Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۶(کتاب الشرکۃ، کتاب الوقف )
104 - 112
(۲) جماعت اولٰی امام وجماعت معینہ کا حق ہے ان سے پہلے اگر کچھ لوگ جماعت کرجائیں ان کو اعادہ جماعت کا حق ہے اور جماعت اولٰی یہی ہوگی جو انہوں نے کی جبکہ امام جامع شرائط جواز وحل امامت ہو۔
متن غرر اور اس کی شرح درر میں ہے:
لاتکرر الجماعۃ فی مسجد محلۃ باذان واقامۃ الا اذاصلی فیہ اولاً غیر اھلہ لان حقھم لایسقط بفعل غیرھم۱؎۔
مسجد محلہ میں اذان واقامت کے ساتھ تکرار جماعت نہ کیا جائے مگر جب اہل محلہ کے غیر نے پہلے جماعت کرالی ہو تو اہل محلہ کو اذان واقامت کے ساتھ دوسری جماعت کرانے کا حق ہے جو دوسروں کے فعل سے ساقط نہیں ہوتا۔(ت)
(۱ ؎ الدررالحکام شرح غرر الاحکام     کتاب الصلوٰۃ     فصل فی الامامۃ     مطبعہ احمد کامل الکائنہ فی دارالسعادۃ مصر ۱/ ۸۵)
جن لوگوں نے بے انتظار امام ومؤذن وجماعت معین ومقام امام راتب پر جماعت کرلی اگر کسی صحیح ضرورت سے شرعی سے تھی مضائقہ نہ تھا مگر مقام امام پر قیام نہ چاہئے تھا، اور اگر بلاضرورت محض عجلت کے لئے ایسا کیا برا کیا تفریق جماعت کے مرتکب ہوئے اور وہ شرع مطہر کو سخت ناپسند ہے اور اگر خود اسی تفریق کی نیت سے اس کے مرتکب ہوئے تو ان پر اشد وبال اور تفریقا بین المومنین کا صدق ہے، والعیاذباﷲ تعالٰی۔ بہر حال امام جماعت معینہ کو اعادہ جماعت کا ہر طرح حق تھا پھر اگر واقع دو صورت اخیرہ تھیں تو ضروروہ پہلی جماعت مستحق رد وانکار تھی اور ازا نجا کہ وقت وقت عشاء تھا کہ اس میں اور ظہر میں اعادہ نماز روا ہے تو اس پر رد کایہ اچھا طریقہ تھا کہ جو پڑھ چکے تھے وہ بھی دوبارہ شریک کئے جائیں کہ آئندہ عوام اس تفریق میں شرکت سے بازرہیں اور ایسی جگہ تہدید کو کہنا کہ ہماری مسجد میں نہ آئے قابل مواخذہ نہیں بلکہ اصل شرعی رکھتا ہے،
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وسلم فرماتے ہیں:
من کان لہ سعۃ ولم یضح فلایقربن مصلانا۲؎۔ رواہ الامام احمد واسحٰق بن راہویۃ وابو بکر بن ابی شیبۃ وابن ماجۃ و ابویعلٰی والدار قطنی والحاکم وصححہ عن ابی ھریرۃ وفی الباب عن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہم۔
جس کا ہاتھ پہنچتا ہو اور قربانی نہ کرے وہ ہر گز ہماری مسجد کے پاس نہ آئے۔(اس کو امام احمد، اسحٰق بن راہویہ، ابو بکر بن ابی شیبۃ ، ابن ماجۃ ، ابویعلٰی، دارقطنی اور حاکم نے روایت کیا اور امام حاکم نے اس کو ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے صحیح قرار دیا ہے اس باب میں حضرت ابن عباس رضی اﷲ عنہم سے روایت ہے۔ت)
 (۲؎ سنن ابن ماجہ    ابواب الاضاحی     باب الاضاحی واجبۃ ھی ام لا    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ص۲۳۲)
وہی ''ہماری مسجد'' کا لفظ ہے اور وہی آنے سے ممانعت بلکہ ''ہرگز''اور ''پاس نہ آئے''دو لفظ زائد ارشاد ہوئے ہیں    یہاں ''ہماری''سے اضافت ملک مراد نہیں ہوتی، ہاں اگر صورت صورت اولٰی تھی یعنی ان لوگوں کا پہلے پڑھ لینا بضرورت صحیحہ شرعیہ تھا اور زید کو اس پر اطلاع نہ تھی اس نے ان پر تفریق جماعت کا گمان کرکے ایسا کہا تو زید پر اس کہنے کا مواخذہ نہیں بلکہ بلاتحقیق مسلمانوں پر بدگمانی کی جس سے توبہ لازم ہے۔      قال اﷲ تعالٰی
یا ایھا الذین اٰمنوااجتنبوا کثیرامن الظن ان بعض الظن اثم۱؎۔
اﷲ تعالٰی نے ارشاد فرمایا: اے ایمان والو زیادہ گمان سے پرہیز کرو کیونکہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں۔(ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۴۹/ ۱۲)
اور اگر ان پر بدگمانی نہ کی مگر یہ خیال کہ مبادا عوام حقیقت امر سے غافل ہو کر کہیں تفریق کے عادی نہ ہوجائیں تو یہ الزام بھی نہیں،
فانہ انما ارادتحفظہم، وانما الاعمال بالنیات وانما لکل امرئ مانوی۲؎۔
کیونکہ اس نے تو محض مسلمانوں کے تحفظ کا ارادہ کیا اور اعمال کا دار و مدار نیت پر ہے اور ہرشخص کےلئے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی۔(ت)
 (۲؎ صحیح البخاری     باب کیف بدء الوحی الخ    قدیمی کتب خانہ کراچی۱ /۲)
اس جماعت میں جو پہلے پڑھ کر شریک ہوئے  یہ ان کے نفل ہوئے اوروہ متولی جس نے بکراہت اقتدا کی اور یہ خیال رہا کہ نہ کرتا تو بہتر تھا اس کی بھی نماز ہوگئی جبکہ نہ ابتداءً فقط شرم ولحاظ سے ظاہراً بے نیت اقتدا شریک ہواہو نہ بعد کو قطع اقتدا کی نیت کرلی ہو،
وذٰلک لانہ فعل لا ترک فیعمل فیہ نیۃ القطع کالصلٰوۃ دون الصوم۳؎کما یظھر بمراجعۃ الاشباہ وغیرہا۔
اور ایسا اس لئےہے کہ بیشک یہ فعل ہے نہ کہ ترک تو اس میں نیت قطع عمل کرتی ہے جیسے نماز نہ کہ روزہ جیسا کہ اشباہ وغیرہ کی طرف رجوع کرنے سے ظاہر ہوتا ہے۔(ت)
(۳؎ الاشباہ والنظائر     الفن الاول         القاعدۃ الثانیۃ     ادارۃ القرآن کراچی    ۱/ ۴۷تا۵۰)
اس لئے کہ یہ لفظ کہ''نہ کرتا تو بہتر ہوتا''خوداس پر دلیل ہے کہ اقتدا کی اور اس پر مستمر رہاا گرچہ بکراہت جیسے فاسق کے پیچھے نماز کہ یہ اپنے زعم میں ان الفاظ کے سبب اسے مثل فاسق ہی سمجھتا تھا۔ احادیث کثیرہ صحیحہ میں ہے ،    رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ثلثۃ لاترفع صلاتھم فوق رؤسھم شبرا رجل ام قوما وھم لہ کارھون۱؎۔ ھذالفظ ابن ماجۃ عن ابن عباس رضی اﷲ عنہما بسند حسن۔
تین شخصوں کی نماز قبول نہیں ہوتی، ایک وہ کہ کسی جماعت کی امامت کرے اور انہیں اس کی اقتدا ناگوار ہو(یہ لفظ امام ابن ماجہ کے ہیں انہوں نے اس کو سیدنا حضرت ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے سندحسن کے ساتھ روایت فرمایا۔ت)
(۱؎ سنن ابن ماجہ  ابواب اقامۃ الصلوات   باب من ام قوما وھم لہ کارھون   ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ص۶۹)
توباآنکہ مقتدیوں کے دل میں کراہت ہے اور ناگواری کے ساتھ اس کے مقتدی ہوئے ان کی نماز میں نقص نہ فرمایا بلکہ امام کی نماز میں جب کہ ان کی کراہت بوجہ شرعی ہو ورنہ وبال ان پر ہے
کما فی الدر وغیرہ
(جیسا کہ در وغیرہ میں ہے۔ت)
اقول:  وبالجملۃ النیۃ ھو القصد الجازم فاذاوجد وجدت وربما یقصد الانسان شیئا وھو لہ کارہ وعن ھذا نص علماؤنا ان الارادۃ ترجح احد المتساویین بل ربما ترجح المرجوح لمن عن لہ طریقان احدھما احسن فعمدالی الاخری
وقد قال اﷲ تعالٰی
''کتب علیکم القتال وھو کرہ لکم''۲؎۔
اقول: (میں کہتاہوں کہ)نیت قصد جازم کو کہتے ہیں، جب قصد جازم پایا گیا تو نیت پائی گئی بسااوقات انسان کسی شیئ کا قصد کرتا ہے حالانکہ وہ اسے ناگوار ہوتی ہے، اس کی بنیاد پر ہمارے علماء نے نص فرمائی کہ ارادہ دو مساوی چیزوں میں سے ایک کو ترجیح دیتا ہے بلکہ بعض دفعہ مرجوح کو ترجیح دیتا ہے اس شخص کے لئے جس کو دو راستے در پیش ہیں جن میں سے ایک احسن ہے تو اس نے دوسرے کا ارادہ کرلیا اور اﷲ تعالٰی نے ارشاد فرمایا کہ تم پر جہاد فرض کردیا گیا حالانکہ وہ تمہیں ناگوارہے۔(ت)
(۲؎ القرآن الکریم ۲/ ۲۱۶)
Flag Counter