مسئلہ ۴۳۱: از پیلی بھیت محلہ کھکرا مرسلہ حمید الدین خان صاحب کارندہ اکبری بیگم۶رمضان مبارک ۱۳۲۶ھ
قبلہ دو جہاں وکعبہ دین وایماں دامت برکاتہم بعد تمنائے قدمبوسی عارضی، بی بی صاحبہ نے جائداد وقف کی ہے وارث سے اندیشہ ہے کہ بعد وفات منسوخ کراکر قبضہ مالکانہ کریں حضور سے دریافت کیا کہ یہ تحریر شرعاً درست ہے اگر اس میں کوئی شک ہے تو دوسرا کاغذ رجسٹری کرادیا جائے، وقف نامہ معہ صہ/ کے اسٹامپ پر تحریرہے اس کی نقل واسطے ملاحظہ اقدس ارسال خدمت ہے جس وقت حضور کا جواب آئے گا تب داخل خارج کی درخواست دی جائے گی بی بی صاحبہ نے اپنی دوسری جائداد سے حصہ وارثان کو دے دیا ہے، یہ جائداد وقف کی ہے۔
خلاصہ وقف نامہ: میں اکبری بیگم فارسی خواندہ بنت عبدالرشید خاں مرحوم ساکنہ پیلی بھیت محلہ کھکرابحالت صحت نفس وثبات عقل اپنی خوشی سے اس وقت اپنی جائداد حسبۃ ﷲ واسطے مصارف خیر اطعام مساکین وپارچہائے سرماو گرمائے مساکین وتجہیز وتکفین غربائے اسلام وجہیز دختران مساکین وصرف خیر مساجد ومدارس دینی وحرمین شریفین زادہمااﷲ شرفاً وتعظیماً وقف لوجہ اﷲ کرتی ہوں تاحیات خود متولی رہوں گی بعد میرے فیاض الدین احمد خاں، بعد ان کے ان کی اولاد ذکور جو پابند شرع شریف ہو بمعیت حکیم خلیل الرحمٰن خاں ومولوی وصی احمد صاحب رہیں گے، متولیان سو روپے سال اصغری بیگم کو جو میری چھوٹی بہن ہے دیتے رہیں بعد ان کے ان کی اولاد ذکور کو جوپابند شرع شریف ہو دیتے رہیں نیز یہ بھی شرط ہے کہ میری رائے میں بحالت تولیت میری اس حقیت کا بیع یارہن کرنا یا ٹھیکہ دینا اور اس سے دوسری جائداد یا اور کوئی شے مفید واسطے منافع اغراض وقف کے خرید کرناضرور معلوم ہوتو ایسا کرنے کا حسب شرائط دستاویز ہذ ا مجھے اختیار ہوگا اس لئے کہ موت کا وقت مقرر نہیں ہے لہذا انتظاماً و احتیاطاً یہ وقف نامہ لکھا گیا افضل خیرات شرعاً یہ ہے کہ جائداد مذکورہ کسی قیمت مناسب پر فروخت کرکے وقتاً فوقتاً خود اپنے ہاتھ سے خیرات کرتی، لہذا تاحیات اپنی مجھ کو اختیار ہوگا کہ جس وقت چاہوں فروخت کرکے حسب رائے خود خرچ کروں اور جو کچھ بعد میں باقی رہے گا اس سے شرائط وقفنامہ ہذا متعلق ہوں گے اگر میری حیات میں متولیان سے کوئی فوت ہوجائے تو مجھ کو متولی مقررکرنے کاخود اختیار ہوگا، متولیان کو چاہئے ؎/سال بطور خیرات تا حیات اس کے مسماۃ بنی کو جو اس وقت میرے پاس ہے بعد میرے دیا کریں گے بعد وفات اس کے یہ روپیہ دیگر خیرات میں شامل کیا جائے اگر خدانخواستہ ملک حجاز اپنی بدقسمتی سے نہ پہنچ سکوں تومیری قبر کسی بزرگ کے قریب بنوائی جائے اور محفوظ ممیز کر دی جائے اور ایصال ثواب قرآن شریف وکلمہ ودرود میں ؎سال تک خرچ کیا جائے چونکہ آمدنی جائداد کی تعیین نہیں ہوسکتی میری رائے میں منہائے اخراجات متعلق جائداد کے ایک ثلث حرمین شریفین میں واسطے خیرات کے دیا جائے، اور ایک ثلث طلبائے علم دین ومصارف مساجد پیلی بھیت ومدرسہ عربی واقع پیلی بھیت، ایک ثلث فقراء ومساکین واطعام وغیرہ، اور واسطے ایصال ثواب شاہ محمد شیر صاحب کے ؎ /روپے سالانہ یا جس قدر زائد گنجائش ہو کیا جائے مجھے حکام سے امید ہے کہ بوقت دورہ اس جائداد موقوفہ کی نگرانی فرمادیں، متولیان کے پاس رجسٹرحساب جمع خرچ باقاعدہ درست رہنا ضرورہے، میرے وارث یا قائم مقام کو اس کے تبدیل تغییر کا اختیار نہ ہوگا۔ لہذا یہ وقف نامہ بتعین مالیت معمہ ھما ًروپیہ دیا کہ سند ہو۔ مورخہ ۱۲ستمبر ۱۹۰۶ء رجسٹری شدہ ہے۔
الجواب
یہ کاغذ باطل محض ہے اس میں انشائے وقف کے دو جملے ہیں:
اول : وقف لوجہ اﷲ کرتی ہوں اور راس میں یہ شرط لگائی کہ اسے بیچ کر جائداد یا اور کوئی شے مفید اغراض وقف خرید کرنے کا مجھے اختیارہوگا شرط استبدال اگرچہ جائز ہے مگر یوں کہ اس کے عوض دوسری جائداد ہی لی جائے جو انہیں مقاصد پر وقف ٹھہرے نہ کہ علاوہ جائداد مطلقا جو شے چاہے جیسا کہ اس کاغذ میں تحریر ہے ایسی شرط سے وقف باطل ہوجاتا ہے۔
عالمگیری میں ہے:
اذا شرط فی اصل الوقف ان یستبدل بہ ارضا اخری اذا شاء فتکون وقفا مکانہا، فالوقف والشرط جائز ان عند ابی یوسف وکذالوشرط ان یبیعھا ویستبدل بثمنھا مکانھا، وفی واقعات القاضی الامام فخرالدین قول ھلال مع ابی یوسف رحمہما اﷲ تعالٰی وعلیہ الفتوٰی کذافی الخلاصۃ، وان قال علی ان ابیعھا بما بدا لی من الثمن من قلیل اوکثیر او علی ان ابیعھا واشتری بثمنھا عبداو قال ابیعھا ولم یزد علی ذلک، قال ھلال ھذاالشرط فاسد یفسد بہ الوقف کذافی فتاوی قاضی خان، ولوشرط الاستبدال ولم یذکر ارضا ولادارا، لہ ان یستبدل بجنس العقار ماشاء من دار اوارض کذافی الخلاصۃ، واذاقال علی ان استبدل ارضا اخری لیس لہ ان یجعل البدل دارا وکذاعلی العکس کذافی فتح القدیر۱؎وذکر الخصاف فی وقفہ لو شرط ان یبیعھا ویصرف ثمنھا الی مارأی من ابواب الخیرفالوقف باطل کذافی الذخیرۃ۲؎۔
اگر واقف نے اصل وقف میں یہ شرط عائد کی کہ جب چاہے گا اس زمین کے بدلے دوسری زمین لے گا اور وہ اس پہلی زمین موقوفہ کی جگہ وقف ہوگی تو امام ابویوسف علیہ الرحمۃ کے نزدیک وقف وشرط دونوں جائز ہیں، اور اسی طرح اگر یہ شرط کی کہ اس کو فروخت کرکے اس کے ثمن کے بدلے دوسری زمین خریدے گا جو اس کی جگہ وقف ہوگی تو بھی جائز ہے اور واقعات قاضی امام فخر الدین رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ میں ابویوسف کے قول کے ساتھ شیخ ہلال علیہ الرحمۃ کا قول بھی مذکور ہے اور اسی پر فتوٰی ہے یہ خلاصہ میں ہے، اور اگر واقف نے اصل وقف میں یوں کہا کہ اس شر ط پروقف کرتا ہوں کہ میں اس وقف کواپنی رائے کے مطابق کثیر یا قلیل ثمن کے بدلے فروخت کرں گا یا یوں کہا کہ اس شرط پر میں اس کو فروخت کروں گا،اور اس کے ثمن کے بدلے غلام خریدوں گا یا یوں کہا کہ اس شرط پر کہ میں اس کو فروخت کروں گا اس سے زیادہ کچھ نہ کہا تو شیخ ھلال نے فرمایا کہ یہ شرط فاسد ہے اور اس سے وقف فاسد ہوگا یہ فتاوٰی قاضیخان میں ہے، اور اگر اس نے فقط استبدال کی شرط کی اور یہ بیان نہ کیا اس کے بدلے زمین یا دار لے گا تو اس کو اختیار ہوگا کہ جنس عقار سے جو چاہے اس کے بدلے میں لے لے چاہے زمین یا مکان، یوں ہی خلاصہ میں ہے۔ اور اگراس نے کہا اس شرط پر کہ میں اس کے بدلے دوسری زمین لوں گا تو اب اس کے بدلے مکان نہیں لے سکتا اور نہ ہی اسکا عکس کرسکتا ہے جیسا کہ فتح القدیر میں ہے،امام خصاف نے اپنی وقف میں ذکر فرمایا کہ اگر واقف نے یہ شرط کی کہ میں وقف کو فروخت کرکے ثمن کارہائے خیر میں جہاں چاہوں گا خرچ کروں گا تو وقف باطل ہوگا، ذخیرہ میں یونہی ہے۔(ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیۃ کتاب الوقف الباب الرابع نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۴۰۰۔۳۹۹)
(۲؎ فتاوٰی ہندیۃ کتاب الوقف الباب الرابع نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۴۰۲)
دوم : جو کچھ بعد میرے باقی رہے گا اس سے شرائط وقفنامہ متعلق ہوں گے اس کا حاصل یہ ہے کہ فی الحال اس جائداد کا کوئی حصہ وقف نہیں میں جب چاہوں بیچوں اور جہاں چاہوں خرچ کروں میرے بعد اس بیع وخرچ سے کچھ باقی بچے تو وہ وقف ہو، ظاہر ہے کہ یہاں کچھ معلوم نہیں کہ بعد زندگی اس کے بیع وخرچ سے کوئی حصہ جائداد باقی رہے یا کچھ نہ رہے اور رہے تو کیا اور کس قدر، تو یہ ایک مجہول چیز کا وقف کرنا ہو اور مجہول کا وقف باطل ہے پھر وہ بھی ایک احتمال بات پر معلق رہا اور ایسی تعلیق کا وقف باطل ہے۔
درمختار میں ہے:
شرطہ ان یکون قربۃ فی ذاتہ معلوما لامعلقا الابکائن۳؎۔
شرط وقف یہ ہے کہ وہ اپنی ذات کے اعتبار سے قربت ہواور معلوم ہو معلق نہ ہو ہاں شرط موجود کے ساتھ معلق ہوسکتا ہے(ت)
(۳؎ درمختار کتاب الوقف مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۷۷)
ردالمحتار میں ہے:
حتی لووقف شیئا من ارضہ ولم یسمہ لایصح ولوبین بعدذٰلک۴؎۔
یہاں تک کہ اگر کسی نے اپنی زمین کا کچھ حصہ وقف کیا اور اس کو متعین نہ کیا تو وقف صحیح نہ ہوگا اگرچہ بعدمیں بیان کردے(ت)
(۴؎ ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۳۶۰)
اسی میں اسعاف سے ہے: ا
لوقف لایحتمل التعلیق بالخطر۱؎۔
وقف ایسی شیئ کے ساتھ معلق ہونے کااحتمال نہیں رکھتا جو محتمل الہلاک ہو(ت)
(۱؎ ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۳۶۰)
فتح القدیر میں ہے:
لو قال اذا مت من مرضی ھذا فقد وقفت ارضی الٰی اٰخرہ فمات لم تصروقفا۲؎۔
جب کہا کہ اگر میں اپنی اس مرض میں مرگیا تو میں نے اپنی یہ زمین وقف کردی، پھر مرگیا تو زمین وقف نہ ہوئی(ت)
(۲؎ فتح القدیر کتاب الوقف مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۵/ ۴۲۳)
اس کے بعد جو لکھا کہ حکام سے امید ہے کہ اس جائداد موقوفہ کی نگرانی کریں اور اخیرمیں کہا کہ یہ وقف نامہ لکھ دیا اور متولیوں کو مصارف بتائے ان میں کسی سے انشائے وقف نہ مقصود ہے نہ مفہوم بلکہ یہ سب اپنے اسی خیال کی بناپر ہے کہ اسے وقف سمجھا حالانکہ وہ شرعاً ہنوز وقف نہ ہوئی اور غلط خیالی کی بنا پر جو الفاظ کہے جائیں کچھ اثرنہیں رکھتے،
اگر کسی نے مفتی کے فتوٰی دینے کی وجہ سے وقوع طلاق کا گمان کرتے ہوئے اپنی بیوی کی طلاق کا اقرار کیا پھر اس کا عدم ظاہر ہوگیا تو طلاق واقع نہیں ہوئی جیسا کہ قنیہ میں ہے(ت)
(۳؎ الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدۃ السابعہ عشر ادارۃ القرآن کراچی ۱/ ۱۹۴)
پس اس طالبہ ثواب کو چاہئے کہ اسے از سر نو وقف فرمائے اور بعد موت پر معلق نہ کرے کہ وہ اس میں اگرثلث متروکہ سے زائد ہوتو پھر وارثوں کی اجازت کا جھگڑا ہے اور واقفہ استبدال کی شرط لگانا چاہے تو اختیار ہے مگر صرف اس طرح کہ اسے دوسری جائداد سے بدل لیں خواہ بیچ کر اس کے عوض دوسری جائداد خرید لیں، اور اب وہ دوسری فوراً انہیں شرائط پر وقف ہوجائے گی، اور ماورائے جائداد کسی اور چیز سے تبدیل کا ذکر ہر گز نہ ہو ورنہ وقف جاتا رہے گا، اور یہ خیال نہ کریں کہ اپنی حیات میں بیچ کر خرچ کردوں تو ثواب زیادہ ہے، نہیں بلکہ اپنی حیات میں وقف کامل کریں اور شرط کرلیں کہ زندگی بھراس کے تمام مصارف میرے ہاتھ سے ہوں گے اور میری رائے واختیار پر رہیں گے میرے بعد فلاں فلان متولی ہوں اور اتنا اتنا فلاں مصرف میں صرف کیا کریں یوں اپنی رائے سے زندگی بھر جیساچاہے صرف کا اختیار رہا اور بعد کو بھی تابقائے جائداد ثواب پہنچا کیا۔
عالمگیری میں ہے:
رجل ارادان یجعل مالہ بوجہ القربۃ فبناء الرباط للمسلمین افضل من عتق الرقاب لانہ ادوم، وقیل التصدق علی المساکین وقلت قد کنا قلنا لمن اراد ذٰلک ان یشتری الکتب ویضع فی دارالکتب لیکتب العلم لانہ ادوم، فکان افضل من غیرہ ولوارادان یتخذدارالہ وقفا علی الفقراء، فالتصدق بثمنہا افضل، ولوکان مکان الدار ضیعۃ فالوقف افضل کذافی المضمرات۱؎۔ (ملخصاً)
ایک شخص نے ارادہ کیا کہ اپنا مال قرب الٰہی میں کردے تو اس کا مسلمانوں کے لئے رباط بناناغلام آزاد کرنے سے بہتر ہے کیونکہ رباط کو دوام زیادہ ہے،اور بعض نے کہا کہ اس کو مساکین پر صدقہ کرنا افضل ہے اور تحقیق ہم نے ایسا ارادہ کرنے والے کو کہا تھا کہ وہ کتابیں خرید کر لائبریری میں رکھے کیونکہ اس میں زیادہ دوام ہے لہذا یہ اپنے غیر سے افضل ہے اور اگر کسی نے ارادہ کیا کہ اپنا گھر فقیروں پر وقف کردے تو اس کے ثمن کو صدقہ کرنا افضل ہے اور اگر بجائے گھر کے زمین موقوف ہوتو وقف افضل ہے، ایسے ہی مضمرات میں ہے(ملخصاً)۔(ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیۃ کتاب الوقف الباب الرابع عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۸۲۔۴۸۱)
فتاوٰی امام قاضی خان میں ہے:
رجل جاء الی المفتی وارادان یتقرب الی اﷲ تعالٰی بدارہ فسأل ابیعھا واتصدق بثمنھا اواشتری بثمنھا عبیدافاعتقھم او اجعلھا دارالمسلمین ای ذٰلک یکون افضل، قالوایقال لہ ان بنیت رباطا وتجعل لہا وقفا ومستغلا لعمارتھا فالرباط افضل فانہ ادوم واعم نفعا، وان لم تجعل للرباط مستغلا للعمارۃ فالافضل ان تبیع وتتصدق بثمنہ علی المساکین۱؎۔
ایک مفتی کے پاس ایسا شخص آیا جو اپنے گھر کے ذریعے اﷲ تعالٰی کا تقرب حاصل کرنے کا ارادہ رکھتاہے اس نے کہا کہ میں اس کو فروخت کرکے اس کے ثمن صدقہ کروں یا اس کے ثمنوں سے غلام خرید کر آزاد کروں یا اس کو مسلمانوں کے لئے گھر کردوں ان میں سے کیا افضل ہے تو مشائخ نے کہا کہ اس کو یہ جواب دیا جائے گاکہ اگر تو رباط بنا کر اس کی آمدنی کےلئے کوئی شے وقف کردے تو رباط افضل ہے کیونکہ اس میں دوام زیادہ اور اس کا نفع عام ہے اور اگر تو رباط کی آمدنی کے لئے کوئی چیز وقف نہ کرسکے تو پھر اس کو فروخت کرکے ثمن مسکینوں پر صدقہ کرنا افضل ہے(ت)
(۱؎ فتاوٰی قاضی خان کتاب الوقف باب الرجل یجعل دارہ مسجداًالخ نولکشور لکھنو ۴/ ۷۱۴)
عالمگیریہ میں اسے نقل کرکے فرمایا:
ودون ذٰلک فی الفضل ان یشتری بثمنھا عبیداً فیعتقہم کذافی الظہیریۃ۲؎۔
اور اس سے کمتر فضیلت اس میں ہے کہ اس کے ثمنوں سے غلام خرید کر آزاد کردے۔ ظہیریہ میں ایسے ہی ہے۔(ت)
(۲؎ فتاوٰی ہندیۃ الباب الثانی عشر فی الرباطات والمقابر نورانی کتب خانہ، پشاور ۲/ ۴۷۰)
وجیز کردری پھر بحرالرائق پھر ہندیہ میں ہے:
وقف الضیعۃ اولی من بیعہا والتصدق بثمنھا۳؎۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
قطعہ اراضی کو وقف کرنا اس کو بیچ کر ثمنوں کو صدقہ کرنے سے اولٰی ہے۔واﷲ اتعالٰی اعلم(ت)
(۳؎فتاوٰی ہندیۃ الباب الثانی عشر فی الرباطات والمقابر نورانی کتب خانہ، پشاور ۲/ ۴۷۰)