Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۶(کتاب الشرکۃ، کتاب الوقف )
109 - 112
(۶) متولی کرناحرام ہے مگر اسے کہ امین وخیر خواہ ہو، یہاں تک کہ خود واقف پر اگر اطمینان نہ ہو وقف سے اسے باہرنکال دینا واجب ہے۔
اسعاف فی حکم الاوقاف میں ہے:
لایولی الا امین لان الولایۃ مقیدۃ بشرط النظر ولیس من النظر تولیۃ الخائن لانہ یخل بالمقصود۳؎۔
متولی نہ کیا جائے مگر جس پر پورا اطمینان ہو کہ تولیت میں وقف کا فائدہ دیکھنے کی شرط ہے اور جس پر اطمینان نہ ہو اس کا متولی کرنا رعائت فائد ہ سے کوئی علاقہ نہیں رکھتا کہ وہ اصل مقصود میں خلل ڈالتا ہے۔
 (۳؎ ردالمحتار     بحوالہ الاسعاف فی حکم الاوقاف     کتاب الوقف    داراحیاء التراث العربی بیروت   ۳/ ۳۸۵)
فتاوٰی بزازیہ ودرر وغرروتنویر الابصار ودرمختار وغیرہا میں ہے:
ینزع وجوبا لوالواقف فغیرہ اولٰی غیر مامون۱؎۔
یعنی اگر خود واقف قابل اطمینان نہ ہو تو اسے نکال دینا واجب ، پھر دوسرے کا کیاذکر۔
(۱ ؎ درمختار    کتاب الوقف    مطبع مجتبائی دہلی     ۱/ ۳۸۳)
اور قرآن عظیم شاہد ہے کہ غیر مسلم ہر گز کسی معاملہ کا خیر خواہ نہ ہوگا ، 

اﷲ تعالٰی فرماتا ہے:
یایھاالذین اٰمنوالاتتخذوابطانۃ من دونکم لایالونکم خبالا ودواماعنتم قد بدت البغضاءمن افواھھم وما تخفی صدورھم اکبر قد بینالکم الاٰیت ان کنتم تعقلون۲؎۔
اے ایمان والو ! اپنے غیروں سے کسی کو راز دار نہ بناؤ وہ تمہاری بدخواہی میں کمی نہ کریں گے ان کی دلی تمنا ہے تمہارا مشقت میں پڑنا، دشمنی ان کے مونہوں سے ظاہر ہوچکی ہے اور جوان کے سینوں میں دبی ہے وہ بڑی ہے، ہم نے تمہارے سامنے نشانیاں صاف بیان فرمادیں اگر تمہیں عقل ہو۔
 (۲؎ القرآن الکریم     ۳/ ۱۱۸)
 (۷) تنویر الابصار وغیرہ متون میں ہے:
 العاشر حر مسلم ۳؂۔
(یعنی عشر تحصیل کرنیوالے کی تعریف میں آزاد اورمسلمان ہونا داخل ہے۔
(۳؎ درمختار شرح تنویر الابصار    کتاب الزکوٰۃ     باب العاشر      مطبع مجتبائی دہلی     ۱/ ۱۳۶)
غایۃ البیان امام اتقانی شرح ہدایہ وبحرالرائق شرح کنز الدقائق وردالمحتار علی الدرالمختار میں ہے:
لایصح ان یکون کافرا لانہ لایلی علی مسلم۴؎بالاٰیۃ۔
یعنی تحصیل عشر پر کسی کافر کو مقرر کرنا باطل محض ہے کہ بنص قرآن اسے کسی مسلم پر کوئی اختیار نہیں مل سکتا۔
 (۴؎ ردالمحتار     کتاب الزکوٰۃ     باب العاشر  داراحیاء التراث العربی بیروت    ۲/ ۳۸)
عشر لینے والا راستوں پر مقرر کیا جاتا ہے کہ تاجروں سے عشر تحصیلے، راہ کی حفاظت کرے، جیسے بلاتشبیہہ یہاں چونگی کا محرر اورراستوں کی چوکی کا پولیس مین۔ جب اتنی خفیف دنیوی خدمت پر انہیں مقرر کرنا اصلاً درست نہیں تو ایسے عظیم دینی کام پر تقرر کیونکر ممکن۔
(۸) لاجرم صریح تصریحیں لیجئے۔

 درمختار میں ہے:
بھذا یعلم حرمۃ تولیۃ الیھود علی الاعمال۵؎۔
یہاں سے معلوم ہوا کہ اسلامی کاموں پر یہودی(یعنی کسی کافر کا متولی کرنا حرام ہے۔
 (۵؎ درمختار       کتاب الزکوٰۃ     باب العاشر   مطبع مجتبائی دہلی     ۱/ ۱۳۶)
بحرالرائق وردالمحتار میں ہے:
 لاشک فی حرمۃ ذٰلک۱؎۔
اس کے حرام ہونے میں کوئی شک نہیں۔
 (۱؎ ردالمحتار    کتاب الزکوٰۃ     باب العاشر    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۲/ ۳۸)
شامی میں ہے:
ای لان فی ذٰلک تعظیمہ وقد نصواعلی حرمۃ تعظیمہ۲؎۔
یعنی اس لئے کہ اس میں اس کی تعظیم ہے اور بیشک ائمہ دین نے تصریحیں فرمائیں کہ کافر کی تعظیم حرام ہے۔
 (۲؎ ردالمحتار    کتاب الزکوٰۃ     باب العاشر    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۲/ ۳۸)
شرنبلالیہ علی الدرر پھر ردالمحتار میں ہے:
علم مماذکرناہ حرمۃ تولیۃ الفسقۃ فضلا عن الیھود والکفرۃ۳؎۔
یعنی جو کچھ ہم نے ذکر کیا اس سے معلوم ہوا کہ فاسقوں کو متولی کرنا حرام ہے چہ جائیکہ یہودی ودیگر کفار۔
 (۳؎ ردالمحتار    کتاب الزکوٰۃ     باب العاشر    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۲/ ۳۸)
(۹) تمام عبارات ودلائل کہ یہاں تک مذکور ہوئے مطلقاً ہر کافر میں ہیں اگرچہ کافر ذمی ہو جو سلطنت اسلامیہ میں فرمانبردار وجزیہ گزار ہوکر رہتا ہے اور اکثر معاملات میں اس کاحکم مسلمانوں کا سار کھا گیا ہے نہ کہ حربی جس سے انقطاع کلی کا حکم ہے اور امان لے کر بھی دارالاسلام میں سال بھر تک رہ ہی نہیں سکتا کہ مرتد جسے سلطان اسلام فوراً قتل کرے گا اور اگر غور کے لئے مہلت مانگے تو تین دن کی مہلت دے گا اور ان میں بھی قید ہی رکھے گا، متولی کس وقت کرے گا۔
تنویر الابصار میں ہے:
لایمکن حربی مستأمن فیناسنۃ۴؎۔
حربی مستامن ہمارے درمیان ایک سال نہیں ٹھہرسکتا۔(ت)
 (۴ ؎ درمختارشرح تنویر الابصار    کتاب الجہاد    فصل فی استیمان الکافر    مطبع مجتبائی دہلی     ۱/ ۳۴۶)
درمختارمیں ہے:
من ارتد عرض الحاکم علیہ الاسلام وتکشف شبھتہ ویحبس وجوبا ثلثۃ ایام ان طلب المھلۃ والاقتلہ من ساعتہ الااذارجی اسلامہ بدائع۱؎۔
جو مرتد ہوجائے حاکم اس پر اسلام پیش کرے گا اور اس کے شبہ کاازالہ کرے گا اگر وہ مہلت طلب کرے تو لازمی طور پر تین دن قید رکھاجائے گا ورنہ حاکم اسلام اسی وقت اس کو قتل کردے گا سوائے اس کے کہ اس کے اسلام کی امید ہو، بدائع۔(ت)
(۱؎ درمختار     کتاب الجہاد         باب المرتد     مطبع مجتبائی دہلی     ۱/ ۵۶۔۳۵۵)
عبارت ردالمحتار :
یشترط للصحۃ بلوغہ وعقلہ لاحریتہ واسلامہ صراحۃ۲؎
 (صحت تولیت کے لئے بلوغ اور عقل شرط ہے حریت اور صراحتاً مسلمان ہونا نہیں۔ت)
(۲؎ردالمحتار    کتاب الوقف     داراحیاء التراث العربی بیروت    ۳/ ۳۸۵)
خاص دربارہ ذمی ہے یعنی متولی بن سکنے کے لئے اسلام شرط نہیں کہ کافر ذمی بھی اگر متولی کیاجائے گا ہوجائے گا نہ یہ کہ کوئی کافر کیسا ہی ہو متولی ہوسکتا ہے،اس عبارت کے متصل ہی خود اس میں اس کی سند یہ لکھی:
لما فی الاسعاف لواوصی الی صبی تبطل فی القیاس مطلقا وفی الاستحسان ھی باطلۃ مادام صغیراولوکان عبدایجوز قیاسا واستحسانا،ثم الذمی فی الحکم کالعبد فلواخرجھما القاضی ثم عتق العبدواسلم الذمی لاتعود الیہمااھ بحر ونحوہ فی النھر۳؎۔
یعنی اسلام شرط نہ ہونے کی سند وہ ہے جو اسعاف میں فرمایا کہ اگر کسی نابالغ کو وصی کیا تو قیاس میں مطلقاً باطل ہے اور استحسان یہ ہے کہ اس کے نابالغ رہنے تک باطل ہے اور اگر غلام ہوتو قیاس و استحسان دونوں میں صحیح ہے اورحکم میں ذمی مثل غلام ہے، پھر اگر حاکم نے انہیں وصایت سے نکال دیا اور اس کے بعد غلام آزاد ہو اور ذمی اسلام لے آیا تو وصی نہ ہوجائینگے، یہ بحر میں ہے اور اسی کے مثل نہر میں۔
 (۳؎ ردالمحتار    کتاب الوقف     داراحیاء التراث العربی بیروت    ۳/ ۳۸۵)
فتاوٰی عالمگیریہ میں ہے:
لاتشترط الحریۃ والاسلام للصحۃ لما فی الاسعاف ولو کان عبدایجوز قیاسا واستحسانا والذمی فی الحکم کالعبد فلو اخرجھما القاضی ثم اعتق العبد واسلم الذمی لایعود الولایۃ الیہما کذافی البحرالرائق۴؎۔
یعنی متولی بن سکنے کےلئے آزادی واسلام ا س سند سے شرط نہیں کہ اسعاف میں فرمایا کہ اگر غلام ہوتو قیاس واستحسان دونوں میں اس کی وصایت ممکن ہے اور حکم میں ذمی بھی غلام کے مثل ہے اور اگرقاضی نے انہیں نکال دیا پھر غلام آزاد اور ذمی مسلمان ہوا تو اس سے وصایت ان کی طرف عود نہ کرآئے گی، ایسا ہی بحرالرائق میں ہے۔
 (۴؎ فتاوٰی ہندیہ     کتاب الوقف    الباب الخامس     نورانی کتب خانہ پشاور    ۲/ ۴۰۸)
دیکھو صراحۃً کلام کافرذمی میں ہے اور مرتد ہر گز اس کی مثل نہیں وہ سب کافروں سے بدتر ہے۔
اشباہ والنظائر میں ہے:
المرتد اقبح کفرا من الکافر الاصلی۱؎۔
یعنی مرتد کفر میں کافر اصلی سے بدتر ہے۔
 (۱؎ الاشباہ والنظائر  کتاب السیر والردۃ  الفن الثانی  ادارۃ القرآن کراچی    ۱/ ۲۹۱)
شرط اسلام نہ ہونے کے لئے ایک قسم کے کافر کا کسی ایک صورت میں متولی بن سکنا کافی ہے نہ کہ شرطیت اسلام جبھی نہ ہوگی کہ ہر قسم کاکافر متولی بن سکے مگر کم علمی ونافہمی عجب چیز ہے پھر صحت کے لئے شرط نہ ہونے سے اتنا ہی تو ہوا کہ بن سکنا محتمل ہے نہ یہ کہ اسے متولی بنانا جائز وحلال ہے۔ ابھی ابھی اسی ردالمحتار ودیگر معتمدات سے صاف تصریحیں گزریں کہ کسی کافر کو متولی بنانا مطلقاً حرام ہے اور اسی میں کلام ہے، جو امر ہمارے دین میں حرام ہے اسے روارکھنا صریح مذہبی دست اندازی وبدخواہی اسلام ہے۔
(۱۰) پھر یہ بھی اس حالت میں ہے کہ اس کے ذمہ صرف نگہداشت یا ضروری اشیاء کی خرید وفروخت حساب کی لکھت پڑھت ہوکسی مسلمان پر اسے کوئی اختیار نہ دیا گیا ہو اس صورت میں متولی اگرچہ ہوسکے گا مگر کرناحرام ہے۔ ردالمحتار کی عبارت مذکورہ اسی صورت میں متعلق ہے اور اگر اسے کوئی اختیار دیا جائے مثلاً امام یا مؤذن یا فراش یا اور کسی ملازم کی موقوفی یا بحال یا اضافہ یا کمی یا رخصت یا معطل میں کچھ دخل۔ جب تو اس کی تولیت نہ صرف حرام بلکہ باطل محض ہے ہوسکتی ہی نہیں جیسا کہ ابھی اسی ردالمحتاروبحرالرائق وغایۃ البیان سے گزرا اور انہیں کتابوں میں اس پر اس آیہ کریمہ سے دلیل لائے:
لن یجعل اﷲ للکٰفرین علی المؤمنین سبیلا۲؎۔
یعنی شریعت الٰہیہ ہرگز کسی کافر کو کسی مسلمان پر کوئی اختیار نہ دے گی۔
(۲ ؎ القرآن الکریم ۴/ ۱۴۱)
بالجملہ رافضی کو مسجد خواہ کسی وقف کا ذی اختیار متولی کرنا جس سے کسی مسلمان ملازم وغیرہ پر اسے کوئی اختیار ملے یہ تو ممکن ہی نہیں اگر کیا جائے نہ ہوسکے گا اور اس کی تولیت باطل محض ہوگی اور محض بے اختیار متولی کیا جائے یہ بھی کم از کم قطعاً حرام اور مذہبی دست اندازی وبدخواہی اسلام ہے۔ بفرض غلط اگررافضی کافر نہ بھی ہوتا تو مجرد فاسق عملی سے تو یقینا بدتر ہے کما نص علیہ فی الغنیہ شرح المنیہ، اور ابھی شرنبلالیہ وردالمحتار سے گزرا کہ فاسق کا متولی کرنا بھی حرام ہے۔ یہ ہے مسئلہ کی تحقیق وبا ﷲ التوفیق۔
 (۱۱) روافض کواپنے ساتھ نماز میں شریک کرنا ہر گز جائزنہیں کہ جب وہ شرعاً مسلمان ہی نہیں تووہ نہ اہل عبادت ہیں نہ ان کی نماز نماز کہ عبادت کی پہلی شرط اسلام ہے اور جب ان کی نماز باطل محض ہے تو انہیں شریک کرنا صف کا قطع کرنا ہوگا کہ غیرنمازی صف میں کھڑا ہے اور صف کا قطع کرنا حرام ہے۔
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من قطع صفا قطعہ اﷲ ۱؎۔ رواہ النسائی والحاکم عن ابن عمر رضی اﷲ عنہما بسند صحیح۔
جو کسی صف کو قطع کرے اﷲ اسے قطع کردے۔ اس کو امام نسائی اور امام حاکم نے سیدنا ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے صحیح سند کے ساتھ روایت کیا۔ت)
(۱؎ سنن النسائی     کتاب الامامۃ والجماعۃ    باب من وصل صفا    نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی    ۱/ ۱۳۱)
رافضیوں کے بارے میں حدیث انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے بتخریج عقیلی وابن حبان گزری اس کی روایت ابن حبان میں ہے:
ولاتصلوا علیہم ولاتصلوا معھم۲؎۔
نہ رافضیوں کے جنازے کی نماز پڑھو نہ رافضی کے ساتھ نماز پڑھو۔
 (۲؎ کنز العمال     بحوالہ ابن النجار عن انس الخ    حدیث ۲۹۔۳۲۵۲۸    موسسۃ الرسالہ بیروت    ۱۲/ ۵۴۰)
(۱۲) جو لوگ ان احکام شرعیہ کی مخالفت کریں رافضی کو متولی بنائیں یا اسے نماز میں داخل کریں صراحۃً شریعت کے بدلنے والے اور احکام الٰہی کے خلاف چلنے والے اور مستحق تعزیر شدید وعذاب مدید ہیں یہ بھی جب کہ ان روافض کے عقائد پر مطلع ہوکر انہیں کافر جانیں اور براہ خباثت نفس اپنے کسی دنیوی علاقہ کے سبب ان امور کے مرتکب ہوں ورنہ ایسی حالت میں  انہیں مسلمان جانیں توخود ہرگز مسلمان نہ رہیں گے۔
بزازیہ وذخیرۃ العقبٰی ومجمع الانہر ودرمختار وغیرہ میں ہے:
من شک  فی عذابہ وکفرہ فقد کفر۳؎۔
جوان کے عذاب اور کفر میں شک کرے خود کافر ہے۔
 (۳؎ درمختار        باب المرتد    مطبع مجتبائی دہلی     ۱/ ۳۵۶)
تنبیہہ:
یہ احکام کہ ہم نے لکھے یعنی مسجد خواہ کسی وقف کا ادنی ذی اختیار متولی اصلاً نہ ہوسکنا اور غیر ذی اختیار متولی کرنا بھی حرام ہونا اور اسلامی کسی کام میں انہیں دخل دینا باطل ومردود ہونا اور نماز میں انہیں داخل کرنے کی تحریم اور یہ کہ ان کی نماز نماز نہیں، یونہی جملہ احکام ارتداد کے ان کے تمام اعمال حبط اور ان کے نکاح باطل وفسخ، اور یہ کہ جہاں بھر میں کسی سے ایسے عقیدہ کے مرد یا عورت کا نکاح نہیں ہوسکتا نہ مسلمان سے نہ کافر سے نہ مرتد سے، جس سے ہوگا زنائے محض ہوگا، اور یہ کہ وہ اپنے کسی مورث کے اصلاً وارث نہیں ہوسکتے اگرچہ ان کا باپ یا بیٹا ہو اور یہ کہ انہیں کسی بالغ یا نابالغ پر اگرچہ ان کی اولاد ہو کوئی ولایت نکاح وغیرہ کی نہیں ہوسکتی اور یہ کہ ان سے میل جول حرام اور یہ کہ ان کی حیات یا موت میں کوئی اسلامی برتاؤان سے حرام۔ یہ تمام احکام نہ صرف ان رافضیوں بلکہ ان جمیع فرق واشخاص کے لئے ہیں جو باوصف کلمہ گوئی اپنے کسی عقیدہ یا عمل میں کفر رکھتے ہیں جیسے ہر قسم کے وہابی اور نیچری او رقادیانی اور چکڑالوی اور حلول یا اتحاد بکنے والے جھوٹے صوفی اور اب سب سے نئے اکثر گاندھوی کہ یہ سب مرتدین ہیں اور ان سب پر وہی احکام جیسا کہ علمائے حرمین طیبین کے دونوں مشہور فتاوٰی الحرمین وحسام الحرمین وغیرہما اور المحجۃ المؤتمنہ سے ظاہر ہے۔
واﷲ یقول الحق وھو یھدی السبیل وحسبنا اﷲ ونعم الوکیل واﷲ تعالٰی اعلم۔
اﷲ تعالٰی حق ارشاد فرماتاہے اور وہی سیدھے راستے کی ہدایت دیتا ہے اور ہمیں اﷲ تعالٰی کافی ہے اور کیا ہی اچھا کارساز ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت)
Flag Counter