مسئلہ ۴۱۱ : از اٹاوہ بازار ہوم گنج دکان حاجی عبداﷲ خاں مرسلہ محمد خان صاحب ۱۷جمادی الاولٰی ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ مسجد واقع میں محلہ چوکر کنواں اٹاوہ میں پیش دروازہ ایک اراضی ملک مسجد ایسی ہے کہ جس پر ٹال لکڑی رکھی جاتی ہے دو شخص وارث علی وغیاث الدین اس کے متولی ہیں جنہوں نے اولاً چار سال کے واسطے مسمی رحیم خاں کو ٹال رکھنے کے واسطے مبلغ مے /ماہوار کرایہ پردی تھی جس کی میعاد منقضی ہوگئی پھر کرایہ اضافہ کرنے کے بابت رحیم خاں مذکور سے کہا گیا اس نے اضافہ کرنے سے قطعی انکار کردیا اور کہا جو اس سے زیادہ دے اس کو اراضی کرایہ پر دے دو حسن اتفاق سے ایک دوسر ا شخص مسمی رحیم خان لہ عہ/ماہواری پر لینے کوآمادہ ہوا، دونوں متولیوں نے رحیم خاں ثانی کو لہ عہ/ ماہوار پر دو سال کے لئے کرایہ نامہ لکھا کر رجسٹری کرادی مگر سابق کرایہ دار نے ہنوز زمین کو خالی نہیں کیا جو جدید کرایہ دار کو اس پر قبضہ دیا جائے، غیاث الدین متولی ثانی کرایہ دار سابق کا ہم خیال ہوگیاہے اور اسکادلی مقصد یہ ہے کہ اراضی اس کرایہ پرسابق کرایہ دار ہی کے پاس رہے وارث علی متولی اول نے کچہری دیوانی اٹاوہ میں خالی کرانے اراضی مسجد کی نالش رحیم خان سابق کرایہ دار پر دائر کر دی ہے جس میں متولی ثانی نے شرکت سے قطعی انکار کردیا ایسی صورت میں غیاث الدین متولی ثانی مذکور قابل متولی رہنے کے ہے یانہیں؟اور وارث علی متولی اول کا یہ فعل موافق شرع شریف کے ہے یا نہیں اور رحیم خان سابق قابل بے دخلی ہے یا نہیں ؟ نیز مسجد کے نفع کے خیال سے لہ عہ / ماہوار زمین اٹھانا متولی اول کی رائے کے موافق اولٰی ہے یا مے/ماہوار پرحسب رائے متولی ثانی کی اور ایسی صورت میں کون کرایہ دار قابل ترجیح ہے مقدمہ چونکہ کچہری دیوانی میں زیر تجویز ہے، لہذا درخواست کی جاتی ہے جلد جواب مرحمت فرمایاجائے۔
الجواب
جبکہ رحیم خاں ثانی نے تین روپے ماہوار اضافہ کرکے دو سال کے لئے رجسٹری کرالی ظاہر ہوا کہ وہ متعنت نہیں اور جبکہ غیاث الدین بھی اسے اجارہ دینے میں شریک تھا یہ اجارہ ضرور تام ونافذ ہوگیا اب غیاث الدین کو اس سے پھرنے کا کوئی استحقاق نہیں، رحیم خاں سابق کی بےدخلی واجب ہے غیاث الدین کے اب اس کا طرفدار ہوکر وقف کا نقصان اور اس کا فائدہ چاہتا اور خود اپنی تمام شدہ کارروائی کو باطل کرنے کا خواستگار ہے، تو اپنے ذاتی نفع کےلئے جو کچھ اضرار کرے تھوڑا ہے ایسا شخص امین نہ ہوگا بلکہ خائن اور خائن کا معزول کرنا واجب اگرچہ خود واقف ہو،
درمختارمیں ہے:
وینزع وجوبا بزازیۃ ولو الواقف درر فغیرہ بالاولی غیرمامون۱؎۔
خائن متولی کو ولایت وقف سے وجوباًنکال دیا جائیگا (بزازیہ) اگرچہ وہ خود وقف کرنے والاہو(درر) تو غیر واقف کو بصورت بدرجہ اولٰی نکال دینا واجب ہوگا۔(ت)
( ۱؎ درمختار کتاب الوقف مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۸۳)
ہاں اگر کوئی وجہ معقول قابل قبول بیان کرے کہ ثانی کو کرایہ پر دینے میں وقف کا یہ ضرر ہے اگر بظاہر معہ عہ / روپے کا نفع ہے مگر وہ ضرر شدید اس سے زیادہ ہے لہذا اب میں اس اجارہ کو فسخ کرنا چاہتا ہوں اور یہ امر ثابت ہوجائے تو اس پر الزام نہ رہے گا بلکہ اس کا خیال قابل پیروی ہوگا۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۴۱۲ : ازعلی گڑھ بازار موتی مسجد مرسلہ علی الدین سوداگر پارچہ ۲۹رجب ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کیا پردہ نشیں عورت کسی ایسے ولی کی درگاہ کی کہ جس کا سالانہ عرس اور فاتحہ خوانی ہوتی ہے متولی ہوسکتی ہے؟کیا پردہ نشیں عورت کسی ایسے قبرستان کو کہ جس میں چند مساجد ہوں اور اس میں نماز پنجگانہ ادا ہوتی ہو تو متولی ہوسکتی ہے؟
الجواب
عورت بھی متولی اوقاف ہوسکتی ہے ذکورت شرط تولیت نہیں۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۴۱۳ تا ۴۱۶: ازہلدوانی نینی تال مرسلہ عزیز الرحمٰن صاحب ۲۳جمادی الاولٰی ۱۳۳۸ھ
(۱) ناخواندہ شخص سود کے روپے سےروز گارکرنے والا اور ذاتی رنجش کی بنا پر موقوفہ آمدنی کو بے جا بلا قاعدہ صرف کرنے والا اور اوقاف کی آمدنی کے روپے کواپنی تجارت میں خلاف قاعدہ انجمن شامل کرکے ذاتی فائدہ حاصل کرنے والا انجمن اسلامیہ کوئی عہدہ دار یا منتظم یا امین ہوسکتا ہے یانہیں؟
(۲) شخص مقروض معقول تعداد کا ہضم کرنے والا جو دیوالیہ ہوچکا ہے اور پابند صوم وصلوٰۃ بھی نہ ہو اور ضدی بھی امین یا اعلٰی عہدہ دار ہوسکتا ہے؟
(۳) انجمن اسلامیہ مذہبی خدمات کے واسطے کم از کم احتیاط کا شخص عہدیدار یا منتظم یا امین یا اہل ہوسکتا ہے؟
(۴) اکثر علمائے ہند کے فتووں کے خلا ف اور مقامی مسلمانان کے خلاف اپنے ذاتی نفع ونمائش واغراض کے لحاظ سے معبد گاہ یعنی مسجد کو زیب و زینت دے کر دیگر مذاہب کے اشخاص کومدعو کرکے فرش مسجد پر مستعمل جوتوں سے گزرتے ہوئے لے جا کر احاطہ مسجد میں جلسہ قرار دے کر اپنے مخالفوں کی حمد وثنا کرنا اور تالیاں بجا کر خوش وخرم ذکر کرنا اس قسم کے افعال کے اشخاص انجمن اسلامیہ کے عہدیدار ہوسکتے ہیں یانہیں؟
الجواب
(۱) نہیں،درمختار میں ہے:
وینزع وجوبا ولوالواقف فغیرہ اولٰی لو غیر مامون ۱؎۔
خائن متولی کو ولایت وقف سے وجوباً نکال دیا جائیگا اگرچہ وہ خود وقف کرنے والا ہو تو غیر واقف کو
بصورت خیانت بدرجہ اولٰی نکال دینا واجب ہوگا۔(ت)
(۱؎ درمختار کتاب الوقف مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۸۳)
(۲) نہ رقم ہضم کرنے والا امین ہوسکے نہ غیر پابند صوم وصلوٰۃ کو افسری مل سکے۔
تبیین الحقائق میں ہے:
لان فی تقدیمہ تعظیمہ وقد وجب علیھم اھانتہ شرعا۲؎۔
فاسق کو مقدم کرنے میں اس کی تعظیم ہے حالانکہ مسلمانوں پر شرعاً اس کی توہین واجب ہے۔(ت)
(۲؎ تبیین الحقائق کتاب الصلوٰۃ باب الامامۃ المطبعۃ الکبری الامیریۃ مصر ۲/ ۲۵۱)
(۳) سنی، ذی علم، پرہیز گار، دیانتدار، ہوشیار، کارگزار۔
(۴) ایسے اشخاص ادنٰی عہدہ دار بھی نہیں ہوسکتے کہ فاسق مجاہر وبیباک ومبتلائے غضب رب الارباب ہیں،
حدیث میں ہے رسول اﷲصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اذامدح الفاسق غضب الرب واھتز لذٰلک العرش۳؎۔
جب فاسق کی مدح کی جاتی ہے رب عزوجل غضب فرماتا ہے اور عرش الٰہی ہل جاتا ہے۔
(۳؎ شعب الایمان باب فی حفظ اللسان حدیث ۴۸۸۶ دارالکتاب العلمیہ بیروت ۴/ ۲۳۰)
مدح فاسق پر یہ حال ہے مخالفان اسلام مثل ہنود(جن کے مناقب آج لیڈر پکارتے ہیں اور ان کی جے بولتے ہیں اور وہی مساجد میں زینت مجلس بلکہ منبر پرواعظ مسلمین بنائے جارہے ہیں) ان کی جے پکارنے اور حمد گانے اور مسجد میں اس پر خوشی کی تالیاں بجانے پر اسلام بھی قائم رہنا دشوار ہے انجمن اسلامیہ کی عہدہ داری تو درکنارہے۔
فتاوٰی ظہیر یہ و اشباہ والنظائر ومجمع الانہر وتنویر الابصار ودرمختار وغیرہ میں ہے:
لو سلم علی الذمی تبجیلا کفر ولو قال لمجوسی یااستاذی تبجیلا کفر۴؎۔
اگر ذمی کافر کو مسلمان بطورتعظیم سلام کہے تو کافر ہوجائے گا اور مجوسی کو تعظیماً کہا اے میرے استاذ تو کافر ہوگیا۔(ت)
(۴؎ درمختار کتاب الحظر والاباحۃ فصل فی البیع مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۵۱)
ایسے لوگوں کے پاس بیٹھنا بھی قرآن عظیم نے ناجائز فرمایا:
واماینسینک الشیطٰن فلاتقعد بعد الذکرٰی مع القوم الظٰلمین۵؎۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
اور اگر شیطان تجھے بھلادے تو یاد آنے پر ظالم قوم کے ساتھ مت بیٹھ۔(ت)واﷲ تعالٰی اعلم۔