Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۶(کتاب الشرکۃ، کتاب الوقف )
107 - 112
مسئلہ۴۲۰: ازحیدرآباد دکن     محلہ سلطان پور مسئولہ سید فصیح اﷲ صاحب ۵رمضان ۱۳۳۹ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین کہ کیا متولی اور منتظم مساجد مساجد کے مداخل ومخارج میں حسب خواہش بلا 

امتیاز طریق جائز و ناجائز بذات خود بلا مشاورت، اہل اسلام دست تصرف دراز رکھ سکتے ہیں اور یقینی تغلب اور غبن فاحش کے باوجود مسلمانوں کی درخواست پر آمد و خرچ کے حساب کے عدم معاینہ کی بابت ان کا انکار واعراض جائز ہے؟بینواتوجروا
الجواب

متولی اور منتظم پر اتباع شرع و شرائط ضروری ہے ان کے خلاف کسی فعل کا ان کو اختیار نہیں، اور اگر کریں تو مسلمانوں کو ان کی مزاحمت چاہئے، اور اگر خیانت یا ان کے باعث وقف پر ضرر ثابت ہوتوفوراً نکال دئے جائیں۔
درمختار میں ہے:
ینزع وجوبا ولوالواقف فغیرہ بالاولی غیرمامون۲؎۔
خائن متولی کو ولایت وقف سے وجوباًنکال دیاجائیگا اگرچہ خود واقف ہواور غیر واقف ہوتوبدرجہ اولٰی نکال دیا جائے گا۔(ت)
(۲؎ درمختار    کتاب الوقف    مطبع مجتبائی دہلی         ۱/ ۳۸۳)
غبن وتغلب یقینی درکنار اگرمظنون بھی ہوتو مسلمانوں کو ان سے حساب سمجھنے کا حق پہنچتا ہے اور انکا اعراض سخت قابل اعتراض۔
درمختار میں ہے:
لاتلزم المحاسبۃ فی کل عام ویکتفی القاضی منہ بالاجمال لومعروفابالامانۃ ولو متھما یجبرہ علی التعیین شیئا فشیئا۳؎۔
متولی اگر امانت میں معروف ہوتو ہر سال تفصیلی محاسبہ اس پر لازم نہیں بلکہ قاضی اس سے اجمالی حساب طلب کرنے پر اکتفاء کرے گا اور اگر وہ متہم بالخیانت ہے تو قاضی اس کو ایک ایک شیئ کا تفصیلی حساب بتانے پر مجبور کرے گا۔(ت)
(۳؎ درمختار     کتاب الوقف    فصل یراعی شرط الواقف الخ  مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۹۲)
صورت مذکورہ میں وہ مجبور کئے جائیں گے تفصیلی حساب دکھائیں۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۴۲۱ تا ۴۲۷: ازلشکر گاہ بنگلور ملک میسور مسئولہ چودھری محمد حسین بکر قصاب صاحبان مسجد اعظم ۱۰رمضان ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ چند آدمی مل کر ایک زمین خرید کر بالاتفاق بہ نیت وقف اس پر مسجد آباد کریں، امام مؤذن بھی مقرر کرلیں۔ بارہ سال سب واقفین باہم متفق رہے، نماز جماعت وجمعہ وغیرہ میں شریک رہے، مسجد کے لئے اوقاف واسطے آمدنی کے بھی خرید کر مسجد کے نام واسطے محاصل کے دے چکے، ان لوگوں میں سے ایک گروہ نے بارہ سال بعد مسجد دور ہونے کے باعث ایک اور مسجد بھی فاصلہ بعید سے بنواڈالی اور دونوں مسجدوں میں شریک رہے، خدمات اور خرچ بھی محاصل اور ذات سے خرچ کرتے رہے وہ گروہ عرصہ ۲۵ سال سے ذاتی چندہ اس دوسری مسجد میں دیتے ہیں اور پہلی مسجد کے اوقاف برحال خود جاری ہیں اب یہ لوگ جو جدا ہوئے ہیں ان کو پہلی مسجد والے حقوق وقف سے علیحدہ تصور کرتے ہیں یعنی کہتے ہیں کہ ہم متولی اپنی رضامندی سے مقرر کرتے ہیں اور دوسری مسجد والے کہتے ہیں ہمارا حق ہے کہ ہم سب واقف ہیں اور تولیت کا اختیار سب واقفین کو ہے، دوسرے گروہ والے کہتے ہیں کہ تمہارا حق بسبب جدا ہونے اور الگ بنوانے مسجد کے نہیں رہا،سوال یہ ہے کہ پہلے واقفین کا حق ساقط ہے یاباقی؟

(۲) متولی کا مقرر کرنا مسجد کے لئے ضروریات سے ہے یانہیں؟

(۳) ایک سے زیادہ متولی مقرر کرسکتے ہیں یا نہیں؟

(۴) جب واقفین میں اختلاف ہو بعض زید کو متولی کریں بعض عمرو کو تو اکثرکو ترجیح ہے یا اقل کو، اور برتقدیر مساوات کس کو اختیار نصب متولی کا ہے؟

(۵) واقف سے مراد سطح مسجد کا واقف مراد ہے یا آبادی کرنے والا اور عمارت بنوانے والا؟

(۶) قوم کو نصب امام وموذن وآبادی مسجد وغیرہ کا اختیار ہے یا واقفین کو؟

(۷) واقفین کے لئے ضرور ہے کہ ہمیشہ عملدرآمد اورقابض اپنے موقوف پر رہیں کیا قبضہ چھوڑنے سے حق واقفیت ساقط ہوجاتا ہے؟بینواتوجروا۔
الجواب

(۱) جب ان سب نے مل کروہ مسجد بنائی سب اس کے واقف ہوئے جو حقوق کہ واقف کے ہیں سب کے لئے ہیں ایک فریق کے مسجد بنالینے سے پہلے کا حق زائل نہ ہوا یہ محض ظلم ہے۔

(۲) مسجد کے لئے متولی کا مقرر کرنا کچھ ضرور نہیں البتہ اوقاف کے لئے ضروری ہے۔

(۳) متولی متعدد بھی ہوسکتے ہیں وہ سب مل کر کام کریں گے ہر ایک مستقل نہ ہوگا۔

(۴) فقیر اس وقت کتابوں سے دور حالت سفر میں ہے جزئیہ پیش نظر نہیں، اور ظاہر یہ ہے کہ صورت مذکورہ میں زید وعمرو دونوں متولی ہوجائیں گے اور مل کر کام کرینگے کہ نصب متولی کی ولایت واقف کو ہے۔
تنویر الابصار میں ہے:
ولایۃ نصب القیم الی الواقف۱؎۔
متولی مقرر کرنے کی ولایت واقف کو ہے(ت)
(۱؎ درمختا شرح تنویر الابصار    کتاب الوقف    مطبع مجتبائی دہلی     ۱/ ۳۸۹)
اور وہ سب واقف ہیں اور نصب متولی متجزی نہیں تو ہر ایک کو اختیار کامل ہے تو دونوں متولی ہوجائیں گے۔
اشباہ والنظائر میں ہے:
ماثبت لجماعۃ فھو بینھم علی سبیل الاشتراک الافی مسائل الاولی ولایۃ الانکاح للصغیر والصغیرۃ ثابتۃ للاولیاء علی سبیل الکمال لکل(الی ان قال) والضابط ان الحق اذاکان ممالایتجزی فانہ یثبت لکل علی الکمال فالاستخدام فی المملوک ممالایتجزی۲؎۔
جو چیز جماعت کےلئے ثابت ہو وہ ان سب میں مشترک طور پر ہوتی ہے سوائے چند مسائل کے جن میں سے پہلا مسئلہ نابالغ ونابالغہ کے نکاح کی ولایت کا ہے کہ وہ اولیاء میں سے ہر ایک کےلئے کامل طور پرثابت ہوتی ہے (صاحب اشباہ کے اس قول تک کہ فرمایا) ضابطہ یہ ہے بیشک جو حق ناقابل تجزی ہو وہ ہر ایک کے لئے بطور کمال ثابت ہوتا ہے اور مملوک سے خدمت لینے کا حق ناقابل تجزی ہے۔(ت)
 (۲؎ الاشباہ والنظائر    کتاب النکاح     الفن الثانی     ادارۃ القرآن کراچی    ۱/ ۲۴۴تا۲۴۶)
 (۵) اصل مسجد زمین ہے تو زمین کا واقف اصل مسجد کا واقف ہے اور جس نے اس میں عمارت بناکر وقف کی وہ بنا کا واقف ہے اور بنا اگرچہ وصف ہے اس کے لیے حکم جز ہے تو وہ بھی وقف مسجد میں شریک ہے ۔

(۶) عمارت ومرمت مسجد کا اختیار واقفین کو ہے اور انہیں کے امام ومؤذن مقرر کئے ہوئے اولٰی ہیں مگر یہ کہ جن کو قوم مقرر کرے وہ شرعاً مرجح ہوں تو انہیں کو ترجیح ہوگی۔
درمختار میں ہے:
البانی للمسجد اولٰی من القوم بنصب الامام و المؤذن فی المختار الااذاعین القوم اصلح ممن عینہ البانی۳؎۔
قول مختار کے مطابق مسجد کا بانی امام ومؤذن کے تقرر میں بنسبت قوم کے اولٰی ہے سوائے اس کے کہ قوم کا مقرر کردہ امام ومؤذن بانی کے مقرر کردہ سے زیادہ صلاحیت رکھتا ہو۔(ت)
(۳؎ درمختار         کتاب الوقف    مطبع مجتبائی دہلی     ۱/ ۳۹۰)
(۷) واقف کےلئے وقف پر ہمیشہ قابض رہناضرور نہیں بارہا واقف دوسرے کو متولی کرتا ہے قبضہ متولی کارہتا  ہے مگر حق واقف ساقط نہیں ہوتا۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
Flag Counter