مسئلہ۳۰۴: ازبریلی مسئولہ مولوی میراحمد صاحب بنگالی طالب علم مدرسہ منظر اسلام ۱۵ربیع الآخر ۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کا پاخانہ پشت مسجد سے ملحق تھا اس کو بوجہ مسجد منہدم کرادیا اور کوئی عرصہ دو ماہ سے کچھ لوگ وہاں پر کوڑاوغیرہ ڈالنے لگے اب زید یہ چاہتا ہے کہ اس ملحق پشت مسجد زمین کی اپنی نشست گاہ بنوا دے اور مسجد کے دو پرنالوں کا پانی اپنی چھت پر لے یا اس اراضی کو اپنی ڈیوڑھی بنالے اس صورت میں ایک پر نالہ اپنی ڈیوڑھی پر لے اور دوسرے پر نالے کا پانی باہر نکال دے، اور ساتھ ہی اس کے یہ واضح رہے کہ مسجد کا کوئی پشتہ نہیں اور نہ پشتہ اس جگہ ہے جہاں مسجد کے دو پر نالوں کا پانی گرتا ہے، اس صورت میں کیاحکم شرع ہے؟نشست گاہ یا ڈیوڑھی وغیرہ بننے سے مسجد کی حفاظت بھی ہوتی ہے اور پانی مسجد کا کسی صورت میں روکا نہیں جاتا۔
الجواب: مسجد کا پشتہ نہ ہو آبچک کے لئے زمین مسجد نے چھوڑی ہوگی، اسے اپنے تصرف میں لانا حرام ہے، ہاں اگر ثابت ہو کہ مسجد کی کوئی زمین نہ چھوٹی تھی صرف پانی بہانے کا اس کی زمین میں حق تھا تویہ اس میں عمارت بناسکتا ہے جبکہ مسجد کا پانی نہ روکے۔
واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۳۰۵: ازالہ آباد دائرہ شاہ اجمل صاحب آوردہ مولٰنا مولوی سید نذیر احمد صاحب ۱۸جمادی اولٰی ۱۳۳۸ھ
سوال بعینہ مثل سوال ثانی ۲۹/شوال ۱۳۳۷ھ مذکور باب احکام المسجد۔
الجواب: اس سوال کا جواب جمادی الآخرہ ۱۳۳۶ھ پھر رمضان المبارک ۱۳۳۷ھ پھر شوال ۱۳۳۷ھ میں تین بار یہاں سے جاچکا، اس بار اس کے ساتھ ایک اور تحریر طویل بایں خلاصہ ہے کہ اس سوال میں زید مستفتی نے اخفائے حق کیا، حقیقت امریہ ہے کہ ان لوگوں نے دکانات مسجد کی چھت پر ایک مدرسہ بلا معاوضہ قائم کرلیا اور کمیٹی سے اس کی بقا کا اقرار نامہ لکھا لیا ہے، یہ حالت دیکھ کر تحفظ آئندہ کے لئے یہ پتھر لگایا گیا جس میں دکانات وحمام کے وقف علی المسجد ہونے کا تذکرہ ہے کہ آئندہ کوئی متولی سابق کی طرح ان دکانوں پر دعوٰی نہ کر بیٹھے۔ اعلان میں معلن کا نام ضرورہے، گمنام اعلان ایسا نہیں ہوتا، لہذا بکر نے اپنا نام لکھا نہ بقصدریاء نہ طلب دعا۔ یہ پتھر سجدہ کی جگہ سے دس فٹ بلند ہے تو نمازی کا سامنا نہیں ہوگا اور اندر کے محراب پرنہیں بلکہ بیرونی محرابی دروں پر ، وہی لوگ جن سے اندیشہ ہے اس پتھر کا انعدام چاہتے ہیں کہ اس کی بقاء میں تحفظ واستحکام وقف ہے انتہی ملخصاً۔
فریق ثانی کی طرف سے بھی سوال مع جواب آیا تھا کہ اس پتھر کا نصب جائز نہیں بلکہ غیبت میں داخل ہے اور اس کا جواب بھی رمضان مبارک ۱۳۳۶ھ (عہ: مندرجہ صفحہ ۴۷۲) میں گیا کہ اگر وہ افعال متولی سابق سے صادر ہوئے اور اہل شہر ان وقائع پر مطلع ہوں تو ان کا لکھ کر نصب کرنا غیبت نہیں ہوسکتا، خصوصاً منظر عامہ میں نصب کہ اشتہار چھاپ کر عام تقسیم کی طرح حد غیبت میں اس کا آنا دشوار نہ تاحیات متولی مذکور اس کے عدم جواز کی کوئی وجہ جب کہ منجر بفتنہ نہ ہو، ہاں اس کا نصب کوئی مہم مصلحت شرعیہ نہ رکھتا ہو تو بعد موت متولی اس پتھر کا معدوم کردینا ہوگا کہ رسول اﷲصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اپنے مردوں کو برا نہ کہو کیونکہ وہ اپنے آگے بھیجے ہوئے اعمال کو پہنچ چکے ہیں۔(ت)
(۲؎ صحیح البخاری کتاب الجنائز باب ماینہی عن سب الاموات قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۸۷)
(سنن النسائی کتاب النہی باب ماینہی عن سب الاموات نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۱/ ۲۷۴)
بایں ہمہ جبکہ بلا مصلحت شرعیہ عبث ہے عبث سے ویسے ہی بچنا چاہئے نہ کہ وہ جس سے کسی مسلمان کو تکلیف ہواگر وقف میں خیانت واضرار کا اندیشہ ہے اور اس پتھر کا نصب کرنا مانع ہوگایا اسی طرح اور کوئی مصلحت مہمہ شرعیہ ہے تو نصب میں حرج نہیں بلکہ حاجت ہوتو اجر ہے، یہ اس جواب کا خلاصہ ہے جو فریق ثانی کو یہاں سے گیا، اب بھی یہی کہا جاتا ہے کہ محض بلامصلحت ہوتو جدا کردیں اور مصلحت شرعیہ ہے تو قائم رکھیں، پھر اگر موضع نظر سے اتنا بلند ہو کہ جب تک نظر اوپر کو اٹھاکر نہ دیکھیں نظر نہ آئے کسی طرح نقش دیوار قبلہ کی کراہت میں نہیں آتا، یہ خود اس نمازی کا قصور ہے، اسے نماز میں آسمان کی طرف نگاہ اٹھانا کب جائز تھا،
رسول اﷲصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
وہ جو نماز میں آسمان کی طرف نگاہ اٹھاتے ہیں یا تو وہ اپنی اس حرکت سے باز آئیں گے یا ان کی نگاہ اچک لی جائے گی(اسے مسلم نے روایت کیا۔ت)
(۱؎ صحیح مسلم کتاب الصلوٰۃ باب النہی عن رفع البصر الی السماء فی الصلوٰۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۸۱)
اور اگر اتنا بلند نہیں تو ضرورموقع کراہت میں ہے اور اس میں اندرونی وبیرونی محراب کا تفرقہ نہیں مسجد کا درجہ مسقفہ وصحن دونوں مسجد ہیں اس حالت میں چاہئے کہ اس تحریر پر نمازوں کے اوقات میں غلاف ڈال دیں، ہم نے فتوٰی سابقہ میں سنن ابی داؤد کی حدیث نقل کی کہ دیوار غربی کعبہ معظمہ میں (اس) مینڈھے کے (جو سیدنا اسمٰعیل علیہ الصلوٰۃ والسلام کا فدیہ ہوا) سینگ نصب تھے،
حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
انہیں (سینگوں کو) ڈھانک دو کہ نمازی کے سامنے کوئی ایسی چیز نہ چاہئے جسے سے دل بٹے۔
(۲؎ سنن ابوداؤد کتاب المناسک باب الصلوٰۃ فی الکعبہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱/ ۲۷۷)
(مسند احمد بن حنبل حدیث امرأۃ من بنی سلیم دارالفکر بیر وت ۴/ ۶۸)
نام کا جواب بھی فتوٰی سابقہ میں تھا کہ ریاء کو حرام مگر بلاوجہ شرعی مسلمان پر قصد ریا کی بدگمانی بھی حرام، اور بنظر دعا ہے تو حرج نہیں، نہ کفایت اجمال منافی طلب خصوص۔ اور یہ مصلحت کہ اس تحریر میں بتائی ضرور قابل لحاظ ہے جبکہ اس کا نام وجہ اعتبار اعلان یا زیادت اعتبار ہو،
وانما الاعمال بالنیات وانمالکل امرئ مانوی۳؎۔
اعمال کا دار ومدارنیتوں پر ہے ہر شخص کے لئے وہی کچھ ہے جس کی اس نے نیت کی۔(ت)
(۳؎ صحیح البخاری باب کیف کان بدء الوحی الٰی رسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم قدیمی کتب خانہ پشاور کراچی ۱/ ۲)
دکانات مسجد پر اقامت مدرسہ کے بارے میں بھی سوال آیا اور مفصل جواب جا چکا ہے مگر فریق ثانی کے سوال میں یہ تھا کہ مسجد میں ایک مدرسہ ہے جس میں تعلیم کلام مجید وتفسیر وفقہ وحدیث کی ہوتی ہے، بعض منتظمین نے چاہا کہ تعلیم مسجد سے اٹھادی جائے، اوران شرائط پر اس کے قیام کا فیصلہ ہوا، اس تحریر تازہ میں یہ ہے کہ بلا استحقاق وبلا معاوضہ سقف وقف پر مدرسہ کرلیا ہے، ایسا ہے تو بلا شبہ حرام ہے اور منتظمین مسجد کی اس پر رضامندی مردود، اور اب تک کا کرایہ مدرسہ قائم کرنیوالوں پربحق مسجد لازم،کما ھو منصوص علیہ فی عامۃ الکتب(جیسا کہ عام کتابوں میں اس پر نص کی گئی ہے۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم۔