مسئلہ۲۹۸: ازشہر الہ آباد زیر مسجد جامع چوک مرسلہ مرزا واحدعلی خوشبو ساز۲۹شوال۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک مسجد شاہی زمانہ کی بنی ہوئی تھی اس کے متعلق خام دکانیں بھی تھیں جن کے کرایہ کی آمدنی تیس چالیس روپے ماہوار تھی وہ آمدنی متولی سابق جو کہ اس مسجدمیں امامت بھی کرتے تھے ان کے خرچ میں اور موذن وتیل بتی وپانی وختم تراویح کی مٹھائی وغیرہ مصالح مسجد میں صرف ہوتی تھی چونکہ مسجد اور اس کی دکانیں بہت بوسیدہ ہوگئی تھیں، لہذا ایک صاحب نے بمشورہ اہالیان مسجد اپنے ذاتی روپے سے دکانیں پختہ کرائیں جس سے کرایہ قریب ڈیڑھ سوکے ہوگیا، اسی کرایہ سے وہ صاحب قسط واراپنا روپیہ بھی وصول کرتے رہے اور مسجد بھی چندہ سے از سرنو تعمیر کرائی گئی اور انتظام مسجد کےلئے ایک کمیٹی قائم کی گئی اورمتولی سابق علیحدہ کئے گئے جن لوگوں کی کوشش سے دکانیں پختہ کرائی گئیں ان لوگوں میں نمازی مسجد اور اہل محلہ بھی شریک ہیں ان سب کے اور ممبران کمیٹی کے مشورہ سے یہ بات طے پائی کہ وہ اخراجات جو سابق میں مسجد کی آمدنی سے ہوتے تھے بدستور قائم رہیں، اس کے علاوہ کچھ افطاری رمضان شریف میں نمازیوں کے واسطے بھی دی جائے، دس بارہ برس ہوئے کہ اس پہ عملدرآمد چلاآرہاہے، زید کہتا ہے کہ جو اخراجات مصالح مسجد میں شامل ہیں وہ قائم رہنا چاہئے اور جو اخراجات مصالح مسجد میں نہیں ہیں،مثلاً شیرینی ختم تراویح افطاری رمضان شریف وہ جائز نہیں ہیں بند ہونا چاہئے۔ بکر کہتا ہے کہ جن اوقاف کا وقف نامہ موجود نہ ہو اور وقف کے شرائط معلوم نہ ہوں جیسے صورت مسئولہ میں، تو اس میں عملدرآمد سابق پر کار بند ہونا چاہئے، چونکہ شیرینی ختم قرآن شریف کی ہمیشہ متولیان سابق کے زمانے میں برابر آتی رہی لہذااب بھی ویسا ہی آنا چاہئے اور بے تکلف جائز ہے، باقی رہا افطاری جو دس بارہ برس سے ممبر ان کمیٹی جو تمام مسلمانوں کی طرف سے قائم ہے ان کی تجویز سے آنے لگی ہے گو کہ یہ ایک امر جدید ہے لیکن اس میں بھی کچھ مضائقہ نہیں ہوتا کیونکہ جیسے بانی اول کو اوقاف کے اخراجات کے اختیارات حاصل ہوتے ہیں ویسے ہی بانیان ثانی کہ جس میں نمازی مسجد واہل محلہ روپیہ خرچ کرنے والے سب شریک ہیں اور انہوں نے کوشش کرکے آمدنی بڑھائی اور مسجد از سر نوبنوائی تو ا س کو بھی اپنی بڑھائی ہوئی آمدنی میں ضرور اخراجات کے بڑھانے کا اختیار ہوناچاہئے کیونکہ اہل محلہ ونمازیوں کے تصرفات بہت وسیع ہیں اور کمیٹی انہیں کی طرف سے قائم ہے تو کمیٹی کا فعل عین ان کا فعل ہے غرض اخراجات کے بڑھانے کا اختیار ثانی کو بھی ہونا چاہئے بالخصوص ایسے موقع میں کہ باوجود ان سب اخراجات بالا کے پھر بھی آمدنی مسجد میں بچت ہوتی ہے، پس دریافت طلب امریہ ہے کہ زید کا قول صحیح ہے یا بکرکا ؟
الجواب : جہاں شرط واقف معلوم نہ ہو عملدرآمد قدیم کا اعتبار ہے۔
خیریہ میں ہے:
ینظر الی المعھود من حالہ فیما سبق من الزمان ان قوامہ کیف کانوایعملون۱؎۔
دیکھا جائے گا کہ قدیم سے متولیوں کا عملدرآمد اس وقف کے بارے میں کیا چلاآرہا ہے(ت)
(۱؎ فتاوٰی خیریۃ کتاب الوقف دارالمعرفۃ بیروت ۱/ ۲۰۶)
''قدیم''کے یہ معنی''جس کا حادث ہونا معلوم نہ ہو''۔ دس بارہ برس یا سود و سو برس سے جو بات بعد واقف بے شرط واقف حادث ہوئی حادث ہی ہے، اس پر عمل ناجائز ہے۔
فتح القدیر میں ہے:
الواجب ابقاء الوقف علی ماکان علیہ دون زیادۃ اخری۲؎۔
وقف کو بغیر کسی زیادتی کے سابقہ حالت پر باقی رکھنا واجب ہے۔(ت)
(۲؎ فتح القدیر کتاب الوقف مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۵/ ۴۴۰)
شیرینی قدیم اگر اسی معنی پر قدیم ہے کہ اس کا حادث ہونا معلوم نہیں، وہ اب بھی دی جائے گی اور افطاری کہ دس بارہ برس سے نوایجاد ہے نہ ہوسکے گی۔ مسجد از سر نوبنوانے والوں کو تو دکانات وقف سے کچھ تعلق نہیں کہ ان کو اس میں اختیار ہو، اور دکانیں پختہ کرنا اسی وقف کی پختگی ہے نہ کہ وقف جدید خصوصاً جبکہ وہ اپنا لگایا ہوا روپیہ وصول بھی کررہا ہے تو قرض دینے والا ہے نہ کہ واقف۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۲۹۹: از احمد آباد مرسلہ حکیم مولوی عبدالرحیم صاحب ۲۴صفر ۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک قوم نے چندہ کرکے ہزار دو ہزار روپیہ جمع کئے ہیں اب اس کے بعد تدبیر یہ کی کہ اس مال سے کپڑا سفید خریدتے ہیں اور اس کو ادھار نفع چڑھا کربیچتے ہیں اور اس سے جو نفع پیدا ہوتا ہے اس کو بھی جمع کرتے جاتے ہیں اور مقصدان حضرات کا یہ ہے کہ یہ رقم چار پانچ ہزار روپیہ کی جمع ہوجائے اس سے مکان قریب مسجد کے خریدنا ہے اور مسجد کو بڑھانا ہے، اب اس مسجد کے چندہ سے اس قسم کی تجارت شرعاً جائز ہے یانہیں؟بینواتوجروا۔
الجواب : جبکہ وہ روپیہ انہوں نے متولیان مسجد کو ابھی سپرد نہ کیا تو ان کی ملک ہے، اس میں تصرف جائز کا انہیں اختیار ہے قرضوں بیچنے میں نقد بیچنے سے دام زائد لینا کوئی مضائقہ نہیں رکھتا، یہ باہمی تراضی بائع ومشتری پر ہے،
قال تعالٰی
الاان تکون تجارۃ عن تراض منکم۱؎۔
واﷲ تعالٰی اعلم۔
اﷲ تعالٰی نے فرمایا: مگر یہ کہ تمہارے درمیان باہمی رضامندی سے تجارت ہو۔واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۴/ ۲۹)
مسئلہ۳۰۰: ازشہر بریلی مسئولہ شوکت علی فاروقی ۲۴صفر ۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جس مسجد میں درخت بہی بیلا، گلاب وغیرہ ہو اور بوجہ تعمیر ہونے حجرہ وغسل خانہ کے ان درختوں کو کاٹا جائے تو کوئی شخص ان درختوں کو کھود کر اپنے مکان میں لگا سکتا ہے یانہیں؟ دوسرے یہ کہ پیال یا لرسی موسم سرما میں جو مسجدوں میں ڈالی جائے اور بعد گزرجانے موسم سرما کے اس کو نکال کر پھینک دیتے ہیں تو جو شخص اس پیال یا لرسی یا چٹائی کہنہ قابل پھینک دینے کے ہواس کو اپنے صرف میں مثل پانی گرم کرنے کے لاسکتا ہے یانہیں؟ یہ کہ منڈیر یا فصیل مسجد جس پر وضو کرتے ہیں یا اذان دیتے ہیں وہ مسجد کے حکم میں داخل ہے، کیا مثل مسجد کے بات وغیرہ کرنے کی وہاں بھی ممانعت ہوگی؟ بینواتوجروا۔
الجواب
ان درختوں کو مسجد سے واجبی ومناسب قیمت پر مول لے کر لگا سکتاہے۔ پیال یا چٹائی بیکار شدہ کہ پھینک دی جائے لے کر صرف کرسکتاہے۔ فصیل مسجد بعض باتوں میں حکم مسجد میں ہے معتکف بلا ضرورت اس پر جاسکتا ہے اس پر تھوکنے یا ناک صاف کرنے یا نجاست ڈالنے کی اجازت نہیں، بیہودہ باتیں، قہقہے سے ہنسنا وہاں بھی نہ چاہئے اوربعض باتوں میں حکم مسجد نہیں اس پر اذان دیں گے اس پر بیٹھ وضوکر سکتے ہیں جب تک مسجد میں جگہ باقی ہو اس پر نماز فرض میں مسجد کا ثواب نہیں، دنیا کی جائز قلیل بات جس میں چپقلش ہو نہ کسی نمازی یا ذاکر کی ایذا اس میں حرج نہیں۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۳۰۱: ۲۶صفر۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک مسجد نیاریاں شکستہ ہے چھت اس کی بالکل خارج ہے اور کڑیاں ٹوٹ گئی ہیں اور بعض بعض خمیدہ ہوگئی ہیں، منارے جھری دے گئے ہیں، لہذا ہم اہل محلہ یہ بات چاہتے ہیں کہ از سرنو تعمیر کریں۔ اراضی مسجد کی افتادہ اتر وپچھم کی بڑھانا منظور ہے۔ چنانچہ کچھ روپیہ جمع ہے اور باقی جو روپیہ زائد صرف ہوگا چندہ جمع کرکے انجام دیں گے اس واسطے کہ موسم بارش میں نمازیوں کو بہت تکلیف ہوتی ہے موجودہ بنیاد کو نکال کر دوسری بنیاد قائم کریں۔
الجواب
مسجد کی مرمت واجب ہے، بارش کی تکلیف کہ چھت ٹپکنے سے سائل نے بتائی اس سے دفع ہوجائے گی، اس قدر کےلئے اگر موجودہ روپیہ کافی نہ ہو چندہ کریں باقی اصل مسجد کی بنیادیں نکال کر شما ل ومغرب کی زمین متعلق مسجد میں مسجد بڑھانے کے لیے جدید بنیادیں قائم کرنا اگر ا س توسیع کی مسجد کو صحیح ضرورت ہے کریں ورنہ بے ضرورت بڑھانا اور مسلمانوں پر چندہ کاباربلاوجہ بہت بڑھادینا کس لئے!ہر مسجد میں جمعہ وعیدین قائم کرنا کوئی شرعی ضرورت نہیں!
فتح القدیر میں ہے:
انما امرنا بابقاء الوقف علی ماکان علیہ دون زیادۃ اخری۱؎۔
بیشک ہمیں حکم دیا گیاہے کہ ہم وقف کو بغیر کسی زیادتی کے حال سابق پر قائم رکھیں(ت)
(۱؎ فتح القدیر کتاب الوقف مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۵/ ۴۴۰)
مسئلہ۳۰۲: ۲ربیع الاول شریف ۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک مسجد کبیر محلہ میں بوجہ ضعف اسلام وتسامح الناس قدرے گر پھوٹ گئی ہے اور بعد کو بعون خدا تعالٰی مرمت کا ملہ کرادی گئی ہے اور پیش امام وغیرہ نیز بدستور مقرر کئے گئے ہیں اور صلوٰۃ خمسہ، جمعہ، اذان اس میں پڑھی جاتی ہے۔ پس بوقت غیر آبادی وشکستگی مسجد مذکور بالا کے ایک مرد مسلم نے ایک مسجد صغیر عنقریب ومتصل اس کے چار گز کے فاصلہ پر بنائی تھی جو کہ اب تک آباد ہے اور اس میں بھی اذان صلوٰۃ بالفعل ہورہے ہیں، کیا اس شخص کو مسجد جدید بنانی عندالشرع جائز تھی یانہ؟اور اب اس کا گرانا جائز ہے یانہ؟
الجواب: حاشا اس کا گرانا بھی جائز نہیں، دونوں کا آباد رکھنا واجب ہے، اسے مناسب یہ تھا کہ مسجد قدیم ہی کی تعمیر کرتا اور اتنے قریب دوسری مسجد نہ بناتا اب کہ بن گئی ہدم حلال نہیں۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۳۰۳: ازموضع سرولی ڈاکخانہ کچا ضلع نینی تال مرسلہ محمد حسین خورد ۱۵ربیع الاول شریف ۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک مسجد کی صف دوسری مسجد میں لاکر نماز فرض یا واجب پڑھی جائے تو ہوسکتی ہے یانہیں؟جیسے کہ نماز الوداع میں اکثر صفو ں کی ضرورت ہوتی ہے، تو جس جگہ موضع میں دو مسجدیں ہوتی ہیں تو مسجد جامع میں دوسری مسجد کی صفیں لاکر نماز پڑھتے ہیں یا عید کی نماز پڑھی جائے تو ازروئے شرع شریف نماز دوسری مسجد کی صفوں پر ہوسکتی ہے یانہیں؟بینواتوجروا۔
الجواب: ایک مسجد کی صفیں دوسری مسجدمیں لےجانا ممنوع وناجائز ہے،نماز مکروہ وناقص ہوگی۔واﷲ تعالٰی اعلم۔