Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۶(کتاب الشرکۃ، کتاب الوقف )
80 - 112
مسئلہ۲۸۷: ۱۸ربیع الآخر۱۳۳۷ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک مسلمان سرکاری عہدہ ممبری کے ملنے کے لئے جو لوگوں کی کوشش پر موقوف ہے مسلمانوں سے کوشش کرانا چاہتا ہے کہ کوشش کنندگان یہ کہتے ہیں تم تعمیر مسجد میں اس قدر روپیہ دو برتقدیر ممبر ہوجانے کے۔ تو ہم لوگ تیار کوشش پر ہیں۔ یہ رقم جو حق الاجرت ہے مسجد کی تعمیر میں لگانا جائز ہے یانہیں؟
الجواب

اسے حق الاجرۃ کہنا صحیح نہیں کہ ممبر کر دینا ان کا کام نہیں اور کوشش مجہول القدر ہے اور وقت معین نہ کیا تو یہ کسی طرح اجارہ جائزہ میں نہیں آسکتا،  ہاں اگر یوں کرے کہ وہ ان کو مہینے پندرہ روز کے لئے بتعین تنخواہ وتعین وقت مثلاً تم کو دس دن کے لئے ہر روز صبح کے آٹھ بجے سے شام کے چار بجے تک اتنے معاوضہ پر اگرچہ وہ دس ہزار روپے ہوں نوکر رکھا پھر وقت مقرر میں جو کام چاہے لے ازاں جملہ یہ کوشش تو اس صورت میں اجارہ صحیح ہوجائے گا
وقد افادھذہ الحیلۃ فی الخانیۃ والخلاصۃ وغیرہما
 (تحقیق اس حیلہ کا افادہ خلاصہ اور خانیہ وغیرہ میں فرمایا ہے۔ت) مگر اس صورت میں وہ بات کہ برتقدیر ممبر ہوجانے کے ہے حاصل نہ ہوگی بلکہ یہ تنخواہ واجب الادا ہوگی اگرچہ ممبری نہ ملے، اور اگر یہ شرط کرلیں کہ ممبری ملنے پر یہ تنخواہ دی جائے گی تو پھر اجارہ فاسد وحرام ہوجائے گا، معہذا جب کہ یہ روپیہ ان کا حق الاجرۃ ہوگا ان کی ملک ہوگا اگر مسجد میں نہ دیں ان پر الزام نہ ہوگا۔ ایک صورت یہ ہے کہ مسجد کی کوئی اینٹ یا لوٹا کپڑے میں سی کر مثلاً دو ہزار کو اس کے ہاتھ متولی مسجد بیع کرے اور وہ قیمت اور چیز کسی امین کے پاس رکھ دی جائیں اور یہ لوگ کوشش کریں اگر ممبری ہوجائے امین وہ چیز ممبر کو دے دے اور وہ روپیہ مسجد میں اور اگر ممبری نہ ہو تو یہ طالب ممبری اس چیز کو کھول کر اب دیکھے اور بحکم خیار رویت بیع رد کردے امین وہ چیز مسجد کو دے دے اور قیمت اس شخص کو پھیر دے، اس میں یہ بھی ہوگیا کہ روپیہ برتقدیر ممبری دیا جائے گاورنہ نہیں، اور جب دیا جائے گا تو مسجد ہی کی ملک ہوگا، دوسرا اس میں تصرف نہ کرسکے گا مگر اس میں یہ خامی ہے کہ ممبری ہوجانے پر بھی اسے اختیار ہوگا کہ چیز دیکھ  کر بیع رد کردے تو ممبری بھی ہوگئی اور روپیہ بھی دینا نہ آیا۔ اور اگر یوں ہو کہ طالب ممبری کہے میں اﷲ کے لئے منت مانتا ہوں کہ اگر ممبر ہوگیا تو دو ہزار روپے فلاں مسجد کی تعمیر میں دوں گا تو یہ بھی اس کے اختیار پر رہے گا کہ تعمیر مسجد کی نذر صحیح ولازم نہیں،
بدائع وردالمحتار میں ہے:
من شروطہ ان یکون قربۃ مقصودۃ فلا یصح النذر بالوضوء والاذان وبناء الرباطات والمساجد۱؎۔
نذر کی شرطوں میں سے یہ ہے کہ وہ قربت مقصودہ ہو لہذا وضو، اذان، خانقا ہوں اور مسجدوں کی تعمیر کی نذر صحیح نہیں۔(ت)
(۱؎ ردالمحتار    کتاب الایمان     مطلب فی احکام النذر    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۳/ ۶۷)
اگروہ یوں کہے کہ ممبری ملنے پر اسی دن دو ہزار فلاں مسجد کو دوں گا نہ دوں تو دس ہزار روپے فقرائے مسلمین کو دوں اگرچہ نذر مسجد لازم نہ ہوئی یہ نذر تو یقینا نذر صحیح ہے اس کے خوف سے مسجد کو دو ہزار دے گا تو یہ بھی کافی نہیں کہ یہ نذر معنی میں قسم ہے، اگر مسجد کو روپیہ نہ دے تو اسے اختیار ہوگا کہ صرف قسم کا کفارہ دے دے اور بری الذمہ ہوگیا،
درمختار میں ہے:
ان المعلق فیہ تفصیل فان علقہ بشرط یریدہ کان قدم غائبی یوفی وجوبا ان وجد الشرط وان علقہ بمالم یردہ کان زنیت بفلانۃ مثلاً فحنث وفی بنذرہ اوکفر لیمینہ علی المذھب لانہ نذر بظاھر ویمین بمعناہ فیخیر ضرورۃ۱؎۔
پھر نذر معلق میں تفصیل ہے اگر اس نے نذر کو ایسی شرط کے ساتھ معلق کیا جس کا وہ ارادہ رکھتا ہے مثلاًیوں کہے کہ اگر میرا غائب شخص آجائے (تو مجھ پر اتنا صدقہ لازم ہے) اس صورت میں اگر شرط پائی جا ئے تو نذر کو وجوباً پورا کرے گا اور اگر ایسی شرط کے ساتھ نذر کو معلق کیا جس کا وہ ارادہ نہیں رکھتا مثلاً یوں کہے کہ اگرمیں فلاں عورت سے زنا کروں (تو مجھ پر صدقہ لازم ہے) پھر حانث ہوا تو چاہے تو نذر کو پورا کرے چاہے تو قسم کا کفارہ دے دے کیونکہ یہ ظاہراً نذر اور معناً یمین ہے لہذا اس کوازراہ ضرورت اختیار دیا جائیگا۔(ت)
 (۱؎ درمختار     کتاب الایمان     مطبع مجتبائی دہلی     ۱/ ۲۹۴و۲۹۵)
اور اس کے بدلے یوں کہلوائیں کہ نہ دوں تو میرا مکان اور جائداد مسجد مذکور پر وقف ہے، تو یہ بھی بیکار ہے کہ وقف کسی شرط پر معلق نہیں ہوسکتا۔
ردالمحتار میں ہے:
الوقف لایحتمل التعلیق بالحظر۲؎۔
وقف قریب الہلاک شیئ کے ساتھ معلق ہونے کا احتمال نہیں رکھتا(ت)
 (۲؎ ردالمحتار    کتاب الوقف    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۳/ ۳۶۰)
ہاں باندی غلام ہوتے تویہ بندش پوری تھی کہ بشرط ممبری مثلاً ایک ہفتہ کے اندر اتنا روپیہ اگر فلاں مسجد کو نہ دوں تو میرے سب غلام وکنیز آزاد ہیں مگر یہاں باندی غلام کہاں، اور ایسی قسم طلاق کی نہ کھانی جائز نہ کھلانی جائز،
اور حدیث میں ارشاد ہوا:
ماحلف بالطلاق مومن ومااستحلف بہ الامنافق۳؎۔
طلاق کی قسم نہیں کھاتا مسلمان، نہ اس کی قسم لے مگر منافق۔
 (۳؎ کنز العمال     بحوالہ ابن عساکر عن انس     حدیث ۴۶۳۴۰    موسسۃ الرسالہ بیروت ۱۶/ ۶۸۹)
بالجملہ ایسی صورت کہ ممبری نہ ہونے پر روپیہ نہ دینا ہو اور ہونے پر مجبوراً دیناپڑے اور وہ مسجد ہی کاحق ہو کوئی نظر نہیں آتی سوا اس کے کہ طالب ممبری وہ روپیہ کسی امین کو دے دے اور اسے وکیل کردے کہ اگر ممبری ہوجائے تو یہ روپیہ فلاں مسجد میں دے دینا۔ اب اگر ممبری نہ ہوتو وکیل اسے روپیہ واپس دے اور ہوجائے تو فوراً وہ روپیہ متولی مسجد کو دے دے قبل اس کے کہ موکل اسے معزول کرسکے اس صورت میں جب وکیل وہ روپیہ مسجد کو دے چکے گا موکل کو اس کی واپسی کا کچھ اختیار نہ رہے گا
فان الصدقۃ اذا تمت لزمت
(اس لئے کہ صدقہ جب تام ہوجائے تو لازم ہوجاتا ہے۔ت) ہاں بعد ممبری وکیل ابھی روپیہ مسجد کو نہ دینے پایا کہ موکل نے منع کردیا اور اس ممانعت کی اطلاع وکیل کو ہوگئی تو وکالت سے معزول ہوجائے گا اور مسجد میں نہ دے سکے گا اور اگر اس نے منع کیا اور وکیل کو ابھی اطلاع نہ ہوئی اور روپیہ مسجد کو دے دیا تو دینا صحیح ہے اور مؤکل واپس نہیں کرسکتا
لان الوکیل لاینعزل بالعزل مالم یعلمہ
 (کیونکہ وکیل معزول کردینے سے معزول نہیں ہوتا جب تک اسے علم نہ ہوجائے۔ت) لہذا بعد ممبری وکیل فوراً متولی کو دے دے یہ سب صورتیں شرعاً مجبور ہونے کے متعلق تھیں اور اگر اطمینان ہوتو عنداﷲ وہ اتنے وعدہ ہی سے کہ ممبری ہوجائے تو اتنا روپیہ فلاں کو دوں گا دینے پر مجبور ہے کہ اﷲ واحد قہار سے وعدہ کرکے پھرنا بہت سخت ہے اوراس پر شدید وعید،
قال تعالٰی:
فاعقبھم نفاقا فی قلوبھم الی یوم یلقونہ بما اخلفوااﷲ ماوعدوہ وبماکانوایکذبون۱؎،
والعیاذباﷲتعالٰی۔واﷲتعالٰی اعلم۔
تو اس کے پیچھے اﷲ تعالٰی نے ان کے دلوں میں نفاق رکھ دیا اس دن تک کہ اس سے ملیں گے بدلہ اس کا کہ انہو ں نے  اﷲ تعالٰی سے وعدہ جھوٹا کیا اور بدلہ اس کا کہ وہ جھوٹ بولتے تھے، اﷲ تعالٰی کی پناہ۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
 (۱؎ القرآن الکریم ۹/ ۷۷)
مسئلہ۲۸۸: ازشہر علیگڑھ مرسلہ محمد اسمٰعیل ومحمد یوسف سوداگران موتی مسجد ۱۰/رجب المرجب۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ کہ زمانہ سلف کی ایک مسجد جس کی کرسی اونچی ہے ایک محلہ میں واقع ہے اس محلہ میں متعدد آدمی نمازی ہیں اور وہ بھی ناداری کی وجہ سے مسجد کے کسی خرچ کے کفیل نہیں ہوسکتے ہیں، اس مسجد میں کنواں نہیں تھا کچھ عرصہ ہوا کہ ایک کنارے سے کنواں بنوایاگیا ہے جو زینہ سے اور صحن کے میل میں ہے رائے یہ ہوئی کہ اس کا زینہ کنویں کی طرف کردیا جائے اور زینہ کے نیچے ایک آدھ گز زمین فرش میں سے لے لی جائے اس آدھ گز زمین میں دیوار اٹھاکر بنوادی جائے اور بجائے زینہ کے دکانیں بنوادی جائیں جن کا کرایہ مسجد کے خرچ میں صرف کیا جائے آدھ گز زمین فرش میں سے لینے کےلئے دیوار کاٹی جارہی تھی کہ بجائے مٹی کے راکھ نکل پڑی اور اور یکایک جو حصہ صحن کا چھوڑا تھا وہ بھی آن پڑا اس طرح سے کل کرسی صحن مسجد کی آن پڑی صرف اندرونی مسجد باقی ہے، اب یہ رائے ہے کہ صحن مسجد میں ایک صف کی جگہ ٹھوس کرادی جائے اور باقی صحن میں دکانات بنوادی جائیں اور ان دکانات کا کرایہ مسجد کے صرف میں لایا جائے اور ان دکانات کی چھت ہموار کرکے بیرون صف مسجد کے ساتھ جوٹھوس ہوگی ملادی جائے۔ تو دریافت طلب یہ امر ہے کہ وجوہات مندرجہ بالا کے لحاظ سے جو دکانات کا تیار کرانا اور چھت کا ہموار کردینااور بیرون صف سے ملادینا اس میں شرعاً تو کوئی امر مانع نہ ہوگا اور دکانات کی چھت جو ہموار ہوکر صحن مسجد ہوجائے گا اس میں نماز کی ادائیگی درست ہوگی اس کے متعلق جو اتفاق علماء کا ہو قطعی طور پر مفصل بتایا جائے اور شرعی مسئلہ کے موافق مشورہ موجودہ صورت میں تعمیر مسجد کا دیا جائے۔
الجواب: جو زمین مسجد ہوچکی اس کے کسی حصہ کسی جز کاغیر مسجد کردینا اور اگرچہ متعلقات مسجد ہی سے کوئی چیز ہو حرام قطعی ہے
قال اﷲ تعالٰی وان المسٰجدللہ ۱؎
 (اﷲتعالٰی نے فرمایا: بیشک مسجدیں اﷲ تعالٰی کی ہیں۔ت)
(۱ ؎ القرآن الکریم ۷۲/ ۱۸)
پہلے جو ایک حصہ فرش کا زینہ میں شامل کرنا چاہا تھا اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ تمام فرش گرگیا اب فرش مسجد کو دکانیں کرنا چاہتے ہیں، یہ حرام اور سخت حرام ہے،ان دکانوں میں بیٹھنا حرام ہوگا، ان سے کوئی چیز خریدنے کےلئے جانا حرام ہوگا، فنائے مسجد میں دکانیں کرنے کو تو علماء نے منع فرمایا نہ کہ معاذاﷲ نفس مسجد میں ۔
بزازیہ اور درمختار میں ہے:
لایجوز ان یتخذ شیئ منہ مستغلا۲؎۔
مسجد کے کسی حصہ کو کرایہ حاصل کرنے کےلئے مقرر کرنا جائز نہیں۔(ت)
(۲؎ درمختار    کتاب الوقف    مطبع مجتبائی دہلی    ۱/ ۳۷۹)
مبسوط السرخسی اور عالمگیریہ میں ہے:
قیم یرید ان یبنی حوانیت فی فناء المسجد لایجوز ذٰلک لانہ یسقط حرمۃ المسجد لانہ فناء المسجد لہ حکم المسجد۳؎۔ واﷲتعالٰی اعلم۔
کوئی متولی فنائے مسجد میں دکانیں بنانا چاہتا ہے تو اسے ایسا کرنا جائز نہیں اس لئے کہ یہ حرمت مسجد کو ساقط کردیتا ہے کیونکہ فنائے مسجد کا حکم وہی ہے جو خود مسجد کا ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
(۳؎ فتاوٰی ہندیۃ     کتاب الوقف    الباب الحادی عشر فی المسجد    نورانی کتب خانہ پشاور    ۲/ ۴۶۲)
مسئلہ۲۸۹: ازسکندرہ راو ضلع علیگڈھ محلہ نوخیل مرسلہ ایزدبخش ۱۳رمضان المبارک ۱۳۳۷ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ حدود جامع مسجد میں فرش مسجد سے ملحق ایک درجہ وضوخانہ کے نام سے جس کے بیرونی دروازہ عام راہ پر اور اندرونی در جن کے فرش مسجد پر نصب ہیں او رنالی واسطے خارج ہونے پانی وضو درمیان فرش مسجد وصحن ووضو خانہ مسقف تعمیر ہے جس میں وقت بارش ودھوپ نمازی وضوکرتے ہیں اب ان کے در جو جانب فرش مسجد ہیں بند کرکےایک ہندو وکیل کو جو پیشہ وکالت کرتا ہے واسطے کرنے وکالت کرایہ پردے سکتے ہیں یانہیں؟
الجواب: حرام حرام حرام، بوجوہ حرام ، اگرچہ مسلمان کو جائز کار دنیوی کے لئے کرایہ پردیتے۔
عالمگیری میں ہے:
لایجوز تغییرالوقف عن ھیأتہ۱؎
 (وقف کو اس کی ہیئت سے تبدیل کرنا جائز نہیں۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم۔
 (۱؎ فتاوٰی ہندیہ     کتاب الوقف    الباب الرابع عشر فی المتفرقات     نورانی کتب خانہ پشاور    ۲/ ۴۹۰)
مسئلہ۲۹۰: ازپدارس پور ضلع بریلی ڈاکخانہ صدرکمپ مرسلہ سنوخاں ۲۲رمضان المبارک ۱۳۳۷ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص کالے خاں اس کی اینٹ تخمیناً قریب چار ہزار کے تھیں اس کو ایک ڈگری دار نے قرق کرایا  اور بجائے چار ہزار کے ڈھائی ہزار کا تخمینہ کیا گیااوران اینٹوں کو بضرورت مسجد نیلام میں خرید کیں اور خرید بنام سنو خاں کے لیں بعد خرید نیلام کے جب اس کا شمار کیا گیا تو چار ہزار ہوئیں اور آپس میں یہ مشورہ ہوگیا کہ اس کے اوپر کوئی دام نہ بڑھائے یہ واسطے مسجد کے خرید کی جائیں تو اب مسجد میں ڈھائی ہزار دینا چاہئے یا کل دی جائیں اور اگر ڈھائی ہزار دی گئیں مسجد میں توباقی ڈیڑھ ہزار تخمیناًبچیں تو اس کامالک کالے خاں ہے یامسجد کی ہوئیں؟
الجواب: جو باقی بچیں ان کامالک تو یقینا کالے خاں  ہے اس کو دی جائیں، اور سائل نے بیان کیا کہ یہ نیلام ڈگری دار نے کرایا اور اس کا مطالبہ پور ا بھی نہ ہوا نہ کہ کچھ بچتا اور کالے خان کو دیا جاتا اور وہ لیتا تو وہ ڈھائی ہزار بھی مسجد میں صرف کرنی جائزنہیں، ہاں اگر کالے خاں بخوشی مسجد کو ہبہ کردے تو جائز ہے چاہے یہ ڈیڑھ ہزار بھی ہبہ کردے۔واﷲ تعالٰی اعلم
Flag Counter