Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۶(کتاب الشرکۃ، کتاب الوقف )
110 - 112
اوقاف کے اجارہ کا بیان
مسئلہ ۴۲۹: ازپیلی بھیت مرسلہ جناب مولٰنا محدث سورتی دام فیضہ۱۹صفر۱۳۲۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے ایک موضع وقفی پانچ برس کو ممبران انجمن اسلامیہ سے ایک توفیر معین پر ٹھیکہ لیا، علاوہ شرائط ٹھیکہ کے ایک درخواست ٹھیکہ دار نے بعد ایک سال کے اس مضمون کی دی کہ چونکہ انجمن کے ممبر وغیرہ زائد از پانچ سال کو ٹھیکہ شرعاًنہیں دے سکتے لہذابغرض کار گزاری آئندہ مجھ سے معاہدہ تحریری کرالیا جائے کہ آئندہ پانچ برس کوبھی ٹھیکہ مجھی کو دیا جائے، چنانچہ معاہدی تحریری دستخطی کرلیا گیا کہ اگر اسامیان موضع کو ٹھیکہ دار رضامند رکھے اور باغ کی توفیر زیادہ کرے گا اور محافظت کرے گا تو آئندہ کو بھی اسی تو فیر پر دیا جاسکتا ہے مگر توفیر باغ کو بدستور رہی اور اسامیان راضی نہیں، پس ایسی صورت میں اراکین انجمن کو پابندی لازم ہے یانہیں؟ باینہمہ کہ اور اشخاص کی درخواستیں ٹھیکہ جدید کی زائد از سابق موجود ہیں جس میں مسجد ومدرسہ کا نفع ظاہر ہے ، علاوہ ازیں اگر ٹھیکہ والے سابق نے پابندی معاہدہ کی موافق کی ہو یعنی اسامیان دیہہ کو راضی رکھنے کا اہتمام کیاہواور باغ کی توفیر کی زیادتی میں سعی کی ہو مگر اتفاق سے ان کی رضامندی نہ ہوسکی اور توفیر میں ترقی نہ ہوسکی تو کیا ایسی صورت میں معاہدہ کی پابندی اراکین انجمن اسلامیہ کو لازم ہوگی اور اس کو اسی توفیر پر ٹھیکہ دینا جائز ہے گو مسجد مدرسہ کانقصان ہو۔بینواتوجروا۔
الجواب

اراکین پر اس معاہدہ کی پابندی نہ صرف غیر ضروری بلکہ محض ناجائز وممنوع وگناہ ہے وہ معاہدہ

محض باطل وشرعاً مردود وناروا تھا اور باطل کا حق یہ ہے کہ مٹایا جائے نہ کہ پابندی ہو ، دیہات کا ٹھیکہ جس طرح ہندوستان میں رائج ہے باجماع مذاہب اربعہ باطل وناجائز ہے، اس ٹھیکہ میں زمین تو اجارہ مزارعین میں ہوتی ہے اور توفیر آئندہ کا ٹھیکہ دیا جاتا ہے اور یہ حرام ہے عقد اجارہ شرع نے منافع کےلئے رکھا ہے، نہ عین کےلئے، منفعت جیسے مکان میں رہنا گھوڑے پر چڑھنا اور عین جیسے روپیہ غلہ پھل وغیرہا، تو جواجارہ استہلاک عین پر واقع ہو مردود و باطل ہے،
الاماخصہ الشرع کاجارۃ الضرع للارضاع فانہا علی اللبن و اللبن عین لکن ورد الشرع باباحتہا علی خلاف الاصل فیقتصر علی موردہ۔
مگر جس کو شرع نے مخصوص کردیا ہو جیسے دودھ پلانے کے لئے کوئی دودھ والا جانور اجرت پر لینا کیونکہ یہ اجارہ دودھ پر واقع ہوا اور دودھ عین ہے لیکن شرع خلاف قیاس اس کی اباحت پروارد ہے لہذا یہ حکم اپنے مورد پر بندرہے گا(ت)
فتاوٰی خیریہ وعقود الدریہ ودرمختار وردالمحتار وغیرہا میں اس کی تصریح ہے اورفتاوٰی فقیر میں اس کی کامل تفصیل وتنقیح۔ اور اگر اس سے قطع نظر ہی کریں تو اولاً اراکین کی وہ تحریر صرف ایک وعدہ تھی اور وفائے وعدہ پر جبر نہیں
کما فی الاشباہ والھندیۃ وغیرہما
 (جیسا کہ اشباہ اور ہندیہ وغیرہ میں ہے۔ت)
ثانیاً وہ وعدہ بھی لفظ ان شاء اﷲ کے ساتھ تھا جو حلف کے اثر کو بھی باطل کردیتاہے۔

ثالثاً اراکین کو کوئی اختیار نہ تھا نہ ہے کہ وقف کے نقصان کا وعدہ کرلیں اور اپنے وعدہ کے نباہ کے لئے وقف کا نفع کھوئیں۔
بالجملہ وہ تحریر تو محض مہمل اور یہ رائج ٹھیکہ باطل و حرام ہے، اراکین کو چاہئے کہ دیہات میں جس وقت سال تمام ہوتا ہے اس وقت نظر کریں کہ بعض مزارعین سے پٹہ کی میعاد باقی ہے یا سب کی ختم ہوگئی یا کل یا بعض ایسے ہیں جن سے کسی میعاد معین کا معاہدہ نہ ہو اسال بسال زراعت کرتے اور اجرت دیتے ہیں، یہ تین صورتیں ہیں۔ صورت دوم میں تو ظاہر ہے کہ زمین دیہہ اجارہ سے پاک وخالص ہوگئی،اور صورت سوم میں تمام مزارعوں کو اطلاع دے دیں کہ سال آئندہ زمین ہماری طرف سے تم کو اجارہ میں نہ دی جائے گی بلکہ ہم کل زمین دیہہ فلاں مستاجر کو اجارہ دیں گے اس کی طرف سے تم کو بدستور اجارہ ملے گی جس سے تمہارے معمول میں فرق نہ آئے گا یوں زمین دیہہ خالص ہوجائے گی، صورت اول میں البتہ دقت ہے اس کا علاج یہ ہے کہ جس جس کی میعاد باقی ہے اسے بلا کر سمجھایاجائےکہ ہم صحت شرعی کے لئے یہ کارروائی کرتے ہیں جس کا کوئی اثر تمہارے خلاف نہ پڑے گا تم زبانی کہہ دو کہ ہم نے بقیہ میعاد کے اجارہ زمین سے دست برداری کی، اس سے تمہیں ضرر نہ ہوگا زمین بدستور تمہیں کو ملے گی کاغذی عملدرآمد میں تبدیل نہ ہوگی شرعی طور پر سال آئندہ سے ہمارے بدلے فلاں مستاجر سے تم کو زمین اجارہ میں ملے گی جب وہ اس پر راضی ہوکر فسخ اجارہ کر دیں یوں تمام زمین خالص ہوجائے گی، بعد مستاجر سے کہا جائے کہ ہم نے اس تمام دیہہ کی زمین پانچ برس کے لئے فی سال اتنے روپے کے عوض تمہارے اجارہ میں دی وہ قبول کرے یہ عقد صحیح وجائز شرعی ہوگا اور زر ٹھیکہ وقف کےلئے حلال ہوگا جو بچا مستاجر کےلئے حلال ہوگا ورنہ طرفین گنہگار،اور نشست کم ہوئی تو اصل منافع موجودہ سے جتنا زائد آئے گا وقف کےلئے حرام ہوگا وہ ملک مستاجر ہے اور نشست زیادہ ہو تو جتنا بچا وہ مستاجر کےلئے حرام ہوگا وہ مال وقف ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۴۳۰ : مسئولہ ظہورالدین صاحب وکیل بریلی     محلہ خواجہ قطب۲۵جمادی الاولٰی ۱۳۳۴ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع اس مسئلہ میں کہ ایک مسجد کی تعمیر زیر تجویز ہے جس کی اوپرکی منزل پر تعمیر ہونا قرارپایا ہے لیکن مسجد کو وسیع بنانے اور ا س کا ٹھیک رخ قائم کرنے میں ایک جز ومکان دوسرے شخص کا بھی آتا ہے یہ جز وایک چھوٹے مثلث کی شکل میں ہے یہ شخص مالک مکان اس مثلث کو وقف کرنے کو تیار ہے لیکن یہ کہتا ہے کہ تعمیر مسجد جو اوپر بنے گی نیچے کے قطعہ مثلث کو اس کو دوامی طور پر کرایہ یا چانٹی پر دے دیا جائے تاکہ وہ شخص اس پر تعمیر نیچے نیچے کرلے اس کا یہ خیال ہے کہ میرامکان جو مثلث قطعہ دینے سے کوٹھا ٹوٹ کرناقص ہوجائے گا پھر نیچے نیچے کوٹھے کی تعمیر کرنے سے درست رہے زمین موقوفہ رہے گی اور اس کا کرایہ وہ اداکیا کرے گا، ذیل میں ایک نقشہ بغرض سہولت فہم بنادیا گیا ہے جس میں ا، ب، ج سے اراضی استفتا طلب دکھائی ہے آیا بعد وقف کے اس کو اراضی اس طور سے کرایہ پر دینا جائز ہے یا نہیں کرایہ ضرور مسجدمیں صرف ہوگا، نقشہ یہ ہے:
16_4.jpg
الجواب   :   وہ شخص اپنا خاص جزو مکان اس مسجد کے نام وقف کردے اور وقف نامہ رجسٹری کرادے پھر مصارف مسجد کے لئے یہ خاص ٹکڑا اس شخص کو اجرت مثل پر اجارہ میں دے دیا جائے اور ہر تین سال کے بعد کرایہ نامہ کی تجدید کی جائے، اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ وقف کرتے وقت وقفنامہ میں متولی مسجد کو یہ اجازت لکھ دے کہ یہ خاص ٹکڑا زیادہ مدت کےلئے بھی مجھ کو اجارہ میں دیا جاسکے اس صورت میں تین سال کی قید نہ رہے گی مگر وقف کیلئے زیادہ احتیاط اسی پہلی صورت میں ہے، درمختار میں ہے:
یراعی شرط الواقف فی اجارتہ فلواھمل الواقف مدتھا قیل تطلق الزیادۃ للقیم وقیل تقید بسنۃ مطلقا، وبھا ای بالسنۃ یفتی فی الدار وبثلاث سنین فی الارض الااذاکانت المصلحۃ بخلاف ذلک۱؎۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
وقف کے اجارہ میں شرط واقف کو ملحوظ رکھا جائے گا اگر واقف نے مدت اجارہ کا تعین نہیں کیا تو ایک قول یہ ہے کہ متولی کے لئے زیادتی کی اجازت مطلق رکھی جائے گی اور ایک قول یہ ہے کہ ایک سال کے ساتھ مقید ہوگی اور ایک سال کی مدت پر ہی فتوٰی دیاجائے گا، مکان کے بارے میں اور تین سال کی مدت پر فتوٰی دیا جائے گا زمین کے بارے میں سوائے اس کے کہ مصلحت اس کے خلاف میں ہو۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
 (۱؎ درمختار    کتاب الوقف    فصل یراعی شرط الواقف فی اجارتہ     مطبع مجتبائی دہلی     ۱/ ۳۸۶)
Flag Counter