مسئلہ۴۱۷: از بدایوں ۷جمادی الآخرہ ۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک وقف عرصہ دراز سے چلا آتا ہے شرائط و حالات وقف کچھ معلوم نہیں ہیں بجز اس قدر کے تولیت ہمیشہ سے ایک خاندان خاص میں بلالحاظ وراثت چلی آتی ہے متولی حال نے اپنے ایک اہل خاندان کو اپنا خلیفہ اور سجادہ نشین بنایا اور بعد اپنے اپنا جانشین اور متولی قرار دیا، اس کی وفات کے بعدا س کا بھتیجا باستحقاق وراثت دعویدار تولیت ہے، درانحالیکہ اس کا باپ حقیت موقوفہ سے برطرف کیا جاچکا ہے اور اقرار لکھ چکا ہے کہ کبھی معاملات وقف میں دست اندازی نہ کرے گا نیز بھتیجا مذکور متولی کو ضرر شدید پہنچانے میں سزا یاب ہوچکا ہے اور باہم متولی اور اس کے بھتیجے کے وقت وفات متولی ایک سخت دشمنی اور عداوت تھی، کیاشرعاً ایسا بھتیجا حقیت موقوفہ کا بمقابلہ جانشین نامزد شدہ کے متولی مقرر ہوگا یامتولی متوفی کانامزد شدہ شخص مرجح ہوگا؟
الجواب
تولیت میں توریث جاری نہیں محض بربنائے وراثت ادعائے تولیت باطل ومردود ہے۔
ردالمحتار میں ہے:
واعتقادھم ان خبز الاب لابنہ لایفیدلما فیہ من تغییر حکم الشرع۱؎۔
اور ان کا یہ اعتقاد مفید نہیں کہ باپ کی روٹی بیٹے کی ہے کیونکہ اس میں حکم شرع کی تبدیلی ہے۔(ت)
(۱؎ ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۳۸۵)
متولی حال نے جسے اپنے بعد متولی کیا متولی ہوگیا اگر یہ وصیت مرض موت میں کی جب تو ظاہر ہے کہ وہ جانشین بعد موت متولی ہوگیااور بلاوجہ شرعی کسی کو اس سے منازعت اصلاً جائز نہیں۔
ردالمحتار میں ہے:
صح اذافوض فی مرض موتہ وان لم یکن التفویض لہ عاماً لما فی الخانیۃ انہ بمنزلۃ الوصی وللوصی ان یوصی الٰی غیرہ۲؎اھ۔
متولی نے اپنی مرض موت میں کسی دوسرے کو ولایت سونپ دی تو صحیح ہے اگرچہ اس کےلئے تفویض عام نہ ہو اس دلیل کی بنیاد پر جو خانیہ میں ہے کہ متولی بمنزلہ وصی کے ہے اوروصی کو اختیار ہوتا ہے کہ وہ دوسرے کو وصیت کرے۔اھ(ت)
(۲؎ ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۴۱۱)
اور اگر اپنی حالت صحت میں کی اور قدیم سےاس وقف کے متولیوں میں اس کا دستور چلا آیا ہے کہ متولی اپنی حیات وصحت میں اپنے جانشین کو اپنے بعدمتولی بنالیتے ہیں اور وہ متولی ہوتا ہے جب بھی ظاہر ہے کہ یہی جانشین بشرط اہلیت شرعیہ متولی ہوگیا۔ دوسرا س کی منازعت نہیں کرسکتا۔
ردالمحتار میں ہے:
فی الذخیرۃ سئل شیخ الاسلام عن وقف مشہور اشتبھت مصارفہ، قال ینظر الی المعہود من حالہ فیما سبق من الزمان من ان قوامہ کیف یعملون فیہ فیبنی علی ذٰلک۱؎۔
ذخیرہ میں ہے شیخ الاسلام سے اس وقف مشہو رکے بارے میں پوچھا گیا جس کے مصارف مشتبہ ہوگئےہیں توشیخ الاسلام نے فرمایا کہ قدیم زمانہ سے اس وقف کے بارے میں جو معمول چلا آرہا ہے اس پر نظر کی جائیگی کہ متولیان سابقہ اس میں کیا عملدر آمد کرتے تھے پس اسی پر بناء کی جائے گی۔(ت)
(۱؎ ردالمحتار کتاب الوقف فصل یراعی شرط الواقف فی اجارتہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۴۰۴)
اور اگر یہ معمول قدیم نہیں تو متولی اپنی صحت میں خود وقف سے جدا ہونا اور دوسرے کو اپنی جگہ قائم کرنا ممنوع ہوتا کہ اس کے لئے اس کی اجازت جانب واقف سے بوجہ اشتباہ شرائط ثابت نہیں۔
درمختار میں ہے:
اراد المتولی اقامۃ غیرہ مقامہ فی حیاتہ وصحتہ ان کانت التفویض لہ عاما صح والالا۲؎۔
متولی نے ارادہ کیا کہ کسی اور شخص کو اپنی حیات وصحت میں اپنا قائم مقام کرے اگر اس کے لئے تفویض عام ہے تو صحیح ہے ورنہ نہیں(ت)
(۲؎ درمختار کتاب الوقف فصل یراعی شرط الواقف فی اجارتہ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۸۹)
مگر یہاں ایسا نہیں بلکہ اپنے بعد اسکے لئے وصیت تولیت کی ہے تو یہ مطلقاً ہر صورت میں جائز وصحیح ہونا چاہئے جب تک مخالف شرع نہ ہو کہ بوجہ عدم علم شرائط مخالفت شرائط واقف سے محفوظ ہے وہی عبارت قاضیخان
للوصی ان یوصی الٰی غیرہ۳؎
(وصی کواختیار ہے کہ کسی اور شخص کو وصیت کرے۔ت) اس کے لئے کافی ہے،
(۳؎ فتاوٰی قاضی خان کتاب الوقف فصل فی اجارۃ الاوقاف نولکشور لکھنؤ ۴/ ۷۳۸)
وترک السابقین لایدل علی شرط العدم بل علی عدم الشرط والمتبع العمل دون الترک الذی لیس من افعال المکلفین ولامقدورالھم۴؎، کمافی غمز العیون وشتان ما الترک والکف ولم یثبت۔
اور سابقین کا کسی چیز کو ترک کرنا اس بات پر دلالت نہیں کرتا کہ اس کا نہ ہونا شرط ہے بلکہ اس پر دلالت کرتا ہے
کہ اس کا ہوناشرط نہیں اور اتباع عمل کی کی جاتی ہے نہ کہ ترک کی جو افعال مکلفین میں سے نہیں۔اور نہ ہی ان کی قدرت میں ہے جیسا کہ غمز العیون میں ہے کف بمعنی روکنا ترک سے مختلف ہے اور کف ثابت نہیں ہوا(بلکہ ترک ثابت ہواہے۔(ت)
(۴؎ غمز العیون البصائر مع الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدۃ الثانیۃ ادارۃ القرآن کراچی ۱/ ۴۷)
بالجملہ پہلی دو صورتوں میں جانشین مذکور کی صحت تولیت اصلاً محل شبہ نہیں جبکہ شرعاً اس کا اہل ہو، اور تیسری صورت میں بھی ظاہر یہی ہے کہ اس کی تولیت صحیح ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۴۱۸ : ازشہر محلہ چڑھائی نیب مسئولہ منشی محمدظہور صاحب ۱۶صفر ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین بیچ اس مسئلہ کے کہ ایک بزرگ نے اپنی حیات میں جائداد موقوفہ کا زید کو بذریعہ تملیک نامہ کے متولی کیا اور یہ لکھا کہ تاحیات یہ متولی رہے اور بعد اس کے جو متولی یا سجادہ نشین ہوئے اس کو بھی اسی تحریر کا کاربند رہناچاہئے اور درصورت خلاف ورزی کے میرے مریدان سر برآوردہ جس کو مناسب سمجھیں مقرر کریں، ان بزرگ نے پردہ فرمایا اور بعد ایک زمانہ کے زید کابھی کا انتقال ہوگیا اب زید کا لڑکا یہ چاہتا ہے کہ میں اپنے باپ کا قائم مقام بنوں اور ان بزرگ کے وارثان شرعی یہ چاہتے ہیں کہ ہم میں سے کوئی شخص ہونا چاہئے، تو ایسی صورت میں ازروئے شرع شریف کے وارثان متولی کا حق ہے یا وارثان بزرگ کا، اور فقیر کی گدی پر وراثت کسی کی جائزہے یانہیں؟بینواتوجروا۔
الجواب
بیان سائل سے معلوم ہوا کہ وہ جائداد پہلے زبانی وقف ہوچکی تھی اس کی توثیق کےلئے یہ وقف نامہ لکھا گیا ہے جسے غلطی یا ناواقفی سے تملیک نامہ لکھ دیا اس میں متولی مذکورکے بعد دربارہ تولیت کسی شرط کی تصریح نہیں ہے، ایسی صورت میں وارثان متولی مذکور کو تولیت پر کوئی دعوٰی نہیں پہنچتا، تولیت ترکہ نہیں کہ وارثوں میں تقسیم ہو بلکہ حتی الامکان وارثان وقف میں سے جو لائق ہو متولی کیا جائے گا اگر ان میں کوئی نہ ہو تو اہل الرائے اہل علم مسلمانوں کے مشورہ سے کوئی دیندار ہوشیار کا رگزار متولی کیاجائے گا۔
درمختا رمیں ہے:
(ومادام احد یصلح للتولیۃ من اقارب الواقف لایجعل المتولی من الاجانب) لانہ اشفق ومن قصدہ نسبۃ الوقف الیہمٍ۱؎۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
جب تک واقف کے اقارب میں سے کوئی ایک بھی تولیت کی صلاحیت والا موجود رہے گا اجنبی لوگوں میں سے کسی کو متولی نہیں بنایا جائے گا کیونکہ واقف کا قریبی متولی وقف پر زیادہ شفقت کرنیوالا ہوگا کیونکہ اس کا مقصود یہ ہوگا کہ وقف کی نسبت اس کے خاندان کی طرف بنی رہے۔واﷲتعالٰی اعلم(ت)
(۱؎ درمختار کتاب الوقف فصل یراعی شرط الوقف فی اجارتہ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۸۹)
مسئلہ۴۱۹: ازریاست رامپور شتر خانہ کہنہ احاطہ صابری مسئولہ واحد حسن صاحب۶رجب ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین وشرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک مزار کا زید متولی تھا مزار کی جائداد اراضی بحق خدمت مزار موصوفہ معاف ہے،زید کا صاحب مزار سے کوئی سلسلہ نسبی وسلسلہ طریق کوئی تعلق نہیں تھا اب زید کاانتقال ہوگیا زید کا بیٹا عمرو جو بالکل خدمت مزار کا اہل نہیں ہے اور تمام جائداد کی آمدنی تغلب وتصرف کرلی ہے ایک حبہ صرف نہیں کیا تولیت کا خواستگار ہے۔بکر یہ کہتا ہے کہ میں ان خدمات کا اہل ہوں اور صاحب مزار سلسلہ طریقت اور میرے خاندان کا مزار ہے، عمرو نے اکثر سامان تلف کردیا، عمرواخبث ہے اور خدمات انجام دینے کا اہل ہی نہیں ہے اور نہ مسلک درویشی عمرو کا ہے عندالقاضی صورت مسئولہ میں ہر دو فریق میں سے کون لائق تولیت نہیں اور کس کے نام جائداد کا اندراج ہونا چاہئے؟عندالقاضی بکر کی اہلیت ثابت ہوچکی۔ بینواتوجروا۔
الجواب
بیان مذکور اگر واقعی ہے تو عمروتو کسی طرح متولی ہو ہی نہیں سکتا اگرچہ خود واقف نے اسے متولی کیا ہوتا بلکہ اگرچہ وہ خودہی واقف ہوتا کہ وہ متغلب ہے۔
درمختارمیں ہے:
ینزع وجوبا ولوالواقف فغیرہ بالاولٰی غیرمامون۱؎۔
خائن متولی کو ولایت وقف سے وجوباً نکال دیا جائیگا اگرچہ وہ خود واقف ہوتو غیر واقف بدرجہ اولٰی نکال دیا جائے گا۔(ت)
(۱؎ درمختار کتاب الوقف مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۸۳)
اور بکر اگرچہ اہل ہو خواستگار تولیت ہے اور خواستگار تولیت کو متولی نہیں کرتے۔
رسول اﷲصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
انالن نستعمل علی عملنا من ارادہ۲؎رواہ احمد والشیخان وابوداؤد والنسائی عن ابی موسی الاشعری رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
ہم اپنے کام پر اس کے خواستگار کو ہر گز مقرر نہ کریں گے(اس کو امام احمد، شیخین وابوداؤد، اور نسائی نے حضرت ابو موسی الاشعری رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ت)
(۲؎ صحیح البخاری کتاب الاجارات باب استیجار الرجل الصالح قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۳۰۱)
درمختا رمیں ہے:
طالب التولیۃ لایولی الاالمشروط لہ النظر لانہ مولی فیریدبہ التنفیذ۱؎۔
طالب تولیت کو متولی نہیں بنایا جائے گا سوائے اس کے کہ واقف نے اس کومتولی بنانے کی شرط کردی ہو کیونکہ وہ واقف کی شرط کی وجہ سے متولی بن چکاہے اور اب اس کے نفاذ کاطلبگار ہے(ت)
لہذا کوئی اور کہ ہر طرح اہل ہو تلاش کرکے متولی کیا جائے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
(۱؎ درمختار کتاب الوقف فصل یراعی شرط الواقف الخ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۸۹)