مسئلہ ۲۷۷: ازویجیا نگرم ضلع وزیگا پٹم مرسلہ حاجی علی محمد عثمان ۲۰ جمادی الآخرہ ۱۳۳۶ھ
یہاں کی جامع مسجد میں اندر کے طاقوں والے ستونوں پر یہ تاریخ لکھی ہے:
از حکم مہاراج عالی لقب محمد علی حاجی خوش لقب باحداث مسجد سعی نمود، کزاں مومناں راشدہ صد طرب بتاریخ اوگشت الہام حق، کہ واسجد بدرگاہ رب واقترب، زلطف خداوند حی وصمن، محمد ابراہیم خوئے لقب بتعمیر مسجد چوں بنمود عزم، دوبارہ پئے قرب درگاہ رب۔ پے تاریخ آمد بگوش۱۲۴۲نگرحکم رب
واسجدواقترب۔
مہاراج بلند لقب کے حکم سے اچھے لقب والے حاجی محمد علی نے مسجد بنانے کی کوشش کی جس سے مومنوں کو سیکڑوں خوشیاں حاصل ہوئیں، اس کی تاریخ کے بارے میں حق تعالٰی کی طرف سے یوں الہام ہوا کہ واسجد بدرگاہ واقترب(پروردگار کی بارگاہ میں سجدہ کر اور قرب حاصل کر) زندہ وبے نیاز خدا وند قدوس کی مہربانی سے پروردگار کا قرب حاصل کرنے کی خاطر محمد ابراہیم خوئے لقب نے دوبارہ مسجدکی تعمیر کا عزم کیا تو اس کی تاریخ کےلئے یہ صداکان میں آئی کہ نگر حکم رب واسجد اقترب(پروردگار کایہ حکم دیکھ کر سجدہ کر اور قریب ہوجا)۔(ت)
تحقیقات سے معلوم ہوا کہ پہلی مرتبہ اس مسجد کی بنا حاجی محمد علی نے یہاں کے ہند وراجہ کے حکم سے کی اور حاجی محمد علی شیعہ مذہب کا تھا، بعد میں اس مسجد کوگراکر دوسری مرتبہ اسی جگہ پر سنی مسلمانوں نے چندہ کرکے پھر نئے سرے سے تعمیر کی گئی جس چندہ میں زیادہ حصہ محمدابراہیم خوئے لقب نے لیا جو شیعی مذہب کا ہے جس کا نام تاریخ میں لکھا ہے مگر اس مسجد میں شیعوں کا تصرف کسی قسم کا ہے نہ ان میں سے کوئی نماز کوآتا ہے، امام مؤذن کی تنخواہیں راجہ کے خزانہ سے ملتی ہیں جن سے مسجد کے چراغ بتی بھی ہوتی، اب ان کے احکام بیان فرمائیں کہ اس مسجد میں نماز ہوسکتی ہے یانہیں؟یہ مسجد مسجد جامع کاحکم رکھتی ہے یانہیں؟ ہندو راجہ کے پیسہ سے مسجد کے چراغ بتی کا کیاحکم ہے؟
الجواب
نماز اس میں ہوسکتی ہے تواصلا یہ محل اشتباہ نہیں۔ نماز ہر پاک جگہ ہوسکتی ہے جہاں کوئی ممانعت شرعی نہ اگرچہ کسی کا مکان یا افتادہ زمین ہو۔
رسول اﷲ صلی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
جعلت لی الارض مسجداو طھورا فا ما رجل من امتی ادرکتہ الصلوۃ فلیصل۱؎۔
میرے لئے زمین کو جائے نماز اور پاک کرنے والی بنایا گیا ہے لہذا میری امت میں سے کسی شخص کو جہاں بھی نماز کا وقت آجائے تو اس کو وہاں ہی نماز پڑھ لینی چاہئے۔(ت)
اور جب وہ تقریباً سوبرس سے مسجد کہلاتی، مسجد سمجھی جاتی ہے اس میں جمعہ وجماعت واذان ہوتی ہے اس کے لئے امام ومؤذن مقرر ہیں تو اب اسے مسجد سمجھنے میں شبہ پیداکرنے کی کوئی وجہ نہیں۔ ہندوراجہ کے حکم سے بننا اس کو مستلزم نہیں کہ اس کی مملوک زمین میں اسی کی ملک پر بنی ہے کہ مسجد نہ ہو سکے بلکہ غالب یہی ہے کہ شہر کی زمین پر جس کا کوئی شخص مالک نہیں ہوتا ہے اور والیان ملک اس میں بطور خودتصرف کرتے ہیں جسے چاہتے ہیں دیتے ہیں جو چاہتے ہیں بنواتے ہیں ایسی زمین پر باجازت راجہ بنی، ملک کی غیر مملوکہ زمین اﷲ عزوجل کی ملک ہوتی ہے، بیت المال کی کہلاتی ہے، راجہ ا س کا مالک نہیں ہوتا،
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
عادی الارض ﷲ ولرسولہ۲؎
(زمین اﷲ تعالٰی اور رسول صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی ملک ہوتی ہے۔ت)
اور رافضی کے اہتمام سے بننا بھی اس کے مسجد ہونے میں مخل نہیں، اگر اس کا رفض حد کفر تک نہ تھا جب توظاہر، ورنہ غایت یہ کہ اس کے مسجد کرنے سے مسجد نہ ہوئی، مگر جب مسلمانوں نے اسے مسجد قرار دیا اس میں نمازیں مسجد سمجھ کر پڑھیں مسجد ہوگئی،
فان الارض ان کانت لبیت المال فجاز جعلھم ایاھا مسجدا، والبناء ان کان من مال المسلمین فبہا اومن مال المرتد فاذا مات علی ارتدادہ فصارفیئا للمسلمین او من خزانۃ الوالی فالخزانۃ لبیت المال علی ان ماکان لکافر غیر ذمی ولامستأمن وحصل للمسلمین بغیر عذر ونقض عھد صار لھم علی ان بیدنا دلیلا ظاہرا یثبت بہ الوقف شرعا وھی الشھرۃ فدعوی خلافہ یردھا الاحتمال کما بیناہ فی فتاوٰنا بتوفیق اﷲ۔
زمین جبکہ بیت المال کی ہوتو مسلمانوں کے لئے جائز ہے کہ اسے مسجد بنادیں، اور تعمیر اگر مسلمانوں کے مال سے ہو تو فبہا، یا تعمیر مرتد کے مال سے ہوئی اس کے ارتداد پر مرنے کے بعد اس کا مال مسلمانوں کےلئے فے ہوگیا، یا والی کے خزانہ سے تعمیر ہوئی تو خزانہ بیت المال کا ہے، اس بنیاد پر غیر ذمی اور غیر مستامن کافر کا مال اگر بغیر دھوکا اور بدعہدی کے بغیر مسلمانوں کو حاصل ہوتو وہ انہیں کا ہو جاتا ہے، علاوہ ازیں ہمارے پاس جو دلیل ہے وہ ظاہر ہے جس سے شرعاً وقف ثابت ہوجاتا ہے اور وہ دلیل شہرت ہے پس اس کے خلاف دعوٰی کے احتمال کو رد کردیتا ہے جیسا کہ ہم نے اﷲ تعالٰی کی توفیق سے اپنے فتاوٰی میں بیان کیا ہے۔(ت)
یہیں سے ظاہر ہوا کہ دوبارہ بنا میں کسی شیعی کا چندہ میں زیادہ حصہ لینا اس معنی پر ہے کہ تحصیل چندہ میں زیادہ کوشش کی جب توظاہر، اور اگر اسی معنی پر ہو کہ زیادہ چندہ اس نے خود اپنے مال سے دیا تو مسجدیت ثابت ہوکر قیامت تک زائل نہیں ہوسکتی،
الاتری ان لوانھدم مسجد فاعادبنائہ کافر بمالہ لم یخرج عن المسجدیۃ وان لم یقبل بناء ہ لکونہ غیر اھل للوقف علی المسجد ھذااذالم یکن مرتدااماھو فیتوقف الامر علی ان یسلم فیصح کما فی ردالمحتارعن البحر اویموت علی ردتہ والعیاذ باﷲ فیعود فیئا للمسلمین۔
کیا تو نہیں دیکھتا کہ اگر کوئی مسجد گرجائے اور اس کی عمارت کسی کافر نے دوبارہ اپنے مال سے بنادی تو وہ مسجدیت سے خارج نہ ہوئی اگرچہ کافر کا مسجد کو تعمیر کرنا مقبول نہیں کیونکہ وہ مسجد پر وقف کا اہل نہیں، یہ اس صورت میں ہے کہ کافر غیر مرتد ہو، اور اگر مرتد ہوتو یہ معاملہ موقوف رہے گا حتی کہ وہ مسلمان ہوجائے تو صحیح ہوجائے گا جیسا کہ بحر سے ردالمحتار میں ہے، یا وہ حالت ارتداد پر مرجائے،ا ﷲ تعالٰی کی پناہ تو اب یہ مسلمانوں کے لئے مال غنیمت بن جائےگا(ت)
(۱؎ ردالمحتار کتاب الوقف مطلب فی وقف المرتد والکافر داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۳۶۰)
نامسلم کا عطیہ کہ اس کے اپنے مال سے ہو خصوصاً اپنے اسلامی کام میں نہ لانا چاہئے۔
نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
انی نھیت عن زبد المشرکین۱؎رواہ ابوداؤد والترمذی عن عیاض بن حمار رضی اﷲتعالٰی عنہ، وھو حدیث حسن صحیح۔
بیشک مجھے مشرکوں کے عطیہ سے منع کردیا گیا ہے۔ (اس کو ابوداؤد اور ترمذی نے عیاض بن حمار رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا، اور یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ت)
(۱؎ جامع الترمذی ابواب السیر باب ماجاء فی قبول ہدایا المشرکین امین کمپنی دہلی ۱/ ۱۹۱)
انا لانقبل شیئامن المشرکین رواہ احمد والحاکم عن حکیم بن حزام رضی اللہ تعالی عنہ ۔
بے شک ہم مشرکوں کی کوئی شے قبول نہیں کرتے ۔(اسے احمد اور حاکم نے حکیم بن حزام رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ۔ت)
(۳؎ مسند احمد بن حنبل مروی از حکیم بن حزام دارالفکر بیروت ۳/ ۴۰۳)
اور فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم:
انا لانستعین بمشرک۴؎۔ رواہ احمد وابوداؤد وابن ماجۃ عن ام المؤمنین الصدیقۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہا۔
بیشک ہم مشرکوں سے مدد طلب نہیں کرتے۔ (اس کو ابوداؤد اور ابن ماجہ نے ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا سے روایت کیا۔ت)
(۴؎ سنن ابوداؤد کتاب الجہا د باب فی المشرک یسہم لہ آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۱۹)
(سنن ابن ماجہ ابواب الجہاد باب ف الاستعانۃ بالمشرکین ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۰۸)
او رحدیثیں جواز واجازت میں بھی ہیں اور توفیق بتوفیق اﷲتعالٰی ہمارے فتوٰی میں ہے، مگر یہاں ضرور وہ خرچ خزانہ سے ملتا ہوگا نہ کہ راجہ کی جیب سے، اور خزانہ والی ملک کی ذاتی ملکیت نہیں ہو تا تو اس کے لینے میں حرج نہیں جبکہ کسی مصلحت شرعیہ کا خلاف نہ ہو،
ھذا ماعندی والعلم بالحق عند ربی
(یہ وہ ہے جو میرے نزدیک ہے اور حق کا علم میرے رب کے پاس ہے۔ت) واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔
مسئلہ۲۷۸: از پوکھر ایرارائے پور ضلع مظفر پور محلہ نور الحلیم شاہ شریف آباد مرسلہ شریف الرحمٰن صاحب ۴شعبان ۱۳۳۶ھ
زید سندی عالم ہے، مالدار ہے، پانچ سات ہزار روپے کی مالیت رکھتا ہے، چندہ یعنی مانگ کر مسجد بنواتا ہے۔شرعاً جائز ہے یانہیں؟
الجواب: جائز ہے، امور خیر کے لئے چندہ کرنا احادیث صحیحہ سے ثابت ہے، مالدار پر واجب نہیں کہ ساری مسجد اپنے مال سے بنائے، امر خیر میں چندہ کی تحریک دلالت خیر ہے۔
ومن دل علی خیر فلہ مثل اجر فاعلہ ۱؎۔
جو کار خیر کی راہنمائی کرے اس کو بھی اتنا ہی اجر ملتا ہے جتنا کارخیر کرنے والے کو۔(ت)
(۱صحیح مسلم کتاب الامارۃ باب فضل اعانۃ الغازی فی سبیل اﷲ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۱۳۷)
مسئلہ۲۷۹تا۲۸۰: ازاجمیر شریف درگار مقدس مرسلہ نذیر احمد خان صاحب رامپور ی ۳رمضان ۱۳۳۶ھ
ایک وقفی جاگیر چند منتظمان کے سپرد کی گئی جس میں ایک شاہی مسجد اور اس کی جائداد بھی شامل ہے، منتظمان وقف خاص نے جائداد مسجد کی کافی آمدنی مجموعی سرمایہ وقف میں جمع کیا اور علاوہ اس مسجد کے جس کے لئے یہ جائداد وقف تھی دوسرے ابواب وقف میں صرف کردیا اور اس مسجد کو ویران رکھا۔ امام مؤذن نماز اذان پنجگانہ کا انتظام کیا نہ پانی روشنی کا اہتمام، حتی کہ مسجد کی ضروری مرمت و صفائی تک نہیں کرائی جاتی۔
اول ایک وقف کی آمدنی باوجود اس کی ضروریات موجود ہونے کے غیر آباد رکھ کر دوسرے ابواب میں صرف کردینا جائز ہے یانہیں؟اگر ناجائز ہے تو صرف شدہ مال مسجد کو ابواب مصروف فیہا(خواہ وقفی ہی ہوں) سے واپس لے کر اس مسجد میں صرف کرانے کا مسلمان کو حق حاصل ہے یانہیں؟
دوم منتظمان وقف اس صورت میں شرعاًکسی تعزیر وسزا کے مستوجب ہیں اور واجب العزل ہیں یانہیں؟
الجواب: مسجد کی آمدنی دوسرے اوقاف میں صرف کرنا حرام ہے اگرچہ مسجد کو حاجت بھی نہ ہونہ کہ بحال حاجت کہ حرام حرام اشد حرام ہے۔ مال مسجد اگر بعینہ موجود ہو واپس لیا جائے اگرچہ دوسرے وقف یا مسجد دیگر میں ہو اور جو صرف ہو گیا ان کا تا وان منتظمین پر لازم ہے ان سے وصول کیا جائے اور ان کا معزول کرنا واجب ہے کہ وہ غاصب وخائن ہیں اگر صورت مذکورہ واقعیہ ہے۔
درمختار میں ہے:
اتحدالواقف والجھۃ وقل مرسوم بعض الموقوف علیہ جاز للحاکم ان یصرف من فاضل الوقف الاخر علیہ وان اختلف احدھما بان بنی رجلان مسجدین اورجل مسجدا ومدرسۃ ووقف علیہمااوقافا لایجوز لہ ذٰلک۱؎۔
واقف وجہت وقف متحد ہو اور بعض موقوف علیہ کے مشاہر میں کمی واقع ہوجائےتو حاکم کو جائز ہے کہ دوسرے وقف کی فاضل آمدنی میں سے کچھ اس پر صر ف کرے اور اگر ان دونوں یعنی واقف وجہت میں سے کوئی ایک مختلف ہو جیسے دو شخصوں نے الگ الگ دو مسجدیں بنوائیں یا ایک ہی شخص نے ایک مسجد اور ایک مدرسہ بنوایا اور دونوں کے مصالح کےلئے الگ الگ اوقاف متعین کئے ہوں تو ایک کی آمدنی دوسرے پر خرچ کرنے کا اختیار حاکم کو نہیں۔(ت)
متولی سے وجوباً وقف واپس لیا جائیگا(بزازیہ) اگرچہ خود واقف ہو(درر) لہذا غیر واقف اگر متولی ہوتو بدرجہ اولٰی اس سے وقف واپس لیا جائیگا در انحالیکہ وہ امین نہ ہو(بلکہ خائن ہو)۔واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت)