مسئلہ۲۸۱: مسئولہ آفتاب الدین ازمدرسہ منظر اسلام
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ یہ مسلمان چاہتے ہیں کہ زمین ہندو زمیندار سے مول لے کر مسجد کے لئے وقف کریں مگر وہ زمیندار مسلمانوں کے ہاتھ نہیں بیچتا ہے، تو اس صورت میں مسجد بنانے کے لئے کیا حکم ہے؟آیا کہ موروثی زمین پر مسجد بناکر نماز پڑھیں یا اپنے اپنے گھر نماز پڑھیں اور نماز جمعہ کے بابت کیا حکم ہے جب ہندوزمیندار اپنی زمین نہ بیچے؟
الجواب: ہندو اگر بیچتا نہیں اس سے کوئی مسلمان اپنے نام ہبہ کرالے پھر یہ مسلمان اسے مسجد کردے، موروثی ہونے سے زمین ملک مزارعاں نہیں ہوجاتی، اور وقف کرنے کے لئے ملک ضرور ہے، اگر وہ ہبہ نہ بھی کرے تو گھروں میں یاجہاں مناسب تر ہو نما ز پڑھیں اور جمعہ بھی اگر وہ جگہ شہر یا فناء شہرہو۔ گاؤں میں جمعہ خود ہی جائز نہیں۔ واﷲتعالٰی اعلم۔
مسئلہ۲۸۲: ایک مسجد نہایت تنگ ہے کہ اس میں بیس آدمی سے زائد نمازی نماز نہیں پڑھ سکتے، یہاں کا زمیندار ہندو ہے وہ عرض وطول میں گھٹانے بڑھانے کی اجازت نہیں دیتا ہے ایسی صورت میں مسجدکو بحیثیت دو منزلہ تعمیر کرکے اور نیچے اس کے دکانیں بناکر اس کو کرایہ پر دے سکتا ہے یانہیں؟اور اس کرایہ کو مسجد کی صرف میں لانے کاخیال ہے اور مسجد کو دکانوں کے اوپر بناسکتا ہے یانہیں؟ایسی صورت میں اس وقت سجدہ گاہ نیچے ہے اور پھر دکانوں کے اوپر ہو اس کے واسطے جو حکم ہو مع حوالہ حدیث قوی و مستند کے دیا جائے۔
الجواب: مسجد کو دکانیں کردینا حرام قطعی ہے، توسیع کےلئے یہ ہوسکتا ہے کہ دو منزلیں کردی جائیں وقت ضرورت بالاخانہ پر بھی نماز ہو۔ واﷲتعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۸۳ تا۲۸۴: ازالہ آباد سرائے گڑھا دارالطلبہ مرسلہ محمد نصیر الدین صاحب ۱۹رمضان المبارک ۱۳۳۶ھ
سوال اول: ایک مسجد کے متعلق کچھ دکانیں ہیں اور مسجدکے وقف نامہ کا کچھ پتا نہیں ہے البتہ اس کی آمدنی متولی سابق اپنے و مسجد کے ضروری اخراجات میں صرف کرتے تھے ان کے زمانہ میں زیر باری بہت ہوگئی تھی تاہم رمضان المبارک کی تراویح میں قرآن شریف ختم ہونے کے بعد شیرینی منگا کر تقسیم کرتے تھے اور ان سے پیشتر جومتولی تھے وہ علاوہ ان اخراجات کے رمضان شریف میں روزانہ افطاری بھی منگا کر نما ز یوں کو تقسیم کرتے تھے
دریافت طلب امریہ ہے کہ اس مسجد کی آمدنی سے اب مٹھائی اور افطاری منگانا درست ہے یانہیں؟
الجواب ھو الموفق و الصواب
صورت مسئولہ میں ختم کی مٹھائی اور رمضان شریف میں افطاری منگانا جائز ہے اس لئے کہ مسجد کی آمدنی کے متعلق پیشتر وقف نامہ کے شرائط کے مطابق عملدرآمد کرنا چاہئے، اور اگر وقف نامہ موجود نہ ہو تو متولیان سابق کے تعامل کے مطابق عمل کرنا چاہئے اور اگر تعامل کا بھی حال معلوم نہ ہوتو جو مسجد کے ضروری اخراجات شرعاً ثابت ہوں اس میں خرچ کرنا چاہئے،
جیسا کہ شامی کتاب الوقف میں مذکور ہے: وفی الخیریۃ ان کان للوقف کتاب دیوان القضاۃ المسمی فی عرفنا بالسجل وھو فی ایدیھم اتبع مافیہ استحسانا اذا تنازع اھلہ فیہ، والا ینظر الی المعھود من حالہ فیما سبق من الزمان من ان قوامہ کیف کانوا یعملون وان لم یعلم الحال فیما سبق رجعنا الی المقیاس الشرعی وھوان من اثبت بالبرھان حقا حکم لہ بہ۱؎اھ فقط واﷲ تعالٰی اعلم کتبہ محمد عبدالکافی۔
فتاوی خیریہ میں ہے کہ اگر وقف کے لئے کوئی تحریر دفتر قضاۃ یعنی قاضی کے رجسٹر میں ہے جس کو ہمارے عرف میں سجل کہاجاتا ہے تو متولیان وقف میں اختلاف کی صورت میں استحساناً اس تحریر کے مندرجات کی اتباع کی جائیگی ورنہ دیکھا جائے گا کہ زمانہ سابقہ سے اس وقف کاحال معہود و معروف کیا چلا آرہا ہے یعنی متولیان سابق کیسے کرتے تھے اگر یہ بھی معلوم نہ ہوسکے تو پھر ہم اس قیاس شرعی کی طرف رجوع کریں گے کہ جس نے برہان سے حق ثابت کردیا اس کےلئے اس حق کا فیصلہ کردیا جائے گا اھ فقط واﷲتعالٰی اعلم، اس کو محمد عبدالکافی نے لکھاہے۔(ت)
(۱؎ ردالمحتار کتاب الوقف فصل یراعی شرط الواقف فی اجاررتہ داراحیاء التراث العربی بیروت۳/ ۴۰۴)
سوال دوم: ایک مسجد کے سابق متولی سید تھے، وہ بہت نیک وسادہ طبیعت تھے، ان کی سادگی سے کچھ لوگوں نے مسجد کو نقصانات پہنچا دئے، ان وجہوں سے ان کی مسجد سے علیحدگی بھی ہوگئی،ا ب ان کی بے عنوانیوں کو پتھر پر کندہ کراکے مسجد میں نصب کرانا جس سے ان کو صدمہ روحی ہوگا جائز ہے یانہیں؟گوان کا نام مذکورنہیں ہے بلکہ بجائے نام متولی سابق لکھا گیا ہے جن کو اس لقب کے ساتھ شہر کے لوگ جانتے ہیں۔
الجواب: جب کہ سید صاحب کی علیحدگی ہوگئی اور ان کو مسجد سے کوئی تعلق نہ رہا تو ان کی برائیوں کا کندہ کرکے نصب کرنا نہ چاہئے اس لئے کہ جو کچھ ان سے غفلت ہوئی اس کو عوض ان کو مل چکا اب ہمیشہ کےلئے علانیہ پتھر پر ان کے بے عنوانیاں کندہ کراکے نصب کرانا جائز نہیں بلکہ یہ غیبت میں داخل ہے،
جیسا کہ درمختار میں مذکور ہے:
فی کتاب الحظر والاباحۃ فصل فی البیع وکما تکون الغیبۃ باللسان صریحا تکون ایضا بالفعل وبالتعریض وبالکتابۃ وبا لحرکۃ وبالرمز وبغمز العین والاشارۃ بالید وکل مایفھم منہ المقصود فھو داخل فی الغیبۃ وھو حرام۱؎الخ فقط واﷲ تعالٰی اعلم بالصواب، کتبہ محمد عبدالکافی۔
کتاب الحظر والاباحۃ میں بیع کے متعلق فصل کے تحت مذکور ہے کہ غیبت جس طرح صراحتاً زبان سے ہوتی ہے اسی طرح عمل، تعریض، تحریر، حرکت، رمز، آنکھ اور ہاتھ کے اشارے سے بھی ہوتی ہے اسی طرح ہر وہ شے جس سے یہ مقصدحاصل ہوتا وہ غیبت میں داخل ہے اور غیبت حرام الخ فقط واﷲ اعلم بالصواب، اس کو محمد عبدالکافی نے لکھا ہے(ت)
(۱؎ درمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۵۰)
الجواب: اللّٰھم ھدایۃ الحق والصواب۔
(۱) ایک دو شخص کے کرنے سے تعامل ثابت نہیں ہوتا، اگریہ معلوم ہوکہ قدیم سے یہ مصارف متولیان مسجد مال مسجد سے کرتے آئے اب بھی کئے جائیں گے ورنہ نہیں جبکہ اور کوئی ذریعہ ثبوت شرعی نہ ہو۔
فتاوٰی خیریہ میں ہے:
اذاوجد شرط الواقف فلا سبیل الی مخالفتہ واذا فقد عمل بالاستفاضۃ والاستیمارات العادیۃ المستمرۃ من تقادم الزمان والٰی ھذاالوقت۱؎۔
اگر واقف کی طرف سے کوئی شرط موجود ہے تو اس کی مخالفت کی کوئی سبیل نہیں اور اگر یہ مفقود ہے تو پرانے زمانے سے اب تک اس وقف کے بارے میں جو معاملات مشہودہ تسلسل واستمرار سے چلے آرہے ہیں ان پر عمل کیا جائیگا۔(ت)
(۱؎ فتاوٰی خیریہ کتاب الوقف دارالمعرفۃ بیروت ۱/ ۱۲۳)
ورنہ تمام مجہول الشرائط اوقاف ہر متولی کے استعمال وتابع افعال ہوجائیں کہ ایک کے فعل سے تعامل ثابت اور سابق سے عدم ثبوت، ثبوت عدم نہیں۔
وھذا لایتفوہ بہ من لہ ادنی ترعرع من العامیۃ کما لایخفی
(یہ ایسی بات ہے جو ادنٰی سوجھ بوجھ رکھنے والاایک عام آدمی بھی نہیں کہہ سکتا ہے جیسا کہ مخفی نہیں۔ت)
(۲) اگر ان باتوں میں ان کا قصور نہ تھا بلکہ اور لوگوں نے نقصان پہنچائے تو ان افعال کی ان کی طرف نسبت بہتان وافترا ہے اور اس کی اشاعت اشاعت فاحشہ ہے اور وہ حرام ہے۔
قال تعالٰی ان الذین یحبون ان تشیع الفاحشۃ فی الذین اٰمنوالھم عذاب الیم فی الدنیا والاٰخرۃ۲؎۔
اﷲ تعالٰی نے ارشاد فرمایا: بیشک وہ لوگ جو مومنوں میں اشاعت فاحشہ چاہتے ہیں ان کیلئے دنیا وآخرت میں درد ناک عذاب ہے(ت)
(۲؎ القرآن الکریم ۲۴/ ۱۹)
اور اگر ان کا قصور تھا اور اس پر ان کی علیحدگی بھی ہوگئی اور اب ان بے اعتدالیوں کاپتھر پر کندہ کراکے نصب کرنا کوئی مہم مصلحت شرعیہ نہ رکھتا ہوتو اگرچہ اس حالت میں کہ و ہ باتیں معروف و مشہور ہوچکی ہوں اہل شہر ان وقائع پر مطلع ہوں ان کا لکھ کر نصب کرنا غیبت نہیں ہوسکتا ہے خصوصاً منظر عامہ میں نصب کہ اشتہار چھاپ کر عام تقسیم کی طرح حد غیبت میں اس کا آنا دشوار نہ تاحیات متولی مذکور اس کے عدم جواز کی کوئی وجہ جب کہ منجر بفتنہ نہ ہو ہاں بعد موت متولی اس پتھر کا معدوم کردینا ہوگا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اپنے مردوں کو برانہ کہو کیونکہ وہ اپنے آگے بھیجے ہوئے اعمال کو پہنچ چکے ہیں۔(ت)
(۴؎ صحیح البخاری کتاب الجنائز باب ماینہی عن سب الاموات قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۸۷)
(سنن النسائی کتاب الجنائز ، النہی عن سب الاموات ، نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۱/ ۲۷۴)
بایں ہمہ جب کہ بلامصلحت شرعیہ ہے عبث ہے، اور عبث سے ویسے ہی بچنا چاہئے نہ کہ وہ جس سے کسی مسلمان کو تکلیف ہو اور اگر وہ افعال وقف میں خیانت واضرار تھے اور متولی کو پھر عودکی ہوس ہے اور اس کی قوت یا بعض کی حمایت سے عودکا اندیشہ ہے اور اس پتھر کا نصب کرنا مانع ہوگا غرض اس کے نصب میں اس کا عزل ہے یا اسی طرح اور کوئی مصلحت مہمہ شرعیہ ہے تو نصب میں حرج نہیں بلکہ حاجت ہوتو اجر ہے،
نظیر مافی الحدیث اترعون عن ذکر الفاجر کی یعرفہ الناس اذکرو الفاجر بما فیہ ویحذرہ الناس۱؎۔ واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
اس کی نظیر وہ ہے جو حدیث میں ہے کہ فاجر کا رد کرنے سے باز رہتے ہو تا کہ لوگ اسے پہچانتے رہیں، فاجر کی فجور اوراس کی بری خصلتوں کا ذکر کرو تاکہ لوگ اس سے بچیں۔واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
(۱؎ السنن الکبرٰی کتاب الشہادات دارصادر بیروت ۱۰/ ۲۱۰)