Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۶(کتاب الشرکۃ، کتاب الوقف )
108 - 112
مسئلہ ۴۲۸: ازبڑودہ ناگروارہ گجرات مرسلہ یوسف علی خاں صاحب بہادر صدر انجمن اہلسنت وجماعت ۳ذی الحجہ ۱۳۳۹ھ
کیافر ماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اہلسنت وجماعت کویہ جائزہے کہ روافض کو جامع مسجد یا غیر مساجد کا متولی اور متصرف بنائیں اور ان کو اپنے ساتھ نماز میں شریک کریں اور جو مسلمان ایسا کریں ان کےلئے ازروئے شرع کیاحکم ہے؟بینواتوجروا۔
الجواب

اہلسنت کی کسی مسجد خصوصاً مسجد جامع کا متولی رافضی کو کرنا شریعت مطہرہ و قرآن عظیم واحادیث صحیحہ و فقہ حنفی کی روسے اصلاً کسی طرح جائز نہیں حرام قطعی ہے۔
(۱) یہ روافض نہ اہل قبلہ ہیں نہ مسلمان بلکہ بالیقین کفار مرتدین ہیں، ردالرفضہ میں بکثرت کتب معتمدہ حنفی وعقائد اہلسنت سے ان کے کافر مرتد ہونے کے روشن ثبوت دئے ہیں۔
بدائع امام ملک العلماء وفتاوٰے امام طاہر عبد الرشید وشرح الکنز امام فخر الدین زیلعی وفتاوٰی عالمگیریہ میں ہے:
وھذانصاھا قال المرغینانی یجوز الصلاۃ خلف صاحب ھوی وبدعۃ ولاتجوز خلف الرافضی والجھمی والقدری والمشبھۃ ومن یقول بخلق القراٰن، وحاصلہ ان کان ھوی لایکفر بہ صاحبہ تجوز الصلٰوۃ خلفہ مع الکراھۃ والافلا ھکذافی التبیین والخلاصۃ، وھو الصحیح ھکذا فی البدائع۱؎۔
یعنی امام مرغینانی صاحب ہدایہ نے فرمایا: بدمذہب بدعتی کے پیچھے نماز جائز ہے اور رافضی وجہمی وقدری اور مشبہہ اور وہ جو قرآن عظیم کو مخلوق مانتے ہیں ان کے پیچھے نماز باطل محض ہے اور حاصل یہ ہے کہ جس میں ایسی بدمذہبی ہو جس کے سبب اسے کافر نہ کہا جائے اس کے پیچھے نماز ہوجائے گی مگر مکروہ ہوگی اور اگر اس کی بدمذہبی حد کفر تک پہنچی ہے جیسے رافضی وغیرہ مذکورین کہ یہ سب کافر ہیں اس کے پیچھے نماز ہوگی ہی نہیں، ایسا ہی تبیین الحقائق اور فتاوٰی خلاصہ میں ہے اور یہی صحیح ہے ایسا ہی بدائع میں ہے۔(ت)
(۱؎ فتاوی ہندیۃ     کتاب الصلوٰۃ     باب الامامۃ     نورانی کتب خانہ پشاور     ۱/ ۸۴)
نیز فتاوٰی خلاصہ وفتاوٰی عالمگیریہ میں ہے:
الرافضی اذاکان یسب الشیخین ویلعنھما العیاذ باﷲفھوکافر وان کان یفضل علیا کرم اﷲتعالٰی وجہہ علی ابی بکر رضی اﷲ عنہ لایکون کافرا الا انہ مبتدع۱؎۔
رافضی اگر صدیق اکبر وفاروق اعظم رضی تعالٰی عنہما کو معاذاﷲبراکہتا اور تبرابکتا ہو تو وہ کافر ہے اور اگرصدیق اکبر سے مولٰی علی کو فقط افضل کہتا ہوتو کافر نہ ہوگا مگر گمراہ ہے۔(ت)
 (۱؎ فتاوٰی ہندیہ    کتاب السیر         الباب التاسع فی احکام المرتدین     نورانی کتب خانہ پشاور     ۲/ ۲۶۴)
فتاوٰی بزازیہ وفتاوٰی عالمگیریہ میں ہے:
یجب اکفارھم باکفارعثمٰن وعلی وطلحۃ وزبیر وعائشۃ رضی اﷲ عنہم۲؎۔
یعنی جولوگ حضرت عثمان، علی، طلحہ، زبیراور عائشہ رضی اﷲ عنہم کو کافرکہتے ہیں واجب ہے کہ ہم ان کافر کہنے والوں کو کافر کہیں۔
 (۲؎ فتاوٰی ہندیہ  کتاب السیر  الباب التاسع فی احکام المرتدین  نورانی کتب خانہ پشاور   ۲/ ۲۶۴)
فتاوٰی ظہیریہ وفتاوٰی عالمگیریہ میں ہے:
یجب اکفار الروافض فی قولھم برجعۃ الاموات الی الدنیا وبقولھم فی خروج امام باطن (الٰی قولہ) وھٰؤلاء قوم خارجون عن ملۃ الاسلام واحکام المرتدین۳؎۔
یعنی رافضیوں کو کافر کہنا واجب ہے ان کے اس قول میں کہ اموات دنیاکی طرف لوٹیں گے اور اس قول میں کہ ایک چھپا ہوا امام نکلے گا اور یہ لوگ ملت اسلام سے خارج ہیں اور ان کے وہی حکم ہیں جو مرتدوں کے ہوتے ہیں۔
 (۳؎ فتاوٰی ہندیہ    کتاب السیر         الباب التاسع فی احکام المرتدین     نورانی کتب خانہ پشاور     ۲/ ۲۶۴)
شرح مقاصد شرح تحریر الاصول و ردالمحتار علی الدر المختار وغیرہا میں ہے:
اھل القبلۃ معناہ الذین اتفقوا علی ماھومن ضروریات الاسلام واختلفوافی اصول سواھا والا فلا نزاع فی کفراھل القبلۃ المواظب طول العمر علی الطاعات بصدور شیئ من موجبات الکفر عنہ۴؎اھ مختصراً۔
یعنی اہل قبلہ کے یہ معنی  ہیں کہ جو تمام ضروریات دین کو مانتا ہو اور ان کے سوابعض عقائد میں خلاف رکھتا ہو ورنہ اس میں کچھ خلاف نہیں کہ جس اہل قبلہ سے کوئی موجب کفر صادر ہو وہ کافر ہے اگرچہ تمام عبادتوں پر مداومت کرے۔
 (۴؎ شرح المقاصد    المبحث السابع فی مخالف الحق من اہل القبلۃ دارالمعارف النعمانیہ لاہور        ۲/ ۲۶۹)
شرح فقہ اکبر علی قاری میں ہے:
لایخفی ان المراد بقول علمائنا لاتجوز تکفیر اھل القبلۃ بذنب لیس مجرد التوجہ الی القبلۃ فان الغلاۃ من الروافض وان صلواالی القبلۃ لیسوابمؤمنین۱؎۔
یعنی پوشیدہ نہیں کہ ہمارے علماء کے اس قول میں کہ اہل قبلہ کو کسی گناہ کے سبب کافر کہنا جائز نہیں فقط نماز میں قبلہ کو منہ کرلینا مراد نہیں کہ غالی رافضی اگرچہ قبلہ کی طرف نماز پڑھتے ہیں بلاشہ کافر ہیں۔
 (۱؎ منح الروض الازھر شرح الفقہ الاکبر    مطلب یجب معرفۃ لمکفرات الاجتنابہاالخ    مصطفی البابی مصر    ص۱۶۲)
اور مساجد اہلسنت خصوصاً مسجد جامع کا اسے متولی کرنا اور مسلمانوں کے ایسے عظیم دینی تصرفات اس کے ہاتھ میں رکھنا اس کی عظیم تعظیم ہے اور اس کی تعظیم سخت حرام ہے بلکہ بحکم فقہائے کرام کفر ہے۔
تبیین الحقائق وطحطاوی علی مراقی الفلاح وغیرہما میں ہے:
لان فی تقدیمہ تعظیمہ وقد وجب علیہم اھانتہ شرعا۲؎۔
اس لئے کہ اسے گواہ بنانے میں اس کی تعظیم ہے حالانکہ شریعت میں اس کی توہین واجب ہے۔
 (۲؎ تبیین الحقائق    کتاب الصلوٰۃ     باب الامامۃ    المطبعۃ الکبری الامیریہ     بولاق مصر    ۱/ ۱۳۴)
فتاوٰی ظہیریہ واشباہ والنظائر ودرمختار میں ہے:
تبجیل الکافرکفر۳؎
کافر کی تعظیم کفر ہے۔
 (۳؎ درمختار     کتاب الحظر والاباحۃ    فصل فی البیع    مطبع مجتبائی دہلی     ۲/ ۲۵۱)
(۲) اس میں اسے مسلمانوں پر ایک افسری دینا ہے اور یہ حرام ہے۔

 فتح القدیر ودرمختار وغیرہما میں ہے:
یمنع من استکتاب ومباشرۃ یکون بھا معظما عندالمسلمین۴؎۔

یعنی ذمی کافر کو بھی منشی بنانایا اور کوئی ایسا عمل سپرد کرنا جس سے مسلمانوں میں اس کی بڑائی ہو جائز نہیں۔

(۴؎ درمختار   کتاب الجہاد        فصل فی الجزیۃ   مطبع مجتبائی دہلی   ۱/ ۳۵۲)
حاوی قدسی وبحرالرائق ودرمختار میں ہے:
والنظم لہ ینبغی ان یلازم الصغار فیما یکون بینہ وبین المسلمین فی کل شیئ، وعلیہ فیمنع من القعود حال قیام المسلم عندہ بحر،ویحرم تعظیمہ۵؎۔
یعنی کافر اورمسلمان کے ہر معاملہ میں کافر کو دبا ہوا ذلیل رکھنا چاہئے، مسلمان کھڑا ہوتو اسے بیٹھنے نہ دیں، ایسا ہی بحر میں ہے اور اس کی تعظیم حرام ہے۔
 (۵؎ درمختار کتاب الجہاد  فصل فی الجزیۃ مطبع مجتبائی دہلی  ۱/ ۳۵۲)
 (۳) مساجد واوقاف کا متولی بنانا کیسے عظیم دینی کاموں میں ان سے استعانت ہے اوریہ ان تشریحات جلیلہ پر کہ
المحجۃ المؤتمنہ
میں مذکور ہوئیں حرام ہے،
قرآن عظیم فرماتا ہے:
لاتتخذوامنھم ولیا ولانصیرا۱؎۔
غیروں میں سے کسی کو نہ اپنا دوست بناؤ نہ مددگار۔
 (۱؎ القرآن الکریم ۴/ ۸۹)
تفسیر ارشاد العقل السلیم علامہ ابوسعود عمادی وتفسری فتوحات الٰہیہ میں ہے:
نھواعن موالاتھم لقربۃ اوصداقۃ جاھلیۃ ونحوھما من اسباب المصادقۃ والمعاشرۃ وعن الاستعانۃ بھم فی الغزووسائر الامور الدینیۃ۲؎۔
یعنی مسلمان منع کئے گئے کافروں کی دوستی سے خواہ وہ رشتہ داری کے سبب ہو یا اسلام سے پہلے کے یارانے خواہ یاری اور میل جول کے اور کسی سبب سے اور منع کئے گئے اس سے کہ جہاد یا کسی دینی کام میں کافروں سے استعانت کریں۔
 (۲؎ ارشاد العقل السلیم (تفسیر ابی السعود)     تحت آیۃ ۳/ ۲۸    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۲/ ۲۳)

( الفتوحات الالٰہیۃ     الشہیر بالجمل     تحت آیۃ ۳/ ۲۸     مصطفی البابی مصر    ۱/ ۲۵۷)
(۴) عقیلی وابن حبان وغیرہما کی حدیث میں ہے نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
سیأتی قوم لھم نبز یقال الرافضۃ لایشھدون جمعۃ ولاجماعۃ ویطعنون علی السلف فلاتجالسوا۳؎۔
عنقریب کچھ لوگ آئیں گے ان کا بدلقب ہوگا انہیں رافضی کہا جائے گا نہ جمعہ میں حاضر ہوں گے نہ جماعت میں اور سلف صالح کو بر اکہیں گے تم ان کے پاس نہ بیٹھنا نہ ان کے ساتھ کھانا پینا۔
 (۳؎ العلل المتناہیۃ     حدیث ۲۵۷، دارنشرالکتب الاسلامیہ لاہور۱/ ۱۶۱    والضعفاء الکبیر، حدیث ۱۵۳    ۱/ ۱۲۶)
مرقاۃ شرح مشکوٰۃ میں ہے:
اذمجالسۃ الاغیار تجرالی غایۃ البوار ونھایۃ الخسار۴؎۔
اس لئے کہ غیروں کے پاس بیٹھنا حد درجہ کی بربادی اور انتہا درجہ کے نقصان کی طرف کھینچ لے جاتا ہے۔جب ان کے پاس بیٹھنا نری بربادی ہے تو انہیں مساجد واوقاف کا متولی کرنا کس درجہ کس قدر عظیم تباہی ہے۔
 (۴؎ مرقاۃ المفاتیح     کتاب الایمان     تحت حدیث ۱۰۸    المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ    ۱/ ۳۰۹)
 (۵) مسلمانوں کا ایسا عظیم کام اس کے سپرد کرنے میں اسے راز دار ودخیل کار بنانا ہے اور یہ حرام ہے۔
اﷲ عزوجل فرماتا ہے:
ام حسبتم ان تترکواولما یعلم اﷲ الذین جاھدوامنکم ولم یتخذوامن دون اﷲ ولارسولہ ولاالمؤمنین ولیجۃ واﷲ خبیربماتعملونo۱؎
کیا اس گھمنڈ میں ہو کہ یونہی چھوڑدئے جاؤگے اور ابھی وہ لوگ علانیہ ظاہر نہ ہوئے جو تم سے راہ خدا میں پوری کوشش کریں اور اﷲ ورسول ومسلمین کے سواکسی کو اپنا راز دار ودخیل کار نہ بنائیں اور اﷲ تمہارے کاموں سے خبردار ہے۔
(۱؎ القرآن الکریم ۹ /۱۶)
تفسیر کبیرمیں ہے:
نھی اﷲ تعالٰی المؤمنین ان یتخذوابطانۃ من غیر المؤمنین فیکون ذٰلک نھیا عن جمیع الکفار، وممایؤکدذٰلک انہ قیل لعمر رضی تعالٰی عنہ ھٰھنا رجل من اھل الحیرۃ نصرانی لایعرف اقوی حفظا ولااحسن خطامنہ فان رأیت ان نتخذہ کاتبا فامتنع عمر من ذٰلک وقال اذااتخذت بطانۃ من غیر المؤمنین۲؎۔
یعنی اﷲ تعالٰی نے مسلمانوں کو منع فرمایا کہ غیر مسلم کو اپنا راز دار نہ بناؤ تویہ تمام کفار سے ممانعت ہے اور تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے کہ امیر المومنین عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے عرض کی گئی کہ شہر حیرہ میں ایک نصرانی ہے اس کا ساحافظہ اور عمدہ خط کسی کا معلوم نہیں حضور کی رائے ہوتو ہم اسے محرر بنالیں، امیر المومین نے اسے قبول نہ فرمایا اورارشاد فرمایا کہ ایسا ہوتو میں غیر مسلم کو راز دار بنانے والا ٹھہروں گا۔
 (۲؎ مفاتیح الغیب (التفسیر الکبیر)    تحت آیۃ ۳/ ۱۱۸    المطبعۃ البیہۃ المصریۃ مصر۸/ ۲۱۰)
تفسیرلباب التاویل وغیرہ پارہ۶میں ہے:
روی ان اباموسٰی الاشعری رضی اﷲتعالٰی عنہ قال قلت لعمر بن خطاب رضی اﷲ تعالٰی عنہ ان لی کاتبا نصرانیا فقال مالک ولہ قاتلک اﷲ الااتخذت حنیفا یعنی مسلما اما سمعت قول اﷲ عزوجل یا ایھا الذین اٰمنوالاتتخذواالیہود والنصٰرٰی اولیاء قلت لہ دینہ ولی کتابتہ قال لااکرمھم اذااھانھم اﷲ ولااعزھم اذااذلھم اﷲ ولاادینھم اذا بعدھم اﷲ قلت لایتم امرالبصرۃ الابہ فقال مات النصرانی والسلام یعنی ھب انہ مات فماتصنع بعدفما تعمل بعد موتہ فاعلمہ الاٰن واستغن عنہ بغیرہ من المسلمین۱؎۔
یعنی ابو موسٰی اشعری رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے مروی ہوا کہ میں نے امیر المومنین عمر فاروق اعظم سے عرض کی میراایک محرر نصرانی ہے، فرمایا تمہیں اس سے کیاعلاقہ خدا تم سے سمجھے کیوں نہ کسی کھرے مسلمان کو محرر بنایا کیا تم نے یہ ارشاد الٰہی نہ سنا کہ اے ایمان والو! یہود ونصارٰی کو یار نہ بناؤ، میں نے عرض کی اس کا دین اس کے لئے ہے مجھے تو اس کی محرری سے کام ہے، فرمایا میں کافروں کو گرامی نہ کروں گا جبکہ انہیں اﷲ نے خوار کیا، نہ انہیں عزت دوں گا جب کہ اﷲ نے انہیں ذلیل کیا، نہ ان کو قرب دوں گا جب کہ اﷲ نے انہیں دور کیا۔ میں نے عرض کی بصرہ کا کام بے اس کے پورا نہ ہوگا۔ فرمایا مرگیانصرانی، یعنی فرض کرلو کہ وہ مرگیا اس کے بعد کیاکروگے جو جب کروگے اب کرو اور کسی مسلمان کو مقرر کرکے اس سے بے پروا ہوجاؤ۔
 (۱؎ لباب التاویل فی معانی التنزیل (تفسیر الخاذن)    تحت آیۃ ۵/ ۵۱    مصطفی البابی مصر ۲/ ۶۳۔۶۲)
شرح سیر کبیر پھر ردالمحتار علی الدرالمختار میں ہے:
بہ ناخذ فان الوالی ممنوع من ان یتخذ کاتبا من غیرالمسلمین لقولہ تعالٰی لاتتخذوا بطانۃ من دونکم۲؎۔
ہم امیر المومنین کے اسی ارشاد پر فتوٰی دیتے ہیں بیشک والی کو جائز نہیں کہ کسی کافر کو محرربنائیں کہ اللہ تعالی فرماتاہے  اپنے سوا اور وں کو راز دار نہ بناؤ۔
 (۲؎ ردالمحتار     کتاب الزکوٰۃ     باب العاشر  داراحیاء التراث العربی بیروت  ۲/ ۳۸)
سبحٰن اﷲ ! جب ان کو محرر تک بنانا ناجائز وخلاف قرآن عظیم ہے تو مساجد مسلمین ان کے ہاتھ میں سپردکرنا اور اتنا عظیم منصب دینا کس درجہ سخت حرام ہونا لازم۔
Flag Counter