Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۶(کتاب الشرکۃ، کتاب الوقف )
79 - 112
مسئلہ ۲۸۵: از موضع سیاکھ تھانہ چومکہ تحصیل میرپور ریاست جموں مسئولہ محمد ابراہیم۱۴ذی الحجہ ۱۳۳۶ھ
ایک قطعہ اراضی جو مسجد کے قریب واقع ہے آباء واجداد سے خادم آب مسجد اس کی کاشت کرتے ہیں اور ماحصل اس کا کھاتے ہیں اور خراج اس کا ادا کردیتے ہیں اگرخدمت ماء چھوڑدیں تو اہل دیہہ دوسرے خادم آب مسجد کو دیتے ہیں اسی طریق پر قبضہ اراضی مذکور کا بدلتا جاتا ہے معلوم نہیں ہوتا کہ آبا واجداد اہل دیہہ نے کس طرح اراضی بالا کو مقرر کیا مسجد کی تعمیر کے ساتھ ہی وقف کیا یا بعد ہ وقف کیا ہے یا بوجہ اعمال بطور خدمت مذکور دی گئی اورملک خود باقی، اگر اب موجودہ اہل دیہہ اراضی مملوکہ مشترکہ سمجھ کر اس کے کئی گوشہ پر تعمیر مکان امام مسجد کرادیں اور یہ کہیں کہ یہ اراضی مشترکہ مملوکہ ہمارے آباواجداد کی ہے ہم کو اختیار ہے جو کریں خادم آب مسجد صرف مزدوری کا مالک ہے اس کی مزدوری نقد وغیرہ سے ادا کریں، بالاتفاق تعمیر مذکور کرادیں، آیا یہ عمارت اس قطعہ اراضی میں جائز ہے یانہیں، چونکہ ہمارے ہاں لوگ جہالت اور لاعلمی کی وجہ سے شروط اور ارکان وقف سے واقف نہیں، پس یہ اراضی بالاکس امر پر محمول ہوگی، وقف سمجھی جائے گی یا مملوکہ اہل دیہہ متصور ہوگی یا کسی اور طریق پر محمول ہوگی ہر ایک قید قیود مدنظر فرما کر بالتعجیل جواب باصواب سے ممتاز فرمائیں ہمارے لوگ اکثر جوابہائے سوال دیوبندیوں سے منگواتے ہیں چونکہ یہ فقیروں کی جانب سے بعض مسائل اعتقادی عمل میں گراں خاطر ہیں اس واسطے حضرت کو تکلیف دی گئی۔
الجواب: اگر وہ زمین بنام وقف مشہور ہوتو بلا شبہ وقف ہے کہ وقف شہرت سے ثابت ہوجاتا ہے اگرچہ پتا نہ چلے کہ کب اور کس نے وقف کیا جیسے قدیم مساجد کہ بلاشبہ وقف ہیں اگرچہ نہیں بتاسکتے کہ کس نے کب بنائیں،
درمختار میں ہے:
تقبل فیہ الشھادۃ بالشھرۃ۱؎(ملخصاً)
وقف میں شہرت کی بنیاد پر شہادت مقبول ہے(ملخصاً)۔(ت)
 (۱؎ درمختار    کتاب الوقف    فصل یراعی شرط الواقف فی اجارتہ     مطبع مجتبائی دہلی     ۱/ ۳۸۸)
ردالمحتار میں ہے:
فی الاسعاف عن الخانیۃ وتصح دعوی الوقف والشھادۃ بہ من غیربیان الواقف۲؎۔
اسعاف میں خانیہ سے منقول ہے وقف میں دعوٰی اور شہادت بیان واقف کے بغیر بھی صحیح ہے۔(ت)
 (۲؎ ردالمحتار       کتاب الوقف    فصل یراعی شرط الواقف فی اجارتہ    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۳/ ۴۰۳)
اور اگر بنام وقف مشہور نہ ہو نہ اور کسی ذریعہ شرعیہ سے اس کا وقف ہونا ثابت ہواور یہ ثابت ہو کہ فلاں شخص کی ملک تھی اور یہ ثبوت گواہان عادل سے ہوتو وہ اس شخص کا ترکہ اور اس کے وارثوں کی ملک ہے جو چاہیں کریں ، اور اگر اس کا بھی ثبوت نہ ہو تو جس طرح قدیم سے خادما ن آب کے قبضے میں چلی آتی ہے یونہی رہے گی، اہل دیہہ بلا ثبوت شرعی اس پر دعوٰی ملک یا کوئی تصرف جدید نہیں کرسکتے۔
امام ثانی مذہب سیدنا ابویوسف رضی اﷲ تعالٰی عنہ کتاب الخراج میں فرماتے ہیں:
لیس للامام ان یخرج شیئا من یداحد الابحق ثابت معروف۳؎۔
اما م کو جائز نہیں کہ بغیر حق ثابت ومعروف کے کسی کے قبضہ سے کوئی شے خارج کرے(ت)
(۳؎ کتاب الخراج     فصل فی الارض فی الصلح والعنوۃ    مطبع بولاق مصر    ص۷۰)
بلکہ قدیم سے اس کا یونہی چلاآنا اور کسی کا دعوی ملک نہ کرنا حال کے لوگوں کے دعوی ملک کو ناقابل سماعت کرتا ہے۔
ردالمحتارمسائل شتی میں ہے:
فی الحامدیۃ من الولوالجیۃ رجل تصرف زمانا فی ارض ورجل اخریری الارض والتصرف ولم یدع ومات علی ذلک لم تسمع بعد ذٰلک دعوی ولدہ فتترک علی یدالمتصرف۱؎۔
حامدیہ میں بحوالہ ولوالجیہ ہے کہ ایک شخص کچھ عرصہ ایک زمین میں تصرف کرتا رہا اور دوسرا شخص اسے زمین میں تصرف کرتے دیکھتا رہا اور اس پر دعوی نہیں کیا پھر اسی حال میں مرگیا تو اس کے بعد اس کے بیٹے کا دعوٰی مسموع نہ ہوگالہذا وہ زمین حسب سابق متصرف کے قبضے میں رہنے دینگے۔(ت)
 (۱؎ ردالمحتار     مسائل شتی    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۵/ ۴۷۳)
اور جبکہ کسی کی ملک ثابت نہیں، نہ اب دعوی ملک سنا جائے اور متعلق مسجد ہونا قطعاً معلوم کہ اسی کے خادمان آب کے تصرف میں رہتی ہے اور وہ مسجد کے لئے اس کا خراج ادا کرتے ہیں تو مسجد پر وقف ہی سمجھی جائے گی اوریہ طریقہ کہ اجرت آب میں ان کو دی جاتی ہے کہ خراج دیں او رباقی محاصل اپنی مزدوری میں لیں حرام ہے کہ اجرت مجہولہ بلکہ غرر وخطر میں ہے اور مسلمانوں کا کام حتی الامکان صلاح پر محمول کرنا واجب،
کما نصواعلیہ قاطبۃ فی غیرمامقام
 (جیسا کہ علماء نے متعدد مقامات پر اس کی صراحت کی۔ت) تو یہ تعامل قدیم یوں سمجھاجائے گا کہ واقف ہی نے زمین اسی شرط پر وقف کی کہ خادمان آب مسجد اس کی کاشت کریں اور محاصل کھائیں اور خراج مسجد کو دیں تو اس طریقے کی تبدیل کسی کے اختیار میں نہیں،
فان شرط الواقف کنص الشارع صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم۲؎۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
واقف کی شرط شارع علیہ الصلوٰۃ والسلام کی نص کی طرح ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔ (ت)
(۲؎ درمختار     کتاب الوقف فصل یراعی شرط الواقف    مطبع مجتبائی دہلی     ۱/ ۳۹۰)
مسئلہ۲۸۶:از ریاست گوالیار محلہ چوک بازار جامع مسجد مرسلہ عبدالغفور صاحب ۳ربیع الاول ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ۱۳۱۹ھ میں شہر گوالیار میں یہیں کے شرفاء ذی علم اور معزز حضرات کی ایک انجمن قائم ہوئی گوالیار کی جامع مسجد نہایت شکستہ حالت میں بکفالت سرکار تھی۔ اراکین انجمن نے واگذاشت کرانے کی کوشش کی، ریاست نے بکمال رعایا پروری جامع مسجد مع دکانات اور اراکین انجمن کے سپرد فرمادی، اراکین انجمن نے علاوہ انتظام جامع مسجد کے اور انتظام دینی خدمات کے بھی اپنے زمہ لئے ستائیس ہزار روپیہ جامع مسجد مذکور کی مرمت و تعمیر میں صرف کیا جس میں دس ہزار عطیہ ریاست ہے اراکین انجمن نے ایک امام مسمی زید کو بمشاہرہ مبلغ ۱۰؎/ماہوار مقرر کیا مگر زید نے اپنے فرائض منصبی یعنی نماز وغیرہ کی پابندی نہیں کی، علاوہ عدم پابندی نماز وغیرہ کے اور بہت سی بے عنوانیاں ظاہر ہوئیں جس پر اراکین انجمن نے بہت فہمائش کے بعد زید کو کئی برس کا عرصہ ہوا برخاست کردیا اور دوسرے امام صاحب کو بیس روپیہ ماہوار تنخواہ پر مقرر کیا۔

اول یہ ہے کہ ازروئے شرع شریف ایسے امام کو جیسا کہ زید تھا اور جس کو عہدہ امامت پر اراکین انجمن نے مقرر کیا تھا برخاست کرنے کا اختیار اراکین انجمن کو تھایا نہیں؟ اور ایسی صورت جب کہ کل انتظام جامع مسجد کا اراکین انجمن کے اختیار میں سترہ اٹھارہ برس سے ہے ،اراکین انجمن جس کو چاہیں امام بنا سکتے ہیں یا نہیں ؟ زید کا خیال ہے کہ منصب امامت ایک دائمی اور موروثی عہدہ ہے اور باوجود عدم پابندی نماز اور بہت سی بے عنوانیاں کے امام کسی حال میں معزول نہیں ہوسکتا، کیا درحقیقت شرعاً منصب امامت کوئی دائمی اور موروثی عہدہ ہے، زید یہ بھی کبھی کبھی کہتا ہے کہ عوام الناس سے مشورہ میری معزولی کے وقت میں نہیں لیا گیا لہذا میں معزول نہیں ہوا، کیا شرعاً اس کی معزولی کے لئے عوام الناس کا مشورہ ضروری تھا اور کیا بغیر عوام الناس کے مشورہ کے انجمن انتظامیہ جامع مسجد جو عرصہ سے جامع مسجد کی متولی اور منتظم ہے اور جس نے بغیر مشورہ عوام الناس کے زید کو دس روپیہ ماہوار پر امام مقرر کیا تھا اس کو معزول نہیں کرسکتی۔بینواتوجروا(بیان کیجئے اجر پائیے۔ت)
الجواب:اما مت میں میراث جاری نہیں ورنہ امام متوفی کے بعد آٹھویں دن اس کی زوجہ امامت کرے، جو نماز کا پابند نہ ہولائق امامت نہیں، اسے معزول کرنا واجب ہے، اگر معزول نہ کرتے گنہگار رہتے۔
تبین الحقائق میں ہے:
لان فی تقدیمہ للامامۃ تعظیمہ وقدوجب علیھم اھانتہ شرعاً۱؎۔
فاسق امام کی تقدیم میں اس کی تعظیم ہے جب کہ لوگوں پر شرعاً اس کی توہین لازم ہے۔(ت)
 (۱؎ تبیین الحقائق     کتاب الصلوٰۃ     باب الامامۃ     المطبعۃ الکبری الامیریۃ بولاق مصر     ۱/ ۱۳۴)
انجمن کو ایسے شخص کے معزول کرنے میں کسی سے کچھ مشورہ کی حاجت نہ تھی بلکہ بحالت مذکورہ اگر تمام عوام الناس اس کو بحال رکھنا چاہتے تو ان کا کہنا ماننا جائز نہ تھا اور معزول کرنا واجب تھا۔
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لاطاعۃ لاحد فی معصیۃ اﷲ تعالٰی۱؎۔
اﷲ تعالٰی کی معصیت میں کسی کی طاعت نہیں کی جائیگی۔(ت)
 (۱؎ مسند احمد بن حنبل     بقیہ حدیث حکم بن عمرو الغفاری    دارالفکر بیروت    ۵/ ۶۶،۶۷)

(کنز العمال بحوالہ ق۔ د۔ ن عن علی رضی اﷲ عنہ     حدیث۱۴۸۷۴موسسۃ الرسالہ بیروت    ۶/ ۶۷)
زید کا یہ عذر عجیب ہے، انجمن کی کارروائی بے مشورہ عوام اس کے نزدیک صحیح ہے یا باطل؟اگر صحیح ہے تو عذر کیا ہے اور اگر باطل ہے تو معزولی درکنار، اس کا تقرر ہی باطل تھا کہ وہ بھی انجمن نے بے مشورہ عوام کیا تھا اور جب تقرر باطل تھا تو جتنے دنوں مسجد کے مال سے ۱۰؎/ماہوار لیا واپس دے۔ اب کہے گا کہ وہ تقرر صحیح تھا تویہ معزولی بھی کہ بوجہ شرع ہے صحیح ہوئی، ہاں بلاوجہ شرعی مقبول نہ ہوتی۔
بحرالرائق وردالمحتار میں ہے:
واستفید من عدم عزل الناظر بلاجنحۃ عدمھا لصاحب وظیفۃ فی وقف بغیر جنحۃ وعدم اھلیۃ۲؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
ناظر کو بلا جرم معزول کرنے کے صحیح نہ ہونے سے معلوم ہوتا ہے کسی وقف میں کسی صاحب وظیفہ کو بلا جرم اور بغیر نااہلی کے معزول کرنا صحیح نہیں، واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
 (۲؎ ردالمحتار    کتاب الوقف    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۳/ ۳۸۶)
Flag Counter