مسئلہ۲۹۴تا۲۹۶ : ازبریلی شہر کہنہ مسئولہ محمدظہور صاحب ۱۰/شوال ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ:
(۱) زید نے مسجد کے خرچ کےلئے لکڑی اینٹ وغیرہ دی ہے اور کام کے وقت کوئی شیئ صرف میں نہیں آتی رکھے رکھے سے احتمال خراب ہوجانے کا ہے، ایسی صورت میں جس شخص نے کہ وہ شے دی تھی واپس لے سکتا ہے یانہیں اور یا وہ شیئ فروخت کرکے اس کی قیمت مسجد کے صرف میں ہوسکتی ہے یانہیں؟
(۲) مسجد کا مال جو فضول وبیکار جان کر فروخت کیا جائے، مسلمانوں کوخرید کرنا لازم ہے یانہیں؟زید کا خیال ہے کہ مسجد کاکوئی مال خفیف ہویا زیادہ اس کو قیمت یابلا قیمت کسی صورت سے لینا نہیں چاہئے۔
(۳) مسجد کا روپیہ بمدامانت بغرض تعمیر وغیرہ کسی شخص کے پاس جمع ہوتو وقت ضرورت وہ شخص اپنے خرچ میں بطریق قرض لاسکتا ہے یانہیں اگر خرچ کرلیا ہو اور پھر دے دیا ہوتو اس کو اب کیا کرنا چاہئے یعنی وہ قصور وار ہوا یانہیں؟
الجواب
(۱) وہ شخص واپس نہیں لے سکتا جبکہ مسجد کے لئے مہتممان مسجد کو سپرد کرچکا ہو بلکہ وہ اشیاء حاجت مسجد کےلئے محفوظ رکھی جائیں اور اس میں دقت ہوتو بیچ کر قیمت خاص تعمیر ومرمت مسجد کے لئے محفوظ رکھیں۔ تیل، بتی، لوٹے، چٹائی میں اسے صرف نہیں کرسکتا۔
اسعاف پھر بحرالرائق پھر عالمگیریہ میں ہے:
لوان قوما بنوامسجدا و فضل من خشبھم شیئ قالوایصرف الفاضل فی بناءہ ولایصرف الی الدھن والحصیر ھذا اذا اسلموا الی المتولی لیبنی بہ المسجد والایکون الفاضل لھم یصنعون بہ ماشاؤا۔۱؎
اگر ایک قوم نے مسجد بنائی اور اس کی لکڑیوں میں سے کچھ بچ گئیں۔ مشائخ فرماتے ہیں ان کو مسجد کی تعمیر میں ہی صرف کیاجائے گا، مسجد کے لئے تیل اور چٹائی میں صرف نہیں کرسکتے، یہ اس وقت ہے جب انہوں نے متولی کے سپردکردیا ہو کہ وہ اس سے مسجد بنوائے اگر سپرد نہیں کیا تو وہ انہی کا ہے جو چاہیں اس کے ساتھ کریں۔(ت)
(۱؎ فتاوی ہندیۃ کتاب الوقف الباب الحادی عشر الفصل الثانی نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۲۶۴)
(۲) مسجد کامال کہ مسجد کے کام کا نہ رہا ہو اور مہتممان مسجد جن کو اس کے بیچنے کی شرعاً اجازت ہے مسجد کےلئے بیچیں اس کا خریدنا ہر مسلمان کو جائز ہے،
فان اجازۃ البیع اجازۃ الشراء اذ لایتحقق البیع الابالشراء۔
اس لئے کہ اجازت بیع اجازت شراء ہے کیونکہ شراء کے بغیر بیع متحقق نہیں ہوسکتی(ت)
ہاں اسے بے تعظیمی کی جگہ نہ لگائے۔
(۳) مسجد خواہ غیر مسجد کسی کی امانت اپنے صرف میں لانا اگرچہ قرض سمجھ کر ہوحرام وخیانت ہے توبہ واستغفار فرض ہے اور تاوان لازم پھر دے دینے سے تاوان اداہوگیا، وہ گناہ نہ مٹا جب تک توبہ نہ کرے۔واﷲتعالٰی اعلم
مسئلہ۲۹۷ : ازجے پور مسئولہ محمد ہدایت علی خاں سید عبدالوکیل سید معشوق حسین صاحبان سکنائے شہر جے پور۲۶شوال ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے دو دکانیں لب سڑک بازار میں خرید کیں، دونوں کی درمیانی دیوار توڑکر ایک کرلیا ان میں ایک منبر، ایک سقایہ بھی بنایا، ایک شخص مؤذن مقررکردیا وہی امامت بھی کرتا رہا، سات برس سے زیادہ عرصہ تک پنجگانہ نماز باجماعت اذان واقامت سے ہوتی رہی،نمازیوں کی کثرت اور جگہ کی قلت کے باعث زید نے پھر ان دکانوں کی پشت پر ایک اور زمین خرید کرکے اونچی کرسی کی جامع مسجد بنوائی اور ان دکانوں میں سے جامع مسجد میں جانے کے لئے زینہ نکالا، اس کے بعد راج سے حکم ہواکہ ان دکانوں میں نماز نہ ہواکرے اور ان دکانوں میں ہوکر زینہ نہ رہے جو زینہ پہلے سے بنا ہوا ہے اس میں سے بدستور راستہ مسجد کا رہے، اور دکانیں جیسی تھیں ویسی ہی تجارت کے کام کی کردی جائیں، جو شخص مؤذن وامام تھا وہ شہادت دیتا ہے کہ میں نے سات برس سے زیادہ عرصہ تک نماز باجماعت واقامت پڑھائی، پچیس تیس آدمی شہادت دیتے ہیں کہ ہم نے ان دونوں دکانوں میں مسجد سمجھ کر نماز جماعت سے پڑھی اور مسجد مشہور تھی اور سات آٹھ آدمی یہ شہادت دیتے ہیں کہ زید نے اپنی حیات میں ہم سے ان دکانات کا وقف ہونا ظاہر کیا تھا اور راج کے کاغذات نقشہ آبادی شہر اور خسرہ میں بھی مسجد درج ہے اور دونوں دکانوں کی یکجائی پیمائش ایک نمبر درج ہے، پس ان حالات میں یہ دکانیں زید کی ملک قرار پائیں گی یا بوجہ مسجد ہونے کے وقف متعلقہ مسجد قرار دی جائیں گی؟بینواتوجروا
الجواب
حاش ﷲ(اﷲ تعالٰی کی پناہ) نہ وہ زید یا کسی مخلوق کی ملک نہ وہ وقف متعلق مسجد بلکہ خود
مسجد ہیں۔
اولاً پچیس تیس شہادتوں سے ثابت کہ وہ مسجد مشہور تھی اور وقف شہرت سے ثابت ہوجاتا ہے۔
درمختار میں ہے:
تقبل فیہ(ای فی الوقف)الشہادۃ بالشھرۃ لاثبات اصلہ۱؎۔ اصل وقف کے اثبات کےلئے شہرت کی بنیاد پر دی گئی شہادت مقبول ہے(ت)
(۱؎ درمختار کتاب الوقف فصل یراعی شرط الواقف فی اجارتہ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۸۸)
عامہ مساجد واوقاف کو مسجد ووقف ماننے کا ذریعہ یہی شہرت ہے اگر یہ کافی نہ ہو وہ سب باطل ہوجائیں،
جامع الفصولین میں ہے:
تقبل فی الوقف الشھادۃ بسماع ولو صرحا بہ اذ الشاھد ربما یکون سنہ عشرین سنۃ وتاریخ الوقف مائۃ سنۃ۲؎۔
وقف میں سمعی شہادت مقبول ہے اگرچہ دونوں گواہوں نے اس کی صراحت کردی ہو (کہ وہ شہادت بالسمع دے رہے ہیں) بسااوقات گواہ بیس سال کا ہوتا ہے اور تاریخ وقف سو سال پرانی ہوتی ہے۔(ت)
(۲؎ جامع الفصولین الفصل الثالث عشر فی دعوی الوقف الخ اسلامی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۷۹)
سات آٹھ شہادتیں واقف کے اقرار وقف کی ہیں اور دربارہ وقف یہ شہادت کہ ہمارے سامنے زید نے اسے وقف کیا اور یہ شہادت کہ ہمارے سامنے زید نے اس کے وقف کا اقرارکیا دونوں یکساں ہیں۔
گواہی دی گئی کہ واقف نے اپنا تمام حصہ وقف کرنے کا اقرار کیا ہے تو اس کا تمام حصہ وقف ہوجائے گا۔(ت)
(۳؎جامع الفصولین الفصل الثالث عشر فی دعوی الوقف الخ اسلامی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۸۰)
اسی طرح ذخیرہ وظہیریہ وہندیہ وغیرہا میں ہے، اور سالہاسال تک اس میں منبر ومؤذن وامام وجماعت پنجگانہ جہت وقف یعنی مسجدیت کی تعیین کرتی ہے،
بحرالرائق میں ہے:
بنی فی فنائہ فی الرستاق دکانا لاجل الصلٰوۃ یصلون فیہ بجماعۃ کل وقت فلہ حکم المسجد۱؎۔
متولی مسجد نے فنا ئے مسجد کی جانب میں نماز کیلئے ایک دکان بنائی لوگ اس میں ہمیشہ باجماعت نمازپڑھتے ہیں تو وہ دکان حکم مسجد میں ہوگی(ت)
(۱؎ بحر الرائق کتاب الوقف فصل فی احکام المسجد ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۵/ ۲۵۰)
ثانیاً راج کے سمجھنے کو اس کے کاغذات میں مسجد درج ہونا ہی بس ہے۔
شرح الاشباہ محقق ہبۃ اﷲ البعلی میں ہے:
لو وجد فی الدفاتران المکان الفلانی وقف علی المدرسۃ الفلانیۃ مثلا یعمل بہ من غیر بینۃ وبذٰلک یفتی مشایخ الاسلامی کما ھو مصرح بہ فی بھجۃ عبداﷲ افندی وغیرہا فلیحفظ۲؎۔
اگر رجسٹروں میں مندرج ہے کہ فلاں مکان فلاں مدرسہ پر وقف ہے تو گواہوں کے بغیر اس پر عمل کیا جائے گا، اسی پر مشائخ اسلام نے فتوٰی دیا جیسا کہ عبداﷲ آفندی کی بہجہ وغیرہ میں تصریح کی گئی ہے، اس کو محفوظ کرلینا چاہئے۔(ت)
(۲؎ شرح الاشباہ للمحقق ہبۃا ﷲالبعلی)
اس پر وارثان زید خواہ کسی کو کوئی دعوٰی نہیں پہنچتا اور اسے دوبارہ دکان تجارت کردینا حرام حرام سخت حرام، اور مذہب اسلام میں دست اندازی ہے جسے راج وغیرہ کوئی روانہ رکھے گا۔ اس میں کسی کاردنیا کےلئے بیٹھنا یا اس کا کرایہ لینا دینا یا اس میں کوئی چیز بیچنا خریدنا یا بیچنے خریدنے کےلئے اس میں جانا سب حرام قطعی ہے۔
اس سے اجرت لینا جائز نہیں اور نہ ہی یہ جائز ہے کہ مسجد کا کوئی حصہ کرایہ یا رہائش کےلئے مقرر کیا جائے، بزازیہ(ت)
(۳؎ درمختار کتاب الوقف مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۷۹)
اسی میں ہے:
یحرم فیہ السوال ویکرہ کل عقد الالمعتکف بشرطہ والکلام المباح وقیدہ فی الظہیریۃ بان یجلس لاجلہ۴؎۔
حرام ہے مسجدمیں سوال کرنا، اور مکروہ ہے مسجد میں ہر عقد، مگر معتکف کو ا س کی مشروط اجازت ہے۔ مسجد میں مباح کلام مکروہ ہے، اور ظہیریہ میں یہ قید لگائی کہ مسجد میں بیٹھا ہی کلام مباح کیلئے ہو تب مکروہ ہے۔(ت)
(۴؎درمختار کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۹۳و۹۴)
ردالمحتار میں ہے:
قولہ کل عقد الظاھر ان المرادبہ عقد مبادلۃ، قولہ بشرطہ وھوان لایکون للتجارۃ۱؎۔
ماتن کے قول''کل عقد'' سے بظاہر مراد عقد مبادلہ ہے اور قول ماتن ''بشرطہ''میں شرط سے مراد یہ ہے کہ معتکف کا عقد بیع و شراء بغرض تجارت نہ ہو(ت)
(۱؎ ردالمحتار کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ الخ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۴۴۵)
خود بانی نے کہ جامع مسجد بناکر اس مسجد کے ایک حصہ زمین میں اس کا زینہ بنایا یہ بھی ناجائز ہے کہ مسجد بعد تمامی مسجدیت کسی تبدیل کی متحمل نہیں۔ واجب ہے کہ اسے بھی زائل کرکے اسے خاص مسجد ہی رکھیں۔
درمختار میں ہے:
امالوتمت المسجدیۃ ثم ارادالبناء منع ولو قال عنیت ذٰلک لایصدق تاتارخانیۃ، فاذاکان ھذافی الواقف فکیف بغیرہ فیجب ھدمہ ولو علی جدارالمسجد۲؎۔
لیکن مسجدیت تام ہوگئی اب واقف اس پر (حجرہ امام) تعمیر کرنا چاہتا ہے تو اس کو روکا جائیگا، اگر وہ کہے کہ شروع سے میری نیت ایسا کرنے کی تھی تو اس کی تصدیق نہیں کی جائیگی تاتارخانیہ، جب خود واقف کا یہ حکم ہے تو غیر واقف کو ا سکی اجازت کیسے ہوسکتی ہے لہذا ایسے مکان کو گرانا واجب ہے اگرچہ فقط دیوار مسجدپر ہو۔(ت)
(۲؎ درمختار کتاب الوقف مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۷۹)
مسلمانوں پر اسے باقی رکھنا اور تاحد قدرت ہر جائز طریقہ سے اسے مسجد رہنے میں پوری کوشش کرنا فرض قطعی ہے جو اس میں کوتاہی کرے گا سخت عذاب الٰہی کا مستحق ہوگا۔
قال اﷲ تعالٰی ومن اظلم ممن منع مسٰجد اﷲ ان یذکر فیہا اسمہ وسعٰی فی خرابھا اولٰئک مکان لھم ان یدخلوھا الاخائفینoلھم فی الدنیا خزی ولھم فی الاخرۃ عذاب عظیمo۳؎
اﷲ تعالٰی نے فرمایا: اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اﷲ کی مسجدوں کو روکے ان میں ذکر الٰہی ہونے سے، اور ان کی ویرانی میں کوشش کرے، انہیں روانہ تھا کہ ان میں جاتے مگر ڈرتے ہوئے،ان کیلئے دنیا میں رسوائی ہے اور ان کے لئے آخرت میں بڑا عذاب۔ والعیاذ باﷲتعالٰی(اﷲ تعالٰی کی پناہ) واﷲ تعالٰی اعلم۔