ھل تصیر وقفا، المختار انہ لاکذا فی المضمرات۱؎۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
ایک مسجد کے متولی نے مسجدکے مال سے دکان یا گھر خریدا پھر بیچ دیا تو جائزہے جبکہ اس کو خرید نے کی ولایت حاصل ہو، یہ مبنی ہے اس بات پر کہ کیا یہ دکان اور گھر مسجد پر وقف شدہ دکانوں سے ملحق ہوگا، اس کا معنٰی یہ ہے کہ کیایہ وقف ہوجائیگا، مختاریہ ہے کہ نہیں ہوگا۔ مضمرات میں ایسا ہی ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیۃ کتاب الوقف الباب الخامس نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۱۸۔۴۱۷)
مسئلہ۳۰۸: ۱۴شوال۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ محلہ قاضی ٹولہ پرانا شہر میں ایک مسجد قاضی زادوں کی تعمیر کردہ ہے اس دروازہ پہاڑ رخ قدیمی ہے اور اس میں کچھ قبریں پختہ قاضی زادوں کے آباواجداد کی تھیں، اور ایک کنواں بنجاروں کا بنایا ہوا مسجد سے پہلے کا ہے جس سے سوائے نمازیاں اور کئی محلوں کو اس کے پانی سے نفع پہنچتا ہے، اس مسجد میں کئی قوم کے لوگ نماز پڑھتے ہیں قصائی، نداف۔ ان کے مکان بھی وہیں ہیں، قصابوں نے مسجد میں جو قبریں تھیں انہیں کھود کر بالکل نیست ونابود کردیا، درخت موسری کا جس کے سایہ سے نمازیوں کو آرام ملتا تھا کاٹ ڈالا، گول درشمال کی جانب جس سے نمازیوں کو بارش سے آرام ملتا تھا بند کر دیا ، کنواں جس سے مخلوق کو نفع تھا اس کی ایک سیڑھی کا راستہ بندکردیا گیا گویا ایک رخ بالکل بند کردیا جس سے بہشتیوں کو ازحد تکلیف ہے انہوں نے پانی بھر نابندکردیا۔ دو دیواریں بناکر اس میں گھری لگادی ہے جس سے کچھ نفع نہیں۔ یہ لوگ کس سزا کے مستحق ہیں؟یہ کام اچھے کئے یا برے کئے۔ندافوں میں سے ایک شخص نے کسی سے پوچھا یہ کنویں پر در ودیوار کیاہیں، اس نے اپنی جہالت سے کہا کہ یہ میرا۔۔۔۔۔۔بنایا ہے لوگوں کے تکلیف دینے کو، تو کیا یہ شخص کافر ہوگیا؟حالانکہ ان دیواروں کو وہ مسجد نہیں سمجھتا ہے بلکہ یہ شرارت کی دیواریں سمجھتاہے کس سزا کامستحق ہے؟
الجواب
اگر یہ بیانات واقعی ہیں تو مسلمان کی قبروں کا کھودڈالنا ہرگز جائز نہ تھا اس سے وہ توہین مسلمین کی سزا کے مستحق ہیں، سزا یہاں کون دے سکتا ہے، اور اگر یہ قبریں اس لئے کھودیں کہ اس جگہ پر نماز پڑھی جائے تویہ نماز کو بھی خرابی میں ڈالناہے، قبور کی جگہ نماز جائز نہیں جب تک اندر تک کھود کر میت کے سب اجزاء نکال نہ دئے جائیں، اور مسلمان میت کے ساتھ ایسا کرنا حرام حرام سخت حرام۔ درخت جو قدیم سے تھا اس کے کاٹنے کی کوئی وجہ نہ تھی، بلاوجہ شرعی نمازیوں کو تکلیف دینا سخت بدہے۔ شمالی دروازہ کہ قدیم سے تھا اور اس سے نمازیوں کو آرام ملتا تھا ، اس کے بند کرنے کا بھی کوئی اختیا ر نہ تھا ۔ کنوئیں کی ایسی روک جس سے پانی بھرنے والوں کو تکلیف ہو اور وہ بھرنا چھوڑدیں ہر گز جائز نہیں،یہ سب برے کام ہوئے۔ اس نداف نے بیہودہ کہا بر اکیا اس کے سبب کافر نہیں ہوسکتا کہ اس میں مسجد کی کوئی توہین نہیں، نہ وہ دیواریں مسجد کی ہیں۔ اس کے لئے اتنی سزاکافی ہے کہ تونے بیہودہ بکا۔ آئندہ احتیاط کرے۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۳۰۹: مسئولہ عظمت اﷲکوتوالی شہر بریلی شریف
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس بارہ میں کہ ایک مسجد شریف قدیم ٹھوس تھی اہل اسلام نے اس کو منہدم کراکر مغرب کی جانب میں مسجد بنوائی اور قدیم کو اس کا صحن قرار دیا اور مسجد جدید اور صحن یعنی مسجد قدیم ہر دو کی کرسی بلند کی اور نیچے تہہ خانے بنائے اور مسجد قدیم کے تہہ خانے کے حصے کو مسجد کی دکانوں میں شریک کرنا جائز ہے یانہیں؟اور اس صحن میں نماز پڑھنے والوں کوثواب مسجد کا ملے گا یانہیں؟اور اگر یہ جائز ہے تو اس طرح مسجد جدید کے تہہ خانے کو بھی کرایہ پر دے سکتے ہیں یانہیں؟بینواتوجروا۔
الجواب: مسجد مسجد ہوجانے کے بعد دوسرے کام کےلئے کرنا حرام حرام سخت حرام ہے ان پر فرض ہے کہ مسجد قدیم کا تہہ خانہ بدستور سابق بندکردیں اور اب کہ مسجد جدید کرچکے اس کے تہ خانے کو بھی کرایہ پر دینا حرام ہے ہاں مسجد کردینے سے پہلے دکانیں وقف مسجد کےلئے بناتے اور اس کے بعد ان کی چھت کو مسجد کرتے تو جائز تھا، اب ہر گز حلال نہیں مسجد قدیم کو جدید کاصحن کرلیا اس میں حرج نہیں وہ بدستور مسجد ہے اور اس میں نماز مسجد میں نماز ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۳۱۰: از شہرکہنہ محلہ کوٹ مسئولہ شیخ انعام اﷲ ۵ذی الحجہ ۱۳۳۸ھ
کیافر ماتے ہیں علمائے دین اس بارے میں کہ امام باڑہ متصل زیارت شاہ صاحب کے ایک گوشہ میں واقع ہے اور گزشتہ زمانے کے شیعہ مذہب کے لوگ جو لکھنؤ کے پیروتھے ان کی تعمیر کردہ ہے۔لیکن اب مسجد مذکور اہلسنت کے قبضہ میں ہے اور کنویں مذکور سے ۳۳/۳۴گز کے فاصلہ پر ہے، کنویں اور مسجد کے درمیان بوجہ کوڑے اور گھاس کیڑے وغیرہ کا احتمال رہتا ہے، اسی لئے مسجد مذکور آباد نہیں ہوتی، اہل محلہ چاہتے ہیں کہ مسجد مذکور کا ملبہ لب سڑک متصل کنواں اٹھالائیں اور یہاں مسجد تعمیر کرائیں تو جائز ہے یانہیں؟
الجواب:اگر اس مسجد کا بانی رافضی تبرائی روافض حال کا ہم عقیدہ تھا اور اسی مذہب پر مرا تو مسلمانوں کو جائزہے کہ اس کا عملہ دوسری مسجد لے جائیں، نیز جائزہے کہ اس مسجد کی زمین کو بیچ کر جدید مسجد میں لگائیں۔
فی الدرالمختار لو وقف المرتد فقتل اومات اوارتدالمسلم بطل وقفہ۱؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
درمختار میں ہے کہ اگر مرتد نے وقف کیا پھر قتل کردیا گیا یامر گیا یا مسلمان مرتد ہوگیا تو اس کا وقف باطل ہوگیا۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)